Muhammad Akram Amir Today's Columns

اپوزیشن اتحاد دفن شد از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نے چیئر مین سینٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی شکست کا اپوزیشن ایسا بدلہ چکایا کہ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر گیا، کیونکہ آصف علی زرداری نے اپنا ٹارگٹ کچھ کچھ پورا کر لیا تھا، موصوف جیالے یوسف رضا گیلانی کو سینٹ کے ایوان میں دیکھنا چاہتے تھے، جس میں وہ کامیاب رہے اور موصوف نے پی ٹی آئی کو سینٹ کی ووٹنگ میں ایسا جھٹکا دیا کہ حکمران چکرا گئے اور کپتان کو اگلے ہی دن اعتماد کا ووٹ لینا پڑا پھر آصف علی زرداری یوسف رضا گیلانی کو چیئر مین سینٹ کے لئے پی ڈی ایم کا متفقہ امیدوار نامزد کرانے میں بھی کامیاب ٹھہرے، سو یوسف رضا گیلانی کی شکست پر مفاہمت کی سیاست کے کھلاڑی زرداری کو ذہنی جھٹکا لگا تو موصوف نے اتحادی رہنے کے لئے پی ڈی ایم کی قیادت کے سامنے وہ شرائط رکھ دیں جو پورا ہونا ممکن نہ تھیں۔ کیونکہ نواز شریف کیلئے ملک میں حالات سازگار نہیں، وطن واپسی کی صورت میں وہ سیدھے ایئر پورٹ سے جیل یاترا کیلئے پہنچ جائیں گے، گو کہ صوبائی وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو جیل میں وی آئی پی سہولتیں دی جا رہی ہیں، نواز شریف کو بھی وطن واپسی کی صورت میں بہترین سہولتیں دی جائیں گی۔ لیکن نواز شریف ایسی حماقت کسی صورت نہیں کریں گے۔ کیونکہ وہ تو بیمار ہیں اور علاج کیلئے بیرون ملک گئے ہیں کہ پی ڈی ایم کے اتحادی رہنے والے آصف علی زرداری نے لانگ مارچ اور اپوزیشن کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کا معاملہ نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف وطن واپس آ کر احتجاج میں شامل ہوں تو پیپلز پارٹی سب سے پہلے اپنے ارکان اسمبلیز کے استعفے میاں نواز شریف کے سپرد کرے گی۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز شریف جو اب 26 مارچ کو اسلام آباد لانگ مارچ کی بجائے نیب میں پیش ہوں گی اور اپنے خلاف نیب کی جانب سے تیار کردہ الزامات کا جواب دیں گی۔ مریم نواز شریف کے رجوع کرنے پر عدالت نے نیب کو مریم نواز شریف کی گرفتاری سے روک دیا ہے، واضح رہے کہ مریم نواز شریف نے کچھ روز قبل اداروں کو ہدف تنقید بنایا تھا، ابھی مریم کی تقریر زیر بحث تھی کہ اسے (مریم نواز) نیب کا پروانہ مل گیا، اب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے لاکھوں کارکن مریم نواز شریف کے ساتھ پیشی بھگتنے نیب جائیں گے۔ یعنی کہ اپوزیشن کے کارکن 26 مارچ کو لانگ مارچ جو کہ ملتوی ہو چکا ہے کی بجائے نیب آفس کی جانب مارچ کریں گے جو کسی بھی صورت اچھی روایت نہیں ہے۔ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو سیاست دان اداروں سے ٹکرائے وہ قصہ ماضی بن گئے۔ اور اب مریم نواز شریف ایسا کرنے جا رہی ہیں۔پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم کے اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کر کے در اصل اپنے آپ کو ’’پروانہ‘‘ سے محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن نیب کا پروانہ ملنے پر مریم نواز شریف نے اداروں کو پھر للکارا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتی وہ نیب میں پیش ہونگی اور اگر گڑ بڑ کی کوشش کی تو پھر مسلم لیگ (ن) کے ورکر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزاحمت کریں گے۔
ماضی کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ ایم کیو ایم کے الطاف حسین نے بیرون ملک بیٹھ کر اداروں پر تنقید کی تھی جس کے بدلہ میں پاکستانی قوم حتیٰ کہ کراچی کے مہاجرین نے بھی الطاف حسین سے اس حد تک نفرت کی کہ الطاف حسین پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ کیلئے دفن ہو گئے۔ اب نواز شریف بیرون ملک بیٹھ کر اداروں کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور ملک میں مریم نواز شریف اداروں کو للکار رہی ہیں یعنی کہ وہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے، سو سیاسی ذرائع کہتے ہیں کہ ایسے بیانات نواز شریف اور مریم نواز شریف کیلئے آنے والے وقت میں مشکلات پیدا کریں گے۔ کیونکہ نواز شریف پہلے ہی ملک سے باہر ہیں اور مریم نواز شریف کو حکومت کسی صورت ملک سے باہر نہیں جانے دے گی۔
سیاسی ذرائع کہتے ہیں کہ حالات اور وقت نے ثابت کیا کہ آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم کے ساتھ وہی کیا جو وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں۔ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آصف علی زرداری نے سیاست میں کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا اور اب کی بار بھی موصوف نے ایسا ہی کیا۔ سینٹ و چیئر مین سینٹ کے الیکشن میں اپوزیشن سے یوسف رضا گیلانی کیلئے ووٹ حاصل کرنے کے بعد آصف علی زرداری نے اگلے ہی روز پی ڈی ایم کو ٹھینگا دکھا دیا جس سے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان چکرا کر رہ گئے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ بکھرتے اتحاد کو یکجا کیسے کریں؟ کیونکہ آصف علی زرداری کسی صورت میں پی ڈی ایم کی فرنٹ لائن پر آنے کو تیار نہیں وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف وطن واپس آئیں اور سیدھے جیل جائیں تا کہ اس صورت میں آصف علی زرداری نواز شریف سے اپنا ماضی کا حساب بھی چکتا کر لیں۔
لیکن بے رحم سیاست میں یہ عجب منطق دیکھنے میں آ رہی ہے کہ پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان اب بھی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو پی ڈی ایم میں شامل رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اور مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی کو کہہ رہے ہیں کہ اسے اپوزیشن کی 9 جماعتوں کی تقلید کرنی چاہیے تو مولانا شاید دسویں جماعت مسلم لیگ (ن) کو بھی اپنے ساتھ تصور نہیں کر رہے کیونکہ پی ڈی ایم اتحاد 11 جماعتوں پر مشتمل ہے اور مولانا فضل الرحمان کچھ روز سے پریس کانفرنسز میں 9 جماعتوں کا ذکر کرتے ہیں یوں حالات بتا رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) بھی پیپلز پارٹی کی طرح پی ڈی ایم کو پرباش کہنے کو ہے اور مولانا فضل الرحمان اس بارے پہلے ہی ذہنی طور پر تیار ہو رہے ہی۔
سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہو رہی تھی پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کی شکست کے بعد پی ڈی ایم کے اتحاد کی تو سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد پارہ پارہ ہو چکا ہے۔ مریم نواز شریف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر ہیں اور مفاہمت کی سیاست کے کھلاڑی آصف علی زرداری نے اس پورے سیاسی ماحول میں خوب کھیل کھیلا ہے اور اپنے تئیں وہ کامیاب رہے ہیں۔ موصوف آنے والے وقت میں اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنے چاہتے یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم سے دوریاں اختیار کی ہیں۔

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: