Today's Columns

اسلامی عبادات میں نیت و خلوص کی اہمیت از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

اللہ تعالیٰ ہر کام میں انسان کی نیت دیکھتا ہے ۔نیت کا مطلب ہے ارادہ ۔ارادہ نیک بھی ہوتا ہے اور بد بھی ۔اسی طرح خلو ص کا مطلب ہے ہمدردی و دوستی ۔تو دوستی درد مندی کی بھی ہوتی ہے اور غرض مندی کی بھی ۔ اِس دنیا میں تو کوئی کام بھی ہو خواہ وہ صالح نیت سے کیا جائے یا فاسد نیت سے وہ یہاں تو چل ہی جائے گا کیونکہ یہاں تو ظاہرداری نبھائی جاتی ہے ۔لیکن آخرت میں چونکہ نیت اور دل کے راز اور بھیدوں کے مطابق مقبولیت و مردودیت کا دار و مدا رہے اس لئے وہاں پر وہ ہی عمل قبول ہو گا جو صالح نیت و ارادے سے کیا گیا ہے لہٰذا جو عمل بھی صالح اور نیک نیت و ارادے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لئے کیا گیا ہو اسی کا نام خلوص ہے اور اِسی نیت اور خلو ص کے بارے میں ہمارے ہادی برحق نبی اکرم ﷺ کی ایک مشہور حدیث مبارکہ ہے جو کہ تمام حدیث کی کتابوں میں سب سے پہلے لکھی جاتی ہے جو کہ ذیل میں درج کیجاتی ہے اور اِسی حدیث مبارکہ سے اپنے مضمون کا آغاز کرتا ہوں۔
’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سُنا ہے آپ فرماتے تھے کہ سب انسانی اعمال کا دارو مدار صرف نیتوں پر ہے اور آدمی کو اس کی نیت ہی کے مطابق پھل ملتا ہے تو جس شخص نے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف ہجرت کی (اور خدا و رسول کی رضا جوئی و اطاعت کے سوا اس کی ہجرت کا اور کوئی باعث نہ تھا) تو اس کی ہجرت در حقیقت اللہ تعالیٰ و رسول ﷺ ہی کی طرف ہوئی (اور بے شک وہ اللہ و رسول ﷺ کا سچا مہاجر ہے اور اس کو ہجرت الی اللہ و الی الرسول کا مقررہ اجر بھی ملے گا۔) اور جو کسی دنیاوی غرض کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر مہاجر بنا تو (اس کی یہ ہجرت اللہ و رسول کے لئے نہ ہو گی بلکہ فی الواقع جس دوسری غرض اور نیت سے اس نے ہجرت اختیار کی ہے ۔عند اللہ بس اسی کی طرف اس کی ہجرت مانی جائے گی۔
اس حدیث شریف کا ترجمہ ہی خاصہ مطلب خیز اور واضح ہے لیکن چونکہ یہ حدیث مبارکہ ایمان اور عمل کی اساس و بنیاد ہے ۔اس لئے اس کی خصوصی اہمیت کا تقاضہ ہے کہ اس کے مطالب و فوائد اور اس کے مضمرات پر مزید کچھ غور کیا جائے ۔
حدیث شریف کا اصل مقصد:اس حدیث شریف کا اصل مقصد در حقیقت یہ واضح کرنا ہے کہ تمام اعمال صالحہ کی مقبولیت و مردودیت کا دار و مدار بس نیت پر ہی ہے اور اسی عمل کی اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و قیمت بھی ہو گی جو صالح نیت سے کیا گیا ہو گا اور جو عمل صالح بھی کسی بری غرض اور فاسد نیت سے کیا گیا ہو گا وہ عمل قبول نہ ہو گا بلکہ نیت کے مطابق فاسد اور مردود ہی ہو گا اگر چہ ظاہر ی نظر میں وہ صالح ہی معلوم ہوتا ہے ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل کے ساتھ ساتھ نیت کا اور ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کا بھی دیکھنے والا ہے اس کے یہاں ہر عمل کی قیمت عمل کرنے والے کی نیت کے حساب سے لگائی جائے گی۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ:اس بات سے کسی کو یہ بھی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ جب دارو مدار نیت پر ہے تو پھر چوری چکاری اور ڈاکہ زنی بھی اگر اس نیت سے کی جائے کہ اس سے جو مال حاصل ہو گا وہ اس سے غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرے گا تو وہ بھی ثواب کا مستحق ہو گا ایسا نہیں ہو سکتا یہ بالکل اس کی خام خیالی ہی ہو گی ۔حقیقت یہ ہے کہ جو کام فی نفسہ مردود ہیں اور بے شک جن کو اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے حرام قرار دے دیا ہوا ہے ۔ان میں تو حُسن نیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا وہ تو بہر حال اپنی اصلیت میں ہی قبیح اور موجب غضب الہٰی ہیں بلکہ ان کے ساتھ اچھی نیت وابستہ کرنا اور ان پر ثواب کی اُمید بھی رکھنا ان کے لئے گناہ میں اور زیادتی ہی کا باعث ہو گا ۔ کیونکہ یہ اللہ کے دین کے ساتھ ایک کھیل یا مذاق جیسا عمل ہو گا۔ در اصل حدیث شریف کا منشاء یہ ہے کہ جو اعمال صالح بھی اگر کسی بری نیت سے کئے جائیں گے تو وہ اعمال صالح نہیں رہیں گے بلکہ بری نیت کے باعث ان کا انجام بھی برا ہی ہو گا۔
مثلاً کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اور بہت ہی پابندیٔ وقت کے ساتھ پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے جس کو ہم لوگ نہایت ہی اعلیٰ درجے کا عمل صالح سمجھتے ہیں اور وہ شخص اگر یہ نماز پنجگانہ پابندی کے ساتھ اس لئے پڑھتا ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کی دینداری اور خدا پرستی اور پرہیز گاری کے بارے میں اس کے متعلق اچھی رائے قائم کریں اور اس کو ایک اچھا دیندار نمازی پرہیز گار خیال کر کے اس کی عزت و عظمت کرنے لگیں تو اس حدیث شریف کی رو سے یہ اس کی نماز اور پرہیز گاری اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی اور یا یہ کہ مثلاً کوئی شخص دار الکفر سے دار الامان کی طرف ہجرت کرتا ہے اور ہجرت کی مصیبتیں بھی برداشت کرتا ہے لیکن اِس ہجرت سے اس کی کوئی اللہ کی رضا جوئی و خوشنودی مطلوب نہ ہو بلکہ کوئی اور دنیاوی غرض اِس میں پوشیدہ ہو مثلاً دار الامان میں رہنے والی کسی عورت سے نکاح کی خواہش اس ہجرت کی محرک ہوئی ہے تو یہ ہجرت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لئے نہ ہو گی اور نہ ہی اللہ کے یہاں اس کا کوئی اجر ملے گا بلکہ گناہ ہو گا یہی اس حدیث شریف کا اصل مقصد ہے ۔
بڑے سے بڑا عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہے توہ جہنم ہی میں لے جائے گا:رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے شخصوں کے بارے میں بارگاہِ ایزدی سے جہنم کا فیصلہ سنایا جائے گا۔
پہلے ایک ایسے شخص کی پیشی ہو گی جس نے جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا او ر خوب بہادری کے جوہر دکھلائے اور آخر کار لڑتے لڑتے شہید ہو گیا تھا ۔اللہ تعالیٰ پہلے تو اس کو اپنی عطا کی ہوئی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ اس کو یاد بھی آجائیں گی ۔ پھر اس سے دریافت فرمائے گا کہ بتلا تو نے کیااِن نعمتوں کا حق ادا کیا اور کیا عمل کیا ۔۔۔؟وہ شخص کہے گا یا الہٰی میں نے تیری راہ میں جہاد کیا اور تیری رضا طلبی کیلئے جان عزیز تک قربان کر دی ۔حکم ہو گاکہ تو جھوٹا ہے تو نے تو صرف اس لئے جہاد کیا تھا کہ دنیا میں تو بہادر مشہور ہواور دنیا میں تیری بہادری کا خوب خوب چرچا ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دو تو وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔اس کے بعد ایک عالم دین اور عالم قرآن پیش ہو گا اس سے بھی اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا کہ بتا تو نے دنیا میں کیا کیا اعمال کئے وہ کہے گا کہ تیرے دین اور تیری کتاب کے علم کو پڑھا اور پڑھایا اور یہ سب تیری رضا کے لئے کیا۔ حکم ہو گا تو جھوٹا ہے تو نے تو علم قاری اور مولانا کہلانے کیلئے پڑھا تھا ۔پھر بحکم خدا وندی اس کو بھی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر اس کے بعد ایک اور شخص پیش ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال و دولت دیا ہوا تھا اس سے بھی یہی سوال کیا جائے گا ۔کہ تو نے کیا کیا وہ کہے گا کہ اے اللہ میں نے خیر کا کوئی شعبہ ایسا نہیں چھوڑا جس میں تیری رضا جوئی کے لئے اپنا مال نہ خرچ کیا ہو ۔حق تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے ۔تو نے صرف اس لئے مال خرچ کیا تھا کہ دنیا میں تجھ کو سخی کہا جائے تو دنیا میں تیری سخاوت کا خوب خوب چرچا ہو گیا پھر اس کو بھی جہنم میں ہی ڈال دیئے جانے کا حکم ہو گا۔(کتب احادیث)
اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے ۔نیتوں کے فساد اور نفاق و ریا کاری سے ۔آمین اللّٰھم آمین۔
فاسد و صالح نیت کا انجام قرآنی آیات کی روشنی میں:قرآن مجید میں بھی اچھی اور بری نیت کے بارے ارشادات موجود ہیں ۔مندرجہ ذیل آیت میں صدقات و خیرات کرنے والے دونوں قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے اور پھر ان کا انجام بھی فرمایا گیا ہے ۔ایک میں وہ لوگ ہیں جومحض دُنیا کے دکھاوے کیلئے اپنا مال کار خیر میں خرچ کرتے ہیں۔
کاالَّذِیْ یُنْفِقُوْ مَا لَہٗ رِیَآئَ النَّاسِ وَلَا یُؤْ مِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہَ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا ط لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّمَّا کَسَبُوْا ط وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَO(سورۃ البقرہ آیت نمبر264)
دوسرے وہ لوگ جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لئے اپنا مال غریبوں اور مسکینوں اور حاجت مندوں کی مدد کے لئے خرچ کرتے ہیں۔
وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ ابْتِغَائَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسَھُمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبْوَۃٍ اَصَابَھَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُکُلَھَا ضَعْفَیْن ج فَاِنْ لَّمْ یُصِبْھَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللّٰہُ مَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔(سورۃ البقرہ آیت نمبر265)
اب ان دونوں قسم کے لوگوں کے اگر چہ ظاہر ی عمل یکسا ںتھے اور بظاہر ان میں یکرنگی بھی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بظاہر دیکھنے والا ان دونوں کے درمیان کسی قسم کے فرق کا کوئی حکم بھی نہیں لگا سکتا۔
لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہمارے سامنے ہے اور قرآن حکیم ہمیں صاف صاف بتلا رہا ہے کہ ان کی نیتیں مختلف تھیں ۔اسلئے انکے نتیجے بھی مختلف ہیں ۔ایک کا عمل سراسر برکت والا اور دوسرے کا بلکل اکارت و رائیگاں ۔مال تو اگر چہ دونوں نے ہی بظاہر یکساں طور پر خرچ کیا لیکن چونکہ ایک کی نیت محض دکھاوے کی تھی اس لئے اس کو لوگوں کے دیکھ لینے یا زیادہ سے زیادہ کچھ وقتی طور پر تعریف و توصیف کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا کیونکہ اس کی نیت ہی اس انفاق سے اس کے سوا کچھ نہیں تھی۔
لیکن دوسرے نے چونکہ اس اثار و اتفاق سے صرف اللہ کی رضا جوئی اور اس کا فضل و کر م چاہا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی نیت کیمطابق پھل دیا۔
بس یہی سنت اللہ اور قانون قدرت ہے جس کا اعلان نبی کریم ﷺ نے اس حدیث شریف میں فرمایا ہے ۔یہ دنیا جس میں ہمیں کچھ کرنے کا موقع دیا گیا ہے یہ عالم ظاہر ہے ۔یہاں ہر کام کا فیصلہ ظاہر پر ہی ہوتا ہے اور ظاہری حالت وچا ل چلن دیکھ کر ہی کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جاتی ہے اور اِسی بنیاد پر اس کے ساتھ معاملات کئے جاتے ہیں۔
لیکن عالم آخرت میں چونکہ فیصلہ کرنے والا خود اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہو گا وہاں پر اس کا فیصلہ نیتوں اور دل کے ارادوں کے لحاظ سے ہو گا ۔گویا جس طرح یہاں پر احکام کے بارے میں ظاہری اعمال اصل ہیں اور کسی کی نیت پر یہاں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا تا ۔اسی طرح وہاں معاملہ اس کے بر عکس ہو گا اور حق تعالیٰ کا فیصلہ نیتوں پر ہو گا۔
اسلام کے تین شعبے:یہ حدیث شریف ان جوامع الکلام میں سے ہے یعنی کہ رسول اللہ ﷺ کے اُن مختصر اور جامع اور وسیع المعنی ارشادات عالیہ میںسے ہے جو مختصر ہونے کے باوجود دین کے ایک بڑے حصے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں اور دریا بکوزہ کے مصداق ہیں ۔یہاں تک کہ بعض آئمہ نے کہا ہے کہ اسلام کا ایک تہائی حصہ ۔اس حدیث شریف میں آ گیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اصولی طور پر اسلام کے تین ہی شعبے ہیں ۔1۔ نیت ۔2۔ ایمان ۔ 3۔ عمل ۔اب چونکہ یہ حدیث شریف نیت و اخلاص کے پورے شعبے پر محیط ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کا ایک تہائی حصہ اس حدیث شریف میں آ گیا ہے ۔
اور پھر اخلاص وہ چیز ہے کہ جس کی ہر کام میں اور ہر قدم پر ضرورت ہے اور زندگی کے ہر ہر موقعہ پر نیک نیتی اور خلوص ہی کام آتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے دونوں طرح کے انسانوں کے بارے میں صاف صاف فرما دیا ہے کہ وہ شخص جو کہ محض لوگوں کے دکھاوے کے لئے اپنا مال خرچ کرتا ہے وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کسی پتھر پر کچھ مٹی جم گئی ہو اور پھر اس پر کچھ سبزہ بھی اُگ آیا ہو اور پھر اس پر زور دار بارش گرے جو مٹی کو بہا لے جائے ۔وہ جگہ بالکل صاف پتھر ہی پتھر رہ جائے تو ایسے ریا کار لوگ اپنی کمائی کا کچھ بھی پھل نہ لے سکیں گے اور ایسے منکر لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت سے اور اِس کے میٹھے پھل سے محروم ہی رکھے گا۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی رضا جوئی کیلئے اور اپنے نفسوں کو ایثار و قربانی کا عادی بنانے کیلئے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔وہ اُس پھولنے پھلنے والے باغ کی طرح ہے جو کہ کسی زرخیز زمین پر ہونے کے باوجود جب اس پر زور دار بارش ہو تو دوتنے اور چوگنے پھل لائے ۔
صالح نیت کی برکت سے دنیاوی کام بھی عباد ت بن جائیںگے:لہٰذا ہمیںچاہیئے کہ ہم جو عمل بھی کریں اگر وہ معروفات یعنی نیکی کے کاموں میں سے ہے تو اِس ارادے اور نیت سے کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کو اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر وہ منکرات یعنی بدی کے کاموں میں سے ہے تو اِس سے بچے رہنے میں بھی یہی خیال رہے کہ ہمارے مولا کا حکم یہی ہے کہ ہم اس سے بچے رہیں ۔دونوں موقعوں پر اللہ تعالیٰ کی مرضی و خوشنودی اور اس کی پسندیدگی کا خیال رہے ۔خواہ وہ اعمال معروف عبادات میں سے ہوں یا دیگر دنیاوی کام و معاملات ہوں جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور ہمارے ہادی بر حق ﷺ کی سنت کے مطابق ہوں گے تو یہی کام ہماری عبادت بن جائیں گے ۔
اللہ تعالیٰ ہر ایک مومن مسلمان کو یہ پاک اوصاف عطا فرمائے ۔
اب دین کے تمام اعمال میں نیت و ارادے اور خلوص کے احکام اور ان کے انجام و ثمر و برکات سے ہم بحمد للہ واقف ہو گئے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے احکام و فرمودات و عبادت کے معاملے بھی ہمارے سامنے آ گئے ہیں ۔اب ایک دنیاوی کام میں بھی نیت کا پھل دیکھ لیں اور سمجھ لیں اس وقت ایک ایسی مثال سے سمجھیں کہ جو بظاہر بلکل خالص دنیاوی اور ذاتی ہے وہ یہ کہ ہم روزانہ کھانا کھاتے ہیں ۔غذائیں اپنے جسم کو فراہم کرتے ہیں جو کچھ بھی ہم کو اللہ تعالیٰ نے رزق عطا فرمایا ہے ہم کھاتے ہیں ۔بظاہر یہ ہمارا اپنا ایک دنیاوی اور ذاتی کام ہے ۔ذاتی غرض ہے کیونکہ ہمیں بھوک لگتی ہے اس کو مٹانے کیلئے ہم کو غذا کھانی پڑتی ہے ۔ نہ کھائیں تو تکلیف ہوتی ہے اور کمزوری ہوتی ہے ۔ بیماری بھی آجاتی ہے ۔مسلسل نہ کھائیں تو زندگی ختم ہوجائے وغیرہ وغیرہ ۔غرض یہ کہ یہ معاملہ بظاہر بالکل اپنی ہی غرض کا اور ذاتی ہے ۔لیکن اس میں بھی نیک نیتی اور خلوص کے اس قدر اچھے اور خوشگوار پہلو موجود ہیں جس سے ہم واقف ہو کر اپنے ہر کام میں اور ہر قدم پر اپنے مالک حقیقی کی رضا و خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں یعنی یہ کہ اس کے کھائے میں ہماری نیت ہونی چاہیے کہ ہمارے نفس کا بھی ہم پر کچھ حق ہے ۔ہم یہ حق ادا کر رہے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کیا ہوا ہے اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر بھی زندگی ہم کو دی ہوئی ہے اس کی بقا کے لئے ہم کھا رہے ہیں تاکہ ہم صحت و تندرستی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں اور زندگی کے تمام کام بحسن و خوبی خدا اور رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق انجام دے سکیں۔
مومن کی پوری زندگی عبادت ہی سے عبارت ہے :تو اس طرح خدا کے حکم کی پیروی اور رسول کی سنت کی اتباع کی نیت شامل کر لینے میں یہی ذاتی کام بھی عبادت بن جائیگا اور اجر بھی ملے گا جو عند اللہ ایک مخلص مومن کا مقدر ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمادیا ہے یعنی یہ کہ داخلہ جنت۔ اس بارے میں ایک مشہور اور معروف روایت کے مطابق مومن کی ساری زندگی ہی عبادت سے عبارت ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے نیک و صالح بندوں پر کس قدر مہربانی اور رحمت ہے اور بے پایاں محبت و شفقت ہے کہ بغیر کسی محنت و مشقت کے محض نیک نیتی اور پاکیزہ ارادوں پر وہ کس قدر مہربان ہے ۔
اِس حسن نیت اور نیک ارادوں میں نہ تو کچھ محنت کرنی پڑتی ہے اور نا ہی کچھ وقت خرچ ہوتا ہے ۔بس دل میں خلوص اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی و نیت میں پاکیزگی اور ارادوں میں پختگی و پاکیزگی پیدا کرنی ہوتی ہے ۔لہٰذا تو کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔
یہ اوصاف اپنے دل میں پیدا کر لئے جائیں اور پھر ان پر قائم رہا جائے تونیک نیتوں اور پاکیزہ ارادوں و خلوص کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے بڑے انعام و اکرام ہیں۔
ہمارے ہادی برحق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور پھر اس پر جمے رہو بس یہ جمے رہنا اور قائم رہنا ہی ایک کام ہے کہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ نیک نیتی اور پاک و مستحکم ارادوں ہی کی بدولت دنیا میں بڑی بڑی مہمات سر کی جاتی ہیں ۔معلوم ہوا کہ نیت ایمان کی بنیاد ہے ۔
اب ہم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ انما لاعمال بالنیات یعنی سب اعمال کا دار و مدار نیت پر ہی ہے ۔ جس قدر اہم اور حقیقت و صداقت پر مبنی ہے اور مومن کیلئے کس قدر اشد ضروری ہے اسی کا لحاظ رکھنا ہے ۔کیونکہ یہ ہی تو ایمان و اعمال کی اساس و بنیاد ہے ۔
اللہ تعالی ہمیں حسن نیت اور خلوص نیت عطا فرمائے ۔آمین!

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: