Today's Columns

سب نے مرنا ہے از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

میت ،طریقہ غسل میت،طریقہ نماز جنازہ اور دعا کے مسائل

1۔ کسی کا کوئی ’’پیارا‘‘ مر جائے تو سب سے پہلے اس کی دونوں آنکھیں ہاتھ سے بند کر دے، منہ کُھلا نہ رہ جائے اسلئے کسی بھی کپڑے یا پٹّی کو سر سے گُھما کر ٹھوڑی جبڑے وغیرہ سے لاتے ہوئے زور سے باندھ دے ورنہ جسم ٹھنڈا ہو جانے پر آنکھیں اور منہ کُھلا رہ جائیں تو میت بدصورت لگتی ہے اور اگر میت بُری لگے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے دین سے کچھ نہیں سیکھا۔
2۔ اس کے علاوہ چہرہ بھی اُسی وقت دائیں طرف یعنی قبلہ رُخ کر دیں کیونکہ جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو پھر قبر میں گُھمایا نہیں جا سکتا۔ ہاتھ اور پاؤں سیدھے کر کے جسم کے ساتھ لگا دیں اوردونوں پاؤں کے انگوٹھوں کواکٹھا کر کے کپڑے سے باندھ دیں۔
3۔ دنیاوی طور پر مشورہ ہے کہ مرنے والے گھر سے ساری قیمتی چیزیں اکٹھی کر کے محفوظ جگہ پر رکھ دیں اور جہاں افسوس کرنے والوں نے آ کر بیٹھنا ہے وہاں گرمی سردی کے لحاظ سے صاف دریاں چادریں اورپانی کا انتظام کریں۔ عورت اور مردکاتیار کفن بازار سے خرید لیں۔ عورت کے پانچ کپڑے اور مرد کے تین کپڑے کفن کے ہوتے ہیں اور کفن مُردے کی موٹائی، چوڑائی اور لمبائی کے مطابق ہو۔
4۔ اسی طرح اگر قبرستان دُور ہے اور آپ کے دوست رشتے دارجنازے کو کندھا دینے والے نہیں ہیں تو ٹرک یا مزدا کا بندوبست بھی کر لیں۔
5۔ گھر میں لاش آنے سے پہلے ایک تقریر کریں کہ کسی نے بھی رونا دھونا نہیں ہے بلکہ اگر ہمارے سر سے ہمارے باپ کا سایہ اُٹھ گیا ہے تو کیا ہوا لیکن نبی کریمﷺ کا سایہ بھی ہماری چیخیں مارنے اور اللہ کریم سے شکوہ شکایت کرنے سے کہیں اُٹھ نہ جائے۔ اس لئے صبرِ جمیل کرتے ہوئے اللہ کا ذکر کریں۔
6۔ قبر کا بندوبست جلدی کریں کیونکہ آج کل قبر ڈھونڈھنا مشکل کام ہے۔ اس کے علاوہ عوام اپنے نئے مرنے والوں کو کسی اور کی قبر میں ڈال دیتے ہیں جو کہ ’حرام‘‘ ہے۔اگرامیر آدمی اپنے اپنے علاقے میں قبرستان کے لئے جگہ خرید کر ’’صدقہ‘‘ کریں تاکہ عوام اس’’حرام‘‘ عمل سے بچ سکے تو یہ بھی بہت بڑی نیکی ہے۔
فتوی: علماء کرام سے سوال یہ ہے کہ متفقہ طور پر فتوی دیں کہ اگر’’عوام‘‘کاایسے اپنے مُردے دوسروں کی قبروں میں ڈالنا جائز نہیں توکیا قبرستان نہ ہونے کی وجہ سے پُرانے قبرستان بلڈوز کئے جا سکتے ہیں یا نہیں ورنہ حرام کام تو ہو ہی رہا ہے؟
7۔ شرعی طور پر مشورہ ہے کہ اپنے کسی بھی پیارے کے مرنے والے دن ہی اس کی جائیداد کا ’’حساب‘‘ لگوائیں اور آپس میں بہن بھائی بیٹھ کر تقسیم کا فیصلہ کریں اور یہ نہ سوچیں کہ ابھی تو گھر میں میت پڑی ہے تو لوگ کیا کہیں گے کیونکہ یہ دین کی بات ہے۔ اگر مرنے والے پر کسی کا قرضہ ہے تو اُسی کے پیسوں سے اداکریں اور کفن بھی اسی کے پیسوں سے ہی خریدیں، اگر پیسے نہ ہوں تو پھر اولاد اور رشتے دار مل کر کریں۔
میت اور غسل
1۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والے مسلمان اب میت کو غسل دیتے ہوئے بھی گبھراتے ہیں اور دوسروں کو کرائے پر بُلاتے ہیں۔ اپنوں کے ساتھ اتنا ستم کے زندہ ہوں تو گلے لگائیں اور مر جائیں تو نہلاتے ہوئے گبھرائیں۔
2۔ اللہ کریم تیرے دین کی کیا بات ہے کہ مرنے والے کو بھی قبر میں ڈالنے سے پہلے نہلانا، کپڑا پہنانا اور جنازہ پڑھوانا، اُس کے بعد قبر میں ڈال کر پوچھنا کہ تیرا رب کون ہے۔ یا اللہ تو ہی تو بس تو ہی تو۔
3۔ غسل دینے والے ’’ناپاک‘‘ نہ ہوں البتہ بے وضو ہوں تو کوئی بات نہیں اور میت کو غسل دینے کے بعد خود غسل کرنا ضروری نہیں لیکن کپڑوں پر نجاست لگ جائے یا گیلے ہو جائیں تو بدل لیں۔
4۔ پیسے دے کرکسی کو بُلانا جائز ہے مگر نہ بلائیں۔نہلانے کیلئے دو تین بندے اور خاص طور پر مرنے والے کی اولاد کو ضرور شامل کریں۔ مُردے کو نہلانے سے گناہ معاف ہوتے ہیں، اسلئے ہر کوئی اپنوں کو نہلا کر اپنے گناہ معاف کروائے۔
5۔ مسجد سے تختہ اور چارپائی منگوا لیں، گرم پانی کا بندوبست ضرورت سے زیادہ کریں، اگر گیزر لگا ہے تو بہت اچھا ہے کیونکہ پانی بہت زیادہ ٹھنڈا اور نہ ہی بہت زیادہ گرم ہونا چاہئے بلکہ ہلکا سا گرم(کوسا) ہو۔ پانی میں بیری کے پتے ڈالنے ہیں تو ڈال لیں ورنہ صابن کافی ہے۔ چار پائی اورتختے(پھٹے) کو اچھے طریقے سے صاف کر لیں،اگر گندہ ہے تو اس کو دھو لیں، اچھا خوشبو دار سپرے چارپائی اور تختے کے اوپر نیچے کر لیں۔
6۔ نہلانے سے پہلے کفن کو بہترین مناسب خوشبو لگا کر چارپائی پر اس طرح رکھنا ہے کہ کفن کی دو بڑی چادروں (پوٹ، تہبند) کو چارپائی پر بچھا نے سے پہلے چارپائی کے شروع، درمیان اور آخر میں کفن کو باندھنے والی پٹیاں رکھنی ہیں، اب چادریں بچھا دیں، اس کے بعد تیسرے کپڑے قمیص (کفنی)، جس کا گریبان کندھوں سے چاک(کاٹا) ہوتا ہے،میت کو نہلا کر سب سے پہلے قمیص پہناتے ہیں، پھرایک چادر(تہبند)کا پہلے بایاں پلّہ اور اس کے اوپر داہنا پلّہ، اسی طرح دوسرے کپڑے(پوٹ) کاپہلے بایاں پلّہ اور اس کے اوپر داہنا پلّہ رکھ کر’’کفن‘‘ کی ’’گرہیں‘‘ لگا تے ہیں۔
7۔ عورت کے پانچ کپڑے ہوتے ہیں:تین تو مرد والے اور دو اوڑھنی اور سینہ بند۔پہلے دو چادریں بڑی رکھنی ہیں، اس کے بعد عورت کو قمیص یا کفنی پہنائیں اور اس کے بالوں کی دو زلفیں کر کے سینہ پر کفنی کے اوپر رکھنی ہیں اور اس کے اوپر چوتھا کپڑا اُڑھا دیں، اس کے بعد اوپر سینہ بند باندھیں رانوں تک،پھرایک چادر (تہبند)کا پہلے بایاں پلّہ اور اس کے اوپر داہنا پلّہ، اسی طرح دوسرے کپڑے(پوٹ) کاپہلے بایاں پلّہ اور اس کے اوپر داہنا پلّہ رکھ کر’’کفن‘‘ کی ’’گرہیں‘‘ لگا تے ہیں۔
غسل کا طریقہ
1۔ میت کو تختے پر رکھ کر قمیص بنیان وغیرہ کو کاٹ کراُتار لیں،شلوار اُتارنے سے پہلے میت کی ناف (تُنّی) سے لے کر گھٹنوں (گوڈوں)تک موٹا کپڑا اوڑھا دیں کیونکہ کفن کے ساتھ جو کپڑا ملتا ہے وہ اتنا باریک ہوتا ہے کہ پانی ڈالنے سے شرم گاہ نظر آتی ہے۔ مُردے کو اس طرح نہلانا ہے جیسے زندہ کو نہلانے لگے ہیں۔
پہلا کام: مُردے کا پیٹ سینے سے شرم گاہ کی طرف آرام آرام سے ملیں تاکہ اس کے پیٹ میں کوئی پوٹی، فضلہ یا گند ہے تو نکل جائے، اس کے بعد ہاتھ پر کپڑا یا شاپر لپیٹ کرمُردے کی شرم گاہ کے پاس سے کپڑا اٹھا کر اس کی دونوں شرم گاہوں کو اس طرح دھویا جائے کہ کوئی بھی شرم گاہ نہ دیکھے۔
دوسرا کام: اگر منہ کھلا رہ گیا ہوا ہے تو کپڑا یا روئی لے کر اس کے دانت وغیرہ صاف کر لیں، ناک میں کان کو صاف کرنے والی (روئی والی) تیلی سے ناک کی مٹی صاف کر لیں۔
تیسرا کام: میت کو وضو کروائیں لیکن منہ اور ناک میں پانی نہیں ڈالنا بلکہ چہرہ دھوئیں، دونوں ہاتھ دھوئیں، سر کا مسح کریں، پھر دونوں پاؤں دھو ئیں۔ اس کے بعد سر سے لے کر پاؤں تک پانی ڈال کرمیت کو صابن اچھی طرح لگا دیں۔اب پہلے ’’میت‘‘ کو سر سے لے کر پاؤں تک پانی ڈال دیں، پھر پہلے دو بندے بائیں کروٹ اور پھر دائیں کروٹ’’میت‘‘ کو دے کر اس کے کندھوں سے لے کر پاؤں تک ’’پانی‘‘ ڈالیں۔
آسان غسل: اگر کہیں غسل دینے کے لئے کوئی نہ ملتا ہو تو دو کام کر لیں (1) مُردے کے پیٹ سے پوٹی، فضلہ یا گند نکالنے کا عمل اور دوسرا(2) اس کو سر سے پاؤں تک صابن لگا کرسارے جسم پر پانی بہائیں۔
٭ اب چار پائی پر لٹاکرکفن پہنا ئیں، داڑھی اورسر کے بالوں کو خوشبو لگائیں۔اگرکافورہو تو پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں پر مَل دیں۔
٭ والدین کوغسل دینے کے بعد بچا ہوا کپڑا، صابن، لوٹا وغیرہ اپنے استعمال میں لائیں لیکن عوام اس کو پھینک دیتی ہے یا غریبوں کو دے دیتی ہے مگر والدہ کے سونے کے کنگن اور والد کی جائیداد پرخوب لڑتی ہے۔
مُردہ بچہ: گھر میں پیدا ہو یعنی اس نے کوئی حرکت نہیں کی،نہ آواز نکالی اور نہ سانس لی تو اس کو پاک کپڑے میں لپیٹ کر قبرستان میں دفن کر دیں کیونکہ مُردہ بچے کا نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے، اگر بچے نے ایک سانس بھی لی یا حرکت کی ہے تو نام بھی رکھا جائے اور سب کچھ(غسل، کفن، نماز جنازہ اور قبر)کریں۔
مسلمان اور ایمان
ایک مرید نے اپنے پیر صاحب کو عرض کی کہ میرے والد صاحب بیمار ہیں، اُن کی شفا کے لئے دُعا کر دیجئے گا۔ پیر صاحب نے دُعا کی لیکن وہ دُعا قبول نہیں ہوئی اور بندہ مر گیا۔ مُرید نے پیر صاحب کو جنازہ پڑھانے کے لئے بُلایا تو پیر صاحب نے بیان کیا کہ ’’میں نے اس بچے کے باپ کے لئے دُعا کی لیکن قبول نہیں ہوئی حالانکہ اللہ کریم ہر دُعا قبول کرتا ہے۔کیا اس میں میرا کوئی گناہ ہے؟ تمام نے کہا کہ نہیں اللہ کریم جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اُس پیر صاحب نے کہا کہ میرا دل کرتا تھا کہ یہ دُعا کروانے والا بیٹا میرے پاس آ کر دین سیکھتا اور خود اپنے باپ کا جنازہ پڑھاتا مگر اس نے یہ بھی نہیں سیکھا۔ کیا اس میں اس بچے کا قصور ہے؟؟؟؟؟
پیر صاحب نے دوسرا سوال کیا کہ اب آپ 500بندہ اس میت کی بخشش کی دعا کرنے آئے ہو، کیا تمہیں احادیث کے مطابق کہ ’’جس پر100 (مسلمان) نماز(جنازہ) پڑھیں تو اس کی مغفرت ہو جائے گی(ابن ماجہ صفحہ 108) اور جس میت پر تین صفوں نے نماز پڑھی اس کے لئے جنت واجب ہو گئی(ترمذی، ابن ماجہ)یقین ہے کہ میت بخشی جائے گی۔ سب نے کہا کہ اللہ کریم چاہے تو معاف کرے اور اگر نہ چاہے تو معاف نہ کرے۔
پیر صاحب نے تیسرا سوال کیا کہ اگر یہ بندہ اللہ کریم کے حُکم کی تعمیل کر کے اپنا ایمان بچا کر لے گیا ہو تو پھر یقین ہو سکتا ہے کہ اللہ کریم معاف کر دے گا، اسلئے بات نمازِ جنازہ یا جنازے کے بعد دُعا یا اُس کے بعد قُل چہلم کرنے کی نہیں ہے بلکہ ’’ایمان‘‘ کی ہے اور ہماری ساری لڑائی ادھر اُدھر کی باتوں پر ہے مگر اصل کی طرف نہیں آتے اور کہتے ہیں جنازہ بہت بڑا ہوا تھا۔
مسلمان اور نمازِ جنازہ
1۔ نمازِ جنازہ اگر ایک آدمی بھی پڑھ لے تو نماز جنازہ ہو جائے گا۔ جنازے کی نماز کسی متقی ’’امام‘‘ کوپڑھانی چاہئے لیکن اگرکسی بیٹے کو مولوی صاحب نے نماز جنازہ پڑھانی سکھائی ہو اور بچے نے بھی سیکھی ہو تو بیٹے کے’’نماز‘‘ پڑھانے سے قبر میں اُس کے باپ کو خوشی ہو گی۔ کیا کوئی ایسا بیٹا بن کر دکھائے گا؟
2۔ جنازے کی نماز ایک مرتبہ ہے اور اس کے بعد دُعا ہے۔ جنازے کی نماز مسجد میں نہیں پڑھنی بلکہ کسی گراؤنڈ یا جناز گاہ میں پڑھنا بہتر ہے لیکن بارش وغیرہ ہو تو مسجد میں پڑھ لیں۔
بہت ضروری: جنازے کے دو رکن ہیں۔ (1) چار تکبیر اور(2) کھڑا ہونا۔ امام اور عوام دونوں چاروں ’’تکبیریں‘‘ کہیں گے اور جنازے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنی ہے لیکن اگر کھڑے ہونے میں کوئی مجبوری ہو تو بیٹھ کر پڑھ لیں۔اس طریقے کو غور سے بلکہ بڑے غور سے پڑھ لیں۔
طریقہ: چار تکبیر نماز جنازہ دل میں کہنا ہے۔ امام کے اللہ اکبرکہنے کے بعد عوام بھی اللہ اکبر کہہ کر ثناء پڑھے، امام دوسری تکبیر کہے اور عوام بھی تکبیر کہہ کر درود پاک پڑھے، امام تیسری تکبیر کہے تو عوام بھی تکبیر کہہ کر دعا مانگے، جس کو دعا نہ آتی ہے تو ربنااغفرلی پڑھ لے،امام جب چوتھی دفعہ اللہ اکبر کہے تو ’’عوام بھی اللہ اکبر کہے۔ امام جیسے ہی سلام کہے عوام ’’دونوں ہاتھ‘‘ کھول دے پھر سلام کرے۔ احادیث میں جنازہ پڑھنے والاہاتھ کب کھولے، اس کا ذکر نہیں آیا لیکن بہتر یہی اندازہے۔
دعا: عورت اور مرد کے ’’نماز جنازہ‘‘ کی دُعا ایک ہے البتہ نابالغ لڑکے اور لڑکی کی دعائیں مختلف ہیں۔
چپل: جسم، کپڑے اورجوتی ہمیشہ پاک رکھنی چاہئے،پاک’’جوتی‘‘ سمیت نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں۔
مسئلہ: ایک شخص پہلی تکبیر کے وقت موجود تھا لیکن تکبیر نہیں کہی تو فوراً اللہ اکبر کہہ دے ورنہ جب امام دوسری تکبیر کہے تب شامل ہو۔ جب امام سلام کہے تو پھر ایک تکبیر کہہ لے اور اگر دوسری اور تیسری تکبیر بھی چھوٹ گئی ہو تو اسی طرح امام کے سلام پھیرنے کے بعد چُھوٹی ہوئی تکبیریں کہے اور سلام پھیر لے۔ اگر کوئی سلام سے پہلے بھی امام سے مل گیا توامام کے سلام کے بعد اپنی چاروں تکبیروں کو پڑھ کر سلام پھیر لے۔
ضروری ہدایات: مُردے کے ناخن اور غیر ضروری بال کاٹنا گناہ ہے۔ داڑھی یا بالوں میں کنگھی نہیں کرنی۔ مرد اپنی عورت کو غسل نہیں دے سکتا مگر عورت اپنے مرد کوبوقت ضرورت غسل دے سکتی ہے۔ مرد اپنی بیوی کی چارپائی کو کندھا دے سکتا ہے اور اپنی مُردہ بیوی کو قبر میں اتار سکتا ہے۔
جلدی: حدیث پاک میں ہے کہ مُردے کو دفنانے میں جلدی کرو لیکن بعض اوقات کسی کے انتظار میں گھنٹوں اور بعض اوقات کئی دن ’’مُردے‘‘ کو سرد خانے میں رکھا جاتا ہے حالانکہ یہ بہتر نہیں۔
خاموشی: نبی کریمﷺ کے دور میں جنازہ بالکل خاموشی سے اٹھایا جاتا تھا، کوئی بھی شخص کلمہ شہادت نہیں پڑھتا تھا اور نہ ہی دنیاوی باتیں کرتا تھا لیکن اب لوگ دنیاوی باتیں ضرور کرتے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ جنازہ’’ذکر‘‘ کرتے ہوئے لے جایا جائے۔
رُکنا: اکثر لوگ جنازہ دیکھ کر رُک جاتے ہیں اور بعض اوقات پریشانی بھی ہوتی ہے لیکن اصول یہ ہے کہ جس نے کندھا دینا ہے وہ رُکے ورنہ رُکنا ضروری نہیں بلکہ مکروہ ہے۔
تیز: تیزی سے لے کر قبرستان جائیں یا آرام سے لیکن دھیان یہ رہے کہ میت کہیں چارپائی سے گر نہ جائے اور کہیں کفن کُھل نہ جائے۔اگر مردہ بچہ شیر خوار ہو تو ہاتھوں میں بھی لے جایا جاتا ہے۔
صف: قبر گورکن کھود لیتا ہے اور اس میں صف وغیرہ رکھنا جائز نہیں۔
سلیب: قبر کو بند کرنے کے بعد سلیب پر کلمہ لکھنا، قبر میں عہدنامہ رکھنا، اوپر پھولوں کی چادریں اور اذان پڑھنایہ اعمال نہ کرنے بھی جائز ہیں۔ دُکھ کی بات ہے کہ ایک جگہ پر سلیب پر کلمہ لکھنا تھا لیکن کسی کو کلمہ لکھنا ہی نہیں آتا تھا اور ایک جگہ پر کسی نے کلمہ غلط لکھ دیا اور بعد میں کسی نے بتایا تو کہنے لگا کہ میری ماں نے تو منکر نکیر کو ’’کلمہ‘‘ غلط سُنا دیا ہو گا۔ علماء کرام سے درخواست ہے کہ عوام کوایسے مستحن یاجائز اعمال سکھانے سے پہلے ان کو فرض، واجب، سنت اور مستحب کی تعریف ضرور سکھا ئیں۔
٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: