Rohail Akbar Today's Columns

نیا سال پرانی تاریخ از روہیل اکبر ( میری بات )

Rohail Akbar
Written by Rohail Akbar

نئے سال کی تاریخ بہت پرانی ہے نئی امیدوں اور خوشیوں کی آس لیے نیا سال سب کو مبارک ہو گذرے ہوئے سال میں بہت ہی اچھے،پیارے،ہنس مکھ اور زندگی سے بھر پور خوبصورت لوگوں ڈاکٹر اطہر محبوب،ڈاکٹر نظام الدین اور ڈاکٹر اعجاز قریشی سے ملاقات ہوئی میں سمجھتا ہوں کہ افتخار احمد سعید،رازش لیاقت پوری اور جناب ڈاکٹر جام سجاد کا ان ملاقاتوں میں بہت عمل دخل ہے اگر وہ ملاقات کا بہانہ فراہم نہ کرتے تو ہم سب دوست پچھلے سال کی خوبصور ت شخصیات سے مل نہ پاتے تینوں افراد اپنے اندر ایک تاریخ ہیں جنکی باتیں ہمارے لیے مشعل راہ اور ترقی کا وہ زینہ ہیں جن پر چل کر ہم اپنی منزل مقصود تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب حکومت ان سے شعبہ تعلیم کے حوالہ سے بہت اہم کام لے سکتی ہے خاص کر پنجاب میں وزیر اعلی سردار عثمان بزدار تعلیم کے میدان جو انقلابی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایسے افراد گوہر نایاب ہیں جن کی قابلیت سے ہم استفادہ حاصل کرسکتے ہیں بزدار سرکار ہر ضلع میں یونیورسٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور ایسے محب وطن افراد کی خدمات حاصل کرکے عوامی فلاحی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے رہی بات نئے سال کی تو اس بار بھی خوب ہلہ گلا ہوتا رہا میرے دفتر کے سامنے مال روڈ پر ایسا مجمع تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا دنیا بھر کی تہذیبیں کم از کم چار ہزار سال سے ہر نئے سال کے آغاز کا جشن مناتی ہیں زیادہ تر نئے سال کی تقریبات 31 دسمبر (نئے سال کی شام) سے شروع ہوتی ہیں، جو گریگورین کیلنڈر کے آخری دن ہیں یکم جنوری (نئے سال کا دن) کے ابتدائی اوقات تک جاری رہتی ہیں اس شام دعائیاں تقریبات کا انعقاد کرنا، پارٹیوں میں شرکت کرنا، نئے سال کے خصوصی کھانے کھانا، نئے سال کے لیے قراردادیں بنانا اور آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنا شامل ہیں نئے سال کی آمد کے اعزاز میں سب سے قدیم ریکارڈ شدہ تہوار تقریباً چار ہزار سال قدیم بابل سے متعلق ہیں بابلیوں کے لیے، ورنل ایکوینوکس کے بعد پہلا نیا چاند مارچ کے آخر میں سورج کی روشنی اور اندھیرے کی مساوی مقدار کے ساتھ ایک نئے سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہے انہوں نے اس موقع کو ایک بڑے مذہبی تہوار کے ساتھ نشان زد کیا جسے اکیٹو کہا جاتا ہے (جو کے لیے سمیری لفظ سے ماخوذ ہے، جو موسم بہار میں کاٹا جاتا تھا) جس میں اس کے 11 دنوں میں سے ہر ایک پر ایک مختلف رسم شامل تھی نئے سال کے علاوہ، اتیکو نے بابل کے آسمانی دیوتا مردوک کی شیطانی سمندری دیوی تیامات پر فتح کا جشن منایا اور ایک اہم سیاسی مقصد کو پورا کیا یہ اس وقت تھا جب ایک نئے بادشاہ کی تاج پوشی کی جاتی تھی دنیا بھر کی تہذیبوں نے تیزی سے جدید ترین کیلنڈرز تیار کیے جو عام طور پر سال کے پہلے دن کو کسی زرعی یا فلکیاتی واقعے سے منسلک کرتے ہیں جیسے مصر میں سال کا آغاز دریائے نیل کے سالانہ سیلاب سے ہوا۔ چینی نئے سال کا پہلا دن موسم سرماشروع ہونے کے بعد دوسرے نئے چاند کے ساتھ مناتے ہیں ابتدائی رومن کیلنڈر 10 مہینے اور 304 دنوں پر مشتمل تھا ہر نئے سال کا آغاز ورنل ایکوینوکس سے ہوتا ہے اسے آٹھویں صدی قبل مسیح میں روم کے بانی رومولس نے بنایا تھا بعد کے ایک بادشاہ نوما پومپی لیس کو جنوری اور فروری کے مہینے شامل کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے صدیوں کے دوران کیلنڈر سورج کے ساتھ مطابقت پذیر نہیں ہوا اور 46 قبل مسیح میں شہنشاہ جولیس سیزر نے اہم ترین ماہرین فلکیات اور ریاضی سے مشورہ کرکے مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ کیا اپنی اصلاح کے ایک حصے کے طور پر سیزر نے یکم جنوری کو سال کے پہلے دن کے طور پر قائم کیا جزوی طور پر مہینے کے نام کی تعظیم کے لیے جانس ابتدا کا رومی دیوتا جس کے دو چہروں نے اسے ماضی میں پیچھے دیکھنے اور مستقبل میں آگے جانے کی اجازت دی رومیوں نے جانس کو قربانیاں پیش کرکے، ایک دوسرے کے ساتھ تحائف کا تبادلہ کرکے جشن منایا اپنے گھروں کو لاریل شاخوں سے سجانا اور ہنگامہ خیز پارٹیوں میں شرکت کی قرون وسطی یورپ کے عیسائی رہنماؤں نے عارضی طور پر 1 جنوری کو سال کے پہلے دن کے طور پر تبدیل کر دیا جس میں انکے نزدیک زیادہ مذہبی اہمیت کے حامل دن تھے جیسا کہ 25 دسمبر (یسوع کی پیدائش کی سالگرہ) اور 25 مارچ (اعلان کی عید) پوپ گریگوری XIII نے 1 جنوری کو 1582 میں نئے سال کے دن کے طور پر دوبارہ قائم کیا۔ اسپین اور کئی دوسرے ہسپانوی بولنے والے ممالک میں لوگ آدھی رات سے پہلے ایک درجن انگور گرا دیتے ہیں جو کہ مہینوں کے لیے اپنی امیدوں کی علامت ہے۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں نئے سال کے روایتی پکوان میں پھلیاں ہوتی ہیں اٹلی میں دال اور جنوبی امریکہ میں سیاہ آنکھوں والے مٹر شامل ہیں چونکہ خنزیر کچھ ثقافتوں میں ترقی اور خوشحالی کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے کیوبا، آسٹریا، ہنگری، پرتگال اور دیگر ممالک میں نئے سال کی ابتد اخنزیر کے گوشت سے کرتے ہیں نیدرلینڈز، میکسیکو، یونان اور دیگر جگہوں پر عید منائی جاتی ہے۔ سویڈن اور ناروے میں نئے سال کے موقع پر بادام کے ساتھ چاول کی کھیر پیش کی جاتی ہے بہت سی رسم و رواج جو دنیا بھر میں عام ہیں ان میں نئے سال کے استقبال کے لیے آتش بازی دیکھنا اور گانے گانا شامل ہیں نئے سال کے لیے ریزولیوشن بنانے کا رواج سب سے پہلے قدیم بابلیوں میں پایا جاتا تھا جنہوں نے دیوتاؤں کی مہربانی حاصل کرنے اور سال کی شروعات دائیں قدم سے کرنے کے لیے وعدے کیے تھے ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور فضول رسم و رواج کی بجائے اسلامی طریقہ کار کے مطابق زندگی گذار کر ذہنی اور قلبی سکون حاصل کرسکتے ہیں۔

٭…٭…٭

About the author

Rohail Akbar

Rohail Akbar

Leave a Comment

%d bloggers like this: