Maulana Muhammad Ilyas Ghuman Today's Columns

مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی رحمہ اللہ از مولانا محمد الیاس گھمن

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے سچے پہرے دار کی پون صدی پر محیط داستان حیات جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا

26 دسمبر 2021ء بروز اتوار یہ اطلاع ملی کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی رحمہ اللہ اس جہان رنگ و بُو کو چھوڑ کر خُلدِآشیاں ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے اشاعت و حفاظت کے لیے درجہ اسباب میں جن لوگوں کا انتخاب فرمایا ان میں ایک نام مولانا محمد اکرم طوفانی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ 1952ء کی بات ہے کہ وہ اپنے ایک دوستے کے ہمراہ گھر سے اس ارادے سے نکلے کہ وہ کراچی جائیں گے، دوست نے راستے سے ہی واپسی کی راہ لی اور آپ نے حفظ قرآن کا ارادہ کیا اور اس کے لیے مدرسہ اور مکتب کی تلاش میں حسن ابدال پہنچے وہاں سے قریب ایک بستی میں گئے جہاں ایک مسجد میں ایک بزرگ بچوں کو قرآن کریم پڑھا رہے تھے۔ انہیں سلام کیا اور کہا کہ زور کی بھوک لگی ہوئی ہے کھانا کھلاؤ۔
خود فرماتے ہیں کہ اس بزرگ نے مجھے ڈانتے ہوئے کہا کہ بھاگ جاؤ یہاں کوئی تندور لگا ہوا نہیں۔ وہاں سے اٹھے اور قریب کھیتوں کو پانی لگا ہوا تھا پگڈنڈی پر چلتے چلتے قریب کی دوسری بستی میں پہنچے۔ وہاں ایک خداترس بزرگ ملے جنہوں نے آپ کو کھانا بھی کھلایا اور قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے مسجد میں بھی بٹھا دیا۔یہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی مفتی محمد حسن رحمہ اللہ کا گاؤں تھا۔ آپ نے یہاں سے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ اسی بستی میں کچھ دن بعد مولانا ضیاء القاسمی رحمہ اللہ سے شناسائی ہوئی۔مولانا قاسمی مرحوم جب بھی اس علاقے میں آتے تو آپ ان کی خدمت میں جاتے۔ اسی دوران آپ نے درس نظامی میں داخلہ لیا اور 1964ء میں آپ نے دورہ حدیث کیا۔
درس نظامی سے فراغت کے بعد سرگودھا تشریف لائے اور ایک مقامی مسجد میں خطابت شروع کی آپ کی خطابت مروجہ خطابت کی قید وبند سے مکمل طور پر آزاد تھی۔ سُریلا پن، جوشیلا پن، الفاظ کے اتار چڑھاؤ، لہجے کے مدوجزر اور قافیہ بندی کو ایک طرف رکھتے ہوئے دین کے تقاضوں بالخصوص عقیدہ ختم نبوت اور عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پردرد اور فکر انگیز لیکن جرات مندانہ گفتگو فرماتے تھے۔ منکرین ختم نبوت کے علمی تعاقب میں آپ کی زبان سے جو باتیں نکلتیں وہ درحقیقت اکابر ومشائخ کی صحبتوں اور آپ کے اخلاص کی علامت ہوتیں۔ جن بزرگوں سے آپ نے کسب فیض کیا ہے ان میں امام الاولیاء مولانا احمد علی لاہوری،امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا شمس الحق افغانی رحمہ اللہ،مولانا رسول خان رحمہ اللہ، مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ،مولانامحمد عبداللہ بہلوی رحمہ اللہ اور خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ کے نام بہت نمایاں ہیں۔
1983ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولا نا محمد اسلم قریشی کو اغواء کر لیا گیا۔مولانا ضیاء القاسمی رحمہ اللہ نے آپ کو ساتھ لیا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں مغوی مولانا محمد اسلم قریشی کی تلاش میں نکل پڑے۔اسی زمانے کی بات ہے کہ ہمارے سرگودھا کے قریب جوہرآباد میں ایک جگہ جلسہ تھا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ اسی جلسے میں مولانا ضیاء القاسمی مرحوم نے ایک درخواست لکھ کر خواجہ صاحب مرحوم کو دی، خواجہ صاحب نے اس پر یہ لکھا کہ ’’میں مولانا محمد اکرم طوفانی کو سرگودھا میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ مقرر کرتا ہوں‘‘۔ اور اس پر اپنے دستخط کر دیے۔ مولانا طوفانی رحمہ اللہ تحدیث بالنعمۃ کے طور پر اکثر اپنے احباب سے فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ صاحب رحمہ اللہ کی پورے دور امارت میں سوائے میرے کسی اور مبلغ کی درخواست پر دستخط نہیں کیے۔
سرگودھا میں آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے شعور وآگہی، اشاعت اور حفاظت میں جو کردار ادا کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اور میں اس موقع پر سلام عقیدت پیش کرتا ہوں اپنے سرگودھا کے ان تمام غیوردینی مدارس کے علماء وطلباء،کالجز اور یونیورسٹیز کے سٹوڈنٹس، تاجر برادری، صحافی برادری، اداروں کے افسران بالا کو جنہوں نے عقیدہ ختم نبوت کی اشاعت و حفاظت کے لیے مولانا طوفانی رحمہ اللہ کا دست راست بنے۔اس حوالے سے علاقائی سطح پر ہونے والے چھوٹے پیمانے پرمختلف نوعیت کے پروگرامز ہوں یا مرکزی عیدگاہ سرگودھا میں ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ اہلیان سرگودھا نے اس بوڑھے جرنیل کے سپاہی بن کرعقیدہ ختم نبوت کی اشاعت اور فتنہ قادیانیت کا تعاقب کیا ہے۔
منکرین ختم نبوت جس میدان میں عوام الناس کو گمراہ اور مرتد بنانے کی سازش کی، مولانا طوفانی رحمہ اللہ نے اسی میدان میں ان کا مقابلہ کیا۔ منکرین ختم نبوت نے چناب نگر میں دل کا ہسپتال بنایا جس کا مقصد دلوں کا علاج نہیں بلکہ دلوں کا فساد ہے یعنی قادیانی بنانے کی ایک سوچی سمجھی منظم سازش کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ منکرین ختم نبوت کی اس منظم سازش کا جواب محض زبانی جمع خرچ سے ممکن نہیں تھا بلکہ اس کا جواب اسی سطح پر دینے کی ضرورت تھی۔
اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مولانا طوفانی رحمہ اللہ نے سرگودھا شہر جناح کالونی برلب نہر ایک ادارہ خاتم النبیین میڈیکل ہارٹ سنٹر کے نام سے شروع کیا۔کروڑوں کی لاگت سے مکمل ہونے والا ہسپتال وطن عزیز پاکستان کا بہترین ہسپتال شمار ہوتا ہے۔جس میں خدمت خلق کا مبارک جذبہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدہ ختم نبوت کی بدولت پورا ہوتا ہے۔ جدید ترین طبی سہولیات اینجو گرافی،اینجو پلاسٹی، ایکوگرافی، وینٹی لیٹر،ای سی جی، ایمبولینس اور آوٹ ڈور کی تمام سروسز دستیاب ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ہسپتال میں چناب نگر کے قادیانی ہسپتال کے مقابلے میں ساری ادویات اور علاج کا خرچ آدھی قیمت پر کیا جاتا ہے یوں یہ ہسپتال آدھی قیمت پرعلاج کی سہولیات دے کر پورا ایمان بچا لیتا ہے۔
اللہ کریم نے مجھے یہ اعزاز بخشا کہ جب یہ ہسپتال بنا، اس کے نام بھی تجویز کر لیا گیا بلکہ اس ہسپتال کے نام سے لیٹر پیڈ بھی چھپ چکے میں نے مولانا طوفانی رحمہ اللہ سے عرض کی: حضرت آپ اپنے ہسپتال کا نام خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک نام سے موسوم کریں، میری یہ بات کرنی تھی کہ مولاناطوفانی رحمہ اللہ کے چہرے پر خوشیوں کے پھول کھل اٹھے اور بے ساختہ فرمایا کہ آج سے اس کا نام خاتم النبیین میڈیکل ہارٹ سنٹر ہے۔ الحمد للہ یہ ہسپتال سماجی و رفاہی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے شعور، اشاعت اور حفاظت کا دینی ادارہ بھی بن چکا ہے۔
تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے مبارک مشن سے وابستگی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ آپ کی کئی ایک کتابیں شائع ہوچکی ہیں، بہت سے بیرون ممالک کا دعوتی و تبلیغی سفر فرما چکے تھے۔مولانا مرحوم سے میرا تعلق جتنا پرانا تھا اتنا ہی مضبوط تھا، میرے مسلکی کام کی وجہ سے جن بزرگوں کی دعائیں، تجاویز اور تعاون مجھے حاصل رہا ہے ان میں سرفہرست مولانا طوفانی رحمہ اللہ کانام ہے۔ میرے ادارے مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا میں آپ کی آمد گاہے بگاہے ہوتی رہتی تھی کچھ دن پہلے میری ان سے فون پر بات ہوئی تو مجھے فرمانے لگے کہ میرے لیے خاتمہ بالایمان کی دعا کریں۔آج وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔
میرے ادارے مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا میں بیان کرتے ہوئے ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ میری آپ سے گرازش ہے کہ جب آپ سنیں کہ طوفانی آوٹ آف وے ہوگیا ہے(وفات پا گیا ہے) تو میرے لیے دعا کرنی ہے کہ یا اللہ اس کو بخش دے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر مجھے بخش (ایصال ثواب کر)دینا۔ یہ وہ وصیت ہے جو انہوں نے ہر اس مسلمان کے نام کی ہے جنہیں ان کی وفات کی خبر ملے۔ اس لیے میری قارئین سے گزارش ہے کہ مولانا کی اس وصیت کے مطابق ان کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام کریں۔
مولانا طوفانی مرحوم تقریباً پون صدی پر محیط ایک روشن تاریخ کا نام ہے جسے صدیوں یاد رکھا جائے اور آپ کے علم وعمل، اخلاص و للہیت، تقویٰ وطہارت، اور جرات و عزیمت کی داستان سے آنے والی نسلیں رہنمائی لیتی رہیں گی۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

٭…٭…٭

About the author

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

Leave a Comment

%d bloggers like this: