Nasim Yousaf Today's Columns

انیس مارچ 1940 – برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک سیاہ دن از نسیم یوسف

Nasim Yousaf
Written by Todays Column

انیس مارچ 1940 – برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا ۔ اس دن خاکساروں کی ایک بڑی تعداد شہید کر دی گئی۔ ان خاکسار شہداء نے برصغیر میں برطانوی راج کے خاتمے کی بنیاد ڈالی اور سات سال بعد طویل برطانوی راج کا خاتمہ ہوا۔ یہ تحریر علامہ مشرقی کے بیٹے اور خاکساروں کو یاد کرنے کے لیے لکھی گئی ہے جنہیں 19 مارچ کو بے رحمی سے قتل یا زخمی کیا گیا تھا، اور یہ بتانے کے لیے کہ تحریک آزادی میں خاکسار تحریک کے کردار کو کس طرح چھپا دیا گیا ہے۔

انیس سو تیس کے آخر میں ، انگریزوں کو اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ علامہ مشرقی اپنی نجی فوج کے ذریے جو خاکسار تحریک کے نام سے جانی جاتی ہے , جون 1940 تک برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لہٰذا تحریک کو کچلنے کے لئے برطانوی حکمرانوں نے پنجاب کے وزیر اعظم سر سکندر حیات خان, جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے ایک رکن تھے, کو سخت اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ 28 فروری 1940 کو سر سکندر نے پارٹی پر پابندیاں لگا دیں۔

انیس مارچ 1940 کو 313 خاکساروں نے تحریک پر پابندیوں کے خلاف لاہور میں مارچ کیا۔ برطانوی افسروں کی سربراہی میں پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور خاکساروں کومتکبرانہ انداز میں احتجاج روکنے کا حکم دیا۔ خاکساروں نے حکم عدولی کی اور مارچ جاری رکھا۔ برطانوی حکمرانی کے لئے یہ ایک حیران کن بات تھی , چونکے خاکساروں نے سینئر برطانوی افسران کے حکم کو نظر انداز کرنے کی جرات کی۔ خاکساروں میں یہ جرّت علامہ مشرقی نیں پیدا کی تھی جنہوں نے انہیں ہمیشہ اپنی عزت نفس، حوصلے اور فخر کو قائم رکھنا سکھایا تھا۔ برطانوی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈونالڈ گینس فورڈ خاکساروں کی بے عزتی سے حیران رہ گئے اور اس توہین کو قبول نہ کر سکے تو اس نے خاکسار عنایت شاہ کو تھپڑ مار دیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان "سنگین تصادم" ہوا۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بیٹی نے پولیس کو گولی چلانے کا حکم دیا اور انہوں نے خاکساروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ ضلعی پولیس رجسٹر کے مطابق، دن کے آغاز میں پولیس کو 1,620 راؤنڈز جاری کیے گئے تھے اور صرف 1,213 واپس آئے تھے، یعنی 407 گولیاں چلائی گئی تھیں۔ خاکساروں کی ایک بڑی تعداد زخمی اور 200 سے زیادہ شہید ہوئے, سرکاری طور پر یہ تعداد کم بتائی گئی ہے۔ خاکسار سانحہ اپریل 1919 میں جلیانوالہ باغ کے بدنام زمانہ سانحہ سے کم نہیں تھا۔
جس دن خاکسار کا قتل عام ہوا، اسی دن پولیس اور فوج نے اچھرہ، لاہور میں خاکسار تحریک کے ہیڈ کوارٹر اور علامہ مشرقی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس نے خاکساروں اور علامہ مشرقی کے دونوں بیٹوں کو گرفتار کر لیا۔ مشرقی کے تیسرے بیٹے احسان اللہ خان اسلم پولیس کے ہاتھوں بری طرح زخمی ہوئے اور بعد ازاں 31 مئی 1940 کو انتقال کر گئے- اسلم کا جنازہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ایک بڑا جنازہ تھا جس میں 50,000 سوگواروں نے شرکت کی۔ شام کو ، علامہ مشرقی ، جو اس وقت دہلی میں تھے، گرفتار کر لیا گیا -اس سانحے کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے میری دیگر شائع شدہ تحریریں دیکھیں۔

قتل عام کے بعد، "لاہور کو عملی طور پر ہنگامی قوانین کے تحت رکھا گیا تھا۔" فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا اور دفعہ 144 کے ساتھ کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ جلوسوں اور احتجاج پر پابندی لگا دی گئی اور خاکسار رہنماؤں کے ٹیلی فون منقطع کر دیے گئے۔ عوام کے غصہ کو اخبارات میں ذکر کرنے کی اجازت نہیں تھی – حکام کی رضامندی کے بغیر کچھ بھی شائع نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مثال کے طور پر خاکساروں کو شہید کہنے پر پابندی تھی ۔ ریڈیو اور پرنٹ میڈیا پر ہندوستان اور کئی ممالک میں اس واقعے کے بارے میں خبروں نے بڑی حد تک برطانوی حکومت کے پروپیگنڈے کی پیروی کی اور حکومت کے اقدامات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔

ہندوستان میں خاکساروں کے بے رحمانہ قتل سے پوری قوم ہل گئی، خاکساروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا ۔ درحقیقت، خاکسار تحریک کے نظریے کا ایک کلیدی اصول تمام مذاہب کے لوگوں کی سماجی خدمت تھا۔ اس طرح عوام خاکساروں کی عزت اور ان سے محبت کرتے تھے۔ صحافی محمد سعید نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’لاہور دو دن پہلے پیش آنے والے ایک بڑے سانحے کی وجہ سے اداسی کی لپیٹ میں تھا ۔‘‘

اسی پس منظر میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 22 سے 24 مارچ 1940 تک ایک اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کا مقصد قرارداد لاہور جو بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی کو پاس کرنا تھا۔ انگریزوں نے اس قرارداد کی پس پردہ حمایت کی تھی۔ اس حمایت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ حکومت نے اجلاس کو منعقد کرنے کے لئے دفعہ 144 کو ہٹا دیا۔ ہزاروں لوگ، بشمول مشتعل اور ناراض خاکسار، حکومت کے خلاف احتجاج اور اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے اجلاس میں آئے۔ عوام نے سانحہ خاکسار کی آزادانہ انکوائری، علامہ مشرقی ، ان کے بیٹوں اور خاکساروں کی رہائی، خاکسار تحریک پر سے پابندی ہٹانے، شہید اور زخمی خاکساروں کے لواحقین کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ اور سر سکندر کا مسلم لیگ سے اخراج کا بھی مطالبہ کیا ۔ پنڈال خاکسار کے حامی بینرز سے بھرا ہوا تھا اور پنڈال علامہ مشرقی زندہ باد, خاکسار زندہ باد، اور سکندر مردہ باد جیسے نعروں سے گونج اٹھا۔ مشتعل ہجوم کے جذبات کو محسوس کرتے ہوئے اور اجلاس میں خلل کے خوف سے، مسلم لیگ نے قرارداد پاکستان کے ساتھ خاکسار قرارداد بھی منظور کی

انیس مارچ کے خاکسار سانحہ نے خاکساروں کی بہادری کی شاندار داستانیں چھوڑی ہیں، جو علامہ مشرقی کی تربیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر خاکسار شیر زمان نے اپنی کتاب, خاکسار تحریک کی جدو جہد, میں لکھا , خاکسار منصور ضیغم کو 19 مارچ کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس نے خاکسار تحریک کے جھنڈے کو زمین پر نہیں گرنے دیا۔ جب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے کہ ایک اور خاکسار جھنڈا سنبھالنے کے لیے آگے آیا اور اسے سیدھا رکھا ۔

صحافی محمد سعید نے اپنی کتاب میں بھی لکھا:

نوگزا کی قبر کے نزدیک گلی کے کونے پر پھلوں کی دکان تھی۔ ایک ادھیڑ عمر آدمی اسے چلاتا تھا ۔ وہ قتل عام کے وقت بھاگ گیا اور جس چیز نے اس سانحہ کو ناقابل برداشت حد تک دردناک بنا دیا وہ یہ تھا کہ واپسی پر اس نے اپنی کرسی پر ایک آنہ کا سکہ دیکھا۔ ایک زخمی خاکسار اپنی پیاس بجھانے کے لیے خود کو گھسیٹتا ہوا دکان پر لے گیا اور ایک سنگترہ اٹھایا ۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس سے چھلکا اتار پاتا وہ شہید ہو گیا ۔ اس کے باوجود، اس نے اپنی خون آلود جیب سے سکہ نکالنے اور اسے بیچنے والے کے لیے چھوڑ دیا۔

بہادری کی ان داستانوں کے باوجود 19 مارچ کے سانحہ خاکسار کی لاہور میں اب تک کوئی یادگار نہیں ہے۔ مینار پاکستان پر صرف قرارداد پاکستان کا حوالہ دیا گیا ہے ، لیکن خاکسار قرارداد کا ذکر نہیں ہے ۔ خاکسار جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں وہ عزت اور یاد کے مستحق ہیں۔ صرف یادگاریں کافی نہیں، اس موضوع کو بھی تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے، موجودہ تاریخ کی کتابیں مسخ ہیں۔ عجائب گھروں میں شہید خاکساروں پر مسلم لیگ کی قرارداد اور علامہ مشرقی اور خاکسار تحریک کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے, اس کے علاوہ علامہ مشرقی کے شہید بیٹے احسان اللہ خان اسلم کی معلومات بھی شامل ہونی چاہیے۔ تحریک آزادی کے دوران ہندوستان کے مختلف شہروں میں سینکڑوں خاکساروں کو ہلاک یا زخمی کیا گیا اور ہزاروں کو گرفتار یا وحشیانہ تشدد اور ہراساں کیا گیا۔ برصغیر پاک و ہند کی آزادی علامہ مشرقی ، ان کے خاندان اور خاکساروں کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہ تھی۔

یہاں اس کا ذکر ضرری ہے کہ مجھے گزشتہ سال سینئر سپرنٹنڈنٹ گینس فورڈ کے پوتے کی طرف سے ایک بہت اچھا پیغام موصول ہوا۔ اتنا اچھا نوٹ بھیجنے کے لیے میں پوتے کا شکر گزار ہوں اور اسے یہاں ان کی رضامندی کے ساتھ پیش کر رہا ہوں
یہ ترجمہ ہے اور تھوڑی بھوت غلطی ممکن ہے

پیارے سر
میں آپ کو ای میل کر رہا ہوں کیونکہ میں نے ایک مضمون پڑھا جو آپ نے لکھا تھا جس میں میں نے ایسی چیز دریافت کی جس کے بارے میں میں نہیں جانتا تھا، اور اس نے مجھے ابہت زیادہ شرمندہ کر دیا

میرے دادا سپرنٹنڈنٹ ڈی گینس فورڈ تھے جو 19 مارچ کو ہونے والے قتل عام کے ذمہ دار تھے۔

میں نہیں جانتا کہ میں اس پیغام سے حاصل کرنے کی کیا توقع رکھوں ، سوائے اس کے کہ میں اپنے گہرے دکھ اور شرمندگی کا اظہار کروں کہ میرے دادا نے تاریخ میں ایسا کردار ادا کیا۔

میں انہیں ایک مہربان آدمی کے طور پر جانتا ہوں، ان کے چہرے پر وسیع زخموں کے نشان تھےمجھے یقین ہے کہ مظاہرین میں سے ایک کی طرف سے اٹھائے گئے بیلچہ سے مارا گیا تھا۔

ایک پوتے سے دوسرے کو، تاریخ کے ایک رخ سے دوسری طرف، میں اپنی برادرانہ محبت بھیجتا ہوں۔

اس طرح کے جذبہ خیر سگالی کے پیغام سے امید ہے کہ 19 مارچ کے خاکسار شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ ان کے حامیوں اور ہمدردوں کو کچھ راحت ملے گی۔ اس سے پہلے برطانوی شاہی خاندان، وزرائے اعظم اور دیگر نے ایک اور تاریخی قتل عام کا اعتراف کیا تھا جسے جلیانوالہ باغ امرتسرکے واقعے کے نام سے جانا جاتا ہے، جو 1919 میں ہوا تھا۔ میں حکومت برطانیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ خاکسار کے قتل عام کے لیے بھی ایسا ہی کیا جائے۔

علامہ مشرقی کے نواسے نسیم یوسف امریکہ میں مقیم ایک محقق ہیں۔ ان کی کتابیں کیمبرج، کولمبیا، کارنیل، ہارورڈ، لائبریری کے علاوہ کئی ممالک کی مشہور لائبریریوں میں دستیاب ہیں۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: