Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

فضائل و مناقب سیدالشہداء ،عم مصطفیٰ امیر مدینہ حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللّٰہ عنہ از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

{ شوال المکرم کی 11 تاریخ کو اور ایک روایت کے مطابق 7یا15شوال المکرم کو اسلام کا دوسرا عظیم معرکہ’’غزوہ احد‘‘رونما ہوا}

إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا۔’’ترجمہ:بیشک اللہ تعالی تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھرانے والو کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔(سورۃ الاحزاب۔33)
اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے متعلق اپنی رضاوخوشنودی کا اس طرح اظہار فرمایا:رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِی تَحْتَہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا أَبَدًا ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ۔ترجمہ:اللہ تعالی ان تمام(صحابہ کرام)سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے،اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے (بہشت کے)ایسے باغ تیار کئے ہیں؛جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔(سورۃ التوبۃ۔100)اسی طرح سورہ نساء میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:وَکُلًّا وَعَدَ اللَّہُ الْحُسْنٰی۔ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔(سورۃ النسائ۔95)
ہمارے لئے سعادت اور نجات کا ذریعہ یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو حضرات اہل بیت کرام کی محبت سے آباد کریں اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت سے اپنے قلوب کو روشن ومنور کریں،کیونکہ یہی وہ مقدس حضرات ہیں جو ہماری نجات کا ذریعہ بھی ہیں اور ہمارے لئے ہدایت کا معیار بھی ہیں۔
ان ذوات قدسیہ میں بعض وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہیں خالق کائنات نے اہل بیت نبوت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قرابت کے شرف سے بھی نوازا ہے اور صحابیت کے درجہ باکمال سے بھی بہرہ مند فرمایا ہے، انہی مقدس باکمال وبے مثال عبقری شخصیات میں ایک صاحبِ عظمت ورفعت ہستی‘سید الشہدائ،شیر خدا سیدنا ابو عمارہ امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات گرامی نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔چونکہ شوال المکرم کی 11 تاریخ کو اور ایک روایت کے مطابق 7یا15شوال المکرم کو اسلام کا دوسرا عظیم معرکہ’’غزوہ احد‘‘رونما ہوا اور اس معرکہ میں ستر(70)صحابہ کرام نے جام شہادت نوش فرمایا، جن میں سرفہرست سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا جان سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں،اسی مناسبت سے آپ کے فضائل ومناقب ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں۔سورہ آل عمران کی آیت نمبر 169 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ۔ترجمہ:اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہید کئے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنابلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے۔(سورۃ اٰل عمران۔169)
اس آیت کریمہ میں عمومی طور پر تمام شہداء کرام کی حیات اور انہیں ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے،حقیقت میںیہ آیت کریمہ سید الشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے ساتھ شہید ہونے والے حضرات کی شان میں نازل ہوئی،جیساکہ مستدرک علی الصحیحین میں روایت ہے:’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے،انہوںنے فرمایا:یہ آیت کریمہ ’’ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ ‘‘۔ترجمہ:اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہید کئے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنابلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے۔”سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے ساتھ شہیدہونے والے حضرات کی شان میں ناز ل ہوئی۔
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الحج،حدیث نمبر3414)
حضور اکرمﷺ سے نسبت قرابت ورضاعت:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نسبت قرابت بھی حاصل ہے اور رشتہ رضاعت بھی،آپ نسبی رشتہ کے لحاظ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا جان ہیںاور چونکہ حضرت ثُوَیْبَہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھی دودھ پلایا ہے،اس لحاظ سے آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دودھ شریک بھائی بھی ہیں،جیساکہ سیرت کی معروف کتاب ’’الروض الانف ‘‘میں مذکور ہے:’’سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت ابن اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:آپ کی والدہ حضرت ہالہ بنت اُہَیْب بن عبد مناف بن زُہْرَہ ہیں،اور حضرت اہیب سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا جان ہیں،حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے حضرت ہالہ سے نکاح کیااور اس زمانہ میں آپ کے شہزادے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عقد فرمایا،تو حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو حضرت ہالہ کے بطن سے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ تولد ہوئے اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تولد ہوئے،پھر حضرت ثُوَیْبَہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں حضرات کو دودھ پلانے کی سعادت حاصل کی۔(الروض الأنف، إسلام حمزۃ )
سیدنا امیر حمزہ رضی اللّٰہ عنہ اور شان رسالت کا دفاع:خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چالیس سال کی عمر مبارک میں نبوت کا اعلان فرمایااورمسلسل دین اسلام کی تبلیغ واشاعت فرماتے رہے،جس کے نتیجہ میں اسلام ترقی کرتاہوا امن و امان کی چادر پھیلاتاجارہا تھا،دن بہ دن لوگ حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے، اب ایسے لوگوں کی باری تھی جو جاہ و جلال، عزت و عظمت رکھتے ہوں اور اہل مکہ میں ان کا رعب و دبدبہ ہو اوران کی بات ٹالی نہ جاتی ہو۔چنانچہ اعلان نبوت کے چھٹے سال ایسی مقدس ہستیاں قلعہ اسلام میں داخل ہوئیں:جن سے اسلام کا پرچم مزیدبلند ہوا اور مسلمان علانیہ طور پر معبود حقیقی کی عبادت کرنے لگے۔ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بے حد محبت کرتے تھے اور سرداران قریش میں آپ بڑی بہادری و دلیری رکھتے تھے‘صبح شکار کے لئے جاتے تو شام گھر واپس لوٹتے‘ پھرخانہ کعبہ کے طواف کے لئے آتے، اس کے بعد قریش کے سرداروں کی محفل میں بیٹھتے تھے۔
ایک دن معمول کے مطابق جب شکار سے واپس لوٹے تو آپ کی بہن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا:کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج ابو جہل نے آپ کے بھتیجے کے ساتھ کیسا گستاخانہ برتاؤ کیا؟ یہ سن کر سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اپنی تیر کمان لیکر ابوجہل کے پاس پہنچ گئے اور کمان سے بڑی قوت کے ساتھ اس کے سر پر ایسا مارا کہ اس کا سر پھٹ گیا اور فرمایا: کیا تو نہیں جانتا کہ میں بھی انہیں کے دین پر ہوں! یہ دیکھ کر قبیلہ بنی مخزوم کے لوگ ابوجہل کی مدد کیلئے آئے تو اس نے یہ سوچ کر کہ کہیں بنی ہاشم سے بنی مخزوم کی جنگ نہ چھڑجائے، کہنے لگا: جانے دو! میں نے آج ان کے بھتیجے کو بہت سخت سست کہا۔ (شرح الزرقانی علی المواہب، ج1، ص 477۔سبل الھدی والرشاد، ج2، ص332۔ الروض الانف، اسلام حمزۃ رضی اللہ عنہ،ج2،ص43)
اولاد امجاد:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی اولاد امجاد سے متعلق کتب سیروتاریخ میں یہ تفصیل ملتی ہے کہ آپ کے دو(2)شہزادے اور تین(3) شہزادیاں ہیں،جیساکہ سبل الہدی والرشاد میں مذکور ہے: حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دو شہزادے (1)حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ اور (2)حضرت یعلی رضی اللہ عنہ ہیں،اور آپ کی تین شہزادیاںہیں،ایک شہزادی کا نام:(1)حضرت امامہ رضی اللہ تعالی عنہا (2)اور دوسری شہزادی کا نام:حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا (3)اور تیسری شہزادی کا نام:حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہے۔(سبل الہدی والرشاد، فی سیرۃ خیر العباد،جماع أبواب أعمامہ وعماتہ وأولادہم وأخوالہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج11،82)
دعاء حبیب کی برکت سے مشرف بہ اسلام:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ جو مشرف بہ اسلام ہوئے دراصل یہ سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دعاء مقبول کا نتیجہ تھا،خود سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’واقعہ یہ ہے کہ جب مجھ پر غصہ غالب ہوگیا تو میں نے کہا کہ میں اپنی قوم وقبیلہ کے دین پر ہوں،اور میں نے بڑی کشمکش میں اس اہم معاملہ میں اس طرح رات گزاری کہ لمحہ بھر بھی نہ سویا،پھر میں کعبۃ اللہ شریف کے پاس آیا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دربار میں تضرع وزاری کی کہ اللہ تعالیٰ میرے سینہ کو حق کے لئے کھول دے اور مجھ سے شک وشبہ کو دفع کردے،تو میں نے ابھی دعا ختم بھی نہ کی تھی کہ باطل مجھ سے دور ہوگیا اور میرا قلب یقین کی دولت سے مالا مال ہوگیا۔ پھر صبح میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تمام حالت بیان کی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس نعمت اسلام پرہمیشہ ثابت قدم رکھے۔جس وقت آپ نے اسلام قبول کیا یہ اشعار کہے:
حَمِدْت اللّہَ حِینَ ہَدَی فُؤَادِی إلَی الْإِسْلَامِ وَالدّینِ الْحَنِیفِ
میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بجا لاتا ہوں اور اس کا شکر اداکرتا ہوں کہ اس نے میرے دل کو اسلام اور دین حنیف کے لئے کھول دیا۔
الدّینُ جَائَ مِنْ رَبّ عَزِیزٍ خَبِیرٍ بِالْعِبَادِ بِہِمْ لَطِیفِ
یہ وہ مبارک دین ہے جو ایسے پروردگار کی جانب سے آیا ہے جو غلبہ والا، بندوں کی خبر رکھنے والا ہے اور اُن پر مہربان ہے۔
إذَا تُلِیَتْ رَسَائِلُہُ عَلَیْنَا تَحَدّرَ دَمْعُ ذِی اللّبّ الْحَصِیفِ
جب اس خدائے واحد کی آیتیں ہمارے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کامل عقل رکھنے والے شخص کے آنسو بے اختیار بہہ جاتے ہیں۔
رَسَائِلُ جَائَ أَحْمَدُ مِنْ ہُدَاہَا بِآیَاتِ مُبَیّنَۃِ الْحُرُوفِ
یہ وہ باعظمت احکام ہیں کہ اُن کی ہدایت دینے کے لئے حضرت احمد مجتبیٰ محمدعربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسی روشن آیات لائے ہیں جن کے ہرحرف میں ہدایت ہے۔
وَأَحْمَدُ مُصْطَفًی فِینَا مُطَاعٌ فَلَا تَغْشَوْہُ بِالْقَوْلِ الْعَنِیفِ
اور حضرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم میں منتخب اور برگزیدہ ہیںاور آپ کے ہر حکم کی تعمیل کی جاتی ہے،تو اے لوگو!ان کی تعلیمات کو باطل کے ذریعہ نہ چھپاؤ!۔(الروض الأنف، إسلام حمزۃ رضی اللہ عنہ،ج2،ص43۔)
سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کا سینہ نور سے معمور‘قرآن کریم کی گواہی:انسان کی خوش بختی اور سعادت مندی یہ ہے کہ وہ دامن اسلام سے وابستہ رہے،ایمان کے انوار سے اپنے دل و جان کو روشن ومنور کرے،اسی لئے بندہ مؤمن کی عین آرزو وتمنا یہی ہوتی ہے کہ جب تک وہ زندہ رہے اسلام پر ثابت قدم رہے اور موت بھی آئے تو ایمان کی حالت میں آئے اور اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔یہ تو عمومی طورپر تمام اہل ایمان کی کیفیت ہے لیکن سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات قدسی صفات وہ ہے،جن کے سینہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلا م کے لئے کھول دیا تھااور اُسے نورایمان سے معمور فرمادیاتھا۔
سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’بھلا جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے(تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوگا) تو ان کے لئے خرابی ہے جن کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے سخت ہورہے ہیں اور یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔(سورۃ الزمر۔22)
اس آیت کریمہ میں عمومی طور پر ان حضرات کا تذکرہ کیا گیا جن کے سینوں کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے اور انہیں روشن ومنور بھی فرمادیاہے۔نیز ان کی عظمت ورفعت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حضرات ہرگز اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتے جس کا دل یادِ الٰہی سے غافل ہے،تاہم علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ’’تفسیر روح البیان‘‘میں لکھا ہے کہ یہ آیت کریمہ بطور خاص سیدنا امیر حمزہ اور سیدناعلی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں نازل ہوئی،جیساکہ تفسیر روح البیان میں ہیـ:واعلم ان الآیۃ عامۃ فیمن شرح صدرہ للاسلام بخلق الایمان فیہ وقیل نزلت فی حمزۃ بن عبد المطلب وعلی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہما وابی لہب وولدہ. فحمزۃ وعلی ممن شرح اللہ صدرہ للاسلام. وابو لہب وولدہ من الذین قست قلوبہم فالرحمۃ للمشروح صدرہ والغضب للقاسی قلبہ۔’’اس بات کو ذہن نشین کرلو کہ یہ آیت کریمہ ان حضرات کے حق میں وارد ہوئی ہے جن کے سینوں میں ایمان کی شمع روشن کرکے انہیں اسلام کے لئے کھول دیا گیا ہو۔نیز یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت کریمہ سیدناامیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں اور ابو لہب اور اس کے لڑکے کی مذمت میں نازل ہوئی،کیونکہ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ وہ برگزیدہ حضرات ہیں جن کے سینہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے،اور ابولہب اور اس کا لڑکا ان لوگوں میں سے ہے جن کے دل سخت ہوگئے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت اس خوش نصیب کے لئے ہے جس کا شرح صدر ہوگیا ہو،اور اللہ تعالیٰ کا غضب وقہر اس کے لئے ہے جس کا دل سخت ہوگیا ہے۔(تفسیر روح البیان،سورۃ الزمر۔22)
القاب مبارکہ:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جن مبارک القاب سے یاد کیا جاتا ہے ان میں سے چند یہ ہیں:(1)سید الشہدائ،(2)اسد اللہ،(3)اسد الرسول، (4)افضل الشہدائ، (5)فاعل الخیرات،(نیکیاں کرنے والے)(6)کاشف الکربات (مصائب کو دور کرنے والے)۔
محبوب دوجہاں ﷺ کو آپ کا نام بھی محبوب:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ وہ باعظمت صحابی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم صرف آپ کی ذات ہی سے محبت نہیں کرتے بلکہ آپ کا نام بھی بے حد پسند فرماتے تھے،جیساکہ اس روایت سے ظاہر ہے:حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:ہمارے قبیلہ کے ایک صاحب کو لڑکا تولد ہوا،تو انہوں نے عرض کیا کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے؟تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مجھے سب سے زیادہ محبوب جونام ہے وہی اس لڑکے کا نام رکھاجائے!(مجھے سب سے پسندیدہ نام)”حمزہ بن عبد المطلب ”رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب،حدیث نمبر4876)
سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت جبریل علیہ السلا م کا دیدار کیا:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے بحالت ایمان حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ انور دیکھ کر صحابیت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا اور اسی نبی برحق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں ایک معروضہ کیا کہ وہ وحی الہٰی کے امین،سدرۃ المنتہیٰ کے مکین حضرت جبریل امین علیہ السلام کو ان کی حقیقی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس درخواست کو منظور فرما یا۔ جب روح الامین بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے توسیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایاکہ اوپر دیکھو!سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے جب نگاہ اٹھائی توکیا دیکھتے ہیں کہ سامنے حضرت جبریل علیہ السلام ہیں،چنانچہ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ”دلائل النبوۃ ”میں روایت نقل کی ہے:ترجمہ:حضرت عمار بن ابو عمار رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!مجھے جبریل امین علیہ السلام کا ان کی حقیقی صورت میں دیدار کروائیے!تو آپ نے ارشاد فرمایا:آپ انہیں حقیقی صورت میں نہیں دیکھ سکتے!انہوں نے عرض کیا:یقینا میں نہیں دیکھ سکتا،لیکن آپ مجھے دکھائیے!آپ نے ارشاد فرمایا:بیٹھ جاو!جب وہ بیٹھ گئے،تو حضرت جبریل علیہ السلام خانہ کعبہ کی اس لکڑی پر اتر آئے جس پر مشرکین طواف کے وقت اپنے کپڑے ڈالا کرتے،پھر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اپنی نگاہ اٹھاو اور دیکھو!انہوں نے اپنی نگاہ اٹھائی اور حضرت جبریل علیہ السلام کے دونوں قدموں کو دیکھا جو زمرد کی مانند سبز کھیتی کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔تو(کثرت انوار کی وجہ سے)آپ پر بے خودی طاری ہوگئی۔(دلائل النبوۃ للبیہقی)
ہدیہ درودمیزان میں سب سے وزنی عمل:حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں درود وسلام پیش کرنا یہ وہ حکم الہٰی ہے کہ اللہ تعالی نے نہ صرف بندوں کو اس کا حکم فرمایا بلکہ وہ خود اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود بھیجتا ہے،اسی لئے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے امت کو پیام دیا کثرت سے درود شریف کااہتمام کریں‘کیونکہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت بابرکت میں درود پیش کرنا میزان میں سب سے زیادہ وزنی عمل ہے،سفر معراج کے موقع پر سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں ملاحظہ فرمایا کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال فرمارہے ہیںاور ان سے ارشاد فرمایاکہ تمہاری نظرمیں محبوب ترین عمل کونساہے؟تو انہوں نے یہی عرض کیا کہ ہدیہ درود ہی بہتر عمل اور نامہ اعمال میں سب سے اہم چیز اور قیمتی ذخیرہ ہے۔جیسا کہ’’ نزہۃ المجالس ‘‘میں روایت ہے:’’حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ شب معراج جب میں جنت میں داخل ہوا تو حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے میرا استقبال کیا،میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسا عمل ہے جس کو سب سے زیادہ فضیلت والا، اللہ تعالیٰ کے دربار میں محبوب ترین اور میزان میں سب سے زیادہ وزنی سمجھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا:آپ کی خدمت میں درود پیش کرنا اور آپ کی شان و عظمت بیان کرنا‘نیزحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں خدائے تعالیٰ سے درخواست رحمت کرنا۔(نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس)
جنت میں اعلی مقام پر فائز:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قرابت بافیض وصحبت بابرکت سے جنت کے اعلی مقامات پر فائز فرمایا،جیساکہ ابھی مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ آپ نے سفر معراج کے موقع پر جنت میں حضورپاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا استقبال کیا، اسی طرح امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ’’مستدرک‘‘ اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ”جامع الاحادیث”میں روایت ہے:’’سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:گزشتہ شب جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ (حضرت)جعفر (رضی اللہ تعالی عنہ) جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کررہے ہیں اور (حضرت) حمزہ (رضی اللہ تعالی عنہ) ایک عظیم تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔‘‘(المستدرک علی الصحیحین للحاکم)
آسمانوں میں آپ کا مبارک تذکرہ:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کے بیان اور آپ کے مبارک تذکرہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ رفعت و عظمت اور قبولیت وبلندی عطا کی ہے کہ آپ کا تذکرہ صرف زمین والے ہی نہیں کرتے بلکہ آسمان والے بھی آپ کا ذکر خیر کرتے ہیں،جیساکہ مستدرک علی الصحیحین میں روایت ہے:’’حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فرمایا:جب سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرمانے لگے:آپ کی جدائی سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اور صدمہ نہیں ہوسکتا، پھر آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اپنی پھوپھی جان حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:خوش ہوجاو!ابھی جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے تھے،انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی کہ یقینا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا نام مبارک آسمان والوں میں لکھا ہوا ہے:”حمزۃ بن عبد المطلب اسد اللہ واسد رسولہ”سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شیر ہیں۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم)
غزوہ احد میں چونکہ سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت عظمیٰ ہوئی،اسی لئے بہ اختصار اس کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کی شہادت کا واقعہ ذکر کرنے کی سعادت حاصل کی جارہی ہے:
غزوہ احد:غزوہ احد 3ھ میں پیش آیا۔ ’’اُحُد‘‘مدینہ طیبہ کے ایک وسیع پہاڑ کا نام ہے،جس کے متعلق نبی برحق صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’یہ (اُحُد) وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ ‘‘(صحیح البخاری)یہ حق و باطل کا معرکہ اسی پہاڑ کے دامن میں واقع ہوا۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کے کاروان حق کی تعداد سات سو (700)تھی،جس میں صرف سو (100)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زرہ پوش تھے، اور قریش کا لشکر تین ہزار(3000) افراد پر مشتمل تھا، جن میں سات سو(700) افراد زر ہ پوش تھے۔ حق و صداقت کی راہ میں جام شہادت نوش کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد ستر(70)تھی‘جبکہ باطل پرستوں کے تیس (30)افراد جہنم رسید ہوئے۔
سیدالشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کی شہادت عظمیٰ:غزوہ احد میں سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی مکمل شجاعت و جواں مردی کے ساتھ اہل مکہ کا مقابلہ کرتے رہے۔ ہند بنت عتبہ کے وحشی نامی ایک حبشی غلام جو ماہر نشانہ باز تھا اور وہ دونوں اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے‘چنانچہ ان سے ہندہ نے کہا: اگر تم جنگ میں امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کردو تو تمہیں آزاد کردیا جائے گا، وہ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا مسلسل تعاقب کرتارہا اور موقع کی تلاش میں تھا کہ جیسے ہی موقع ملے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ پر نشانہ لگادے ۔ وہ ایک مقام پر چھپ کر بیٹھ گیا،جب سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ مقابلہ کرتے ہوئے اس کے قریب سے گزرے تو اس نے چھپ کر آپ رضی اللہ عنہ پر ایک نیزہ سے وار کیا جو سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی ناف مبارک سے ہوکر پشت مبارک سے نکل گیا۔ اور آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ پھر ہندہ نے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کی بے حرمتی کی اور آپ کا شکم مبارک چاک کرکے اس سے جگر کو نکالا اور چبا کر نگلنا چاہا لیکن وہ نگل نہ سکی۔واضح رہے کہ بعد میں وحشی اور ہندہ دونوںمسلمان ہو گئے تھے۔ جس وقت آپ کی شہادت ہوئی اس وقت آپ کی عمر مبارک چوپن (54) سال تھی۔جیساکہ امام حاکم نے ’’مستدرک‘‘ میں روایت کی ہے۔
نیکیاں کرنے والے اور مصیبتوں کو دور کرنے والے:جب سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید رنج وملال کااظہار فرمایا اور نہایت غمگین ہوگئے یہاں تک کہ آپ کی چشمان مقدس سے آنسو رواں ہوگئے اور جب حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شہداء احدکی نماز جنازہ پڑھائی تو ہرشہید کی نمازجنازہ کے ساتھ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی نمازجنازہ بھی پڑھائی، اس لحاظ سے آپ کو یہ اعزاز وامتیاز حاصل ہے کہ سترمرتبہ آپ کی نمازجنازہ ادا کی گئی‘ چنانچہ شرح مسند ابو حنیفہ،ذخائر عقبی اور سیرت حلبیہ میں روایت ہے:’’حضرت ابن شاذان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ ہم نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کبھی اتنا اشک بار نہیں دیکھا جتنا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اشک بار ہوئے،آپ نے انہیں قبلہ کی جانب رکھا،پھرآپ جنازہ کے سامنے قیام فرماہوئے،آپ اس قدر اشک بار ہوئے کہ سسکیاں بھی لینے لگے، قریب تھا کہ رنجیدگی کے سبب آپ پر بیہوشی طاری ہوجائے،آپ یہ فرماتے جاتے:اے حمزہ!اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا،اے رسول اکر م صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شیر!اے حمزہ! اے نیکیوں کو انجام دینے والے!اے حمزہ! اے مصیبتوں کو دور کرنے والے!اے حمزہ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے دفاع کرنے والے،حضو ر صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب نماز جنازہ ادا فرماتے تو چار مرتبہ تکبیر فرماتے اور آپ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ستر(70) مرتبہ تکبیر کے ساتھ نمازِجنازہ ادا فرمائی۔امام بغوی نے اس روایت کو اپنی معجم میں نقل کیا ہے۔(شرح مسند ابی حنیفہ،ج1،ص526۔ ذخائر العقبی۔ ج 1، ص: 176۔ السیرۃ الحلبیۃ، ج4،ص153۔س المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی۔)
عظمت وفضیلت:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا جو اندوہناک واقعہ پیش آیا اور حق تعالیٰ نے آپ کو جو سرفرازی اور فضیلت عطافرمائی، اس کا تذکرہ مختلف کتب حدیث وکتب تاریخ میں ملتاہے‘ چنانچہ مستدرک علی الصحیحین اور امام طبرانی کی معجم اوسط وغیرہ میں روایت ہے:’’حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا:جس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو جمع فرمائے گاان میں سب سے افضل انبیاء ومرسلین ہی رہیں گے اور رسولوں کے بعد سب سے افضل شہداء کرام ہوں گے اوریقینا شہداء کرام میں سب سے افضل حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ ہونگے۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب،حدیث نمبر4864۔ المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر930۔ جامع الاحادیث للسیوطی،حدیث نمبر4003۔کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال،کتاب الفضائل من قسم الافعال،باب فضائل الصحابۃ مفصلا مرتبا علی ترتیب حروف المعجم،حرف الحائ،حمزۃ رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر36937)
سید الشہداء ہونے کا شرف:مخبر صادق صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت سے متعلق ارشاد فرمایا کہ آپ شہداء امت کے سردار ہیں،جیساکہ امام حاکم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت کی ہے:’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے ارشاد فرمایا:حمزہ بن عبد المطلب تمام شہیدوںکے سردار ہیںاور ایک وہ ہستی بھی سید الشہداء ہے جو کسی ظالم بادشاہ کے سامنے حق کا پرچم بلند کرے اور اسے بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور وہ بادشاہ اسے شہیدکردے۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب،حدیث نمبر 4872 ) نیز اس روایت کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت نقل کیا ہے۔(المعجم الاوسط للطبرانی،باب العین من اسمہ علی،حدیث نمبر:4227)
لقب ’’سید الشہدائ‘‘ سے متعلق ایک شبہ کا ازالہ:یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ حدیث مبارک میںسید الشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو کہا گیاہے،توپھر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو سید الشہداء کیوں کہاجاتاہے؟حقیقت یہ ہے کہ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بھی سید الشہداء ہیں اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی سید الشہداء ہیں،کیونکہ حدیث شریف میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھی سید الشہداء فرمایا اور اس ہستی کو بھی سیدالشہداء کے لقب سے ممتاز کیا جو کسی ظالم بادشاہ کے سامنے حق کو پیش کرے اور باطل کے خلاف آواز اٹھائے یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کرے،چنانچہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے ظالم وجابر حاکم یزید پلید کے خلاف آواز اٹھائی اور حق کا پیام پہنچایا اور آپ کو اس ظالم نے شہید کروادیا،لہٰذا اس حدیث شریف کی روشنی میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی سید الشہداء کہا جاتا ہے اور دونوں حضرات کا اپنی اپنی شان کے لحاظ سے سیدالشہداء ہونا حدیث شریف کی روشنی میں حق وصداقت پرمبنی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کے پیارے چچا جان کے درجات کو بلند فرمائے ۔

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: