Khalid Khan Today's Columns

الزامات کی سیاست از خالد خان ( لب دریا )

Khalid Khan
Written by Khalid Khan

وطن عزیز پاکستان بہت خوبصورت ملک ہے اور یہ ملک تہذیب وتمدن کا آمین ہے۔ہر شہر اور ہر علاقے کا خوبصورت کلچر ہے۔ پاکستانی لوگ محب وطن اور مخلص ہیں۔اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اپنی دھرتی کے لئے جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں۔اپنے وطن سے محبت ایمان کی نشانی ہے۔ہمارے لوگوں کا منفی پہلو یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو سادہ نہیں سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثریت لوگ سیدھے اور سادے ہیں۔ہمارے لوگ بہت جلد دوسروں پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہیں حالانکہ اسلام تحقیق اور چھان بین پر زور دیتا ہے۔ اسلام بات یا خبر کی تصدیق اور تحقیق کا درس دیتا ہے۔جھوٹی باتوں یا خبروں سے نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ کسی بات یا خبر کو آگے پھیلانے یا اس پر ایکشن سے قبل تصدیق اور تحقیق ناگزیز ہے۔ ہمارے لوگ سیاست اور مذہب میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔بسااوقات سیاست اور مذہب کے معاملے میں تحقیق یا تصدیق نہ کرنے کے باعث دھوکے اور فریب کا شکار ہوجاتے ہیں اور دشمن ان کواستعمال کرلیتے ہیں جس کا نتیجہ بھیانک نکل آتا ہے اور دشمن مذموم مقاصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔سانحہ سیالکوٹ اور سانحہ تلمبہ وغیرہ ان کی مثالیں ہیں۔اسی طرح عصر حاضر میں سیاست میں جھوٹ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے حالانکہ سیاست ملک و ملت کی خدمت کا نام ہے۔سیاست میں جھوٹ اور فریب کا عنصرشامل ہونے سے ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے ۔جھوٹ اور فریب سے عوام خصوصاً نوجوان نسل کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ اب تو مفادات کے حصول کیلئے مخالفین پر الزام لگانا ایک اہم ہتھیار بن گیا ہے۔یہ ہتھیار بین الاقوامی ، ملکی اورعلاقائی سمیت ہر سطح پر عام ہوچکا ہے۔امریکہ نے عراق پر جراثیمی ہتھیاروں کا الزام لگایا اور اس پردرجنوں ممالک نے تصدیق اور تحقیق کے بغیر عراق پر یلغار کیا، عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی ، لاکھوں افراد کو قتل اورمضروب کیا، سب کچھ تباہ وبرباد کیا، بعد میں معلوم ہوا کہ عراق کے پاس ایسے کوئی ہتھیار ہی نہیں تھے۔ اسی طرح غلط الزامات کے باعث کئی ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع ہوچکے ہیں اورکئی ممالک کے درمیان جنگیں ہوچکی ہیں۔ملکی لحاظ سے سیاست دان اپنی سیاسی مفادات کیلئے مخالفین پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں ، حالانکہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔معاشرتی لحاظ سے ا پنے مفادات کیلئے عموماً جنسی الزام کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ مذہبی لحاظ سے مفادات کے حصول کیلئے توہین مذہب ،توہین رسالت اور توہین صحابہ کا الزام لگایا جاتا ہے۔اکثر الزام لگانے والے الزامات ثابت نہیں کرسکتے ہیں اور بعض اوقات جس پر الزام لگایا جاتا ہے ،الٹااس کو الزام کے ثبوت کیلئے بھی کہا جاتا ہے حالانکہ جس نے الزام لگایا ہے،اس کو الزام ثابت کرنا چاہیے۔وطن عزیز پاکستان میں سیاست میں الزام کے ہتھیار کو بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔سبھی سیاست دان لیکن سابق وزیر اعظم عمران خان اس ہتھیار کاخوب استعمال کررہے ہیں۔اگر سابق وزیر اعظم عمران خان الزامات کی سیاست پر انرجی ضائع کرنے کی بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیتے تو آج ملک میں مہنگائی کا طوفان نہ ہوتا،ڈالر بے لگام نہ ہوتا ،بجلی ، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ نہ ہوتیں، بے روزگاری، غربت اور کرپشن میں اضافہ نہ ہوتا، اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کی نگرانی میں نہ ہوتا، قوم کی گردن میں آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق نہ ہوتا۔سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے رفقاء اپوزیشن کو عدم اعتماد پیش نہ کرسکنے کے طعنے دیتے تھے ، جب اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تو پہلے پہل انھوں نے اس کوآسان لیا اور توجہ نہ دی لیکن جب پانی ان کے سروں کے اوپر سے گذرنے لگا اور ان کے اتحادی ان کے رویے کے باعث دور ہوگئے تو پھر امریکی خط کا الزام لگایا اور مخالفین پر غداری کا الزام تھونپ دیا۔ویسے بھی وطن عزیز میں مخالفین پر غداری اور کفر کے فتوے عام اور آسانی سے لگائے جاتے ہیں۔سابق وزیراعظم عمران خان الزامات کی سیاست کے بجائے پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز پر مشتمل ٹیم بناتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔عمران خان ماضی میں جن پرا لزامات لگاتے تھے اور جن کو گالیاں دیتے تھے، انہی افراد کو ٹیم میں شامل کیا اور اس کے علاوہ ایسے افراد کو ٹیم کا حصہ بنایاجو سابقہ ادوار میں تقریبا ً ہر حکومت میں وزیر ومشیر رہے تھے۔عمران خان اپنی خامیوں کو دور کرنے کی بجائے الزامات کے ہتھیار کو استعمال کرتے رہے،جس سے نہ صرف ان کا نقصان ہوا بلکہ ملک وملت کا نقصان کیا۔اب عمران خان مخالفین پر مزید الزامات کی بجائے وہ خط کے الزام کو ثابت کریں یا قوم سے معافی مانگیں ۔اس سے ان کی اخلاقی اور سیاسی قدوقامت میں اضافہ ہوگا۔سب سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ الزامات کی سیاست سے پرہیز کریں۔دیگر ممالک پر الزامات لگانے سے ہماری معیشت اور سفارت کاری بھی متاثر ہوتی ہے۔ الزامات کی سیاست سے نہ صرف ان کابلکہ ملک وملت کا نقصان ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ملک میں الزامات کی سیاست کا خاتمہ ناگزیز ہے اور اس ناسور کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہییں۔(الف )الزام لگانے والے سیاست دان کے خلاف اعلی عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو فوراً ایکشن لینا چاہیے۔الزام لگانے والے سے ثبوت مانگنے چاہییں۔ اگر وہ مصدقہ ثبوت فراہم کرسکے تو مخالفین کو قانون کے مطابق سزا دیں ،اگر وہ الزامات کے ثبوت فراہم نہ کرسکے تو الزام لگانے والے سیاست دان کو قید وجرمانے کے علاوہ ان کی سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگانی چاہیے۔(ب)سوشل میڈیا پر مذہبی اور سیاسی الزامات اور منافرت پر مبنی مواد شیئر کیا جاتا ہے،مخالفین پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں،ایف آئی اے اور دیگر ادارے ایسے افراد کے خلاف فوراً ایکشن لیں اور ان کو پابند سلاسل کریں۔سوشل میڈیا پر الزامات لگانے والوں کو قید و جرمانے کے علاوہ سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانی چاہیے۔(ج)سوشل میڈیا اکائونٹ کے لئے انگوٹھے کا امپریشن (Impression) اورفیس آئیڈینٹیٹی (Identity) لازمی قرار دیں تاکہ جعلی اکائونٹ نہ بن سکیں۔(د) مخالفین کی عزت اچھالنے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے اور ان کو قید وبند کی سزا لازمی اور بروقت ہونی چاہیے۔ (ر)الزام لگانے والاالزام ثابت کرنے کا پابند ہو،بصورت دیگر اس پرقید وبند کے ساتھ سیاسی و معاشرتی پابندیاں لگائی جائیں۔قارئین کرام!اگر الزامات کی سیاست یا الزامات کے سلسلے کو ختم نہ کیا گیا تو اس سے ملک وملت کا ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے اور معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوسکتا ہے۔بیماری پھیلنے سے قبل اس کا علاج ہوجائے تو بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔الزامات کی سیاست ختم ہونے سے کارکردگی اور تعمیری سیاست کا آغاز ہوگا جس سے ملک وملت ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔
٭…٭…٭

About the author

Khalid Khan

Khalid Khan

Leave a Comment

%d bloggers like this: