Muhammad Riaz Today's Columns

آؤ جھولی اُٹھاکر اسرائیل کو بدعا دیں از محمد ریاض ( امید سحر )

Muhammad Riaz
Written by Muhammad Riaz

رمضان المبارک کے آخیرمیں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر کی جانی والی دہشتگردی سے اسرائیل فلسطین تنازعہ اک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کا محور بن گیا۔ اسرائیلیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں کی جانی والی ننگی جارحیت اور بربریت نے اسرائیل اور اور اسکے ہمنوا ممالک کا دہشتگردی والا چہرہ اک مرتبہ پھر بے نقاب کردیا۔اسرائیل نے بلاتفریق شہری آبادی پر چن چن کر حملے کئے اور انگنت تباہی مچائی۔ہر گزرتے دن کیساتھ اسرائیلی سرعام اور بغیر خوف و خطراپنی دہشتگردی کی کاروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔ جہاں اسرائیلی دہشتگردی میں مصروف عمل ہیں وہی پر دنیا کے سب سے بڑے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار ممالک جن میں امریکہ، برطانیہ اور بہت سے یورپی ممالک نے کھل کر مسلم دنیا اور خصوصا فلسطینیوں پر ہونے والی دہشت گردی پر اپنی آنکھیں نہ صرف بند کرلی ہیں بلکہ اسرائیل کی ابھی بھی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ دوسری طرف 50 کے قریب مسلم ممالک کی حکومتیں برائے نام ”پرزور، شدید، سخت مذمت جیسے الفاظ“ ادا کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی نظر آرہی ہیں۔ 2 ارب مسلمان افراد پر مشتمل مسلم امہ سوشل میڈیا پر اسرائیل کو بددعائیں دیتی ہوئی نظر آرہی ہے۔سوشل میڈیا کی کسی پوسٹ پر مسلم امہ اللہ کریم سے یہ دعائیں کرتی ہوئی نظر آتی ہے کہ ابابیلوں کو بھیجنے والے اللہ فلسطینیوں کی مدد فرما (مطلب بحیثیت نام نہاد مسلم امہ ہم نے کچھ نہیں کرنا)۔اور اسی طرح بہت سی سوشل میڈیا پوسٹوں میں مسلم امہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلانے کی ناکام کوششیں کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس وقت اسرائیلی مصنوعات خصوصی طور پر پیپسی اور کوکا کولا جیسی دیگر مصنوعات کے بائیکاٹ کے لئے پوسٹیں کی جارہی ہیں۔جبکہ اللہ معاف کرے منافقت کا عالم یہ ہے کہ فیسبک اور ٹیوٹر پر پیپسی اور کوکا کولا کے خلاف پوسٹ لگانے والوں کی اکثریت نے آج کے دن تک ان مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کیا ہوگا، اسی طرح سے دکانوں پر مصنوعات فروخت ہورہی ہیں، جیسا کہ پہلے فروخت ہوتی تھیں۔جیسا کہ چند مہینے پہلے فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی، مگر افسوس آج فرانس مصنوعات کے بائیکاٹ کا کہیں تذکرہ بھی نہیں مل رہا۔پاکستان میں کچھ جھوٹ کے پجاری اپنے اپنے youtube channels پر سادہ لوح مسلم امہ کو جھوٹی کہانیاں اور من گھڑت افسانے جیسا کہ ”پاکستانی، ترکی، چینی، ایرانی افواج اس وقت خفیہ طور پر اسرائیل کے اندر گھس کر اسرائیلیوں پر میزائیل برسا رہی ہیں، اسرائیل بس چند ہفتوں تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے جا رہا ہے“ اور بعض من گھڑت خفیہ باتیں جو کہ پوری دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کو تو نہ مل سکیں مگر ان youtube channels چلانے والے نام نہاد پاکستانی صحافیوں کو ضرور مل گئیں۔اپنے یوٹیوب چینل پر زیادہ سے زیادہ likes اور views حاصل کرنے کے لئے یہ جھوٹے اور نام نہاد صحافی سادہ لوح مسلم امہ خاص طور پر پاکستانی جوانوں کو جھوٹ کے پلندے سنا اور دیکھا رہے ہوتے ہیں۔جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سب سے اہم سوال کہ گزشتہ چند دنوں سے جاری اسرائیلی دہشت گردی کیا پہلی مرتبہ ہوئی ہے؟ کیا اسرائیل کا فلسطین کی سرزمین پر قبضہ ہوئے چند دن ہوئے ہیں؟ نہیں بالکل ایسا نہیں ہے۔اسرائیل نے باقاعدہ طور پر اپنی آزادی یا مملکت کے قیام کا اعلان 1948 میں کردیا تھا، جبکہ اسرائیل نے 1967 اسرائیل عرب جنگ میں فلسطین پر اپنے قبضہ کو بزور بازو ثابت کرکے دیکھا دیا تھا۔اسرائیلی جب چاہتے ہیں فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ گرا دیتے ہیں۔ انکا جب دل کرتا ہے وہ مسلمانوں کی نسل کشی کردیتے ہیں۔ درحقیقت ہم برائے نام مسلم امہ بظاہر تو 50 کے قریب مسلم ممالک پر مشتمل ہیں مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم دنیاکے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹے ممالک میں سے ایک ملک اسرائیل کے آگے بزدلی کی تمام حدیں پار کرچکے ہیں۔مسلم امہ چار دن مذمتی بیانات دے کر سمجھتی ہے کہ ہم نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کردی ہیں۔آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم امہ اور مسلم ممالک کی حکومتیں کیوں اسرائیل کی جانب سے دہشت گردی کا انتظار کررہی ہوتی ہیں؟ کہ کب اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کے خلاف بدترین دہشتگردی کرے اور تب مسلم امہ اپنے مذمتی بیانات اور مسلم امہ اسرائیل بائیکاٹ کے نعرے بلند کریں۔ چار دن مذمت کی جائے، چار دن تک اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، پھر پانچویں دن بعد وہی اسرائیلی مصنوعا ت کا بغیر کسی ہجکچاہٹ سے بے دریغ استعمال کیا جائے۔اسرائیل کی دہشت گردی اور جارحیت کے اوپر اس مرتبہ کچھ عجیب و غریب مناظر بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ کچھ حلقوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف مذمت بھی بہت ہی نپے تلے اور منافقانہ انداز کی گئی۔ جیساکہ امن کے لئے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے ٹیوٹس ہی کو دیکھ لیجئے۔فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی کو امن کی فاختہ محترمہ ملالہ violence قرار دے رہیں تھیں اور اس ٹویٹ کرنے سے ٹھیک چند گھنٹے پہلے کابل میں ہونے والی دہشتگردی کو محترمہ ملالہ terrorism قرار دے رہیں تھی۔ اب ملاحظہ فرمائیں اسرائیلی دہشتگردی پر مسلم امہ کی سب سے بڑی تنظیم OIC کی مذمتی قرارداد۔”اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کی فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، او آئی سی کی قرارداد میں کہا گیا کہ حالات کی خرابی کا ذمہ دار مکمل طور پر اسرائیل کو ٹھہراتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی برادی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، او آئی سی نے آن لائن اجلاس میں مطالبہ کیا کہ فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر جاری حملے فوری بند کیے جائیں۔ یہ حملے عالمی قانون او رمسئلہ فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزیاں ہیں – اسرائیل خصوصا غزہ اور تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں وحشیا نہ فوجی حملوں کے نتیجے میں فلسطینی عوام کے خلاف منظم جرائم سے پیدا ہونے والی صورتحال کا پوری طرح ذمہ دار ہے، او آئی سی – مشرقی القدس میں مکانات سے سینکڑوں فلسطینی خاندانوں کو باہر کرنے خصوصا شیخ جراح کے حالات بگاڑنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قابض اسرائیلی حکام کے وحشیانہ حملے فوری بند کرانے کی اپیل کی ہے – اگر سلامتی کونسل بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے رجوع کیا جائے گا۔ اسرائیل فلسطینیوں کی واضح حق تلفی کر رہا ہے، ہم اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں پر قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس فلسطینیوں کی زمین ہے جس کو کسی طرح کا نقصان ہمیں قبول نہیں ہے“۔او آئی سی کی جانب سے اسرائیل کی پرزور مذمت پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ”سبحان اللہ، آپ کی مذمت اتنی شدید تھی کہ اسرائیل کا سارا فوجی نظام تباہ ہو گیا ہے۔آپ کی مذمت اتنی شدید تھی کہ فلسطینی ریاست بھی قائم ہو گئی ہے۔جناب والا مزید مذمت نہ کرنا کہیں اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ نہ جائے“۔ OIC کی ماضی، حال اور مستقبل کی کارکردگی کو اک چھوٹے سے لطیفہ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے کہ ”ایک بادشاہ نے کمزور سا باڈی گارڈ رکھا، دوسرے ملک کا بادشاہ دورے پر آیا، دیکھ کر حیران ہوا پوچھا: باڈی گارڈ عموماً مضبوط اور طاقتور جسم والے رکھے جاتے، آپ نے یہ گارڈ کس لیے رکھا۔بادشاہ مسکرا کر”ایدی بددعا بڑی لگدی اے یعنی اسکی بد دعا دشمن کو بہت زیادہ لگتی ہے اسلئے اسکو باڈی گارڈ بھرتی کیا ہوا ہے“۔OIC کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہیں آپکو اسرائیل کیساتھ سفارتی بائیکاٹ کا عندیہ نہیں ملے گا اور نہ اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔مسلم امہ کی حالت زار یہ ہے کہ آج کی تاریخ تک کسی مسلم ملک جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی، تجارتی تعلقات قائم ہیں افسوس ان سفارتی و تجارتی تعلقات کو نہ تو ختم کیا گیا بلکہ ختم کرنے کی دھمکی بھی نہیں لگائی گئی۔OIC ا علامیہ میں اسرائیلی دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے اقوام متحدہ کے دروازے کوکھٹکھانے کا عندیہ دیا گیا ہے، وہ اقوام متحدہ جسکی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں ہونے والے کسی فیصلہ یا قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی چاہے وہ فیصلے کشمیر کے متعلق ہوں یا پھر فلسطین کے متعلق۔ ہاں اقوام متحدہ نے مسلمان ممالک کے ٹکڑے کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، چاہے وہ مشرقی تیمور کو انڈونیشیا سے جدا کرنا ہو یا پھر سوڈان کے دو ٹکرے کروانا۔یا د رہے اقوام متحدہ کے ریکارڈ سے مسلمانوں کے لئے ریلیف نام کی کوئی چیز بہت مشکل سے ملے گی، ہاں مگر عراق، شام، لیبیا، یمن، سوڈان و دیگرافریقی مسلم ممالک میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے اقوام متحدہ نے اپنی منافقانہ پالیسیوں سے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیل کے حمایتیوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ منافقت نہیں کررہے بلکہ کھل کر اسرائیل کی دہشتگردی کی حمایت کررہے ہیں، جبکہ دوسری طرف نام نہاد مسلم امہ دبے لفظوں میں مذمت مذمت کھیل کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے۔ مسلم امہ کے کسی بھی لیڈر کے بیان کو دیکھ لیں وہ یہی کہتے ہوئے دیکھائی دیں گے کہ عالمی برادری اسرائیلی بربریت کو روکے، اب یہ عالمی برادری کس جن بھوت کا نام ہے، اگر تو عالمی برادری سے مراد United Nations ہے یا پھر امریکہ بہادر، یورپین ممالک تو پھر یہ بات تو طے شدہ ہے کہ یہ سب اسرائیل کی مذمت تو دور کی بات بلکہ یہ سب کھل کر اسرائیل کی حمایت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔نہیں یقین تو وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹویٹر پر جاری کردہ بیانات کو ملاحظہ فرمائیں۔اسرائیلیوں کے سب سے بڑے حمایتی امریکہ بہادر کے صدر نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک بار پھر مظلوموں کی بجائے ظالموں کے ساتھ کھڑے ہو گئے، اسرائیل کے فلسطین میں بربریت پر مذمت کرنے کی بجائے الٹا اسرائیل سے حماس کے حملوں کی مذمت کر ڈالی۔ وائٹ ہاؤس سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے رابطہ ہوا، جس میں جوبائیڈن نے اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کی اور اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔امریکی صدر نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ بھی ٹیلیفونک گفتگو کی مگر یہاں اسرائیلی بربریت کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، نہ شہادتوں پر غم و رنج کا اظہار کیا نہ ہی مساجد، پناہ گزین کیمپوں، نیوز ایجنسی کے دفتر پر بمباری پر افسوس کا اظہار کیا۔ نجانے مسلم امہ کب اپنی منافقانہ پالیسیوں کو ختم کرے گی؟درحقیقت مسلم امہ نام کی کسی چیز کا وجود عملی طور پر اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔مسلمانوں کی وحدت اور اخوت کا جنازہ تو قریبا ایک صدی پہلے ہی پڑھا جا چکا ہے جب سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھیر دیا گیا تھا۔ اور انتہائی تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سلطنت عثمانیہ کو ختم کروانے میں نام نہاد مسلم امہ نے غیر مسلم قوتوں کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلم امہ نہ توکبھی اکٹھی تھی اور نہ ہی اکٹھی ہونے کی کوئی امید نظر آرہی ہے۔ کیونکہ ہر ملک کے اپنے اپنے مالی، علاقائی، تجاری اور سفارتی مفادات ہیں اور بہت سے مسلم ممالک غیر مسلم ممالک اور انکے مالی اداروں کے چنگل میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اب آخری حل تو یہی ہے کہ جھولی اُٹھا کر اسرائیل کے لئے بدعائیں کی جائیں۔آخیر میں دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ کریم نام نہاد مسلم امہ کو متحد ہونے، غیرت اسلامی اورجذبہ جہاد کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

About the author

Muhammad Riaz

Muhammad Riaz

Leave a Comment

%d bloggers like this: