Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

جزاک اللّٰہ خیرا کہنا ایک عظیم تُحفہ ہے از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

اپنی گفتگو میں Very Good,Thanks,very Nice جیسے الفاظ کے بجائے مسنون الفاظ استعمال کیا کریں۔ہم اللہ کے عاجز بندوں کیلئے اکثر اپنے محسن کے احسان کا بدلہ اتارنا ممکن نہیں ہوتا لیکن ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں وہ طریقہ بتا دیا ہے جس پر عمل کرکے ہم اپنے محسن کا بدلہ ادا کر سکتے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے اور وہ احسان کرنے والے کے حق میں یہ دعا کرے’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اس کا بہتربدلہ دے) تو اس نے اپنے محسن کی کامل تعریف کی۔(مشکوۃ شریف۔ جلد سوم۔ عطایا کا بیان۔ حدیث 239)
کامل تعریف کرنے کا مطلب ہے کہ بندہ اپنے محسن کا بدلہ اتارنے اور اس کی تعریف کرنے میں اپنے آپ کو عاجز اور مجبور قرار دیتے ہوئے ’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘ کہہ کر اپنے تئیں اس کے شکر کا حق ادا کر دیا کیونکہ اسنے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ پر سونپ دیا کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ سے بہتر اجر کون دے سکتا ہے کیونکہ للہ تعالٰی جب اجر دے گا تو اپنی شان کے مطابق دے گا۔
ایک طویل حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک موقعے پر انصار کی تعریف کی اور ’’فَجَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیرًا‘‘ (پس اللہ تم لوگوں کو جزائے خیر دے) کے الفاظ سے انہیں دعا دی۔ رواہ ابن حبان (7277) والحاکم (4/79)
ایک حدیث میں ہے کہ جب آیتِ تیمم نازل ہوئی، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: ’’جَزَاکِ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘، اللہ کی قسم! آپ پر کوئی ایسی پریشانی نہیں آئی جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ پر سے ٹال نہ دیا ہو اور اس میں مسلمانوں کے لئے برکت و سہولت نہ رکھ دیی ہو۔ (بخاری مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب میرا باپ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو میں اس وقت موجود تھا لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہنے لگے ’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘ تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اللہ سے رحمت کی امید کرنے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں۔ (صحیح مسلم)
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کو ’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘ کہنے کا اجر کیا ہے تو تم سب ایک دوسرے کو یہی دعا دو گے۔ (مصنف ابن أبی شیبۃ 5/322)
ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تمہارے ساتھ (قولی یا فعلی) احسان کرے تو تم بھی اس کا بدلہ دو (یعنی تم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی احسان کرو) اور اگر تم مال و زر نہ پاؤ کہ اس کا بدلہ چکا سکو تو اپنے محسن کے کے لئے دعا کرو جب تک کہ تم یہ جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔ (مسند احمد، ابوداؤد، نسائی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا معمول تھا کہ جب کوئی سائل ان کیلئے دعا کرتا تو وہ بھی پہلے اسی طرح اس کیلئے دعا کرتیں پھر اسے صدقہ دیتیں، لوگوں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اس کیلئے دعا نہ کروں تو اس کا حق اور میرا حق برابر ہو جائے گا کیونکہ جب اس نے میرے لئے دعا کی اور میں نے اسے صرف صدقہ دے دیا (تو اس طرح دونوں کے حسنات برابر ہو گئے)۔ لہٰذا میں بھی اس کے لئے دعا کردیتی ہوں تاکہ میری دعا تو اس کی دعا کا بدلہ ہو جائے اور جو صدقہ میں نے دیا ہے وہ خالص رہے (اس طرح دونوں کا حق برابر نہیں رہتا بلکہ میری نیکیاں بڑھ جاتی ہیں)۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف)
جزاک اللّٰہ خیرا کہنے یا لکھنے کے ساتھ اگر کوئی (اَحسَنَ الجزائ) کے الفاظ کا اضافہ کرے تب بھی درست ھے۔
آج بھی عرب اسی طرح دعائوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ جب بھی کسی سے ملتے ہیں سلام کے ساتھ ایک دوسرے کو دعاو?ں کا تحفہ دینے میں کوتاہی نہیں کرتے لیکن ہم عجمی لوگ اور خاص کر برصغیر کے مسلمان دین اسلام کے اس خوبصورت تحفے سے ناوقف ہیں اور اگر واقف بھی ہیں تو اکثر کوتاہی کرتے ہیں۔
جس نے’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘کہا اسنے اپنے محسن کو ایک عظیم تحفہ دیا اور اپنے لئے اور اپنے محسن کیلئے دنیا و آخرت کی عظیم خیر و برکت حاصل کرلی کیونکہ اس دعا کا بدلہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ جب بدلہ دے گا تو اپنی شان کے مطابق دے گا اور محسن اور احسان مند دونوں کو دے گا۔ ان شاء اللہ
اس دعا کو ہم اپنی زبان میں بھی ’’اللہ آپ کو جزائے خیر دے یا اللہ آپ کو بہترین اجر دے‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے دے سکتے ہیں۔
اور عربی میں اس دعا کے الفاظ ہیں:ایک مرد کیلئے: جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔۔۔۔۔(ک پر زبر لگا کر پڑھیں)
??ایک عورت کیلئے: جَزَاکِ اللّٰہُ خَیْرًا۔۔۔۔۔(ک پر زیر لگا کر پڑھیں)
جمع کا لفظ مرد حضرات کے لئیے:: جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیرًا۔۔۔۔۔(ک اور میم پر پیش لگا کر پڑھیں)
جمع کا لفظ مؤنث کے لئیے جزاکُنَُّ اللّٰہُ خَیراً استعمال ھوتا ھے لیکن وہی لفظ *جزاکم * والا لفظ خواتین کے لئیے بھی استعمال کیا جا سکتا ھے اور قران حکیم میں بھی جمع مؤنث کو جمع مذکر کے تابع کیا ھے اسوجہ سے خواتین کے لئیے بھی *جَزاکُمُ اللّٰہُ خیرا* کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں۔
ہمیں اس دعا کے ساتھ ساتھ دیگر دعائیں دینے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے۔
ہمیں اپنے گھروں میں کام کرنے والے ملازم وغیرہ کو بھی ’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘ کہنا چاہئے اس سے ہمارے دلوں سے تکبر نکلے گا۔ ہمیں اپنی بیوی بچوں کو ہر چھوٹے بڑے کام پر یہ دعا دینے کا اہتمام کرنا چاہئے اور انہیں بھی یہ دعا دینا سکھانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: