اچھی ماں ۔ اچھی بیوی سے اتنی نفرت کیوں ؟؟

پاکستانی لبرلز اور سیکولر ۔ ماڈرن طبقہ آجکل معروف موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کے ایک ویڈیو کے باعث آگ بگولہ ہے ۔ سوشل میڈیا پر طوفان مچایا ہوا ہے ۔ بی بی سی جیسا ادارہ اس کلپ سے اتنا تنگ ہوا کہ پوری ایک سٹوری چھاپ ڈالی ۔ ملالہ کے والد ہوں جہانگیر ترین کا بیٹا یا دیگر لبرلز وہ اس پر تبصرے فرما رہے ہیں ۔ قاسم علی شاہ اپنے ویڈیو کلپ میں خواتین کے معاشرے میں مثبت کردار اور گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے پر گفتگو کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ “اچھی بیوی کیسے بننا ہے، یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔آپ کسی سکول میں چلے جائیں، میٹر ک کی ڈگری تک ، دس برسوں میں یہ نہیں سکھایا جاتا۔حالانکہ ایک عورت کی زندگی میں ان دو کرداروں کی بڑی اہمیت ہے، ان میں سے ایک کرداراچھی بیوی کا ہے اور دوسرا اچھی ماں کا۔ یہ سکول میں نہیں پڑھایا جاتا، کالج میں نہیں پڑھایا جاتا، یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جاتا۔جو ذریعہ رہ گیا کہ اچھی ماں اور اچھی بیوی کیسی ہوتی ہے، وہ ٹریننگ کا ذریعہ ہے گھر ۔یعنی بچی اپنی ماں کو دیکھے اور سیکھے۔ “

بات سیدھی سی ہے لیکن لبرلز کو پتہ نہیں کیوں تکلیف ہوئی ۔ دراصل وہ معاشرے میں کسی بھی ایسے کردار سے تنگ ہیں جو ان کے نظریے کے خلاف ہو ۔ وہ آگ بگولہ ہیں کہ ” اچھی بیوی ۔ اچھی ماں” کا تذکرہ کیوں ہوا ؟ یہ تو دقیانوسی خیال ہے ۔ عورتوں کی ترقی کا دشمن ہے ۔ پتھر کے زمانے کی بات ہے ۔ اس ویڈیو کلپ کو کمال پزیرائی ملی اور لاکھوں لوگ پسند کر چکے ۔ شئیر کر چکے اور یہ وائرل ہے ۔

لبرل و سیکولر طبقے کو غم یہ ہے کہ عورت کا یہ کردار ڈسکس ہی کیوں ہوا ۔ سوشل میڈیا صارفین کے سہارے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اچھے شوہر ۔ اچھے باپ کا کیوں نہیں کہا ۔ عورت کے لیے بیوی یا ماں ہونا ضروری کیوں ہے ۔ بہت سے ہم جنس پرست بھی اظہار خیال کر رہے ہیں جو کہ بیوی اور باپ کے رشتوں سے ہی نفرت کرتے ہیں ۔

ایک خاتون نے کہا،” ہم اس بارے میں کبھی بات نہیں کرتے کہ کیا ملازم پیشہ مرد اچھے شوہر بن سکتے ہیں؟“بعض ٹوئٹر صارفین نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا لڑکیاں دنیا میں صرف بیوی بننے اور بچے پیدا کرنے آئی ہے،ان کی زندگی کا اور کوئی مقصد نہیں؟ ایک پرجوش خاتون نے سیدھا لڑکیوں کو شادی نہ کرنے کا مشورہ دے ڈالا، ان کا فرمانا تھا،”شادی سے اجتناب کریں۔ یہ(یعنی شادی)پچھلی صدی کی بات ہے۔ ان مردوں کویہ یقین دلانے کا موقعہ نہ دیں کہ شادی ہی واحد یا حتمی چیز ہے جس کی آپ کو خواہش کرنی چاہیے،یہ کائنات بہت بڑی ہے اوربہت کچھ کرنا اور دیکھنا ابھی باقی ہے۔“

اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ ویسے تو یہ عورت مارچ کے ہنگامے برپا کر تے ہیں ۔ عورت کارڈ کھیلتے ہیں ۔ لیکن ان لبرلز اور سیکولرز کے نزدیک عورت کے ہی دو روپ یعنی ماں اور بیوی کس قدر قابل نفرت ہیں ۔ انہیں عورت اپنے پسندیدہ روپ میں ہی قبول ہے ۔ ایک کمنٹ یہ بھی لکھا گیا اور لڑکیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ “فٹ بال ، کرکٹ ، آرٹ ،فوٹو گرافی، میوزک آپ کچھ بھی کر سکتی ہیں، جو کرنا چاہتی ہیں کریں اورلطف اٹھائیں۔اگر آپ کسی پاکستانی مرد سے شادی شدہ ہیں تو ایسا کچھ نہیں کر سکتیں، پاکستانی مرد آپ کو باندھ دے گا، آپ کے پروں کو کاٹ دے گا،کھانے پکانے، صفائی ستھرائی ، کپڑے دھونے اور لنگوٹ تبدیل کرنے میں لگا دے گااور آ پ کے لئے وقت نہیں بچے گا۔“

لبرل و سیکولرز کے لیے عورت مغربی طرز معاشرت میں ڈھال کر ہی قابل قبول ہو سکتی ہے لیکن ماں اور بیوی کے روپ میں نہیں ۔ گھروں سے نکلیں ۔ فٹ بال کھیلیں ۔ موٹر سائیکل چلائیں ۔ میوزک سٹار بنیں ۔ نہیں بننا تو بس بیوی اور ماں نہیں بننا ۔ یہ ہے وہ گھٹیا سوچ جو پھیلائی جا رہی ہے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: