Rohail Akbar Today's Columns

خواجہ فرید کالج اور کرپٹ مافیا از روہیل اکبر ( میری بات )

Rohail Akbar
Written by Rohail Akbar

جب تک ہمارا تعلیمی نظام ٹھیک نہیں ہوگا تب تک ہم ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتے ہمارے تعلیمی ادارے اس وقت بہتر ہونگے جب ان اداروں کے اندر بیٹھے ہوئے کرپٹ مافیاکو نکال باہر نہیں کیا جاتا پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار جتنا اچھا تعلیم کے شعبہ میں کام کررہے ہیں شائد ہی کوئی اور محکمہ ہو مگر بدقسمتی سے ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگ ہی انہیں انکے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دے رہے یہ پنجاب کے ایک ایسے شہر کے تعلیمی ادارے کی کہانی ہے جو لاہور سے سینکڑوں میل کی مسافت پر ہے اسے پڑھنے کے بعد باقی اداروں اور ان کے اندر بیٹھے ہوئے چوروں کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں خواجہ فرید کالج رحیم یار خان میں واقع ہے اور اسے پورے وسیب میں احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس کی وجہ صرف اس کا نام نہیں بلکہ اس کامعیار تعلیم ہے آج دنیا بھرمیں بلخصوص امریکہ میں اس کے فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے اس ادارہ کی بنیاد رحیم یار خان شہر سے باہر تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے رکھی یہی وجہ ہے کہ اسے شہر سے منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز نے کبھی اہمیت دی نہ فنڈز دیے جس کی وجہ سے یہ کالج آج بھی اپنے تشنگان علم کو اپنے لان اور سبزہ زار میں بٹھانے اور تعلیم جاری رکھنے پر مجبور ہے اگرچہ اب اس کی کوکھ سے خواجہ فرید یونیورسٹی بھی جنم لے چکی ہے مگر اس کی اہمیت پھر بھی ختم نہیں ہوئی جس کی وجہ اس کالج کے اساتذہ اور پرنسپل صاحبان کی محنت بتائی جاتی ہے کہ آج اس کے طلبہ کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے اتنی زیادہ تعداد میں کالج کے سابق پرنسپل اجمل بھٹی کی پانچ سالہ محنت کا نتیجہ بتائی جارہی ہے مگر اس مرد مجاھد کو جس طرح اساتذہ کے قومی دن بھونڈے انداز سے کالج سے نکالا گیا یہ خود ایک داستان ہے اس کالج کی کہانی کچھ یوں ہے کہ رحیم یار خان ہی کے گرلز کالج کو انگلش لیکچرر کی ضرورت پڑتی ہے تو ڈائریکٹر کالجز خواجہ فرید کالج کے پروفیسر ارشد بیگ کو عارضی کلاسز کے لئے نزدیکی کالج پابند کردیتے ہیں جہاں انہوں نے مسز فرخ چوھدری نام کی لیکچرر سے دوستی شروع کر دی بات پھیلتے پھیلتے پورے کالج میں پھیل گئی جس سے تنگ آکر کالج کی انتظامیہ نے گرلز کالج میں ارشد بیگ کا داخلہ بند کردیا مگر خاتون لیکچرراور ان کا معاشقہ چلتا رہا بلکہ حد سے بڑھ گیا جس سے خاتون پروفیسر کو اپنا تبادلہ میاں والی قریشیاں میں کروانا پڑا مگر اپنے دوست ارشد بیگ کا پیچھا نہ چھوڑا کبھی کبھی بلکہ ارشد بیگ نے گرلز کالج میاں والی قریشاں بھی جانا شروع کردیا اور ان کے چرچے وہاں بھی شروع ہوگئے جس سے تنگ آکر مقامی لوگوں نے اس کا کالج میں داخلہ بند کروادیا مگر عشق کے ہاتھوں مجبور دونوں نے خواجہ فرید کالج ہی کو اپنا ڈیٹنگ پوائنٹ بنا لیاآئے روز کی ملاقاتوں اور کالج میں اکٹھے گھومنے پھرنے کے باعث کالج کا ماحول بھی متاثر ہونے لگا جس سے تنگ آکر کالج کے پرنسپل اجمل بھٹی نے ایک نوٹس کے ذریعے خاتون پروفیسر کا کالج میں داخلہ بند کر دیااسی نوٹس کو لیکر خاتون نے سکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو شکایت کردی یہاں سے کالج اور کالج کے پرنسپل اجمل بھٹی کی بدقسمتی شروع ہوگئی کہ اس خاتون نے اپنے عورت ہونے کا خوب فائدہ اٹھایا اور انکوائری اپنے حق میں کروالی جسکے بعد پرنسپل کی شامت آگئی اور انہیں پرنسپل شپ سے ہٹا کر لاہور پابند کردیا گیا یوں کالج کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک لے جانے والے محنتی انسان کو رسوا وخوار کردیا گیا۔یہاں ایک اور انسان بھی خاتون لیکچرر کی مفت میں مدد کے لیے کود پڑتا ہے جسے ماضی میں اجمل بھٹی پر رنج تھا اسکا قصہ بھی پڑھ لیں جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا رحیم یار خان کیمپس خواجہ فرید کالج میں شروع ہوا اورکئی سال گزرنے کے بعد کیمپس کی اپنی بلڈنگ بننے کے بعد اس وقت کے ڈائریکٹر کیمپس کالج کی بلڈنگ سے شفٹ نہیں ہورہے تھے جس پر کالج کے طلباء نے شدید احتجاج شروع کردیاا اس وقت کے ڈی سی سقراط امان رانا نے شدید برامنایاآج کل یہی سقراط امان رانا سکریٹری کوارڈی نیشن ٹو سی ایم پنجاب ہیں اور ہائر ایجوکیشن کے ڈیپارنمنٹ کو بھی دیکھتے ہیں کہا یہی جاتا ہے کہ مبینہ طور پر انہوں نے سکریٹری ہائر ایجوکیشن کو حکم دیا کہ اجمل بھٹی کو پرنسپل کی سیٹ پر نہیں ہونا چاہیے یوں اساتذہ کے قومی دن پر اجمل بھٹی کو انعام دینے یاعزت دینے کے بجائے بے عزت کرکے ہٹا دیا گیا کئی سالوں کی محنت اور کالج کے ماحول کو گندہ ہونے سے بجانے کے چکر میں اپنی عزت اورشہرت بھی گنوا بیٹھے کہ آج کئی ماہ بعد خواجہ فرید کالج ایک شفیق اور محنتی پرنسپل سے محروم ہے اورہزاروں طلبا وطالبات کے ذہنوں میں کئی سوال جنم لے چکے ہیں ایک طرف موجودہ حکومت ریاست مدینہ بنانا چاہتی ہے تو دوسری طرف حکومت کے ہرکارے ریاست مدینہ کے لئے عملی طور پر کام کرنے اور بے حیائی کو روکنے والے اجمل بھٹی کو نشان عبرت بنا چکی ہے جواس وقت اپنی ریٹائر منٹ سے چند ماہ کی مسافت پر ہے باریش پروفیسر اپنے بیوی بچوں سے دور تخت لہور کے دھکے کھا رہا ہے کچھ دن پہلے وزیرہائر ایجوکیشن یاسر ہمایوں کا انٹرویو سنا جس میں موصوف ہائر ایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ میں عمران خان کے ویژن کے مطابق تبدیلیوں کی نوید سنا رہے تھے امید ہے وہ اس تبدیلی کی بنیاد اجمل بھٹی کے کیس میں سکریٹری ہائر ایجوکیشن جاوید اقبال بخاری سے بھی زرور باز پرس کرینگے اجمل بھٹی کو احترام کے ساتھ دوبارہ ان کی سیٹ پر بٹھا کر کالجوں کا ماحول خراب کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا حکم دیکر عمران خان کے ویژن ریاست مدینہ کی جانب قدم بڑھائیں گے۔

٭…٭…٭

About the author

Rohail Akbar

Rohail Akbar

Leave a Comment

%d bloggers like this: