Muhammad Akram Amir Today's Columns

پی پی 84 ضمنی الیکشن مہم اور بریانی کی اہمیت از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

اکثر سیاسی یا غیر سیاسی تقریبات میں مہمانوں کی تواضع بریانی سے کی جاتی ہے،خاص کر ہر جنرل،ضمنی،یا بلدیاتی الیکشن میں امیدواروں کی اکثریت اپنے ووٹرز کی خاطر تواضع میں چائے پانی کے ساتھ بریانی کا بھی خاص اہتمام کرتے ہیں،اور صاحب حیثیت سپوٹرز کی اکثریت تو اپنی گراہ سے اپنے امیدواروں کی کمپین پر خرچ کرتے ہیں اور ساتھ اپنے امیدوار کے حامی ووٹرز کا بھی خیال رکھتے ہیں،تاہم غریب مگر جوشیلے سپورٹر اپنے امیدوار کے کیمپ میں پکنے والے کھانوں جن میں اکثر بریانی ہوتی ہے پر اکتفا کرتے ہیں،جب کہ عام ووٹرز کی اکثریت ہر امیدوار کے کیمپ سے کھابے اڑاتے اور پھر پولنگ والے دن ووٹ کاسٹ کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں کہ پوری الیکشن مہم میں کس امیدوار کے کیمپ سے اسے مزیدار بریانی کھانے کو ملی،اور کس امیدوار نے اس کی زیادہ آؤ بھگت کی،ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ کرنے والوں کی شرح زیادہ ہوگئی ہے ،جبکہ پارٹیوں سے وابستگی اور نظریاتی ووٹرز کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ ہر آنے والے الیکشن میں کم ہوتی جارہی ہے اور بریانی کی پلیٹ پر ووٹ دینے والوں کی اکثریت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اسی تناظر میں اب سیاسی پارٹیاں بھی نظریاتی کارکنوں کو کم اور پارٹی میں مالی طور پر مستحکم شخصیات کو جنرل،ضمنی الیکشن میں ٹکٹ جاری کرتی ہیں کہ ان کا امیدوار الیکشن مہم میں خوب خرچ کرکے اپنی کامیابی کو یقینی بنائے گا،حتاکہ بلدیاتی الیکشن میں بھی امیدوار کی مالی حیثیت دیکھ کر سیاسی پارٹیاں اور علاقائی سیاسی دھڑے امیدوار کو ٹکٹ دے کر میدان میں اتارتے ہیں،
یوں جیسا بھی سیاسی میدان لگتا ہے اس کی انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کی کئی طرح کے کھابوں سے تواضع کی جاتی ہے،جس میں بھی بریانی کو اہم مقام حاصل ہے،تاہم بریانی میں چکن،مٹن،یا بڑے گوشت کا ہونا ضروری ہے،سادہ یا آلو والی بریانی الیکشن کے دنوں میں ووٹرز کے دلوں کو نہیں بھاتی،یوں ہر الیکشن میں جو امیدوار اپنے ووٹر کو مزیدار بریانی کھلاتا ہے اکثر وہی جیت پاتا ہے، اور قومی ،صوبائی ،اور بلدیاتی ایوانوں تک پہنچتا ہے۔ اس طرح جیت کر ایوان تک پہنچنے والے ایم این اے یا ایم پی اے کی اکثریت عوام کے ساتھ انتخابی مہم میں کئے گئے وعدے بھول کر اپنے خاندان کو نوازنے کہ بعد اگر کچھ بچ جائے تو پھر انتخابی مہم پر انویسٹمنٹ کرنے والے سپورٹر پر مہربان ہوکر اسے نوازتے ہیں، ارکان اسمبلی کا دوران اقتدار حلقہ میں زیادہ رابطہ بھی اپنے سپوٹرز اور انویسٹرز سے ہی ہوتا ہے اور بریانی کھا کرووٹ دینے والی عوام کی اکثریت کو بھی انہی سپورٹرز اور انویسٹرز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتاہے،کیونکہ امیدوار کو پتہ ہوتا ہے کہ ایسی عوام نے آئندہ ووٹ پھر اسے ہی دینا ہے جو اسے پھر سے بریانی مگر اچھی کھلائے گا، یوں ہر سیاسی یا غیر سیاسی تقریب بالخصوص الیکشن میں بریانی کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔
معاشرے میں بریانی کا کردار اس لئے بھی اہم ہے کہ بریانی کا نام سنتے ہی انسان کے منہ میں پانی بھر آتا ہے کیونکہ بریانی ایک ایسی ڈش ہے جو بنگلا دیش، بھارت،سری لنکا، فلپائن، سعودی عرب، اور دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے عوام کی اکثریت کی پسندیدہ غذاء ہے، ہمارے گھروں میں تو خوشی کے تہواروں اور چھٹی کے ایام میں یہ ڈش بطور خاص بنائی جاتی ہے، یوں تو کچھ عرصہ قبل تک ملک میں کراچی اور حیدرآباد کی بریانی کا کوئی ثانی نہ تھا اور ان شہروں جیسی بریانی کسی دوسرے شہر سے نہیں ملتی تھی،کیونکہ یہ مغلوں کی ڈش تھی اور مغلوں کے کھانے پکانے والے قیام پاکستان کے نتیجہ میں مہاجر ہوکر زیادہ پاکستان کے ان دو شہروں میں آباد ہوئے تھے، لیکن ہر سیاسی و غیر سیاسی تقریب میں بریانی کے کثرت سے استعمال نے اسے پورے ملک کی ڈش بنا دیا ہے اور بریانی اب ہر چھوٹے بڑے شہروں کے گھروں اور بازاروں میں دکانوں پر دستیاب ہے، بنگلا دیش میں بریانی میں گوشت کا استعمال کم اور مچھلی کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں گوشت والی بریانی پسند کی جاتی ہے
دور جدید میں کھانوں میں بھی جدت آگئی ہے اور نت نئے اور منفرد کھانے بھی دیکھنے اور کھانے کو مل رہے ہیں، بازاری پیکٹوں کے مصالحہ جات نے کھانوں کے ذائقے بھی پیکٹوں میں محصور کردئیے ہیں، کیونکہ خواتین گھروں میں مصالحے کوٹ یا پیس کر استعمال کرنے کی بجائے اب ڈبوں کے بازاری مصالحہ جات کے استعمال کو ترجیح دینے لگی ہیں، خال خال گھروں جن میں اب بھی بزرگ خواتین کا راج ہے میں ثابت مصالحے خرید کر گھروں میں پیس کر استعمال کرنے کا رجحان ہے، بات ہورہی تھی بریانی کی تو کو اس کی بھی طرح طرح کی قسمیں مارکیٹ میں آچکی ہیں مثلاً سندھی بریانی،بمبئی بریانی، تکہ بریانی، حیدر آبادی بریانی، بارکیو بریانی،ملتانی بریانی،پشاوری دنبہ بریانی، اور اسی طرح کی بریانی کی لاتعداد قسمیں پاکستان میں دستیاب ہیں۔
بریانی فارسی زبان کالفظ ہے بقول راوی بریانی ہندوستان میں پہلی بار بنائی گئی، ہوا کچھ یوں کہ مغل بادشاہ شاہجہان کی ملکہ “ممتاز بیگم”ایک بار اپنے عسکری جوانوں سے ملاقات کرنے گئیں تو ملکہ کو اپنی فوج کے جوان صحت میں کمزور محسوس ہوئے،ملکہ ممتاز نے اپنے شاہی باورچی کو چاولوں کی ایک ایسی ڈش بنانے کی ہدایت کی جسے کھا کر فوجیوں میں طاقت بڑھے، ملکہ کے حکم کی تعمیل بجالاتے ہوئے شاہی باورچی نے گوشت اور مصالحہ جات کا کثرت سے استعمال کرکے بریانی تیار کی، جس نے بعد میں شاہی پکوان کارتبہ پایا، اور مغلیہ شہزدے،شہزادیوں کی بریانی خاص غذا بن گئی۔ یوں ہندوستان سے وجود میں آنے والی بریانی اب دنیا کے اکثر ممالک کی عوام کی پسندیدہ ڈش ہے، تا ہم مغلیہ دور میں تیار ہونے والی بریانی کو رنگ دینے کیلئے زعفران اور اعلی قسم کے مصالحہ جات اور اعلیٰ قسم کاگوشت جس میں ہرن اور پرندوں کے شکار کا گوشت بھی شامل ہوتا تھا استعمال کیا جاتا، لیکن اب بریانی میں عام مصالحہ جات اور زعفران کی جگہ پیلا رنگ استعمال ہوتا ہے، اگر مغلیہ خاندان کا کوئی فرد پاکستان، بھارت یا بنگلہ دیش میں جگہ جگہ فروخت ہونے والی بریانی کی حالت دیکھ لے تو سر پیٹ کررہ جائے کہ شاہی ڈش کا دنیا نے کیا حال کردیا ہے۔
سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہورہی تھی الیکشن کے ایام میں بریانی کے کثرت سے استعمال کی تو خوشاب کے حلقہ پی پی 84میں ضمنی الیکشن 5مئی کو ہونے جارہا ہے، جس میں رمضان المبارک کے باعث امیدواروں کی طرف سے افطاریوں کا بھی انتظام کیا جارہا ہے، ان میں بھی ووٹرزکیلئے دیگر اشیاء کے ساتھ بریانی کا اہتمام کیا جارہاہے،اور حلقہ میں خال خال افطاریوں میں ووٹرز کو سالن روٹی دی جارہی ہے، یوں ہر الیکشن کی طرح اس ضمنی الیکشن میں بھی بریانی کو اہم مقام حاصل ہے، اور غریب ووٹرز کی بریانی سے خوب تواضع کی جا رہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ بریانی کی پلیٹ پر ووٹ دینے والے ووٹرز جن کی تعداد دوسرے ووٹرز سے زیادہ ہے پولنگ والے دن کس امیدوار کو ووٹ ڈالتے ہیں؟ اس لئے امیدواروں کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے کیمپوں اور انتخابی مہم کی کارنر میٹنگز کی افطاریوں میں دی جانے والی بریانی کے معیار کو بہتر بنائیں تاکہ ووٹ دیتے وقت ووٹرز کے اکثریت کا یہ طبقہ یہ بات ذہن میں رکھ کر اسی امیدوار کوووٹ کاسٹ کرے کہ جس کی بریانی مزیدار تھی، سو راقم نے تو بریانی کے شوقین غریب ووٹرز کے مفاد کو مد نظر رکھ کے مشورہ دے دیا ہے، عمل تو پی پی 84 کا ضمنی معرکہ لڑنے والے امیدواروں نے کرنا ہے، کیونکہ اب کی بار الیکشن پیسے کے زور پر لڑنے والا امیدوار ٹکٹ حاصل کرنے سے محروم رہا ہے، اور اسی وجہ سے موصوف خود چپ ہے اور اسکے حامیوں نے اپنا فیصلہ کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کریں گے کا مئی کے پہلے ایام یعنی الیکشن سے دو تین روز پہلے تک پر چھوڑ دیا ہے ،جب تک یہ گروپ کسی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرے گا وہ انتخابی مہم کے آخری ایام ہوں گے، اس وقت تک کھابے کھانے والے ووٹرز کو بریانی پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا، ہاں حالیہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ سے محروم رہنے والے سرمایہ دار کے ساتھیوں نے اپنے گروپ کے ووٹ دینے کے لئے کسی امیدوار کا انتخاب جلد کرلیا تو پھر کھابوں میں بریانی کی بجائے مرغ وبکرے کے روسٹ، بروسٹ کا اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہاں یہ عرض نہ کرنا بریانی کھلانے والے امیدواروں کے ساتھ زیادتی ہوگی کہ بریانی کی پلیٹ کے بدلے ووٹ دینے والے ووٹرز دوران الیکشن مہم تو ہر اس امیدوار کی جس کے کیمپ سے وہ کھابے کھاتے ہیں کی تعریف کے پل باندھے رکھتے ہیں، اور پھر الیکشن گزرنے پر کامیابی یا ناکامی ہر دو صورتوں میں حلقہ سیاست دان سے حکمران وقت تک کو کوستے رہتے ہیں، لیکن سیاست دان یا ان کے سپورٹرز پھر بھی ایسے ووٹرز سے سالہا سال معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیونکہ آئندہ انتخاب میں امیدواروں نے متذکرہ افراد سے پھر بریانی کی پلیٹ پر دوبارہ ووٹ لینا ہوتاہے۔ یوں بریانی پھر بھی بریانی ہے، جس کا مغلیہ دور میں کوئی ثانی نہ تھا۔

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: