ہندوستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت ہے اور یہاں دنیامیں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں دونوں ،سرکاری سطح پر بھی اور غیرسرکاری سطح پر بھی۔کہنے کو یہ ملک سیکولر ہے لیکن حقیقت میں یہاں ہندوٴں کی بالادستی ہے بلکہ ہندوٴں میں سے بھی بھارت پر برہمنوں کاراج ہے۔ہندوٴں کے مذہبی عقائد کے مطابق ان کے ہاں چار ذاتیں ہیں اور ان میں سے سب سے اعلی ذات برہمن کی ہے جسے مذہبی و سیاسی بزرگی و برتری حاصل ہے۔

سب سے بڑی تو یہی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کہ اقوام متحدہ کے جینوا معاہدے کے طابق رنگ و نسل اور زبان و علاقے کی بنیاد پر کسی انسان کو دوسرے انسان پر فوقیت نہیں ہوگی جب کہ ہندوستان میں کوئی کتنا ہی برا ،گندا اور بدکردار شخص ہو لیکن برہمن خاندان میں پیدا ہونے کے ناطے وہ ہر طرح کی عزت و تکریم اور مذہبی و معاشرتی مراعات کامستحق ہے۔

جبکہ کوئی کتنا ہی پاکباز،خوش اخلاق اور نیک طینت فرد ہو لیکن شودر کے گھر پیدا ہونے کے باعث وہ ملیچھ،ناپاک اور کمین گردانا جائے گا۔یہ رویہ تو انکے اپنے ہم مذہبوں کے بارے میں ہے جبکہ غیرمذہب کے لوگ تو انکے ہاں شودروں اور کم نسل کے لوگوں سے بھی گئے گزرے سمجھے جاتے ہیں۔
ہندوستان میں غربت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(NCRB)انڈیاکی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران 122637افراد نے خودکشی کی۔

ان میں بیشتر نے غربت سے تنگ آکر یہ آخری قدم اٹھایا۔یہ اگرچہ پورے ملک ہندوستان کا مسئلہ ہے لیکن پانچ ریاستیں مہاراشٹر،آنھراپردیش،مغربی بنگال،تام ناڈو اور کرناٹک اس خود کشی کے مرض کابہت زیادہ شکارہیں۔ان علاقوں میں خودکشیوں کی سالانہ شرح اضافہ تقریباََ4%تک ہے۔ان میں زیادہ تعدادمرد حضرا ت کی ہے۔ان علاقوں میں زیادہ تر لوگوں نے قرضوں کے سود کی عدم ادائیگی کے باعث خودکشی کی۔

اسلام نے تو انسانیت پر رحم کیا کہ سود کو حرام قراردے دیا لیکن ہندو برہمن اپنے سے نیچ ذات والوں کاخون چوستاہے اور انہیں بھاری شرح سود پر قرضے دیتاہے،خود کشی اس کاانجام ہے کہ جب قرض پر سود در سود اور پھر مفرد اورمرکب سود کی رقم چڑھتی ہی چلی جائے اور ریاست اور مذہب سمیت کسی جگہ مقروض کوجائے پناہ نہ ملے توآخرموت کے علاوہ اور کونسی وادی ہے جوانسان کو اپنے دامن میں سمیٹ لے؟۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کرنا اور پھر انہیں قتل کر دینا ایک اور دردانگیزداستان ہے جو ہندوستان کے گلی کوچے میں دہرائی جا رہی ہے۔ہندوستان ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق نئی دہلی جیسے اہم ترین شہر میں ایک ہی دن میں 38بچوں کو جنسی تشدد کے بعد ہلاک کر دیا گیا۔پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر کے تو تفتیش شروع کر دی ہے۔
بچوں کی مسخ شدہ لاشیں پلاسٹک کے تھیلوں میں سے برآمد ہوئی ہیں۔

اور ملزمان تک پولیس نے ایک بچے کے گمشدہ موبائل فون کے ذریعے رسائی حاصل کی۔لاشوں کے پوسٹ مارٹم سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بچوں کے جنسی اعضا کو دانتوں سے نوچ کر کچا کھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔یہ دراصل اس تہذیبی یلغارکے اثرات ہیں جو بھارت نے اپنے میڈیا اور فلم انڈسٹری کے ذریعے اپنے معاشرے تک پھیلائے ہیں اوراب دنیاکے دیگر معاشروں تک بھی بھارت کی یہ دانستہ کوشش ہے کہ انہیں بھی اس دلدل میں دھکیل دیاجائے۔

یہ محض قیاسات پر مبنی بیانات نہیں ہیں بلکہ بھارت کی صف اول کی خاتون راہنماسونیاگاندھی کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ بھارت نے تہذیبی یلغارکے پاکستان کو فتح کرلیا ہے اور اب جنگ کی ضرورت نہیں۔جب قیادت تک کے ذہن سے انسانیت نکل جائے اورحیوانگی و درندگی انکے رویوں میں در آئے تو کیا معاشرے کے عام افراد اسی طرح کے ”کارنامے“سرانجام نہیں دیں گے؟
جینوا معاہدے کے تحت انسانوں کی خریدوفروخت ممنوع ہے لیکن بھارت جیسا ملک جہاں دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں اور کی جاتی ہیں وہاں انسانوں کی خریدوفروخت کھلے عام نہ صرف جاری ہے بلکہ غربت سے تنگ آئے ہوئے والدین اور بھائی تک اپنی اولادوں اور بہنوں کو چند سکوں کے عوض بیچ ڈالتے ہیں۔

قدیم کہانیوں میں مہاجن کی زیادتیوں کے بارے میں پڑھاکرتے تھے کہ غریب ہاری جومہاجن کی ایسی چارپائی کے ساتھ لگا بیٹھا ہوتا تھا جس کے پائے چاندی کے اور انکے نیچے اینٹیں سونے کی ہوتی تھیں اور ہاری مہاجن کی منت کر رہاہوتاکہ سود کے عوض یہ میری نوجوان بیٹی لے لو اور اصل زر اگلی فصل پر لوٹا دوں گااورپھر اگلی فصل کی بجائے اگلی نسل کی باری آجاتی لیکن سود ختم نہ ہوتااور بیٹیوں کی کہانی تاریخ کی طرح پھر دہرائی جاتی۔

آج اکیسویں صدی کی دہلیز پر بھارت پھر انہیں کہانیوں کانقشہ پیش کر رہا ہے بلکہ حالات اس سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں کہ اب تو شوہر بھی اپنی بیویوں کو مجبور کرتے ہیں کہ ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے جسد فروشی کا دھندہ کریں۔ایک رپورٹ کے مطابق انسانی خریدوفروخت کا کاروبار سب سے زیادہ اس وقت بھارت میں ہی ہوتا ہے جس کے لیے بڑی بڑی دلالی کمپنیاں ہیں جومختلف علاقوں سے اپنے کارندوں کے ذریعے آرڈر لیتی ہیں اور غربت کے مارے ہوئے علاقوں سے والدین کے ہاتھوں انکے جگر کے ٹکڑوں کوچند سو یا بہت زیادہ ہوا تو چند ہزار کے عوض خرید کر انہیں آگے سے آگے اور پھر مزید آگے تک پہنچاتے ہیں۔

’نیہہ ڈکژٹ“ایک جو ایک نوجوان لڑکی ہے اس نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اسے ہر اتوار کو کم از کم بھی پچاس جنسی درندوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے،پوجا سنگھ جو محض چودہ سالہ عمر کی حامل بچی ہے اسے تین ہزارجیسی حقیر رقم کے عوض اسکے باپ نے فروخت کر دیااور اب اسکامالک ڈھائی سو روپے فی گاہک وصول کر کے تو اس بچی کو اسکے حوالے کر دیتاہے،جس مقصد کے لیے اس نے ایک مکان لیاہوا ہے ،”سمیراخاتون“نامی آٹھ سالہ بچی کومغربی بنگال میں اسکے بھائی نے نئی دہلی کے ایک ایجنٹ کے ہاتھوں فروخت کیا۔

اور”ویجے“نامی بچی ابھی جھولے میں تھی جب اسکی والدہ نے اسکے فروخت کا بیعانہ لے لیا تھا۔یہ تو وہ حالات ہیں جو لکھ دیے گئے ہیں ،حقیقت یہ ہے بعض رپورٹوں میں اس قدر دل دہلا دینے والی داستانیں لکھی ہوتی ہیں اور بعض خواتین ہندو معاشرے کے ایسے ایسے چھپے رازوں سے پردے ہٹاتی ہیں کہ قلم انکی تاب نہیں لاسکتا اور صحافی ان کو سن کر بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اگر چہ صحافی حضرات بیان کرتے ہیں کہ ایسے حالات سن کر یا دیکھ کرانہیں کئی کئی دنوں تک بھوک اوربے خوابی کا بھی شکار رہنا پڑتا ہے۔

اس کے مقابلے نے اسلام نے عورت کو وہ اعلی مقام دیا ہے کہ جنت جیسی جگہ اسکے قدموں میں لاکر ڈھیر کر دی ہے۔
’ریٹا“نامی ایک لڑکی نے بتایا کہ اسے سترہ سال کی عمر میں ”لاتر“سے اغوا کیاگیااور اسے جی بی روڈ نئی دہلی کے ایک بنگلے میں لایا گیا اور اسے مجبور کیاگیا کہ وہ مردوں کے ساتھ سوئے ،جب اس نے انکار کیا تو اس پر ایک کمرے میں لے جاکر تشددکیاگیاجہاں کم از کم بھی ایک سو سے زائد لڑکیاں موجود تھیں۔

بیس دنوں کے تشدد کے بعد وہ اس بات پر رضامند ہوئی کہ بیس سے تیس مرد روزانہ اور پچاس مرد اتوار کے دن اسکے ساتھ سو سکیں گے۔وہ جب کبھی بھی باہر جانے کا کہتی تو اس بنگلے کی میڈم ”ریٹا“ سے اس رقم کاتقاضا کرتی جس کے عوض اسے یہاں لایا گیا جبکہ اس سب دھندے کے بدلے اس لڑکی کو صرف رہائش ،کپڑے اور کھانا میسر تھا۔نو سالوں کے بعدجب اسے شدید تکلیف کے باعث ہسپتال لایا گیا تو وہ ”ایڈز“کی مریضہ ہو چکی تھی۔

اب اسکا مقدمہ گزشتہ دو سالوں سے عدالت میں زیر سماعت ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق وہ محض دو سالوں کی ہی مہمان ہے۔
یہ محض چند چاول تھے جو ایک بہت بڑی دیگ ے چکھے گئے۔حیرانی ہے کہ ہندوستان کے ارباب حل و عقدصرف اس بات میں مشغول ہیں کہ اسلحے کے بجٹ میں کتنے گنا مزید اضافہ کیاجا ئے،مزید ہتھیار کہاں کہاں سے اور کس کس طرح سے درآمد کیے جائیں یا خود تیار کیے جائیں۔

دنیا کی یہ ایٹمی قوت اپنے دفاع پر جس قدرخرچ کرتی ہے اس سے بہت کم بھی اپنی رعایاپر خرچ کرے تو ہندوستان میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں ۔افسوس ہے اس ہندوستانی قیادت پر جس نے اپنے ملک پرتوجہ دینے کی بجائے پڑوسیوں سے تعلقات خراب کرنے کا حق ادا کیا ہے۔مشرق اور مغرب ہو یا شمال اور جنوب،بحری راستے ہوں یا فضائی حدود،سفارتی تعلقات ہوں یا مذہبی معاملات ہر جگہ ایک بدمعاشانہ کردار اس ملک رہا ہے جس کے باعث پوراجنوبی ایشیاعدم استحکام کاشکار ہے۔

دنیا میں دوجنگ عظیم لڑنے والے ممالک بھی آج اکٹھے ہوگئے ہیں ،ان کی کرنسی بھی ایک ہے ،انکی خارجہ پالیسی بھی ایک ہے جس کا براہ راست اثر ان ملکوں کی عوام پر ہے جہاں خوشحالی کے باعث انکی اوسط عمریں ایک صدی کو چھو رہی ہیں لیکن تف اس برہمن راج پر جس نے اپنے علاقے میں انسانیت کی چیخیں نکال دی ہیں۔بنیہ کی حرص و لالچ ہی کافی تھی کہ ہندوستان کی عوام کااستحصال کیاجائے لیکن اس کے ساتھ سیکولرازم نے مل کرتو بھارت میں انسانیت کی چتاہی نذرآتش کردی ہے۔

بنیے کی تنگ نظری پرسیکولرازم نے اپنی مہرتصدیق ثبت کرکے آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا دردانگیزدرس تیارکردیاہے۔مشرق میں ہندواورسیکولرازم انسانی حقوق کے ساتھ خون کی جوہولی کھیل رہے ہیں بعینہ مغرب میں یہودیوں اور سیکولرازم کاانسان کش اشتراک وہی کھیل رچارہاہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: