Today's Columns

کے پی کے الیکشن از وسیم محمود ( گزارشات )

TodaysColumns
Written by Todays Column

اس وقت پاکستان میں ہر طرف خیبرپختونخواہ کےبلدیاتی انتخابات زیر بحث ہیں مختلف قسم کے ماہرانہ تبصرے اور جائزے پیش کئے جا رہے ہیں کئی زاویوں سے انتخاابات کا تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف تو اپوزیشن اس کو حکومت کی شکست سے تعبیر کر رہی ہے تو دوسری طرف وہ اپنی حکمت عملی کا کریڈٹ لے رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن تو اپنی اس فتح کے بعد حکومت کی جڑ اکھاڑنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان تبدیلی سرکار بقول ان کے جو دھاندلی کی پیدا وار ہے کے دھڑن تختہ کی بات کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اپنی بات کر رہی ہے۔ جبکہ میڈیا پر تجزیہ کار دو رائے رکھتے ہیں ایک طرف تو ان انتخابات میں میں ناکامی کی وجہ مہنگائی ، آپس کے اختلافات اور انتظامی کمزوری کو قرار دے رہے رہے تو دوسری طرف اپوزیشن کی منظم حکمت عملی کو زیر بحث لایا جا رھا ہے۔

کچھ سیاسی پنڈت البتہ عمران خان کی حکومت کی تعریف بھی کر رہے ہیں کہ وہ بنیادی جمہوریت کے سسٹم میں ایک ایسی تبدیلی لائے ہیں جس میں اقتدار کو بنیادی سطح پر پہنچا دیا ھے اور جس طرح مئیر اور چئرمین کا انتخاب عوام نے براہ راست کیا ھے اس سے اقتدار صحیح معنوں میں علاقے کے لوگوں کے ہاتھون میں چلا جائے گا اور بنیادی جمہوریت کو ملکی قانون سازی سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔

ظاہری طور پر تو یہ تمام باتیں اپنی جہت میں ٹھیک لگتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان ساڑھے تین سالوں مہں مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ خزانہ اور اقتصادی امور کی وزارتوں کی ناقص کارکردگی ملک کو تنزلی کی طرف لے جا رہی ہے یہاں پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ان وزارتوں میں موجود ٹیم کو مالی معاملات کی کوئی شدبد نہیں ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مالی معاملات کو سنبھالنا موجودہ وزیر خزانہ کے بس کی بات نہیں کیونکہ جس تیزی سے روپے کی قدر گر رہی ہے وہ پاکستان جیسےدرآمدات اور قرضوں کے جکڑے ملک کے لئے تباہی کا پیش خیمہ ہے۔

ایک وقت تھا جب عمران خان نے ملک میں لوٹی ہوئی دولت واپس لانے، رشوت کا خاتمہ کرنےاور ملکی ترقی کا نعرہ لگایا تو عوام نے اس کو مثبت لیا اورملک میں تبدیلی کے لیے ووٹ دیےعوام اور خصوصا" نوجوانوں نے بہت امیدیں وابستہ کر لیں۔ لیکن ابتدا ہی سے سمت کو نہ تو درست رکھا جا سکا اور نہ ہی ایسے لوگ مختلف عہدوں پر تعینات کئے جا سکے جو ملکی معاملات کو درست انداز میں چلا سکتے۔ ناتجربہ کار اور مفاد پرست لوگوں کی نظام میں شمولیت نے حالات دگر گوں کر دیے۔

عمران خان جو شروع میں تنظیم کو بہت اہمیت دیتے تھے اس کو پس پشت ڈال دیا۔ دوسرا ان کے ساتھ یہ مسئلہ تھا کہ ان کے پاس سیاسی اور تنظیمی طور پر میچور لوگ نہ تھے جوپارٹی کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے۔ بہت سارے ممبران اس تبدیلی کی ہوا میں اسمبلی میں پہنچ گئے جو عام حالات مین شاید کونسلر بھی نہ بن سکتے۔ دوسری طرف وہ ٹولہ جو اپنے مفاد کے لیے تحریک انصاف میں شامل ہوا ان کا مقصد اقتدار اور کمائی تھی۔ جس کی چینی، آٹا، اورLNG سیکنڈل ایک واضح مثال ہے۔ عمران خان کی ٹیم میں جہانگیر ترین اور علیم خان ایسے افراد تھے جو پارٹی میں نظم و ضبط قائم کر سکتے تھے لیکن ایک صاحب نااہل ہوگیے جبکہ دوسرے کو صاف ڈیکلئر ہونے کے بعد بھی مناسب زمہ داری نہ دی گئی۔ صوبوں کے چیف ایگزٹیو نہایت کمزور، ناتجربہ کار اور انتظامی صلاحیت سے عاری افراد مقرر کیے گئےَ عمران خان کے خیر خواھوں نے اس چیز کی نشاندہی بھی کی لیکن وہ اسی طرح اپنی ضد پر قائم رہے جیسے وہ کرکٹ کی ٹیم میں منصور احمد کو بار بار فیل ہونے کے بعد بھی ٹیم میں رکھنے پر بضد رہے کہ اس میں بہت ٹیلنٹ ہے وھاں تو گزارا چل گیا لیکن ملک یہاں ملک کا بینڈ بج گیا۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے اور قابل لوگون کو صحیح جگہ پر تعینات نہ کیا گیا تو پھر ایمانداری کا ڈھول پھٹ جائے گا۔

عمران خان کو اپنی ٹیم کو دیکھنا ہو گا چند لوگ جو قابل ہیں ان کو آگے لا کر ٹیم کو درست کیا جائے۔ورنہ پھر کچھ نہ رہے گا۔ ابھی بھی جو تنظیمی ڈھانچہ دیا گیا ہے وہ وزرا ہی پر مشتمل ہے اہم بات یہ ہے کہ وہ کس کام کو زیادہ توجہ دیں گے حکومتی معاملات کی طرف یا سیاسی امور کی طرف۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی وزیر انتخابات میں سیاسی جلسے جلوس میں شامل نہیں ہو سکتا تو پھر یہ دیا گیا ڈھانچہ پارٹی امور میں کیا بہتری لائے گا۔ لگتا ہے ٹریک پھر غلط ہو گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن نے بڑی حکمت عملی سے کام لیا ہے اور خاص کر جمعیت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ ن نے مل کر ایسے طریقے سے الیکشن لڑا کہ انھوں نے سیٹیں زیادہ لے لیں اگرچہ اس میں فائدہ جمعیت علماء اسلام کو زیادہ ہوا ہے لیکن مسلم لیگ نون بڑے مخالف کو اگلے مقابلے سے ہٹانے کے لئے ایک حلیف کو خوش بھی کر سکتی ہے پھر وہ جنرل الیکشن میں بھرپور طور پر ایکشن میں آ سکیں گے۔ اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو مسلم لیگ نون کی پرفارمنس تو ۲۰۱۸ کے الیکشن کی طرح ہی ہے اور کوئی بہتری نظر نہیں آئی جبکہ پیپلز پارٹی تو عملی طور پر آؤٹ ہو گئی ہے ANP اگرچہ کچھ سیٹیں لے پائی ہے لیکن وہ صرف ضلع مردان کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ اپوزیشن کو بہت خوش بھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جمعیت علماء اسلام ، متحدہ مجلس عمل کے ساتھ مل کر صوبہ پر پانچ سال حکومت کر چکی ہے اورپہلے بھی پشاور کے میئران کی جماعت کے ایک ممبر رہ چکے ہیں۔ کیونکہ اب بلدیاتی الیکشن میں کارکردگی ہی مستقبل کا فیصلہ کرے گی اس لئے آب جمعیت علماء اسلام کو بھی اگلے ڈیڑھ سال میں کارکردگی دکھانی ہو گی ورنہ یا تو اس کا فائدہ مسلم لیگ نون اٹھائے گی یا تحریک انصاف ۔ اگر وہ اپنی تنظیم کو درست کر پائی اور اگلے ڈیڑھ سال میں عوام کو کچھ ریلیف دے سکی تو وہ دوبارہ میدان عمل میں آ سکتی ہے۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

نیا نظام ظاہری طور پر تو شھری ترقی کے لئے اچھا لگتا ہے اگر اس کو جلا بخشی گئی اور اگلی حکومت یا تحریک انصاف نے خود ہی اس میں تبدیلی نہ کر دی کیونکہ یہاںU-TRUN کا بہت رواج ھے۔ آئندہ آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا تحریک انصاف اپنے وعدوں پر عملی جامہ پہنا سکے گی اختلافات کو کنٹرول کر کے تنظیم سازی کے ساتھ ساتھ مطلبی عناصر کی بیخ کنی کر پائے گی ۔ عمران خان اپنی پالیسیوں میں کتنا تسلسل رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن پارٹیاں عوام کو کس طرح اپنے کیمپ میں لا سکتی ہیں ورنہ آنے والے الیکشن چون چوں کا مربہ ہی بنیں گیں

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: