Today's Columns Umer Farooq

آزاد کشمیر کے تابعدار وزیراعظم از عمر فاروق ( آگہی )

Umer Farooq
Written by Umer Farooq

پی ٹی آئی کی حکومت اگراچھی کارکردگی کامظاہرہ نہیں کررہی ہے توکچھ حلقوں کی طرف سے یہ تاثردیاجارہاہے کہ کپتان کوٹیم اچھی نہیں ملی حالانکہ یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ ٹیم کاانتخاب خان نے خود کیاتھا اوریہی وجہ ہے کہ وہ اپنے انتخاب میں کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوئے اگرٹیم اچھی نہ ہوتی وہ دس وزاراء کوحسن کارکردگی کاایوارڈنہ دیتے ؟جس طرح وزاراء کاانتخاب کپتان نے خود کیاتھا اسی طرح صوبوں کے وزارائے اعلی کاانتخاب بھی ان کی مرضی سے ہواہے عثمان بزردارپرآپ لاکھ تنقیدکریں مگریہ ،،حسن انتخاب،،خان صاحب کاہی ہے اسی طرح ایک چہیتے وزیرکی سفارش پرخیبرپختونخواہ کے وزیراعلی کاانتخاب کیاگیاتھا اوراسی قسم کی صورتحال کاسامناگلگت بلتستان اورآزادکشمیرکے عوام کوبھی ہے آزادکشمیرکے وزیراعظم سے لے کردیگرصوبوں کے وزارائے اعلی کے انتخاب میں ناتجربہ کاری کے ساتھ ساتھ،،تابعداری،،کی صفت کوخاص طورپرملحوظ خاطررکھاگیاہے تابعداری بھی ایسی کہ جوغلامی کی بدترین شکل میں ہو۔آزادکشمیرکے وزیراعظم کوہی لے لیں جوزندگی میں شایددوسری مرتبہ ممبراسمبلی منتخب ہوئے ہیں ایک آدھ وزارت کے علاوہ حکومت چلانے کاانہیں کوئی خاص تجربہ نہیں مگرخان صاحب کی نظرانتخاب ان پرکیسے ٹھری ،اس حوالے سے توبہت کچھ کہااورلکھاجاچکاہے۔البتہ سردارقیوم نیازی کپتان کوراضی کرنے کے لیے ہرحدتک جانے کوتیارہیں یہی وجہ ہے کہ سردارعبدالقیوم خان نیازی تابعداری میںپنچاب کے وزیراعلی کوبھی مات دے گئے ہیں اگروزیراعظم پاکستان کی طرف سے حسن کارکردگی ایوارڈکے دوسرے مرحلے کااعلان ہواتوقیوم نیازی سرکارپہلے نمبرپرہوگی ۔

نیازی حکومت کاتازہ کارنامہ ہی ملاحظہ کریں کہ حال ہی میں آزادکشمیرحکومت اوروفاقی حکومت کے درمیان واٹریوزچارجزکے معاہدے اورمفاہمتی یادداشت پردستخط ہوئے ہیں اس معاہدے کے بعدآزادکشمیرکے عوام کومنگلاڈیم سے پیداہونے والی بجلی 2.59روپے فی یونٹ کی بجائے 18روپے یونٹ خریدناپڑے گی وفاقی حکومت دیگر10ڈسکوزکی طرح اپناڈسکوزقائم کرے گی اس وقت نیپراکے پاس آزادکشمیرمیں پاورپراجیکٹس پربراہ راست ٹیرف کااختیارنہیں لیکن ان معاہدوں پرعمل درآمدکے بعدنیپراآزادکشمیرمیں بجلی کی قیمتیں مقررکرنے کابراہ راست اختیارہوگاان معاہدوں سے آزادحکومت کوواٹریوزچارجزکی مدمیں سالانہ 12ارب روپے کااضافہ ہوگااب تک آزادکشمیرکوواٹریوزچارجزکی مدمیں ایک ارب روپے سے بھی کم رقم مل رہی تھی یہ معاہدہ منگلاڈیم کی طرح نیلم ،جہلم ہائیڈروپروجیکٹ اورنئے بننے والے منصوبوں پں جیسے کروٹ ،آزادپتن اورکوہالہ پاورپروجیکٹس بھی لاگوہوگا۔ یوں گیارہ ارب روپے آزادحکومت کودے کرعوام سے کھربوں روپے سالانہ نکال لیے جائیں گے ۔
ان معاہدوں سے سراسرآزادکشمیرکے عوام کانقصان ہے مگرنیازی سرکارنے ان معاہدوں سے قبل آزادکشمیرکی دیگرجماعتوں کواعتمادمیں نہیں لیاگیاسردارعبدالقیوم نیازی نے تابعداری کے شوق میں اپنے ہاتھ پائوں کاٹ کروفاقی حکومت کی جھولی میں پھینک دیئے ہیں آزادکشمیرکے عوام کوپہلے ہی بدترین لوڈ شیڈنگ کاسامناہے اب لوڈ شیڈنگ کے ساتھ بھاری بھرکم بجلی کے بل بھی اداکرناہوں گے اورمنگلاڈیم سمیت دیگرہائیڈروپاورپرجیکٹس پہلاحق جوآذادکشمیرکاتھا اس سے بھی محروم کردیاگیاہے وفاقی حکومت ہرہفتے بجلی مہنگی کرکے نیاریکارڈقائم کررہی ہے ایسے میں آزادکشمیرکے چھوٹے نیازی کیسے پیچھے رہے سکتے تھے ؟انہوں نے مہنگی بجلی کابوجھ آزادکشمیرکے عوام کے کندھوں پرڈال کراپنے کپتان کابوجھ ہلکاکیاہے ۔آزادکشمیرکے نیازی کے یہی نیازمندی میاں والی کے اصلی نیازی کوبہاگئی ہے ۔واضح رہے کہ راجہ فاروق حید راس معاہدے سے اس لیے دستبردارہوگئی تھی کہ اس معاہدے میں سراسرعوام کانقصان تھا اب اگرآزادحکومت کوبارہ ارب روپے ملیں گے تواس میں وزاراء اوراللوں تللوں کوتوکچھ فائدہ ہوگا عوام بے چارے مہنگائی کی چکی میں مزیدپس جائیں گے ۔
اس وقت آزادکشمیرمیں بجلی کے درجنوں منصوبے اپنے آخری مراحل میں جن میں آزادکشمیر میں 969میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈل منصوبہ، 1124میگاواٹ کا کوہالہ منصوبہ ،جاگراں ٹو 48میگا واٹ، نگدر دیواریاں 48 میگاواٹ، پٹرینڈ 148 اور7 سو میگاواٹ کا آزادپتن منصوبہ پر بھی کام ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کروٹ ہائیڈروپاورپراجیکٹ کے 720میگاواٹ کے منصوبے کے علاوہ دودھنیال اور مال ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر بھی ابتدائی کام جاری ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ان تمام منصوبوں کی تکمیل کے بعد نیشنل گریڈ میں پانچ سے چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی مگرسوال یہ ہے کہ ان منصوبوں سے آزادکشمیرکے عوام کیافائدہ ملے گا ؟جب ہم نے تابعداری میں تھوڑے سے منافع کے لیے عوام کوآگ میں جھونک دیاہو۔
آزادکشمیرکی نیازی حکومت کوعوام سے کیاسروکارہے ،ان کی پہلی ترجیح اپناخاندان ہے وہ پہلے دن سے چن چن کراپنے خاندان کے تمام بے روزگار افرادکرروزگارفراہم کرنے میں مصروف ہیں بھائی ،بھتیجے سمیت درجنوں قریبی عزیزوں کووہ ایڈجسٹ کرچکے ہیں اپنے عزیزوں سے فارغ ہونے کے بعد انہیں جب بھی موقع ملتاہے تووہ پورے آزادکشمیرکی بجائے اپنے حلقے کے عوام کی بھلائی پرتوجہ دیتے ہیں کشمیرلبریشن سیل میں بھرتیوں سے لے کرعدلیہ تک اپنے لوگوں کوایڈجسٹ کرکے میرٹ کی نئی مثال قائم کی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم خوشحال ہے توپوری ریاست خوشحال ہوگی ۔ان معاہدوں سے حاصل ہونے والے ان بارہ ارب روپے سے یہ لوگ ضرورخوشحال ہوجائیں گے ۔
کپتان نے اسی لیے آنکھیں بندکی ہوئی ہیں کہ قیوم نیازی اقرباپروری ،میرٹ کی پامالی کریں گے تووہ ،،کانے ،،ہوں گے جب کانے ہوں گے توپھرآزادکشمیرکوصوبہ بنادیاجائے یاکوئی اورفیصلہ کرلیاجائے چھوٹانیازی فورادستخط کردے گا اس کے ساتھ ساتھ آزادکشمیرحکومت کواندرونی اختلافات کابھی سامناہے اندرونی اختلافات کی وجہ سے حکومت اوروزیراعظم کمزورہوتاہے ایسے وزیراعظم کاسارادارومداروفاقی حکومت یاسرپرستوں پرہوتاہے یہی وجہ ہے کہ چھوٹے نیازی کوکبھی تنویرالیاس اورکبھی بیرسٹرگروپ سے ڈرایاجاتاہے کہ اچھے بچے بن کرکام کروورنہ دوسرا آپشن موجود ہے ۔گزشتہ چھ سات میں سردارقیوم نیازی اپنے کپتان کے نقش قدم پرچلتے ہوئے آزادکشمیرکے عوام پرکوئی گہرے نقوش نہیں چھوڑسکی ہے جس طرح وفاقی حکومت زوال پذیرہے اسی طرح آزادکشمیرحکومت کاجہازاڑان بھرنے کے ساتھ ہی نیچے کی طرف آرہاہے ۔
وفاق میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سیاسی ماحول گرم ہے ایسے میں پی ٹی آئی آزادکشمیرمیں وزارت عظمی کی دوڑمیں شامل گھوڑے بھی اپنی رفتارتیزکررہے ہیں اگروفاق میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی کامیاب ہوجاتی ہے توایسی صورت میں قیوم نیازی کی حکومت لڑکھڑاجائے گی یاوفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوتی ہے توپھربھی قیوم نیازی کوگھرجاناہوگایہی وجہ ہے کہ آزادکشمیرکی اپوزیشن جماعتیں پی ٹی آئی کے ناراض رہنمائوں کے ساتھ رابطے میں ہیں وفاق میںکھڑاک ہونے کی صورت میں آزادکشمیرمیں بھی کھڑاک ہوجائے گا ۔
وفاق میں تبدیلی کے بعداگرپیپلزپارٹی بیرسٹرسلطان گروپ سے معاملات طے کرکے وزارت عظمی حاصل کرلیتی ہے توایسی صورت میں ن لیگ بھی پیپلزپارٹی کاساتھ دے گی جبکہ سردارتنویرالیاس بھی متحرک ہیں کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کی بجائے پی ٹی آئی کی صفوں سے اپنے ہمنواتلاش کررہے ہیں اگرچہ انہیں کوئی زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے مگرتیل دیکھ اورتیل کی دھاردیکھ کے مصداق وہ بھی موقع کے انتظارمیں ہیں جوں ہی انہیں موقع ملے گا وہ قیوم نیازی سرکارکوچلتاکردیں گے ۔
سردارقیوم نیازی نے صوابدیدی عہدوں پرجوتعیناتیاں کی ہیں اس حوالے سے بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں پی ٹی آئی علماء ومشائخ ونگ میرٹ سے ہٹ کرنامزدگیوں پرسراپااحتجاج ہے منہ زوربیوروکریسی وزیراعظم کے قابونہیں آرہی چندطاقت ورسیکرٹریوں نے وزیراعظم کویرغمال بنایاہواہے وزیراعظم خوشامدیوں میں گھرے ہوئے ہیں چھ ساتھ ماہ میں کوئی عوامی فلاحی منصوبہ شروع نہیں ہوسکاہے اورنہ ہی وفاقی حکومت کی طرف سے کسی بڑے منصوبے کااعلان کیاگیاہے اہداف پورے نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ ضائع ہورہاہے ایسے میں سردارقیوم نیازی کی حدسے زیادہ تابعداری غلامی کوبھی مات دے گئی ہے ۔

٭…٭…٭

About the author

Umer Farooq

Umer Farooq

Leave a Comment

%d bloggers like this: