Today's Columns

اسرائیل کا میزائل پروگرام از ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اس وقت اسرائیل کے پاس دنیاکا جدید ترین میزائل پروگرام موجود ہے جس میں دشمن کے مقابلے کی تباہ کن صلاحیت موجود ہے۔اسرائیل میں میزائل پروگرام کو ’’جوریشو1‘‘کا نام دیا گیااور 1960میں فرانس کی ایک کمپنی’’ڈیزالٹ ایوی ایشن‘‘کے ساتھ مزاکرات کا آغاز ہوااور تل ابیب میں1963میںایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے مطابق اس کمپنی نے امن پسنداسرائیل کو 235سے500کلومیٹر تک مار کرنے والے بلاسٹک میزائل فراہم کرنے تھے جو450سے 650کلوگرام تک تباہ کن مواد لے جا سکتے تھے۔یہ خبر سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے 1971میں ’’جوریشومیزائل اول‘‘کے نام شائع کی۔ابتداََ ان میزائلوںکی آزمائش فرانس کے ہوائی اڈوں پر ہی ہوتی رہی لیکن 1978تک کے مختصر عرصے میں اسرائیل نے یہ بلاسٹک میزائل اپنی سرزمین پر بناناشروع کر دیے تھے اور خاص 1978میں ہی اس نام کے پچاس میزائل اسرائیل کی ریاست بنانے میں کامیاب بھی ہو چکی تھی اور بعد کے تجاوزات میں اس ’’جوریشو1‘‘میزائیل کے اندر ایٹمی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت بھی داخل کر دی گئی۔ان حقائق سے اندازہ ہوتا ہے امن کے نام پر ایک طرف تو مزاکرات کی میزیں سجتی رہی اور میڈیا پر تصویروں کی اشاعت سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی رہی جبکہ درون خانہ اسرائیل کی فاشسٹ ریاست جنگوں کی تیاری اور اسلحے کی کھیپ کی کھیپ بنانے میں کس قدر مصروف رہی اور عالمی انسانی حقوق کے ٹھیکیدار کس طرح در پردہ اس انسان دشمن پروگرام میں اسرائیل کی معاونت کرتے رہے۔
1980اور1990کے دوران اسراییل کے اندر ’’جوریشو2‘‘پر تجربات ہوتے رہے اور یہ پہلے میزائل سے کہیں بہتر تیکنالوجی کا حامل میزائیل تھا جو 1500سے 3500کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اور 750سے1000کلوگرام تک تباہ کن مواد اٹھا سکتاہے۔ایک رپورٹ کے مطابق1989میں یہ ثانی الزکر میزائیل تیار ہو کر دشمن پر وار کرنے کے قابل ہو چکا تھااور ظاہر ہے اس میں ایٹمی اسلحہ لے جانے کی گنجائش بھی پہلے والے میزائیل سے کہیں بہتر اور زیادہ تھی۔اسرائیل کی فضائیہ کے تین اسکوارڈنزکو یہ میزائل فراہم کیے گئے ہیں ایک اسکوارڈن کابیس تل ابیب کے جنوب میں 45کلومیٹر دور واقع ہے ،دوسرا’’سیڈوت میکا‘‘نامی بیس زکریا نامی قصبے کے پڑوس میں واقع ہے جبکہ تیسرا’’سورک‘‘دریا کے کنارے پر دو قصبوں کے درمیان واقع ہے۔خلیج کی جنگ کے دوران اگر چہ اسرائیل نے ان میزائلوں کے چلانے سے انکار کیا ہے لیکن خلائی سیاروں سے حاصل کی گئی تصاویراور دیگر شہادتوں سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان میزائلوں کو عرب آبادیوں پر بے دردی سے چلایا ہے لیکن ظاہر ہے پاکستان کا اسلامی بم،عراق کے کیمیائی ہتھیاراور ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام کو بنظر غائر دیکھنے والوں کو اسرائیل کے یہ چلتے ہوئے بلاسٹک میزائیل کیسے نظر آسکتے ہیں؟؟اسرائیلی فضائیہ نے ان میزائیلوں کو خندقوں،غاروں اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان چھپاکر اور حملے کے لیے ہردم تیار باش کر کے رکھاہے۔
لاس اینجلس ٹائمزنے اکتوبر2003میں یہ رپورٹ شائع کی کہ اسرائیل نے امریکہ کے فراہم کردہ ’’ہارپون کروزمیزائیلز‘‘کوایٹمی اسلحہ لے جانے کے قابل بناکر تو اپنی آبدوز میں نصب کر دیاہے ۔ابتداََ یہ میزائیل جو اسرائیلی بحریہ کے حوالے کیاگیاہے 130کلومیٹر تک وار کر سکتاتھا لیکن اسرائیل نے اس کی تیکنالوجی کو وسعت دی اور اب یہ ’’ہارپون کروزمیزائیل‘‘320کلومیٹر تک بآسانی وار کر کرسکتاہے۔یہ 533ملی میٹرکی تارپیڈوٹیوبز میں لگا کر فائر کیاجاتاہے۔2000ء میں اس میزائیل کے ٹیسٹ خلائی سیارے کے ذریعے مشاہدہ کیے گئے لیکن اسرائیلی قیادت نے کذب بیانی پر قائم رہتے ہوئے اس کا انکار کیاہے،جبکہ جون 2002میں پنٹاگون نے بھی ان میزایلزکی آزمائش کی تصدیق کردی تھی۔اس سب کے باوجود اسرائیل نے امریکہ سے مزید میزائل مانگے ہیں اور اس بار وہ میزائیل 650ملی میٹرکی تارپیڈو ٹیوب سے فائر کیے جانے کے قابل ہوں گے یعنی پہلے سے بھی زیادہ تباہ کن صلاحیت کے حامل ہوں گے اور اس مقصد کے لیے تین ڈولفن کلاس آبدوزیں تیار کی جارہی ہیںجو اپنی کارکردگی میں پہلے سے کہیں بہتر اور سبک رفتار ہیں۔اسلامی دنیاکے میزائیل پروگرام جن کی ناک پر ہر دم کھٹکتے رہتے ہیں اور جن کے خطرے کے پیش نظر ان کی نیندیں حرام ہیں کہ مسلمانوں کے ہاتھ کہیں یہ تیکنالوجی نہ لگ جائے وہ کس طرح اسرائیل کی کھل کر سرپرستی کر رہے ہیں۔
اسرائیل واحد ملک ہے جس کے پاس بلاسٹک میزائیل سے بچنے کا نظام تیار حالت میں موجود ہے،اکتوبر 2002ء میں امریکہ اور اسرائیل نے باہمی تعاون سے یہ نظام اسرائیل میں نصب کیااور اس کے اخراجات کا 80%امریکہ بہادر نے برداشت کیا۔اس وقت اسرائیل کے پاس دو ایرو بیٹریز موجود ہیں اور تیسری کی تیاری جاری ہے ،جبکہ ہر بیٹری میں ایک سو کی تعداد میں دفاعی راکٹ برسانے کی صلاحیت موجود ہے ۔فروری2007میں اسرائیل نے تیرہواں کامیاب تجربہ کیاتھا جس میں بہت بلندی پر جاکراس راکٹ نے ایک میزائیل کو جا لیاتھا۔یہ تجرباتی تیاریاں دراصل ایران کے شہاب تھری بلاسٹک میزائیل کے دفاع کے طور بنائے جا رہے ہیں۔اسرائیل کی ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی نے دعوی کیا ہے کہ اس نے دورمار گائڈڈمیزائیل بھی تیار کر لیے ہیںاور مارچ 2004ء میں ان کا کامیاب تجربہ بھی کیاجا چکاہے۔جبکہ اسی سال 2004ء کے اگست میں پیٹروٹ اورہاک میزائیلوں کے تجربات بھی کیے جا چکے ہیںاور یہ سب کچھ امریکہ کی زیر نگرانی ہو رہاہے کیونکہ اس مقصد کے لیے اس کمپنی اور امریکہ کے درمیان مارچ2003میں ایک معاہدے پر دستخط بھی ہوئے تھے۔کتنی حیرانی کی بات ہے کہ امریکہ جو ساری دنیاکا ٹھیکیداربنتاہے لیکن اسے صرف اسرائیل کا ہی دفاع عزیزہے ،سارے انسانی حقوق،تمام تر عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی ساری قراردادیں اور فیصلے اسراائیل کی سرحدوں پر آکر دم توڑدیتے ہیں اور مسلمان ممالک میں داخل ہوکر انہیں سو سے ضرب دے دی جاتی ہے،پس جو چاہے آپ کا حسن کشمہ ساز کرے۔اس پر مستزاد یہ کہ اسرائیل ’’میزائیل پروگرام کنٹرول رجیم ‘‘کا رکن بھی نہیں ہے اور امریکہ کے کامرس ڈیپارمنٹ نے اسرائیل کو میزائیل فراہم کرنے والے ممالک میں بھی شامل کر لیاہے جب کہ پابندیاں صرف اسلامی ممالک لیے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ ایک اور میزائیل سے دفاعی نظام پر مل کر کام کر رہے ہیں جسے ’’Mobile Tactical High-Energy Laser (MTHEL) ‘‘کانام دیا گیاہے۔یہ امریکی فوج اور اسرائیلی وزارت دفاع کا مشترکہ منصوبہ ہے۔اس منصوبے کے تحت مئی 2004کونیو میکسیکومیںتجربہ بھی کیاگیا۔اس منصوبے کے تحت تیار ہونے والے میزائیل اپنے دشمن میزائیل کو ہوا میں ہی نشانہ بناکرختم کردینے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے۔ایک طرف مسلمان ممالک کے میزائیل پروگراموں پر پابندی لگائی جارہی تو دوسری طرف اسرائیل نے کھلی پیشکش کررکھی ہے کہ جو ملک چاہے اس کے ساتھ میزائیل ٹیکنالوجی میں مشارکت کرے چنانچہ اس وقت بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک اسرائیل ہی ہے ۔اس بات کا اقرار جون 2002میں بھارتی وزارت دفاع کے سیکرٹری نے بھی کیاکہ ’’گرین پائین فائر کنٹرول ریڈار‘‘کے حصول کے لیے اسرائیل سے مزاکرات کامیاب رہے ہیں جبکہ کئی دیگر ممالک سے بھی مزاکرات چل رہے تھے۔یہ ریڈار سسٹم میزائیل سے دفاع کے پروگرام کا اہم حصہ ہے اور500کلومیٹر دور تک اپنی طرف آنے والے میزائیل کو بھانپ لینے کی صلاحیت رکھتاہے۔اگست 2004میں بھی بھارت کے چیف ملٹری سائنسدان نے اعلان کیاتھا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دورمار میزائلوں کی تیاری پر گفت و شنید جاری ہے۔
اسرائیل کی ان تیاریوں پر حیرانی نہیں کیونکہ وہ تو علی الاعلان دشمن ہے جبکہ سیکولرمغربی تہذیب جس کے عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ،میڈیا،عالمی عدالت انصاف،بین الاقوامی پولیس اوراقوام متحدہ جیسا ادارہ اور نہ معلوم کیاکیااور کیسے کیسے پروگرام منصوبے یہ سب کچھ کیا صرف مسلمانوں کے لیے ہی ہیں؟؟دنیاکی بدترین فاشسٹ ریاست جس نے پڑوسیوں کا جینا دوبھر کیاہوا ہے کیا اس پر کوئی پابندی نہیں،اقوام متحدہ کی سینکڑوں قراردادیں صرف ہاتھ اٹھانے محدود ہیںاور اندر خانے سیکولرمغربی تہذیب کے کارپرداران انسانی تاریخ کی بدترین منافقت کی تاریخ رقم کر رہے ہیں جن پر شاعر مشرق نے بہت خوبصورت اور سپاٹ تبصرے کیے ہیں۔ان سب حالات میں جب کہ سیکولرمغربی تہذیب پنجے جھاڑکر امت مسلمہ کے پیچھے پڑ چکی ہے امت کی قیادت کو چاہیے کہ ان کے مقابلے کے لیے بھرپور تیاری کرے جس کا کہ قرآن مجید نے بھی حکم دیاہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے اپنے گھوڑے تیار رکھو۔اسی مقصدکے لیے ’’قتال‘‘کے عنوان سے جنگ کرنا ہر اس مسلمان پر فرض ہے جس پر نماز اور روزہ فرض ہے۔مسلمان حکومتوں کو چاہیے اسلحہ کی بہترین تیاری اور دفاعی تیکنالوجی کا جدید ترین سامان اپنے پاس محفوظ رکھیں اور اس مقصدکے لیے اسلامی سربراہی کانفرنس کے ایجنڈے پر ایک عرصے سے مشترکہ اسلامی فوج کی تجویز کو اب شاید دیمک لگنے والی ہو گی ،اس کو تازہ کریںاور ایمان تقوی اور جہاد فی سبیل اﷲ کے مقاصد کے تحت پوری امت کو ایک چھتری تلے جمع کریں اور ہم کہ بکھرے ہوئے قطرے سمندربن جائیں اور سیکولرمغربی تہذیب کو بھارت اور اسرائیل کی خباثتوں سمیت انہیںلے ڈوبیں تاکہ انسانیت کوامن و آشتی کا سامان میسر آئے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: