Ghulam Murtaza Bajwa Today's Columns

انسداد کورونا آگاہی وقت کی ضرورت ہے از غلام مرتضیٰ باجوہ ( ایوان اقتدار سے )

Ghulam Murtaza Bajwa

کسی بھی وبا کے خلاف کامیابی کیلئے لوگو ں میں آگاہی بہت ضروری ہے آگاہی کے بغیر اقدامات سے وقت اور پیسے نقصان کے سوااور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے دوران امریکا قومی سطح پر ایک نئے منفی عالمی ریکارڈ کی وجہ بن گیا ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ڈیٹا کے مطابق امریکا میں ایک دن میں وڈ انیس کے ایک ملین سے زائد نئے کیسز رجسٹر کیے گئے۔واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکا میں پیر تین جنوری کے روز مجموعی طور پر کورونا وائرس کی دس لاکھ اسی ہزار دو سو گیارہ نئی انفیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اس وبا کے دوران نہ صرف کسی بھی ملک میں نئے یومیہ کیسز کی تعداد کا اب تک کا ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تین جنوری کو امریکا میں نئی کورونا انفیکشنز کی تعداد گزشتہ پورے ہفتے کی تعداد سے بھی دوگنا ہو گئی۔پیر تین جنوری سے قبل امریکا میں کسی ایک دن میں زیادہ سے زیادہ نئی کورونا انفیکشنز کا ریکارڈ پچھلے سال جنوری میں بنا تھا۔ تب یہ یومیہ تعداد دو لاکھ اٹھاون ہزار رہی تھی۔ اب لیکن نہ صرف یہ روزانہ تعداد 1.08 ملین سے زائد ہو گئی بلکہ گزشتہ روز دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں اس عالمی وبا نے مزید ایک ہزار چھ سو اٹھاسی افراد کی جان بھی لے لی۔
اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکا میں وبائی امراض کی روک تھام کے نگران اعلیٰ ترین اہلکار انتھونی فاؤچی نے کل پیر ہی کے روز کہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کا اومیکرون ویریئنٹ اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں بننے والا گراف بالکل عمودی ہے۔ یہی نہیں بلکہ انتھونی فاؤچی نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا میں اومیکرون ویریئنٹ کا پھیلاؤ اگلے چند ہفتوں میں نئی انتہاؤں کو چھونے لگے گا۔
کورونا وائرس کے اومیکرون ویریئنٹ کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ یہ اس وائرس کا اب تک کا جینیاتی طور پر سب سے زیادہ تبدیل شدہ ویریئنٹ بھی ہے اور اس وائرس کی آج تک کی سب سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیلنے والی شکل بھی۔
اومیکرون امریکی معاشرے کو کس طرح متاثر کر رہا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا میں کورونا وائرس انفیکشنز کے تقریبا? 60 فیصد نئے کیسز اومیکرون انفیکشن ہی کے ہیں۔
شرح اموات ماضی کے مقابلے میں کم۔اومیکرون ویریئنٹ کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ جس تیز رفتاری سے امریکا میں پھیل رہا ہے، اتنی تیز رفتاری سے وہاں مریضوں کے ہسپتالوں میں داخل کرائے جانے کے واقعات اور اموات میں اضافہ نہیں ہو رہا۔
جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کو گزشتہ چند ماہ سے کووڈ وبا کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ اس علاقے کے ممالک لاؤس اور ویتنام شدید متاثر ہیں۔ سن 2020 میں یہ دونوں ممالک وبا کی شدت سے بچ گئے تھے لیکن اب انہیں بڑھتے انفیکشن کی شدت کا مقابلہ ہے۔ اس ریجن میں سب سے زیادہ متاثر ملک انڈونیشیا ہے۔اس دعوے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے امریکی حکام نے بتایا کہ نئی کورونا انفیکشنز کی تعداد میں ریکارڈ اضافے کے باوجود امریکا میں گزشتہ سات دنوں کے دوران کووڈ انیس کے مجموعی طور پر نو ہزار تین سو بیاسی مریضوں کا انتقال ہوا۔ یوں گزشتہ ہفتے ایسی ہلاکتوں کی تعداد اس سے پہلے کے ہفتے کے مقابلے میں تقریباء دس فیصد کم رہی۔
امریکا کورونا وائرس کی وبا سے پوری دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، جس کے بعد بھارت اور برازیل جیسے ممالک کے نام آتے ہیں۔ دسمبر 2019 میں شروع ہو کر پوری دنیا میں پھیل جانے والی یہ وبا مجموعی طور پر اتنی ہلاکت خیز ثابت ہوئی ہے کہ اس کی وجہ سے کل پیر تین جنوری تک کل کم از کم 54 لاکھ 41 ہزار 446 انسان ہلاک ہو چکے تھے۔
یہ تعداد اس عالمی وبا کے دوران ہلاکتوں کی کم از کم مصدقہ تعداد ہے۔ اس کے برعکس عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں انسانی اموات کی اصل تعداد اس مصدقہ تعداد کے دو گنا سے لے کر تین گنا تک ہو سکتی ہے۔
طبی ماہر ین کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ رات کے وقت یہ غذائیں کھانے سے گریز کریں۔کہتے ہیں رات کو سونے سے فوری پہلے کچھ کھانا نہیں چاہیے اور رات کا کھانا بھی اپنے سونے کے وقت سے جلد کھا لینا بہتر ہوتا ہے کیوں کہ اس سے کھانا بہتر طور پر ہضم ہوتا ہے اور نیند بھی اچھی آتی ہے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سی غذائیں ایسی بھی ہیں جنہیں رات میں کھانے سے گریز کرنا بہتر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ جلدی ہضم نہیں ہوتیں، جس سے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور رات میں بار بار آنکھ کھلتی ہے۔یہاں 5 غذاؤں کی فہرست ترتیب دی گئی ہے، جن کو ویسے تو رات میں کھایا جاسکتا ہے، لیکن نہ کھانا ہی بہتر ہے۔دودھ میں کیلشیئم اور پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اسے ضرور پینا چاہیے لیکن اس میں لیکٹوز بھی موجود ہوتا ہے جو ایک طرح کی چینی ہے، جس کی وجہ سے دودھ رات کے وقت مشکل سے ہضم ہوتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اسے صبح پیا جائے۔چاکلیٹ کھانا کس کو پسند نہیں ہوگا؟ سب ہی کھانا کھانے کے بعد تھوڑا سا میٹھا کھانا پسند کرتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے کچھ دیر قبل چاکلیٹ کھانا آپ کی نیند خراب کرسکتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاکلیٹ میں چینی اور کیفین کی مقدار کافی زیادہ ہوسکتی ہے اور اس سے نیند خراب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آپ اگلے دن سُست رہیں گے۔پیزا کا شمار ان لذیز پکوانوں میں کیا جاتا ہے جسے آج کی نسل نہایت شوق سے کھاتی ہے، لیکن اسے سونے سے قبل کھانا ٹھیک نہیں، یہ ایک ایسی ڈش ہے جس میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس سے طبیعت بھاری محسوس ہونے کے ساتھ ساتھ نیند بھی خراب ہوتی ہے۔اگر آپ رات کا کھانا کھانے کے بجائے پھلوں کے جوس کا ایک گلاس پی کر سونا پسند کرتے ہیں تو جان لیں کہ یہ عادت غلط ہے، ان میں تیزابیت موجود ہوتی ہے جس سے رات کے کسی پہر سینے میں جلن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بہت سے لوگ کھانا ہضم کرنے کے لیے سوڈا پی لیتے ہیں، لیکن آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے تیزابیت ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے نیند خراب ہوتی ہے۔

٭…٭…٭

About the author

Ghulam Murtaza Bajwa

Ghulam Murtaza Bajwa

Leave a Comment

%d bloggers like this: