Today's Columns

سانحہ مری ! آنکھوں دیکھا حال از ڈاکٹر اسد امتیاز ( ڈاکٹر کی ڈائری )

TodaysColumns
Written by Todays Column

آپ بیتی !کج شہر دے لوگ وی ظالم سن ،کج سانوں مرن دا شوق وی سی ۔اپنی بقا کے خوف کی جبلت انسان اور حیوان دونوں میں یکساں ہے،جونہی اپنی زندگی کو لاحق خطرہ محسوس کریں گے قدرت کا inbuilt Alarm system ضرور سگنل دے گا،حیوان ہو گا تو فورا بھاگ کھڑا ہو گا لیکن انسان اس خطرے کا کبھی تو عقلی استنباط کرے گا اور کبھی دلی(جذبات سے)مشاہدہ ہمیں بتاتا ہے کہ عقلی استنباط کر کے انسان عموما ًاپنا بچائوکر جاتا ہے تو کبھی سب تدبیریں کر کے بھی تقدیر کے ہاتھوں ہار جاتا ہے۔لیکن جب بھی اپنی جبلت کے نیچرل الارم سسٹم کو جذبات میں اگنور کرے گا مار کھائے گا یا پھر لیجنڈ بن جائے گا،سد پارہ کی مثال ہمارے سامنے ہے،لیجنڈ بنتے بنتے ہی رہ گیا۔میں نے کبھی زندگی میں لائیو سنو فال نہیں دیکھی تھی شاید اِسی انجانے خوف کے الارم کی وجہ سے لیکن حسرت بہت تھی۔جب خوف ہی نہ رہا تو سوچا اب چلتے ہیں،پتا نہیں کیسے بیٹھے بیٹھے موسم کی پیشگوئی چیک کی تو سنو فال کا بھرپور امکان تھا۔فورا ًشنگریلا ہوٹل چھانگلہ گلی کی بکنگ کروائی اور فیملی کیساتھ جانے کا انسٹنٹ پروگرام بنایا ،حالانکہ ویک اینڈ بھی نہیں تھا ۔۔ میری مرحومہ دادی اماں کہا کرتی تھیں کہ کوئی سمسیا درپیش ہوئے تے کوٹھے تے چڑ ھ کے رولا پائو،کوئی تے سن کے چنگا مشورہ دے گا۔میں بھی یہی کرتا ہوں،مشورہ سے انسان کی عقل میں کسی دوسرے کی عقل شامل ہو جاتی ہے۔صبح نکلنے کا پروگرام تھا کہ رات گئے فاطمہ اسد ویلفیئر کلینک پہ مسٹر اینڈ مسز اُسامہ شیخ اور فاطمہ اسد دسترخوان کے انچارج شکیل کمبوہ صاحب آ گئے ویکلی دسترخوان کی پیمنٹ لینے۔۔جب انہیں ہمارے اس پروگرام کا پتا چلا تو انہوں نے سنو فال کے اپنے تلخ تجربات کی روشنی میں مجھے سخت منع کیا کہ سر جی اپنی گاڑی لے جانے کی بلکل بھی کوشش نہ کریں یقینا کھجل ہو جایئں گے(حالانکہ میرے پاس SUV گاڑی بھی تھی)اور نور نشاں(پانچ سالہ بیٹی)کو تو بلکل نہ لے کر جایئں،بلکہ پتا کر لیں نتھیا گلی کا علاقہ تو ویسے ہی بند ہو جاتا ہے۔۔میرے عقلی الارم سسٹم نے فورا ًانتسباط کیا تو جواب آیا پروگرام کینسل ٗبیوی کو اطلاع دی تو وہ تھوڑی ڈپریس بھی ہوئی کہ میں تو سارا دن شاپنگ کرتی رہی۔۔اگلے دن پھر ہسپتال جاتے دلی جذبات نے سر اٹھایا کہ ’’نکل لے استاد کچھ نہیں ہوتا‘‘ خیر عقلی اور دلی جذبات کو ملا کر فیصلہ یہ لیا کہ اب صرف ہم میاں بیوی ہی جایئں گے بچی ساتھ نہیں اور جایئں گے بھی کوچ سے اپنی گاڑی نہیں اور اب نتھیا گلی نہیں بلکہ مری شنگریلا جایئں گے ۔۔الحمداللہ مشورہ لینے اور ہمارے اس فیصلہ نے ہماری مشکلات آغاز سے ہی آدھی کر دیں تھیں ۔۔و اِلیٰ اللّٰہِ عاقِبۃ ُ الامورِ۔ ۔ اور سارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے۔ انسان اپنا الارم سسٹم آن رکھے تو بسااوقات قدرت سگنلز دے رہی ہوتی ہے ہم ہی توجہ نہیں دے رہے ہوتے،تین چیزیں ایسی ہویئں کہ میں نے ایک دن گزار کر ہی فوری واپسی کا پلان کیا۔۔ایک جب ہمیں مال روڈ سے شاید دو کلومیٹر کے فاصلہ پہ پنجاب ہائوس کیساتھ واقع شنگریلا ہوٹل جانے میں تین گھنٹے لگ گئے،میں نے باقاعدہ ویڈیو بنا کر سیاحوں سے اب مری نہ آنے کی اپیل کی۔ خاص طور پہ اپنی گاڑی میں جو کہ آن ریکارڈ ہے(جتنی بھی اموات ہویئں اپنی گاڑی پھنس جانے سے ہویئں اور گاڑی میں بچوں کو دیکھ کر تو کلیجہ منہ کو آ رہا ہے پوری قوم کا) دوسرا جب میں نے فور بائی فور جیپس کو بھی شنگریلا ہائیٹس پہ گہری برف میں پھنسے دیکھا تو الارم سسٹم بج اٹھا کہ اگر فور بائی فور جیپس بھی جیم ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو ہمیں کون نکالے گا یہاں سے اور کسطرح ۔۔ اور تیسرا جب میں نے گھنٹوں نان سٹاپ سنو فال دیکھتے ہوٹل کے لوکل پورٹر سے پوچھا یار کیا ہر دفعہ ایسی ہی برفباری ہوتی ہے مطلب کیا یہ معمول کی برفباری ہے تو اس نے جواب دیا بلکل نہیں سر یہ معمول کی برفباری نہیں ہے اور اگر جیسا کہ موسمی پیشگوئی بھی ہے اگلے تین دن تک جاری رہنے کی تو سر تباہی آ جائے گی۔ تباہی میں فوراً الرٹ ہوا کہ اگر ایک لوکل کیلئے یہ تباہ کن ہو سکتی ہے ’’تے اسی تے رل جاواں گے‘‘میں نے بیوی سے کہا نکلن دی کر پاگوانے،پہلی فرصت میں ۔۔اور پھر Final nail in the coffin یہ بنا جب میں نے اپنے جیپ والے(جس کیساتھ ہوٹل آئے تھے)کو فون کیا کہ پرسوں کی بجائے اب کل ہی نکلنا ہے ہمیں پنڈی کیلئے (اور ہماری چھ ہزار میں ڈیل ہوئی تھی)تو مری واسی نے کورا جواب دے دیا کہ نہیں جا سکتا۔میں نے پوچھا کیوں تو کہنے لگا اب پندرہ ہزار ریٹ ہو گیا ہے پنڈی کا راتوں رات ۔۔میں نے یاد دلایا بھائی ہماری زبان ہوئی تھی چھ ہزار اللہ پوچھے گا تب کیا کہو گے۔۔کھسیانا ہو کر کہنے لگا وہ کل کے حساب سے تھا ۔۔خیر میں نے فون بند کر کے ہوٹل ریسپشن سے جیپ کا پوچھا تو وہاں بھی پندرہ ہزار کی آواز آئی(یعنی ایکا ہو چکا تھا موقع پرست مری واسیوں کا)میں نے ڈن کر دیا حالانکہ اگلے دن برفباری رک چکی تھی اور رات بارش کی وجہ سے سڑکیں بھی صاف تھیں اور ڈیل بھی فور بائی فور جیپ کی ہوئی تھی کہ ڈرائیور بھائی نے پندرہ ہزار جیب میں ڈال کر کرولا میں بٹھا کر روانہ کر دیا ۔۔۔اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ہوٹل والوں نے کیا حال کیا ہوگا ان کیساتھ جو بغیر بکنگ کے پہنچے ہوں گے۔بارہ گھنٹے یخ بستہ سڑکوں پہ گاڑیاں پھسا کر بیٹھے رہے،شاید سفید ملکوتی برف باری کے یو فوریا میں کھوئے مجھ سمیت لوگوں کو احساس ہی نہ ہوا کہ لو ! آپ اپنے دام میں صیاد آگیاThough Its too early to pass any judgment about local administration mismanagement as there was huge & unprecedented influx of vehicles and I literally saw no Traffic controlling officers or any kind of official help at mall and nearby ..
؎کس کے ہاتھوں پہ ان بے بسوں کی سانسیں تلاش کروں! ؎کج سجنا کسر نہ چھوڑی سی ،کج درد رقیباں گھول دیتا،کج سڑ گئی قسمت میری سی ،کج پیار وچ یاراں رول دیتا،کج انج وی راہواں اوکھیاں سن ،کج گل وچ غم دا طوق وی سی ،کج شہر دے لوگ وی ظالم سن ،کج سانوں مرن دا شوق وی سی ۔ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ Haunting!!

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: