حساس معاملات میں ہماری نااہلی!

0 9

آج میرے سامنے دوالگ الگ واقعات کی خبریں ہیں، دونوں کا تعلق اس سوسائٹی کے انتہائی حساس موضوعات سے ہے، پہلی خبر یہ کہ پنجاب کے شہر خوشاب میں توہین مذہب کا الزام لگا کر ایک بینک کے سکیورٹی گارڈ نے بینک مینیجر کو قتل کر دیا ہے۔پولیس نے واقعہ کے فوراً بعد ملزم کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا تھا تاہم اسے قائد آباد تھانے منتقل کرنے کے دوران مقامی لوگوں کے ایک ہجوم نے اس کو گھیرے میں لے لیا تھا جو بعد ازاں جلوس کی شکل اختیار کر گیا۔ملزم کو تھانے میں چائے بھی پیش کی گئی اور پوچھا گیا کہ بینک منیجر کو فائر کیوں مارے تو اُس نے کہا فرض نماز پڑھیں۔ سنت نہ بھی پڑھیں تو خیر ہے۔بینک منیجر یہ کہہ کر توہین کا مرتکب ہوا تھا، اسے قتل کرنا لازم تھا۔مقتول کے بھائی کا بیان بھی پڑھ لیں جن کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ساتھ دوہرا ظلم ہوا ہے‘۔یعنی قتل بھی اور توہین مذہب کا الزام بھی۔ ان کے مطابق ہمارے لیے ایسی صورتحال پیدا کردی گئی ہے کہ ہم اس وقت اپنی خاندان کی جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے بھی پریشان ہیں۔
دوسری خبر یہ کہ دانش نامی لڑکے کو جنسی ہراسمنٹ کیس میں مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا ہے، اور اب پورے خاندان کو بھی اس کے ساتھ ہراساں کیا جا رہا ہے، خبر کے مطابق کیس بالکل سادہ سا ہے کہ پہلے لڑکی اور لڑکے کا افیئر تھا، رشتے کی بات چلی تو دونوں خاندانوں نے آپس میں ملنا شروع کر دیا، لیکن ذات پات اور فرقے کے فرق کی وجہ سے رشتہ نہ ہو سکا، جس کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے لڑکے پر مقدمہ درج کر وا دیا۔ یقینا اس کیس میں جنسی ہراسمنٹ کا غلط استعمال ہوا حالانکہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جنسی ہراسمنٹ کیا ہے؟ پاکستان کے قانون اور عالمی اخلاقیات کے حساب سے دیکھیں توکسی بھی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر چھونا، اخلاق سے گری گفتگو کرنا، علیحدگی میں ملنے کیلئے مجبور کرنا،انٹرویو میں پاس کرنے یا امتحان میں نمبر دینے کیلئے جنسی تعلقات کی شرط رکھنا، کام کی جگہ پر اپنی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے کسی کو جنسی تعلقات پر مجبور کرنا، جنسی طور پر ہراساں کرنا کہلائے گا۔ لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ آج کی جدید اور تیزی سے بدلتی دنیا میں اس کی واضح حدود مقرر کرنا مشکل ہے۔ لیکن پھر بھی سماجی علوم کے ماہرین،باہمی رضا مندی سے افیئر چلانا، کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرنا، کسی کو دیکھ کر مسکرا دینا، یا شادی کی پیشکش کرنا، جیسے معاملات کو جنسی طور پر ہراساں کرنا نہیں سمجھتے۔
خیر اب دونوں کیسز میں قوانین کے موجود ہوتے ہوئے بھی اُن کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، میرے نزدیک پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو بھی قوانین بنائے جاتے ہیں وہ اُجلت میں بنائے جاتے ہیں، جیسے توہین مذہب کیس میں 295سی کے تحت سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے، لیکن اس کیس کے کئی پہلو نظر انداز ہونے کے باعث لوگ خود ایک دوسرے کو الزام لگا کر قتل کردیتے ہیں اور پھر سزا سے بچنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں، دوسری جانب خواتین کو ہراساں کیا جانا دنیا کے کسی حصے میں نئی بات نہیں لیکن پاکستان کے معروضی حالات کو سامنے رکھیں تو ریاستی سوچ میں خواتین کو ہراسانی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت محسوس کرنا یقیناً تازہ ہوا کا ایک جھونکا تھامگر اسے بھی غلط استعمال کرنا ہمارے لیے ضروری ہوگیا ہے۔ کام کرنے کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف تحفظ ایکٹ 2010 میں منظور ہوا۔لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ آج تک اس قانون کے تحت کسی ایک کو بھی سزا نہیں ہوئی بلکہ کئی جگہوں پر اس قانون کا غلط استعمال ضرور دیکھا گیا۔ ایسے میں فریقین کا فائدہ ہو یا نا ہو، لیکن پولیس کی دہاڑیاں ضرور بنتی ہیں، جیسے عوام کو ان کیسز کے بارے میں کم علمی کی وجہ سے ”بلائنڈ“ کردار ادا کر نا پڑتا ہے۔ جیسے پولیس کا تفتیشی کہے ویسے کرنا پڑتا ہے، اور پھر جب کیس عدالت میں ہوتا ہے تو پھر جیسے وکیل کہے وہی کچھ کرنا پڑتا ہے، روپیہ پیسہ پانی کی طرح بہانا پڑتا ہے، یعنی ملزم یا اُس کے گھر والے اپنے بچاﺅ کی چکی میں ایسے پستے ہیں کہ اُن کے لیے فیس سیونگ کی جنگ لڑنے کے لیے اپنا سب کچھ برباد کرنا پڑ جا تاہے۔
حالانکہ قانون سازی اپنی جگہ ایک درست عمل ہے، لیکن اسے افراتفری میں بنانے کے بجائے صبرو تحمل اور تمام فریقین کو ذہن میں رکھ کر بنانا چاہیے۔ پھر ان کو لاگو کرنے اور کروانے والے کی تربیت ہونی چاہیے، پھر ایسے افراد کے لیے بھی کڑی سزا ہونی چاہیے جو اس قانون کو غلط رنگ دے کر دوسروں پر جھوٹے مقدمات درج کرواتے ہیں یا ہتھیاروں کے ذریعے خود ہی فیصلے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں کی اگر بات کریں تو تمام چھوٹے بڑے کیسز میں توہین مذہب کے قوانین کو 310مرتبہ استعمال کیا گیا ، بعد میں تفتیش کے بعد علم ہوا 70فیصد مقدمات ذاتی رنجش کی بنا پر بنائے گئے تھے، جبکہ جنسی ہراسمنٹ کے گزشتہ 18سالوں میں 7658کیسز درج ہوئے جن میں سے 83فیصد کا یا تو ابھی تک فیصلہ ہی نہیں ہو سکا، یا ناقص پولیس تفتیش کے ذریعے کیس زیر التواءہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا ہر کیس ہی غلط ہوگا، یا ہر کیس ہی درست ہوگا، لیکن ہمیں یہ ضرور دیکھنا ہو گا کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے، حالانکہ ہر ملک میں اس قسم کے قوانین موجود ہیں لیکن کبھی کسی نے جرا¿ت نہیں کی کہ وہ جھوٹا کیس کسی پر درج کروا دے، لیکن یہاں ایک مخصوص سوچ نے پاکستانیوں کی تربیت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔
بہرکیف یہ قوانین چونکہ غلط استعمال ہو رہے ہیں، ان کو بہتربنانے کے لیے ریٹائرڈ ججز پر مشتمل ایک ایسا تھنک ٹینک بنانا چاہیے جو ان قوانین کا ہر پہلو سے جائزہ لے ،اور ہمارے رویوں کے مطابق ڈھال سکے۔ اور پھر جو قوانین بنائے جائیں، انہیں ٹرائل بیسز پر لاگو کیا جائے، جیسے بے شمار دفعات ہیں جن کا تعین ایس ایچ او نہیں بلکہ ڈی ایس پی یا ایس پی کر تا ہے، اس وقت توہین عدالت اور جنسی ہراسمنٹ کیسز کو بھی اعلیٰ معیار کے ججز، افسران اور منتظمین کے حوالے کیا جائے ، اور ویسے بھی توہین مذہب کا پرچہ سیشن جج یا ایس پی لیول پر کیا جانا چاہیے، یعنی یہ حساس معاملات ہیں انہیں جگ ہنسائی سے بچایا جائے، کیوں کہ جب کوئی اس طرح کا قتل ہوتا ہے تو پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوتی ہے، جو شاید ہمارے امیج کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، اور پھر جس خاندان پر توہین مذہب کا ، جنسی ہراسمنٹ کا یا کوئی بھی پرچہ درج ہوتا ہے تو وہ خاندان معاشی طور پر تباہ ہو جاتا ہے، ہمارے گاﺅں میں اگر کسی کو کمزور کرنا ہوتا تھا تو اُس پر کوئی جھوٹا مقدمہ قائم کر دیا جا تا تھا، وہ ساری زندگی اُس میں سے نکلنے کے لیے تگ و دو کرتا رہتا اور اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دیتا تھا۔ اور سب سے اہم یہ کہ ان جھوٹے مقدمات سے اور پھر فیصلوں میں تاخیر سے ہمارے پاسپورٹ کی عزت بھی کم ہوتی ہے۔ ہماری عزت اسی لیے نہیں ہوتی کیوں کہ ہم مشہور ہو چکے ہیں ، کہ ہم ایک دوسرے پر جعلی مقدمات قائم کرتے ہیں، ہم مشہور ہو چکے ہیں کہ ہم توہین مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں ، کیوں کہ ہم مشہور ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔
تم جو اجلت میں جیئے جاتے ھو دنیا والو !
اتنی جلدی بھی قیامت نہیں آنے والی !!
حالانکہ انگریزوں کے زمانے میں تو ایسی چیزوں میں ڈنڈے کے استعمال کا تصور بھی نہ تھا۔ سیاسی آزادیاں ایک حد تک سلب تھیں، لیکن سوشل آزادیوں پہ کوئی قید نہ تھی۔ مذہبی آزادی تو تھی ہی مکمل، مندر میں جائیں، گوردوارے یا مسجد میں، یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ عبادت گاہوں پہ کوئی پابندی نہ تھی اور کلبوں کے دروازے بھی کھلے ہوتے۔ یہ اور بات ہے کہ چونکہ انگریز حاکم تھے؛ چنانچہ ایسے کلب بھی تھے جن میں دیسی لوگ یا یوں کہیے انگریزوں کی رعایا اتنی آزادی سے داخل نہیں ہو سکتی تھی‘ لیکن یہاں کے لوگوں کے اپنے مسکن تھے۔ لاہور کا وہ کون سا بازار ہے جس کا نام عموماً یاد نہیں رہتا، لیکن جس کا نام سردار ہیرا سنگھ سے منسوب ہے، اس میں گورے لوگ نہیں جاتے تھے۔ وہ تو یہاں کے لوگوں کی راہ گزر تھی۔ لہٰذا انگریز لوگ پنجاب کلب اور جمخانہ کلب جیسی جگہوں پہ اپنی پارٹیاں کرتے تھے اور اہل وطن کے اپنے طریقے ہوا کرتے تھے۔بقول شاعر
زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
پھر 1977ءہماری تاریخ میں منحوس سال تھا۔ نظرِ بد لگ گئی اس سرزمین کو۔ ذوالفقار علی بھٹو نہ سمجھ سکے کہ اپنے انداز میں الیکشن کرا کے وہ کن تباہیوں کا سٹیج تیار کر رہے ہیں۔ پاپولر لیڈر تھے الیکشن ویسے بھی جیت جاتے، لیکن بد قسمتی اُن کی کہ اُس الیکشن کے لئے اپنے مشیرانِ خاص سیاسی ساتھیوں کی بجائے نوکر شاہی سے چنے۔ اپنا ذہن بھٹو کا آمرانہ ہو گا لیکن مشیرانِ خاص نے احتیاط کا درس کچھ زیادہ ہی دے دیا۔ ذہن ایسا بنا کہ فضول کے اقدامات کیے گئے۔ جیسے خود مے نوش تھے، مگر شراب پر پابندی لگا کر بلیک میلروں کو اربوں کا فائدہ پہنچایا، پھر مذہبی ووٹ کے سامنے یرغمال بنے۔ او ر رہی سہی کسر ضیاءالحق نے نکال دی۔
بہرحال فی الوقت ہمارے معاشرے کو ذہنی تربیت اور کردار سازی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ جب تک مرد اور خواتین کو اپنے اداروں میں احساس و تحفظ نہیں ہو گا وہ یوں ہی چپ چاپ اور خوف کے عالم میں زندگی گزاریں گے۔کبھی کسی کو توہین مذہب کے کیس میں جکڑ دیا جائے گا تو کبھی کسی کو جھوٹے ہراسمنٹ کے کیس میں دھکیلا جا تا رہے گا، جس سے ہم مزید تباہی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: