Today's Columns

یہ سال اچھا ہے از سفیان اکرم مغل ( سفیر کا سفر )

TodaysColumns
Written by Todays Column

سیاست میں ہلچل، مہنگائی کی گونج ہے، اپوزیشن کا شور شرابا اور عوام کی چونچ ہے۔
جی ہاں!!! آج کل ٹی وی ، اخبارات ، بازار ، فیکٹری ، سبزی کی دکان ہو یا چائے کا کھوکھا۔۔۔ ہر جگہ کپتان کی بیساکھیوں پر کھڑی اور معیشت کی طرح لڑکھڑاتی ہوئی حکومت کی بات ہو رہی ہے۔ کیا کپتان اپنی ڈھوبتی کشتی کو سہارا دے پائے گا؟
دیکھا جائے تو آج کل بے رحم سیاست بہت زیادہ غیر متوقع مناظر دیکھا رہی ہے، جس میں حال ہی میں میاں شہباز شریف کا چوہدری برادران کے گھر جانا یقیناً پاکستان کی سیاست میں نئی اور سنجیدہ ہلچل ہے۔
یہ ہی میاں شہباز شریف اگر گزشتہ انتخابات کے فوری بعد تھوڑی سی لچک دیکھاتے تو اس وقت اسی طرح کی ایک ملاقات میاں حمزہ شہباز شریف کو تحت لاہور پر وزیراعلیٰ کی صورت میں بیٹھا سکتی تھی۔ خیر دیر آئے درست آئے۔
دن رات سیاست کی ہلچل دیکھ کر کچھ لکھنے کو دل مچلتا ہے تو میرے پاس سچ لکھنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ لہذا اب بھی سیاسی چورن کے بارے میں خیالات مچل رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی گویہ اس وقت پی ڈی ایم کا حصہ نہیں۔ مگر مولانا فضل الرحمن اور پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ ساتھ الگ تھلگ زرداری صاحب کا چوہدری برادران سے ملاقات کرنا تخت عمرانی کے لیے نیک شگون نہیں ، اور ایک وفاقی وزیر صاحب جس طرح مسخرانہ انداز میں اپوزیشن کی ملاقاتوں کا تمسخر اڑاتے نظر آ رہے وہ بھی وزیراعظم ہاوس کے لیے مثبت اشارہ نہیں کیونکہ یہ صاحب کئی وزارء اعظم کو اسی طرح ڈبو چکے۔ ڈوبتی کشتی میں اس وقت اپوزیشن کا متحد نہ ہونا عمران خان صاحب کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ ورنہ مہنگائی کے مارے عوام کے پاس جانے کے لیے کپتان کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ فصلی بٹیرے درخت بدلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ کیونکہ اب انکا ماننا ہے کہ تبدیلی سرکار کے نام پر ووٹ مانگنے پر خاص طور پر پنجاب کے عوام سے توقع کے مطابق اچھا ریسپانس ملنا نہ ممکن ہے۔ لہٰذا ہر الیکشن میں پارٹی بدلنے والے ممکنہ لانگ مارچ سے پہلے حسب معمول فصلیں تبدیل کرینگے۔ پھر کھوکھلے نعرے شروع ہو جائیں گے۔ پھر غریب پیٹ رج کے روٹی کھائیں گے۔ تبدیلی کے بعد اب انقلاب کا سال شروع ہو گا، اچھے دنوں کی امید کے ساتھ عوام احتجاج میں شریک ہوں گے
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
ظلم کی رات بہت جلد ڈھلے گی اب تو
آگ چولہوں میں ہر اک روز جلے گی اب تو
بھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گا
چین کی نیند ہر اک شخص یہاں سوئے گا
آندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برس
پیار کی فصل اگائے گی زمیں اب کے برس
ہے یقین اب نہ کوئی خون خرابہ ہوگا
ظلم ہوگا، نہ کہیں شور شرابہ ہوگا
اوس اور دھوپ کے صدمے نہ سہے گا کوئی
اب میرے دیس میں بے گھر نہ رہے گا کوئی
نئے وعدوں کا جو ڈالا ہے، وہ جال اچھا ہے
رہنماوں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
کچھ بھی کہا جائے۔ مگر خان صاحب کو مہنگائی لے ڈوبے جارہی ہے۔ کپتان کا سپورٹر اب خود بیزار نظر آتا ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ن کے نمبرز پورے ہونے کے دعوے کسی حد تک درست ثابت ہونا شروع ہو چکے۔ اب نظریں پی ڈی ایم کے فیصلے پر ہیں کہ نئے انتخابات کی طرف ماحول سرگرم ہوتا یا ان ہاوس تبدیلی سے نئے وزیراعظم کا انتخاب وجود میں آئے گا۔ یہ فیصلہ بھی کچھ ہفتوں میں ہو جائے گا۔ مگر اس کے ساتھ اگر وقت کا گزرنا دیکھا جائے تو کوئی بھی پارٹی اس وقت ان ہائوس تبدیلی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے کے حق میں نہیں لگتی۔ بے رحم سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو آئندہ کچھ دنوں میں اندازہ ہو جائے گا۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: