Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

سیرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

اولئک الذین انعم اللّٰہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین۔’’یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ۔انبیاء ، صدیقین، شہدأ اور صالحین ۔‘‘(القرآن)
ان انعام یافتہ گروہوں میں سے پہلا درجہ انبیاء کرام کا جو گناہوں سے مبراء اور معصوم ہوتے ہیں اور لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ دوسرا درجہ صدیقین یعنی صحابہ کرام کا جن کے نقش قدم پر چل کرانسان ہدایت یافتہ بن جاتا ہے ۔تیسرا درجہ شہداء کا جنہوں نے دین اسلام کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے کر دین متین کے پرچم کو بلند کر دیا ۔ چوتھا درجہ صالحین کا جنہوں نے راتوں کو اٹھ اٹھ کر بذریعہ نوافل اپنے رب کی قربت حاصل کی ۔
ویسے تو چاروں گروہ انعام یافتہ ہیں کسی ایک کے نقش قدم پر بھی چل پڑیں تو خدا تعالیٰ اس کو ہدایت عطا فرمادیتا ہے اور نیک اعمال کی بدولت اس کی بخشش فرمادیتا ہے ۔انعام یافتہ گروہوں میں سے چوتھے درجہ کا گروہ یعنی اولیاء کاملین کا جن کے بارے میں ارشاد خدا وندی بھی ہے کہ :الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون0ترجمہ:’’خبردار بے شک جو اللہ کے دوست ہیں اُن کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ کسی قسم کے غم کا اندیشہ ۔‘‘
معزز قارئین! سارے اولیاء کاملین اللہ کے دوست اور مقرب ہیں لیکن خواجۂ خواجگان، تاجدار ہند حضرت خواجہ معین الدین حسن سنجری چشتی المعروف خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی ہستی وہ ہستی ہے جنہوں نے اپنی نظر کیمیا سے کے فیض کی برکت سے نوے لاکھ ہندئووں اور کافروں کو مدینے والے آقاﷺکا غلام بنا دیا۔
سرکار مدینہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید اور حضرت محمد مصطفیٰﷺکے پیارے پیارے فرامین کو لوگوں تک عام کرنے کے حوالے سے کبھی مندروں۔ کبھی گردواروں ۔کبھی کلیسائوں اور کبھی ہندئووں او ر مشرکوں کے بڑے بڑے اجتماعات میںجاکر دین اسلام کی شمع کو فروزاں کرنے کے لئے شب و روز مصروف عمل رہے ۔اُس عظیم مبلغ اور ولی کامل حضرت خواجہ غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں چند گذارشات پیش کرنے کے سعادت حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ معمولات جو حضرت خواجہ خواجگان تاجدار ہند اپنی زندگی مبارک میں کیا کرتے تھے جن کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اُن کو مقرب بندہ بنا لیا ۔اُس عظیم ولی کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی زندگیوں کو اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ڈھال لیں ۔چنانچہ حضرت خواجہ معین الدین سنجری چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ 14رجب المرجب 537ھ کو بمقام قصبہ سنجر میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والدِ ماجد کا نام حضرت خواجہ غیاث الدین حسن رحمۃ اللہ علیہ تھا اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام اُمُ ا لوداع ماہ نور رحمۃ اللہ علیہا تھا ۔والد محترم بہت بڑے عالم تھے ! اور والدہ ماجدہ بھی تہجد گزار خاتون تھیں۔آپ کا سلسلہ طریقت اور سلسلہ نسب چند ایک واسطوں سے ہوتا ہوا تاجدار ولایت حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔
علم دین کا حصول:حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا وطن اصفہان تھا اورآپ نے خراسان میں پرورش پائی ۔ ابتدائی تعلیم آپ نے گھر پر حاصل کی کیونکہ آپ کے والد محترم بہت بڑے عالم تھے ۔نو سال کی عمر شریف میں آپ نے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ۔بعد ازاں قصبہ سنجر کے ایک مکتب میں آپ نے حدیث، فقہ اور تفسیر کی تعلیم پائی اور مختصر عرصہ میں ہی کافی علم حاصل کر لیا۔
اللّٰہ و رسول کی بارگاہ میں مقبولیت:حضرت خواجہ معین الدین چشتی فرماتے ہیں کہ آپ کے پیر و مرشد حضرت عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے خانہ کعبہ کے پرنالے کے نیچے اِس درویش کے بارے میں مناجات کیں تو آواز آئی کہ ہم نے معین الدین کو قبول کیا ۔ جب وہاں سے لوٹ کر ہم رسول اللہ ﷺ کی زیارت کے لئے آئے ۔فرمایا کہ سلام عرض کر! میں نے سلام عرض کیا آواز آئی وعلیکم السلام اے سمندر اور جنگل کے مشائخوں کے قطب! یہ آواز آئی تو خواجہ خوجگان حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا آ! تیرا کام مکمل ہو گیا۔
بارہ سالہ لڑکے کو دہلی کا بادشاہ بنانا: ایک مرتبہ شیخ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ اوحد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ سہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ اور دعا گو ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے تھے کہ انبیاء کا تذکرہ شروع ہوا ۔اُس وقت آپ نے فرمایا کہ سلطان شمس الدین اللہ تعالیٰ اِس کی دلیل کو روشن کرلے ۔ابھی بارہ سال کا تھا اور ہاتھ میں پیالہ لئے جا رہا تھا ۔بزرگوں کی نگاہ جب اِس پر پڑی تو فوراً خواجہ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ کی زبان مبارک سے نکلا کہ یہ لڑکا جب تک دہلی کا بادشاہ نہ ہو گا اللہ تعالیٰ اِسے دنیا سے نہ اٹھائے گا۔(فوائد السالکین صفحہ14)
جوبات منہ سے نکلی پوری ہوئی :آپ کا ایک خادم بازار سے سودا خرید نے جا رہا تھا کہ اُسوقت کے کافر حکمران رائے پتھورا کی سواری سے بڑے کرو فرسے آرہی تھی ۔رائے پتھورا کے سپاہیوں نے آوازدی اے فقیر راستہ صاف کر دے ۔خواجہ صاحب کے درویش نے کچھ پرواہ نہ کی جس کی بناء بر رائے پتھورا نے غصے میں آکر اِس درویش کو تکلیف دی ۔خادمِ خواجہ صاحب نے آکر رائے پتھورا کی شکایت کی تو خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے رائے پتھورا کو خط لکھا کہ آئندہ ایسی حرکات سے باز رہو ورنہ ٹھیک نہ ہوگا ئے پتھورانے خط پڑھ کر پرواہ نہ کی بلکہ تاجدار اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کی ۔حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے جب اُس کا متکبرانہ جواب سُنا تو اپنی زبان مبارک سے فرمایا۔ہم نے رائے پتھورا کو زندہ پکڑ کر لشکر اسلام کے حوالے کر دیا ۔خواجہ خواجگان کی زبان حق ترجمان سے نکلی ہوئی بات پوری ہو کے رہی کہ سلطان شہاب الدین غوری رحمۃ اللہ علیہ نے لشکر اسلام سے چڑھائی کر دی ۔لشکر کفار کو شکست ہوئی اور رائے پتھورا زندہ پکڑا گیا اور قتل کیا گیا۔(مقامات اولیاء صفحہ158)
اِس واقعہ سے یہ بات اظہر من الشمس معلوم ہوئی کہ۔ہمیشہ جہاں تک ممکن ہو سکے اللہ والوں کی بے ادبی سے محفوظ رہنا چاہئیے ورنہ نتائج پتھورا جیسے ہو سکتے ہیں ۔
تاجدار اجمیری نے قاتل کو ولی بنادیا:ایک مرتبہ شیخ معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ احباب کے ہمراہ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آکر ارادت کے لئے ملتمس ہوا لیکن وہ آیا آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے تھا ۔جب وہ آداب بجالا کر بیٹھ گیا تو آپ نے اُس کی طرف دیکھ کر مسکراکر فرمایا کہ درویش جب درویشوں کے پاس آتے ہیں تو صفائی کے لئے آتے ہیں نہ کہ ظلم کرنے کے لئے ۔جس نیت سے آئے ہو یا تو اُسے اختیار کرویا اپنا عقیدہ درست کرو۔یہ سُن کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور اقرار کیا ہتھیار جو ہلاکت کے لئے لایا تھا باہر پھینک کر مرید بنا ۔بعد میں وہ شخص ایسا راسخ العقیدہ ہوا کہ ہر مشکل کام آپ اُسی کو فرماتے اور وہ بھی د ل و جان سے اُس کے سر انجام کرنے کی کوشش کرتا ۔جب وہ کمالیت کے درجے کو پہنچ گیا تو 45حج کئے ۔آخر خانہ کعبہ کے مجاوروں میں اُسکا مدفن بنا ۔(اسرار الاولیاء صفحہ110)
ذی وقار حضرات:جس کے نصیب میں ازلی سعادت ہوتی ہے اُسکی یہی حالت ہوتی ہے ۔جیسی کہ اُس شخص کی ہوئی کہ وہ نیک عقیدے سے حاضر خدمت نہ ہوا تھا لیکن خواجۂ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اِس کے سینے سے تمام کدورتوں کو صا ف کردیا ۔تب ہی اُس نے اٹھ کر اقرارکیا اور آداب بجالاکر عرض کی کہ اب میری طرف سے صفائی ہے اُسی وقت مرید بنا اور شرف بیعت سے مشرف ہوا۔
پانی کا سارا تالاب خشک ہو گیا:اجمیر شریف میں جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ اناساگر کے کنارے ڈیرہ لگایا ۔انا ساگر کے اِس تالاب کے چاروں طرف ہندئووں کے بہت سے مندر تھے ۔خواجہ صاحب کے غلاموں اور عقیدت مندوں نے اِس تالاب میں سے پانی لینا چاہا اور ہندئووں نے وہاں سے پانی نہ لینے دیا اور دھکے دے کر گھاٹ سے اتار دیا ۔غلاموں نے یہ سارا قصہ حضرت خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ۔آپ نے ایک مرید کو لوٹا عطا کیا اور فرمایا کہ اِس میں انا ساگر سے پانی بھر لائو چنانچہ جب اُس مرید نے اِس تالاب سے لوٹے میں پانی بھرا تو سارا پانی اِس مٹی کے لوٹے میں جذب ہو گیا اور سارا تالاب خشک ہو گیا ۔ (تذکر ہ اولیائے بر صغیر صفحہ27)
خواجہ چشت کا وصال باکمال:صاحب سیر الاقطاب مروی ہیں کہ جس شب خواجۂ اجمیر رحمۃ اللہ علیہ نے اِس جہان پر ملال سے انتقال فرمایا بعد از نماز عشاء حجرہ شریف بند کر کے ہمدموں کو ممانعت فرمائی کہ کوئی اِس جگہ نہ آئے ۔خاصان حضور عالی گرد حجرہ کے موجود تھے ۔انہوں نے تمام شب حجرہ میں سے آدمیوں کے پیروں کی آہٹ سُنی کہ جیسے عاشقانِ خدا وجد کرتے ہیں آخر شب وہ آواز بند ہو گئی ۔جس وقت نماز صبح مریدوں نے ہر چند دستکیں دیں ،آوازیں دیں ،جواب کچھ نہ ملا ،ناچار دروازہ کھولا دیکھا کہ خواجہ ٔ خواجگان کا وصال با کمال اور سیمائے نورانی پر یہ عبارت بخط جلی دیکھی ھٰذا حبیب اللّٰہ مافی حب اللّٰہ۔تاجدار اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال شریف بتاریخ دوشنبہ 6تاریخ ماہ رجب 633ھ میں بعہد سلطان شمس الدین التمش کو ہوا۔ روضہ مطہرہ دارالخیر اجمیر شریف میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔اول خواجہ حسین ناگوری نے عمارتِ روضہ ٔ عالی کی تعمیر کروائی ۔بعد میں اور بادشاہوں نے عمارت عالی بنائی ۔پھر حضرت شاہ جہاں بادشاہ نے روضہ اقدس کے پہلو میں مسجد تعمیر کروائی جو موجود ہے ہزاروں اشخاص جو زیارت روضۂ اقدس کو جاتے ہیں مقصد اُن کے دل کا حاصل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ پورا کرتا ہے ۔ (تذکرہ اولیاء برصغیر)
بارگاہ خداوندی میں عرض ہے کہ ہم سب کو نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جیسی توفیق تو نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کو بخشی اور اِ ن نفوس قدسیہ کے نقش قدم پر چل کر دنیا و آخرت کی برکات حاصل کرنے کی توفیق سرمدی عطا فرمائے۔آمین!

٭…٭…٭

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: