Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

اسلام میں میانہ روی کا مقام از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

ہرکام میں توازن اور تناسب سے چلنے کو میانہ روی کہتے ہیں میانہ روی کیلئے اعتدال کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے کسی عمل یاکام میں تین چیزیں پستی ،درمیان اور بلندی ابتدایعنی پستی اور انتہا یعنی بلندی ہمیشہ قائم نہیں رہتیں اِ ن دونوں کا درمیانی راستہ اعتدال ہے اعتدال ہمیشہ قائم رہتا ہے اعتدال تقاضائے فطرت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہر بنائی ہوئی چیز میں اعتدال ہے اور اس کارخانہ ء حیات کا نظام میانہ روی پر ہی قائم دائم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کیلئے بھی اعتدال کی راہ پسند فرمائی ہے کیونکہ اعتدال سے ہر کام میں استحکام پیدا ہوتا ہے دنیا وآخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے خوشحالی اور سکون کی دولت میسر رہتی ہے اعتدال سے بے شمار تکالیف سے نجات ملتی ہے اس لئے زندگی کے ہر کام میں میانہ روی کو اپنانا چاہیے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ یہی ہے اور اِسی راستے کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مسلمان کیلئے پسندفرمایا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اعتدال کی بہت فضیلت ہے۔
احکامات ِ الٰہی:۔ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے کہ’’اور اپنی چال میں اعتدال کیے رہنا اور بولتے وقت آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی سی ہے اور کچھ شک نہیں کہ)سب سے بُری آواز گدھوں کی ہے۔‘‘(پ۲۱،لقمان۱۹)حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ چلنے میں اعتدال اختیار کرو اور گفتگو کرتے وقت اپنی آواز کا لہجہ نرم رکھو بظاہر یہ فرمان رفتاراورگفتار میں میانہ روی کے متعلق ہے مگر اس سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال اختیار کرنے سے بے شمار پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں اور آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔’’اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کشادہ کرلے کہ انجام یہ ہو جائے کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔‘‘(پ۱۵،بنی اسرائیل۲۹)بخل کرنے کو ہاتھ باندھنا کہا جاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کشادہ کرنا فضول خرچی ہے اور دونوں کے درمیان میانہ روی کی راہ ہے ۔اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ نہ بخیل بن کر دولت کو روکیں اور نہ فضول خرچ بن کر اپنی مالی حالت کو خراب کریں ۔’’کہہ دو کہ تم (خدا کو)اللہ(کے نام سے)پکارو یارحمن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔‘‘(پ۱۵،بنی اسرائیل۱۱۰) نمازباجماعت کی تلاوت جہری کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ قرأت کرنے میں میانہ روی اختیار کرو یعنی نہ اتنی بلند آواز سے پڑھو کہ طبیعت پر گرانی محسوس ہو اور نہ اتنی مدھم آواز سے پڑھو کہ پڑھنے کا مقصد ہی حاصل نہ ہو اس سے مراد یہ ہے کہ تلاوت میں بھی اعتدال کی راہ اختیار کرو۔’’اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بیجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کیساتھ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم ۔‘‘ (پ۱۹،فرقان۶۷) اللہ کے بندوں میں بہت سی خوبیاںہوتی ہیں اُن خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ نہ فضول خرچ اور بخیل ہوتے ہیں بلکہ اعتدال کی راہ اختیار کیے رہتے ہیں ۔فضول خرچی میں دولت ضائع ہو جاتی ہے جو بعد میں پریشانی کا باعث بنتی ہے اور بخل میں مال خرچ کرنے کے باوجود مقصد حاصل نہیں ہوتا اس لئے اعتدال ہی صرف وہ طریقہ ہے جس کو اپنانے سے پریشانی بھی پیدانہ ہو گی اور مقصد بھی حاصل ہوگا۔
نبوت کا پچیسواں حصہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نیک سیرت ،خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۔
نماز میں میانہ روی:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھا کرتا تھا آپ کی نماز میانہ ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا ۔(مسلم) حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے تین مرتبہ فرمایا کہ تکلف کرنے والے ہلاک ہوئے ۔ (مسلم)
مجاہدہ میں اعتدال:حضرت انس رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دوستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی دیکھی ۔آپ ﷺ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا یہ رسی حضرت زینبرضی اللہ عنہاکی ہے جب وہ (عبادت کرتے کرتے)تھک جاتی ہیں تو اس کے ساتھ ٹیک لگاتی ہیں نبی کریں ﷺ نے فرمایا اسے کھول دو تم ہشاش بشاش ہوکر نماز پڑھا کرو جب تھک جائو تو آرام کرو۔ (بخاری)
حسب ِ طاقت عبادت: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے (اُس وقت)اُن کے پاس ایک عورت تھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ عورت کون ہے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عرض کیا یہ فلاں عورت ہے جس کی نماز کا چرچا رہتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا رک جائو حسب ِ طاقت عبادت کرو ۔اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جائوگی اور نبی کریم ﷺ کو وہ عبادت سب سے زیادہ پسند تھی جسے کرنے والا ہمیشہ کرے۔(بخاری ومسلم)
کثرتِ عبادت میں اعتدال کی تاکید : حضرت وہب بن عبداللہرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا (ایک مرتبہ )حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہکے ہاں گئے تو اُم ِ درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھا اورفرمایا کہ یہ کیا حالت ہے ؟ اُم ِ درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہانے جواب دیا بھائی ! ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا کی کچھ حاجت نہیں (پھرجب) ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے توحضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہکیلئے کھانا تیار کیا اور فرمایا کھائیے میں روزہ دار ہوں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا جب تک تم نہیں کھائو گے میں نہیں کھائوں گا چنانچہ انھوں نے بھی کھایا جب رات ہوئی تو ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبادت کیلئے چل پڑے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سوجائو وہ سوگئے پھر اُٹھ کر چل دیے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہنے کہا سوجائو رات کا آخری حصہ ہوا تو حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اب اٹھو چنانچہ دونوں نے اکٹھے نمازادا کی حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا بیشک تمھارے پروردگار کا تم پر حق ہے ،تمھارے نفس کا تم پر حق ہے ، تمھارے گھر والوں کا تم پر حق ہے لہٰذا ہر حقدار کو اُس کا حق دو حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہنے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہنے سچ کہا۔(بخاری)
درمیانی راستہ:حضرت ابن ِ مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! کوئی چیز ایسی نہیں جو تمہیں جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کردے مگر وہی چیزیں جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تمہیں دوزخ سے قریب اور جنت سے دور کردے مگر وہی چیزیں جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے بیشک روح الامین (اور دوسری روایت میں ہے کہ روح القدس)نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کوئی شخص اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرتا آگاہ ہو جائو اور اللہ سے ڈرو اور رزق کیلئے درمیانی راستہ اختیار کرو اور رزق کی تاخیر تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں تلاش کرنے لگو کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ نہیں حاصل کیا جاسکتا مگر اُس کی اطاعت سے ۔(بیہقی،شرح السنتہ)
حضورﷺ کا معمول:حضرت انس رضی اللہ عنہروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ رہتا تھا کہ آپ مہینہ بھرتک افطار کرتے اور ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ اب آپ ﷺ روزہ نہ رکھیں گے لیکن جب روزے رکھنے شروع کرتے تو یہ خیال ہونے لگتا کہ اب تھوڑے دن کیلئے بھی افطار نہ کریں گے ۔اور سرکار یہ نہیں چاہتے تھے کہ تم انہیں رات میں مصروف ِ نماز دیکھو مگر دیکھتے تھے اور نہ یہ چاہتے تھے کہ تم انہیں سوتا دیکھو مگر دیکھتے تھے آپ ﷺ شب میں سوتے بھی تھے اور نماز میں مشغول بھی رہتے تھے ۔ (بخاری)
میانہ روی کی شان: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا کہ میانہ روی اختیار کرنے والے کی یہ شان ہے کہ میانہ روی اختیار کرنے والا کبھی محتاج نہیں ہوتا اس لئے اعتدال کی راہ اختیارکرو ہمیشہ باعزت رہوگے ۔
پانچ چیزوںمیں میانہ روی:اِن پانچ چیزوں میں میانہ روی آرام اور سکون کا باعث بنتی ہے ،کھانے میں اعتدال صحت کا ضامن ہے،خرچ میں اعتدال خوشحالی کا ضامن ہے ،محنت میں اعتدال درازی ء عمر کا ضامن ہے ،گفتگو میں اعتدال وقار کا ضامن ہے، سوچ میں اعتدال خود اعتمادی کا ضامن ہے۔آج امت ِ مسلمہ تعلیمات اسلام سے دور ہوچکی ہے ہر آدمی ضرورت سے زیادہ اپنے اخراجات کو بڑھا رہا ہے چاہے ارباب ِ اختیار ہوں یا عام آدمی اگر ہم ملکی استحکام چاہتے ہیں توہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگابیرونی قرضوں سے نجات بھی اعتدال اور میانہ روی کی راہ اپنانے سے ممکن ہوسکتی ہے از مختصر ہمیں ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
٭٭٭٭٭٭

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: