سوشل میڈیاریڑھ کی ہڈی

0 3

پوری دنیامیں سوشل میڈیانے انقلاب برپاکردیاہے اگربات کریں صرف پیغام کی تو20برس پہلے کوئی کسی کوخط لکھتاکہ آپ کے گھرفلاں آدمی بیمارہے تواسے خط موصول ہونے تک اس کے قل ہورہے ہوتے تھے مگرآج بتاناتودورتصویربھیجنابھی پیچھے رہ گیاویڈیوکال کرکے ایک دوسرے کی بات سن کے ایک دوسر کودیکھ سکتے ہیں یہ سب انقلاب ہیں آج کل ہربزنس آن لائن ہورہاہے ہرکاروبار کی پبلیسٹی سوشل میڈیاپرہورہی ہے کسی کابھی کاروبارہووہ پہلے اس کا فیسبک اکائونٹ بنائے گاپھرکاروبارکرے گااب لوگ پمفلٹ وغیرہ نہیں پڑھتے مگرسوشل میڈیاپوسٹ ضرورپڑھتے ہیں آج کل ٹک ٹاک ،یوٹیوب اورآن لائن یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں لوگ پیسے کمارہے ہیں ۔ایک وقت تھاکہ کوئی خریداری کرنے کیلئے بازارجاتاتوہجوم اورگرمی سردی کوبرداشت کرتے سارادن گزرجاتامگرشاپنگ پھربھی ختم نہ ہوتی خاص کرشادی بیاہ اورتہوارکے دنوں تومزیدپریشانیاں ہوتی ۔اگریوٹیلیٹی بلز کی بات کریں توایک بل کیلئے سارادن لائن لگناپڑتی تھی چاہے وہ بھرسکیں یااگلے دن جرمانہ اورلائن ایک ساتھ بھگتناپڑے۔اگرکسی اپنے نے کہیں سے فون کرناہے توپاس کے پی سی اویاہمسائے کے گھرگھنٹوں بیٹھناپڑجاتاتھااوربات صرف دوچارمنٹ ہی ہوتی تھی اب آن لائن سسٹم سے سب کچھ آسان ہوگیاکسی اپنے سے بات کرنی ہے توہرایک کے پاس ویڈیوکال والاموبائل فون ہے بات کیااس کی شکل دیکھ سکتے ہیں جس سے صحت کابھی پتہ چل جاتاہے اگرشاپنگ کرنی ہے توآدھے سے زیادہ شاپنگ آج کل آن لائن ہی ہوتی ہے بلز کی ادائیگی کیلئے موبائل فون میں ایپس انسٹال ہیں گھربیٹھے سارے بل اداہوجاتے ہیں اس کے علاوہ ڈاکٹروں سے بھی آن لائن مشورے گھربیٹھے کیئے جاتے ہیں تعلیم بھی آن لائن حاصل ہورہی ہے سودے سلف کیلئے کال کردی جاتی ہے توڈیلیوری بوائے گھردے جاتاہے رئیل سٹیٹ کاکام ہویعنی زمین کی خریدوفروخت سکولوں کے داخلے کی مہم ہوکھانے پینے کی اشیاہونوکری کی تلاش تک ہمیں سوشل میڈیاپرمل جاتے ہیں جس کی جوہ سے سوشل میڈیاہماری زندگی میں بہت اہم ہوچکاہے۔سوشل میڈیاکے ساتھ اگرسوشل میڈیاانچارج بھی ہوتوہرمشکل آسان ہوجاتی ہے کیونکہ آپ نے صرف بتاناہے کرناساراکام سوشل میڈیاانچارج نے ہے جس سے آپ کی سب سے قیمتی چیز وقت بچ سکے گا۔بات زیادہ پرانی نہیں بس 2011کی ہے جب میں ڈیزائنگ کورس کیلئے لاہورآیالاہورآنے سے پہلے کراچی میں 7سال لگاچکاتھاجس لیے پردیس کاباخوبی اندازہ تھااس لیے رہائش کیلئے اپنی خالہ امی کے گھرکوترجیح دی کورس تین ماہ کاتھامگرتیسرے ہی روز فیصلہ کیاکہ رہائش توٹھیک ہے پرکھانے پینے اوردیگرضروریات کیلئے کسی کوتکلیف دینااچھی بات نہیں تودوچارجگہ پرCVکے ہمراہ انٹرویوبھی دیاتوDEE Jhons میڈیاایڈورٹائزنگ کمپنی میںجاب ہوگئی پیکج توکم تھامگراکیلے آدمی کیلئے ٹھیک تھاکچھ ماہ کے بعدNECگرافک ایڈورٹائزرپرجاب ہوگئی یہاں پرایک دو ماہ ہوئے تھے کہ حاجی رفاقت جواس وقت امی رکشہ یونین کے سیکرٹری جنرل تھے انہوں نے میرے خالو سے باتوں باتوں میں پوچھاکہ بچہ کیاکرتاہے توخالونے بتایاکہ ڈئزائرہے توانہوں نے کہا ہمارے پاس کام کرے گاتوخالونے مجھے بلایااورپوچھاتومیں نے کہا اچھاپیکج دیں گے توکیوں نہیں کروں گااگلے روز28جولائی 2013کومجھے عوامی رکشہ یونین کے مرکزی دفترلے گئے تواس دن ایل پی جی کے مہنگاہونے کے خلاف احتجاجی مطاہرہ تھاتومجھے کچھ پوسٹیں بنانے کوکہاجومیں نے بناکے دیں تومجیدغوری صاحب نے کہاکہ آپ آج سے آفس جوائن کریں تومیں نے عرض کی کہ جناب میں جہاں کام کرتاہوں وہاں سے اجازت لے لوں اگروہ نہ مانے تومعذرت میں اپنے باس خالد محمود صاحب کے پاس گیااوراجازت لی توانہوں نے پیکج کاپوچھاتومیں نے بتایاجتناآپ دے رہیں وہ بھی اتناہی دیں گے مگرپلیٹ فارم بڑاہے توانہوں نے اجازت دے دی پہلے توکوئی جانتانہیں تھامگربیٹھ کے ایساکام کیاکہ ہرایک نے عزت کے ساتھ محبت بھی دی کوئی بھی مہمان آتاتومجید غوری صاحب اورصدرلاہورذیشان اکمل صاحب تعارف کراتے مجھے آج بھی یاد ہے کہ جماعت اسلامی کے بارہ ربیع الاول کے ناشتہ پروگرام میں میاں مقصود صاحب سے مجیدغوری صاحب نے میراتعارف کرایاکہ یہ ہمارے سوشل میڈیاانچارج ہیں توانہوں نے کہا سوشل میڈیاآج کل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل کرچکاہے اس لیے یقیناً یہ آپ کیلئے اہم ہے اس دن سے مجھے بھی محسوس ہوایارمیں کوئی چھوٹاموٹاکام نہیں کررہا اس وقت عوامی رکشہ یونین کے 2000کے قریب ممبرتھے ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں آگاہی دی اور2020تک 30,000ممبرہیں جس میں کہیں نہ کہیں بندہ ناچیز کاکچھ رول ضروررہاہے ۔اگربات کروں عوامی رکشہ یونین کے فیسبک پیج کی تواس وقت توچندسو فالوورز تھے مگرآج 50,000سے زائدلوگ ہمارے پیج کولائک کرچکے ہیں جس کاکچھ راقم بھی ساجھے دارہے28جولائی 2020کوعوامی رکشہ یونین کے ساتھ 7سال تومکمل ہوئے مگراس کے ساتھ ہی ذیشان اکمل صدرلاہورسے اجازت لے کے ایک نئی جاب کرنے چلاگیامگرکچھ سال نہیں کچھ ماہ نہیں بلکہ کچھ دن آفس نہ جانے کی وجہ سے لوگوں نے سوال کرنے شروع کردیئے کہ کیاآپ نے عوامی رکشہ یونین چھوڑ دی ہے تومیں نہیں نہیں کے جواب دے کہ تھک گیامحترم قارائین اب آپ بھی سوچیں گے کہ صدرلاہورسے اجازت لے لی نئی جاب بھی کررہاہوں پھربھی نہیں چھوڑی تواس کاجواب یہ ہے کہ سوشل میڈیاانچارج کاجوعہدہ تھاوہ چھوڑاہوالگ بات ہے مگرعوامی رکشہ یونین کی سپریم کونسل کاممبرآج بھی ہوںاورآج تک عوامی رکشہ یونین کے پیج پرکسے نئے پریس سیکرٹری کی پوسٹ نہیں لگی نہ ہی میرااعلان لاتعلقی لگاہے کیونکہ عوامی رکشہ یونین اورانکی مکمل انتظامیہ سے فیملی تعلق بن چکاہے نوکری توختم ہوسکتی ہے مگرتعلق نہیں ۔ آج کل سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی جماعتیں سب کے سوشل میڈیا سیل بنے ہوئے ہیں سوشل میڈیا پرمسلسل نگاہ ہے تو پھرکیسے ممکن ہے کہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپگینڈا سے مذہبی جماعتیں لاعلم ہوں اپنے مفادات کی بات آئے تو ملا،قاضی اور سیاستدان سب سڑکوں پرنکل آتے ہیں آج بچے بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اورسب سے زیادہ تعدادٹک ٹاکرز کی ہے جودنیاوی جنت میں گم ہوتے ہوئے حقیقی جنت سے دورہوتے جارہے ہیںاگروالدین نے کنٹرول نہ کیاتویقیناً پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: