Today's Columns

قرآن حکیم میں صلہ رحمی کی فضیلت از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

شیخ عبد الحق محدٹ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔لغت میں صلہ کا معنی ہے ملانا اور جوڑنا اور اس جگہ مراد قریبی رشتہ کا جوڑنا ہے ۔یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنا۔ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلہ رحمی واجب ہے اور قطع رحمی حرام۔ جن رشتہ والوں کے ساتھ صلہ رحمی واجب ہے وہ کون ہیں ؟بعض علماء نے فرمایا وہ ذورحم محرم ہیں اور بعض نے فرمایا اس سے مراد ذورحم ہیں محرم ہوں یا نہ ہوں اور قول دومپر ہی فتویٰ ہے ۔احادیث میں مطلقاً رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم آتا ہے ۔قرآن مجید میں مطلقاً ذوالقربی فرمایا گیا ۔مگر یہ بات ضرورہے کہ رشتہ میں چونکہ مختلف درجات ہیں اس لئے صلہ رحمی کے درجات میں بھی تفاوت ہوتا ہے ۔والدین کا مرتبہ سب سے بڑھ کرہے ۔ان کے بعدذورحم محرم کا ۔ان کے بعدبقیہ رشتہ داروںکا۔
صلہ رحمی کی مختلف صورتیں ہیں ۔ان کو ہدیہ وتحفہ دینا اور اگر ان کو کسی بات میں تمہاری اعانت درکار ہو تو اس کا م میں ان کی مدد کرنا ۔انہیں سلام کرنا ۔ان کی ملاقات کو جانا ۔ان کے پاس بیٹھنا اٹھنا ۔ ان سے بات چیت کرنا ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا ۔وغیرہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’تم اپنے وہ انساب سیکھو جن کے سبب تم صلہ رحمی کرو گے ۔کیونکہ صلہ رحمی گھر والوں میں محبت کا سبب ہے مال میں کثرت کا ذریعہ ہے عمر میں زیادتی کا باعث ہے ۔(مشکوٰۃ شریف133/2)
اس حدیث کے تحت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :اپنے انساب میں سے اس قدر سیکھو کہ ان کی وجہ سے تم اپنے رشتوں کو ملائو گے ۔یعنی اپنے ابائو اجداد و امہات اور ان کی اولادیں خواہ مرد ہوں یا عورتیں کو پہچانو اور ان کے نام یاد رکھو تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کر سکو کیونکہ ان ناموں کا جاننا ضروری اور نفع بخش ہے ۔(اشعۃ اللمعات 107/4)
قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور اچھا برتائو شرعاً بہت پسندیدہ عمل ہے ۔اس کی تاکید شدید میں متعدد آیات و احادیث موجود ہیں یہاں چند آیات و احادیث تبرکاً نقل کی جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف ، نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سر کشی سے ۔تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔(پارہ14رکوع19)
حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت تفسیر نعیمی میں لکھتے ہیں ۔’’یہاں رشتہ داروں میں سارے ،دور و نزدیک کے رشتہ دار داخل ہیں اور دینے میں ہر قسم کا حق ادا کرنا شامل ہے ۔ خواہ مالی ہو یا بدنی یا ایمانی ۔رشتہ داروں کا حق غیروں سے زیادہ ہے ۔‘‘
علامہ علائو الدین خازن اس آیت کے تحت تحریرفرماتے ہیں ۔’’یعنی وہ اللہ حکم کرتا ہے صلہ رحمی کا اور رحم سے قریب اور دور کے سب رشتہ دارمراد ہیں ۔پس مستحب ہے کہ وہ اپنے فالتوخدا داد مال سے ان پر احسان کرے اور اگر ان کی مالی مدد نہ کرسکتا ہو تو ان کے لئے اچھی دعا کرے اور ان سے محبت رکھے۔(خازن ص100/4)
مفسر صاوی فرماتے ہیں :بے شک اللہ حکم کرتا ہے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے کا کیونکہ دوسرںکی نسبت قریبی رشتہ دار پر صدقہ کی زیادہ تاکید ہے کیونکہ اس پر صدقہ صلۂ رحمی ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:بلاشبہ ثواب کی رو سے سب سے زیادہ جلدی قبول ہونے والی عبادت صلہ رحمی ہے ۔(تفسیر صاوی 272/2)
دوسری آیت کریمہ:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے ۔(پارہ 15رکوع3)یعنی ماںباپ کے ساتھ ان کی اولاد، بھائی بہن اور ان کے قرابت داروں یعنی اپنے عزیزوں کی بھی خدمت کرو۔(نور العرفان 453)
یہاں مفسر خازن فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ نے والدین سے صلہ رحمی کا حکم دینے کے بعد رشتہ داروں سے صلہ رحمی کا حکم دیا ۔یعنی رشتہ داروں کاحق ادا کرنے کا حکم دیااور ان کے حق سے چند باتیں یہ ہیں کہ ان سے نیکی کرنا محبت رکھنا، اچھا برتائو کرنا،خوشی اور غمی کے موقع پر ان سے باہمی الفت کا مظاہرہ کرنا ایک دوسرے کی مدد کرنا وغیرہ اور کہا گیا ہے کہ اگر وہ محتاج ہوں اور یہ خوشحال ہے تو ان کا خرچہ اس پر لازم ہے یہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس پر ان کا خرچہ لازم نہیں ہوتا صرف والد کا خرچہ اولاد پر اور اولاد کا خرچہ والد پر لازم ہوتا ہے ۔(خازن 157/4)
مفسر صاوی لکھتے ہیں ۔ ان سے صلہ رحمی بایں معنی ہے کہ ان سے قطع تعلقی نہ کی جائے اور نہ ان سے دشمنی رکھی جائے تو یہ واجب ہے جس طرح اصول و فروع واجب ہیں ۔(تفسیر صاوی 294/2)
تیسری آیت کریمہ:للہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’تو رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو ۔یہ بہتر ہے ان کے لئے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور انہی کا کام بنا ۔ (پارہ 21رکوع 7)
یہ آیت کریمہ تمام قرابت داروں کے حقو ق ادا کرنے کا حکم دے رہی ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر رشتہ دار کا حق ہے ۔اس میں سسرال اور نسبی تمام قرابت دار شامل ہیں ۔(نور العرفان 651)
مفسر صاوی لکھتے ہیں :’’یہ آیت نفلی صدقہ کے بارہ میں ہے نہ کہ واجب زکوٰۃ کے بارہ میں کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور زکوٰۃ کا حکم مدینہ منورہ میں سن دو ہجری میں نازل ہوا تھا۔ (صاوی 206/3)
چوتھی آیت کریمہ:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ اور رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی کرو۔(پارہ 1رکوع10)
ماں باپ کے ساتھ ان کی زندگی میں احسان یہ ہے کہ ان کا ادب کرے ۔ان کی جانی مالی خدمت کرے ان کے جائز حکموں کو مانے ۔ان کی خدمت کے لئے نوافل ترک کرسکتا ہے فرائض و واجبات نہیں چھوڑ سکتا ۔اگر ماں باپ کسی گناہ یا کفر میں مبتلا ء ہو ں تو ان کو اچھی تدبیر سے روکے ۔والدین کے مرنے کے بعد ان سے بھلائی یہ ہے کہ ان کی وصیتیں پوری کرے ۔ان کے دوستوں کا احترام کرے ۔فاتحہ تلاوت قرآن و دیگر صدقات کا ثواب بخشتا رہے اور ان کے اچھے مراسم کو جاری رکھے ۔کم از کم ہفتہ میں ایک مرتبہ ان کی قبر کی زیارت کرے ۔اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ اور رشتہ داروں کی خدمت بڑی ضروری ہے کہ رب نے اپنی عبادت کے ساتھ ان کی اطاعت کا ذکر فرمایا ہے ۔ (نورالعرفان 19)
پانچویں آیت کریمہ:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال رشتہ داروں کو دے ۔(پارہ 2رکوع6)یعنی اپنے قرابت داروں کو باقی مصارف صدقہ پر مقد م فرمایا گیا کیونکہ وہ صدقہ کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں ۔ شیخین نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی آزاد کی اور رسول اللہ ﷺ سے اس کی اجازت نہیں لی ۔پھر جب ان کی باری کا دن ہوا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے سنا ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے ۔فرمایا کیا تونے یہ کام کر لیا ہے ۔ عرض کیا ہاں فرمایا!’’اگر تو اپنے ننھیال والوں کو یہ لونڈی دے دیتی تو تیرے لئے زیادہ اجر تھا۔(خازن 144/1)
چھٹی آیت کریمہ:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے نام پر تم مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو ۔بے شک اللہ تعالیٰ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ۔‘‘ (پارہ4رکوع12) یعنی رشتہ داروں سے اچھا برتائوکرو ۔رشتے قطع نہ کرو ۔حضور ﷺ فرماتے ہیں ’’جو رزق کی کشائش اور عمر میں برکت چاہے وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے ۔(نورالعرفان 122)
تفسیر خازن میں ہے :اس آیت میں اس بات پر دلیل موجود ہے کہ رشتہ داری کا حق بہت بڑا ہوتا ہے او رشتہ داری قطع کرنا ممنوع ہے اور اس معنی پر وہ حدیثیں بھی دلالت کرتی ہیں جو اس بارہ میں آئی ہیں مثلاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’رشتہ داری عرش سے لٹکی ہوئی ہے وہ کہتی ہے کہ جو مجھے ملائے گا میں اسے ملائوں گی اور جو مجھے کاٹے گا میں اسے کاٹوں گی ‘‘۔متفق علیہ ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس کو یہ بات اچھی لگے کہ اس کی روزی کشادہ کی جائے اوراس کی عمر لمبی کی جائے تو اسے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے رہنا چاہیے‘‘ ۔متفق علیہ۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :’’جنت میں رشتہ داری کاٹنے والا داخل نہیں ہوگا ‘‘ ۔ متفق علیہ ۔ حضرت حسن بصریرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔جو اللہ کی ذات کے وسیلہ سے مانگے اسے وہ عطا کرتا ہے اور جو رشتہ داروں سے حسن سلوک کے ذریعہ سے مانگے وہ اسے عطا کرتا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رشتہ داری عرش سے لٹکی ہوئی ہے پھر جب اس کے پاس رشتہ داری پالنے والا آئے گا تو وہ اس کی وجہ سے خوش و خرم ہو گی اور اس سے کلام کرے گی اور رشتہ داری کاٹنے والا اس کے پاس آئے گا وہ اس سے پردہ کر لے گی۔(تفسیر خازن 473/1)
ساتویں آیت کریمہ:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائو اور ماں باپ اور رشتہ داروں سے بھلائی کرو۔(پارہ 5رکوع3)
تفسیرخازن میں ہے اور جاننا چاہیے کہ والدین سے اچھا سلوک کرنا اس طرح ہے کہ ان کی خدمت کی جائے ۔ان کے سامنے آواز بلند نہ کی جائے ۔ان کی مراد کے حصول میں کوشش کی جائے اور قدرت کے اندازہ پر ان پر مال خرچ کیا جائے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ!میری نیکی و احسان کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ فرمایا تیری ماں ۔پھر عرض کیا ۔پھر کون ؟ فرمایا تیری ماں۔ پھر عرض کیا ۔پھر کون؟ فرمایا تیری ماں ۔پھر عرض کیا ۔پھر کون؟فرمایا پھر تیرا باپ اور دوسری روایت میں ہے فرمایا ۔تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیراباپ پھر زیادہ قریبی رشتہ دارپھر تیرا قریبی رشتہ دار متفق علیہ اور انہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔’’اس کی ناک خاک آلود ہو اس کی ناک خاک آلود ہو اس کی ناک خاک آلود ہو ۔عرض کیا گیا ۔یا رسول اللہ ﷺ ! کس کی؟فرمایا ’’جو اپنے والد کو بڑھاپے میں پائے یا ان میں سے ایک پھر جنت میںداخل نہ ہو جائے ۔‘‘(مسلم شریف)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :’’جو شخص چاہے کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر میں زیادتی کی جائے اسے اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا چاہیے ۔(تفسیر خازن 522/1)
مذکورہ بالا آیات و تفسیرات سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ صلہ رحمی کی قرآن مجید میں کتنی تاکید فرمائی گئی ہے ۔موجودہ معاشرہ پر غور کریں تو ہمیں صلہ رحمی کا فقدان نظر آتا ہے ۔اولاد والدین کی نافرمان ہے ۔عزیز عزیز سے نالاں ہے ۔رشتہ دار دوسرے رشتوداروں کا حق غضب کر رہا ہے ۔یہ سب دینی احکامات اور قرآن و سنت سے دوری کا سبب ہے ۔آج بھی اگر مسلم معاشرہ قرآن کی لافانی احکاماتِ صلہ رحمی پر ہوس و لالچ کو ترک کر کے عمل پیرا ہوجائے تو برکت ،رحمت و عنایت باری تعالیٰ سایہ فگن ہو جائے گی ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق بخشے ۔آمین!
شائع فرماکر شکریہ کا موقعہ دیں۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: