شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی والدہ محترمہ حافظہ امام بی بی المعروف بے جی

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی والدہ محترمہ امام بی بی اپنے خاندان میں ’’بے جی‘‘ کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ 1834ء کو سیالکوٹ کے قصبہ سمبڑیال میں پیدا ہوئیں۔ انتہائی وضع دار خاتون تھیں پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھیں۔ لیکن صوم وصلواۃ کی بڑی پابند تھیں۔ حسن سلوک کے باعث سارا محلہ ان کا گرویدہ تھا۔ دیانتداری کا یہ حال تھا کہ محلے کی اکثر عورتیں ان کے پاس اپنا زیور اور دیگر قیمتی سامان بطور امانت رکھتی تھیں۔ محلے میں یا برادری کے خاندانوں میں خواتین کی سطح پر اگر کبھی توتکار ہوجاتی تو ’’بے جی‘‘ کو بطور ثالث مقررکیا جاتا۔ وہ غریب اور نادار عورتوں کی خفیہ طور پر امداد بھی کرتی رہتی تھیں۔ ایک دو مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ وہ اپنے گھر غریب خاندانوں کی بچیاں لے آئیں اور انہیں بڑے ناز اور چائو سے پالا پوسااور جب جوان ہوگئیں تو ان کی شادی کروادی۔ ’’بے جی‘‘ اپنے چھوٹے بیٹے علامہ اقبالؒ سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ علامہ بھی انکا بے حد احترام کرتے تھے۔ گرمیوں میں جب عدالتوں میں چھٹیاں ہوتیں تو علامہ والدہ محترمہ سے ملنے سیالکوٹ چلے آتے۔ جب اقبال تعلیم کیلئے یورپ چلے گئے تو وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ان کے بخیریت وطن واپس لوٹنے کی دعائیں مانگتی تھیں اور جب علامہ اقبال سیالکوٹ میں اپنی والدہ کا دیدار کرتے تو والدہ خوشی سے پھولے نے سماتیں اور کہتیں کہ ’’میرا بالی آگیا‘‘۔ یہ الفاظ سن کر علامہ اقبالؒ اپنی ماں کے سامنے اپنے آپ کو بالکل ننھا سا بچہ تصور کرنے لگتے۔
یہ 1914ء کے موسم گرما کا ذکر ہے کہ ’’بے جی‘‘ (والدہ اقبال) جو اب خاصی کمزور ہوچکی تھیں اور گزشتہ چند برسوں سے کسی نہ کسی وجہ سے علیل چلی آرہی تھیں… دردٰگردہ کی شکایت تو خدا جانے کب سے تھی اور اس کیلئے پتہ نہیں کیا کیا اور کون کون سے نسخہ جات ان کے زیر استعمال رہ چکے تھے۔ اسی تکلیف کی بناء پر ایک عرصہ سے وہ روزے رکھنے سے معذور ہوچکی تھیں اور ہر سال فدیہ رمضان دیا کرتی تھیں۔ ان دنوں چونکہ موسم گرما کی تعطیلات تھیں اس اس لیے حضرت علامہ علیہ الرحمتہ بھی سیالکوٹ آئے ہوئے تھے۔ ایک روز بے جی کو ہلکا سکا بخار ہوا اور چند روز میں اس نے موسمی بخار بن کر خاصی شدت اختیار کرلی کمزور تو وہ پہلے ہی تھیں جس کی وجہ سے قوت مدافعت تقریباً ختم ہوچکی تھی چنانچہ بالکل چارپائی سے جالگیں۔گھر کے تمام افراد بے حد فکر مند ہوگئے علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ بے جی کو علاج کیلئے لاہور لے جائیں لیکن وہ کسی قیمت پر سیالکوٹ چھوڑنے پر آمادہ نہ تھیں چنانچہ یہیں پر جیسا ممکن تھا علاج معالجہ ہوتا رہا۔مگر کمزوری تھی کہ دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔ حضرت علامہ تعطیلات کے اختتام پر بادل نخواستہ لاہو رواپس چلے گئے کیونکہ کئی ایک کام وہاں پر رکے ہوئے تھے۔ مگر تقریباً روزانہ خیریت معلوم کرنے کیلئے خط ان کا آتا تھا یا کسی اور ذریعے سے والدہ کی خیریت معلوم کرتے تھے۔ ان دنوں ابھی ٹیلیفون اتنا عام نہیں ہوا تھا البتہ تار کی سہولت موجود تھی۔ چنانچہ کبھی کبھی تار کے ذریعے بھی احوال دریافت کرلیتے تھے بخار نے کسی طرح بے جی کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہ دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئیں۔ صاف نظر آرہا تھا کہ یہ بخار صرف ایک بہانہ ہے اور در حقیقت وہ آہستہ آہستہ مرض الموت میں مبتلا ہوتی جارہی ہیں۔ اکتوبر کے وسط تک ان کی طبیعت بے حد خراب ہوگئی اور کمزوری اس قدر بڑھ گئی کہ ہلنا جلنا تک ممکن نہ رہا۔ علامہ علیہ الرحمتہ کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا تو وہ پہلی ہی فرصت میں سیالکوٹ پہنچ گئے۔ والدہ کی دن بدن بگڑتی صحت نے انہیں بے حد پریشان کردیا۔ وہ اپنی پیاری ماں کیلئے اس قدر بے چین تھے کہ دن رات ماں کے سرہانے سے اٹھتے ہی نہ تھے۔ وہ سیالکوٹ میں میسر ڈاکٹروں اور حکیموں کے علاج سے مطمئن نہ تھے اس لیے لاہور سے اپنے دوست ڈاکٹر کو بلوالیا مگر کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی اور ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔
نومبر کے شروع میں بے جی بالکل بے سدھ ہوچکی تھیں… کوئی غذا حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی۔ بس پانی کے چند قطرے باقی دن بدن پیار کا وہ چاند جو گزشتہ 80 برس سے اپنی پیاری اور مہربان کرنیں چار سو بکھیرتا اور ہر کسی پرنچھاور کرتا رہا اور جس کی ٹھنڈی چھائوں میں ’’بالے‘‘ نے اپنا بچپن اور جوانی بتائی تھی آہستہ آہستہ ڈھلتا جارہا تھا اور صاف نظر آرہا تھا کہ یہ مہربان چہرہ اب بہت جلد آنکھوں سے اوجھل ہونے کو ہے… ہمیشہ کیلئے… پھر کبھی نظر نہ آنے کیلئے حضرت علامہ علیہ الرحمتہ اس صورتحال سے اس قدر سراسیمہ اور بے بس تھے کہ ان کو کچھ نہیں سوجھتا تھا کہ کس طرح اپنی اس عزیز ترین ہستی کو سفر آخرت سے روک لیں…!
انہی دنوں عید الاضحی بھی آئی مگر وہاں عید اور قربانی کا کسے ہوش تھا اقبال منزل پر تو موت کا سناٹا چھایا ہوا تھا پورا گھر اپنی مالکن کیلئے سوگوار تھا وہ مالکن جو ایک طویل مدت سے اس گھر پر حکومت کرتی رہی تھی کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا… پورا گھرانہ بلکہ اڑوسی پڑوسی محلہ داران ان کی نیک اور پیاری عادات کے دیوانے تھے۔ ایک واقعہ کریم بی بی خلد آشیانی کے حوالے سے یہاں بیان کرنا انتہائی مناسب ہے جو ان دنوں سے متعلق ہے جب بے جی مرض الموت میں مبتلا تھیں وہ بیان کرتی تھیں کہ:
’’جن دنوں بے جی شدید بیمار ہوئیں، میں سیالکوٹ میں موجود نہیں تھی جیسے ہی مجھے اطلاع ملی میں لشتم پشتم سیالکوٹ پہنچی، گھر میں داخل ہوئی تو یوں محسوس ہوا کہ ہر طرف موت کا سکوت طاری ہے۔ بے جی کے کمرے میں پہنچی تو ان کو دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا۔ وہ بستر میں بے ہوش پڑی تھیں اور چہرے پر موت کی زردیاں کھنڈرہی تھیں۔ زینب (سب سے چھوٹی بہن) چیخ کر میرے گلے لگی تو میری بھی چیخیں نکل گئیں۔ میں نے بے جی کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور زارو قطار رونے لگی۔ بھابی نے مجھے گلے سے لپٹا کر دلاسادیا اور صبر کی تلقین کی۔ پھر آہستہ سے میرے کان میں کہا… جائو میاں جی سے مل لو ’’تمہارے دونوں بھائی بھی وہیں ہیں‘‘۔
میں افتاں وخیزاں میاں جی کے کمرے میں پہنچی اور ان کی گود میں سر رکھ کر زور زور سے رونے لگی انہوں نے رونے سے منع کرتے ہوئے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا کیلئے تلقین کی۔ دونوں بڑے بھائی عطاء محمد صاحب اور محمد اقبال صاحب بھی وہیں موجود تھے۔ بھائی عطاء صاحب تو بچوں کی طرح دھاڑیں مار مار کر روئے چلے جارہے تھے میرے وہاں پہنچنے سے ان کا رونا مزید تیز ہوگیا۔ میاں جی بے چارے بار بار انہیں منع کررہے تھے مگر ان پر کچھ اثر نہیں ہورہا تھا اور وہ بے دست وپابس روئے ہی چلے جارہے تھے تینوں باپ بیٹے اس وقت بے حد پریشان تھے اور بے جی کی بیماری میں افاقے کی بجائے شدت نے ان سب کو ہلکان کیا ہوا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ بے جی کی عظیم شخصیت کے متعلق بھی رطب اللسان ہو رہے تھے اور گن گن کران کی خوبیاں بیان کر رہے تھے۔ دوران گفتگو اقبال بھائی ایک دم بڑے جذباتی ہو گئے اور فرمایا… ’’میاں جی! میں تو اپنی ماں کے اس احسان کا بدلہ نہیں چکا سکوں گا جو اس نے میرا دودھ بند کر کے مجھ پر کیا تھا‘‘۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں چھلکنے کے قریب تھیں اور بڑی مشکل سے خود کو سنھبالنے ہوئے تھے۔ ان کی اس بات پر میاں جی خاموش اور دلگیر سے بیٹھے رہے مگر بھائی عطاء محمد زور زور سے سر ہلاتے جا رہے تھے اور مزید شدت سے روتے چلے جا رہے تھے۔ اس بار میاں جی نے ذرا سختی سے انہیں ڈانٹا… ’’عطا محمدبس خاموش ہو جائو… یہ عورتوں کی طرح رونا دھونا اب بند کرو‘‘ چنانچہ بھائی صاحب نے زور سے رومال میں ناک صاف کیا اور دبا دبا کر آنکھیں صاف کرنا چایں مگر آنسو تھے کہ کسی طور تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے…… وہ بے چارے بے بس تھے۔
اقبال بھائی صاحب نے بے جی کے جس احسان کا ذکر کیا تھا مجھے اس کے متعلق بس واجبی سا معلوم تھا وہ مجھ سے تقریباً تین سال بڑے تھے اس لئے ان کی شیر خواری کے زمانے کے بارے میں میری معلومات محدود تھیں۔ میں نے میاں جی کی طرف سوالیہ نظریں اٹھائیں۔ میں میاں جی کی بڑی لاڈلی تھی اور وہ ہر بات مجھے بتا دیا کرتے تھے مگر اس کے متعلق انہوں نے تفصیل نہیں بتائی تھی۔ میاں جی بولے… ’’یہ بڑی پرانی بات ہے اور بہت کم لوگ اس سے واقف ہیں کیونکہ تمہاری بے جی نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں اس کا ذکر کسی سے نہ کروں۔ میں نے ابھی بھی اس کا تفصیلی ذکر شاید پہلی باری تمہارے دونوں بھائیوں سے کیا ہے۔ اب تمہیں بھیسنائے دیتا ہوں۔ جن دنوں اقبال ابھی کمسن تھا اور ماں کا دودھ پیتا تھا‘ تمہاری بے جی کو یہ وہم ہو گیا کہ میرے کمائی میں کچھ ملاوٹ ہے۔ دراصل ان دونوں میں ایک جگہ ملازمت کیا کرتا تھا اور امام بی بی کو خیال ہوا کہ جو تنخواہ مجھے وہاں سے ملتی ہے وہ درست ذرائع سے حاصل نہیں ہوتی۔ میں نے انہیںبہت سمجھایا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور اگر ہے بھی تو میں تو پوری دیانتداری اور محنت سے اپنا کام انجام دیتا ہوں۔ اس لئے میری کمائی پر شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر ان کی تسلی کسی طرح سے نہ ہو سکی اور انہوں نے اقبال کو دودھ پلانا بند کر دیا۔ اور اپنا کچھ زیور بیچ کر ایک بکری خرید لی اور اس کا دودھ اقبال کو تب تک پلایا جب تک پوری تسلی نہ ہو گئی کہ میری آمدن بالکل پاک صاف ہے۔ اس دوران تمہاری ماں نے اقبال کو اپنا دودھ بالکل نہیں پلایا اور اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بچپن سے ہی اس کیلئے رزق حلال کا پورا پورا اہتمام کیا اور مشتبہ کمائی سے دودھ کا ایک قطرہ بھی اس کے جسم میں نہیں جانے دیا‘‘۔
9 نومبر 1914ء کا دن شاید حضرت علامہ علیہ الرحمتہ کی زندگی کی تاریک ترین دن رہا ہو گاکہ آخر وہ گھڑی آن پہنچی جب ان کی عزیز ترین ہستی ان کی والدہ محترمہ ان سے بچھڑ گئیں اور وہ مجبور اور بے بس کچھ بھی تو نہ کر سکے… (انا للہ وانا الیہ راجعون) میاں جی نے اپنی رفیقہ حیات کا کفن خود سیا اور خواتین کو میت پر واویلا کرنے سے سختی کیساتھ منع فرمایا۔ چنانچہ بہوئوں اور بیٹیوں کی آنکھوں سے خاموش آنسوئوں کی برسات تو ہوتی رہی مگر کسی کی آواز نہ نکلی…… مگر بے جی کے بڑے بیٹے شیخ عطا محمد صاحب کسی طور پر نہیں مان رہے تھے اور اپنی ماں کیلئے بچوں کی طرح بلک بلک کر روئے جا رہے تھے… چھوٹا بھائی (علامہ اقبال) بڑے کو سمجھاتا اور تسلیاں دیتا رہا وہ خود اپنے عظیم والد کی طرح رضائے الٰہی پر شاکر و صابر رہا مگر چہرے پر حزن و ملال چھایا رہا۔ ضبط کریہ نے دونوں باپ بیٹے کا برا حال کر دیا مگر صبر کا دامن کسی طرح نہ چھوڑا (بحوالہ خالد نظر صوفی ’’اقبال دورنِ خانہ، ص121-118)
حضرت علامہ علیہ الرحمتہ کی مشہور اور شاہکار نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ کا ہر شعر اپنی جگہ ایک علیٰحدہ جہان لئے ہوئے ہے۔ دنیا مانتی ہے کہ اس سے پر اثر اور بامعنی مرثیہ شاید ہی کسی نے اپنی ماں کی یاد میں کہا ہو۔ مگر اس کے اختتامی مندرجہ ذیل اشعار میں انہوں نے اپنی والدہ کو جس طرح نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے وہ واقعی فقید المثال ہے۔
دامِ سیمین تخیل ہے میرا آفاق گیر
کر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیر!
یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعائوں سے فضاء معمور ہے
وہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیات
جلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثبات
مختلف ہر منزل ہستی کی رسم و راہ ہے
آخرت بھی زندگی کی ایک جولانگاہ ہے
ہے وہاں بے حاصلی کشتِ اجل کے واسطے
سازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطے
نورِ فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیں
تنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیں
زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوبتر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا!
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہوا کرے!
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہء نو رُستہ اسگھر کی نگہبانی کرے

امام بی بی

Leave a Reply

%d bloggers like this: