Prof Abdullah Bhatti Today's Columns

پچیس سال بعد از پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ( بزمِ درویش )

Prof Abdullah Bhatti

پچیس سال پہلے کا امیر زادہ تیز طرار خوبصورت منچلہ عاشق جسم میںمختلف بیماریوں کی سرنگوں کے ساتھ بڑھاپے کی چادر اوڑھے میرے سامنے بیٹھا تھا میری اُس سے آخری ملاقات پچیس سال پہلے مری میں ہوئی تھی جب یہ طاقت جوانی دولت چالاکی کے ساتھ اپنی محبوبہ کے ساتھ عیاشی کرنے مری آیا تھا میں پچیس سال کے خوفناک فرق کو حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا وقت کا غبار اِس کو خوفناک طریقے سے چاٹ گیا قافلہ شب و روز نے اِس کو ٹوٹے پھوٹے کھنڈر میں بد ل کر رکھ دیا تھا میں خود اب زندگی کے اُس دور میں ہوں کہ بیس پچیس سال پہلے کے کردار اب زوال کے بعد جب میرے سامنے آتے ہیں تو گردش ِ ایام کی ہلاکت آفرینی کو دیکھ کر عبرت کے احساسات رگوں میں دوڑنے لگتے ہیں جوانی طاقت دولت اقتدار اور شیطانی ذہانت کے بل بوتے پر جنسی حیوانوں درندوں کو جب میں زوال اور بڑھاپے کی گرد میں لپٹا دیکھتا ہوں تو ایک ہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ زوال صرف خدا کو نہیں ورنہ کرہ ارضی پر نمودار ہونے والی ہر چیز کو زوال اور فنا کا زھر پینا پڑتا ہے میری جوانی کے ایام میں جن لوگوں کو میں فرعون بنا انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح روندتا دیکھتا تھا جو اِس زعم میں گرفتار تھے کہ یہ شہنشا ہٹ جوانی رنگ و روپ ہمیشہ اِن کے پاس رہے گا لیکن سالوں بعد جب ایسے کردار سامنے آتے ہیں اور ان کی جگہ نئے کردار اچھلتے کودتے پھدکتے نظر آتے ہیں تو حیرت سے سوچھتا ہوں کہ آج کے فرعونی درندے شیطان انسان یہ بھولے ہوئے کہ چند عشرے پہلے یہاں آپ جیسے ہی چالاک عیار انسان اپنی عیاشیوں میںغرق تھے لیکن وقت کی دیمک نے انہیں پتہ بھی نہیں چلنے دیا کب وہ جوانی سے بڑھاپے کے ریگستان میں اُتر گئے جب اِن کو شکست خورندہ زوال میں غرق انسان دیکھتا ہے تو خدا کی قدرت اور لاٹھی بے آواز کی حقیقت سامنے آتی ہے کہ وقت کتنی خاموشی سے دولت اقتدار جوانی سر خی چھین کی بد شکل بوڑھا بنا دیتا ہے پھر جب ایسے لوگوں کے جسموں میں مختلف بیماریاں سرنگیں بنا کر بڑھاپے کے عمل کو اور تیز کر تی ہیں تو اِن کو ہوش آتا ہے کہ اب وقت اُن کا نہیں رہا بلکہ اِن کی جگہ اور لوگ آگئے ہیں ایسا ہی کردار میرے سامنے بیٹھا تھا پچیس سال بعد جب میرے سامنے آیا تو میں بلکل بھی پہچان نہ پایا بلکہ یہ بھی دوسرے ملاقاتیوں میں کھڑا انتظار کر رہا تھا سر پر گرم ٹوپی ہاتھوں میںگرم دستانے گلے میں گرم مفلر گرم چادر لپیٹے یہ لڑکھڑا تا ہوا میری طرف بڑھا میں چہرے جسمانی حرکات اور چال سے ہی پہچان گیا تھا کی کسی شدید بیماری میں مبتلا ہے کیونکہ چہرے اور آنکھوں پر زندگی کی بجائے زردی کے تاثرات واضح تھے چال بھی ایسی جیسے خود کو گھسیٹ رہا ہو۔ اُس کی کمزور چال اُس کی بیماری اور خستہ حالی کا نظارہ پیش کر رہی تھی کسی پراسرار بیماری کی وجہ سے زندگی سے مکمل مایوس ہو چکا تھا میرے قریب آکر بولا جناب میں گردوں کا مریض ہوں بلکہ میرے گردے خراب ہو کر کام چھوڑ چکے ہیں میںنے آپ سے ملنے کے بعد ہسپتال ڈائیلسیز کرانے جانا ہے اگر وقت پر گردوں کو واش نہ کیا گیا تو زہر میرے جسم میںپھیل کر مجھے قبر میں دھکیل دے گا اِس لیے پلیز مُجھ سے پہلے مل لیں میں حالت زار دیکھ کر فوری متوجہ ہوا آئیں آپ پریشان نہ ہوں میں آپ کی بات پہلے سنتا ہوں پھر میں اُس کو لے کر بینچ پر بیٹھ گیا اور درد بھرے میٹھے لہجے میں بولا جناب بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں تو وہ بولا جناب میںبلڈ پریشر اور شوگر کا پرانا مریض ہوں اِن دونوں بیماریوں نے میرے گردوں کو کھا لیا ہے اب تو جگر بھی فیل ہو تا جا رہا ہے گردوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے جگر کی چربی بھی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے اِن بیماریوں کی وجہ سے میں اب صرف ابلی سبزیاںہی مشکل سے کھاتا ہوں نمک مصالحے گھی والی چیزیں میرے جسم میںزہر بن جاتی ہیں چکنائی کو زائل کرنے کا میرا اندرونی نظام فیل ہو چکا ہے اِس لیے میں دن بدن کمزوری کی غار میں گرتا جا رہا ہوں آپ کوئی دم دوا کر یں کہ میرے اندرونی نظام کام کرنا شروع کر دیں میرے جسم میں زہر بننا بند ہو جائے خوراک ہضم ہو کر جز بدن بننا شروع ہو جائے تاکہ زندگی کی دوڑ کو تھوڑا طویل کیا جاسکے لیکن دنیا جہاں کے علاج کروانے کے بعد بھی میرا جسم مٹھی میں ریت کی طرح گرتا ہی جارہا ہے اب کام کاج بھی بیماریوں کی وجہ سے چند سالوں سے بند پڑا ہے جو جمع پونجی تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے آخری گھر بچا تھا زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے اُس کو بیچ کر کرائے کے گھر میں شفٹ ہو گیا ہوں اگر میں صحت مند نہ ہوا تو علاج پر یہ سرمایہ بھی ختم ہو جائے گا پھر میں کسی لنگرخانے یتیم خانے یا فٹ پاتھ پر آخری سانسیں دے دوں گا سر میری صحت کے لیے خاص دعا کریں اُس کی باتیں اور حالت دیکھ کر میں بھی دکھی ہو گیا میں نے اُسے حوصلہ دیا پڑھنے کو کچھ بتا یاتو وہ تھوڑی دیر بعد جب جانے لگا تو بولا پروفیسر صاحب آپ نے شاید مجھے پہچانا نہیں تو میں بولا جناب آپ کی آواز سے مجھے شک گزرا کہ ہم پہلے مل چکے ہیں لیکن معذرت چاہتا ہوں آپ کو نہیں پہچان سکا تو میرے گلے لگ گیا بار بار معافی مانگی اور درخواست کی کہ اللہ سے میرے لیے معافی مانگیں پھر روتے ہو ئے بولا سر میں تیمور سلطان پچیس سال پہلے آپ کے پاس مری رہنے آیاتھا تیمور سلطان کے نام کے ساتھ ہی میری یادداشت کی دھند چھٹتی چلی گئی اور پچیس سال پہلے کا جوان عاشق یاد آگیا جو میرے کسی دوست کے کہنے پر اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ مری آیا تھا رات کو جب دونوں میاں بیوی کی لڑائی ہوئی تو میں نے مداخلت کی تو اِس کی بیوی روتے ہوئے بولی سر یہ ہمارا بچہ ضائع کرا نا چاہتے ہیں آپ اِن کو سمجھائیں۔ میں تیمور کو لے کر اپنے کمرے میں آگیا تو یہ بولا جناب مجھے آپ سے کوئی ایسا تعویز چاہیے کہ جس عورت کے گلے میں ڈال دوں وہ حاملہ نہ ہوسر میں عیاش آدمی ہوں کس کس کے بچے اپنے کھاتے میں ڈالوں ابھی میرا عیاشی کا موڈ ہے چند سال بعد بچوں کے بارے میں سوچوں گا مجھے اِس کی یہ بات بہت بری لگی سمجھایا لیکن اِس نے میری کوئی بات نہ مانی پھر دودن بعد یہ چلا گیا چند دن بعد اِس کی بیوی کا مجھے فون آیا سر تیمور نے میرا بچہ ضائع کر ا کے مجھے طلاق دے دی ہے سر یہ بہت عیاش چالاک ہے مختلف لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر عیاشی کر تا ہے جو اِس کی بات نہ مانے اُس کے ساتھ شادی کر کے چند ماہ بعد اُس کو چھوڑ دیتا ہے یہ بچوں کے خلاف ہے سر اِس نے بہت ساری لڑکیوں کی زندگی خراب کی ہے سر اِس نے مجھے بر باد کر دیا آج پچیس سال بعد میری اِس سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا تیمور تم نے اصل شادی کی کوئی بچہ ہوا تو زارو قطار روتے ہوئے بولا میں نے چار شادیاں کیں لیکن جب میں نے چاہاپھر ایک بھی بچہ نہ ہوا قدرت نے مجھے سزا دی میں بچوں کو ضائع کراتا رہا پھر قدرت نے مُجھے یہ نعمت نہ دی پھر تیمور چلا گیا اور میں قدرت کے انتقام کے بارے میں سوچھنے لگا کہ کس طرح انسان کو نشان عبرت بنا دیتی ہے ۔

٭…٭…٭

About the author

Prof Abdullah Bhatti

Prof Abdullah Bhatti

Leave a Comment

%d bloggers like this: