Khalid Khan Today's Columns

پاکستان میں بلدیاتی ادارے! از خالد خان ( لب دریا )

Khalid Khan
Written by Khalid Khan

وطن عزیز پاکستان ایسا جمہوری ملک ہے جہاں بلدیاتی الیکشن کیلئے بھی سپریم کورٹ کو آرڈر جاری کرنے پڑتے ہیں۔وطن عزیز پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سیاسی پارٹیوں میں بھی جموریت نہیں بلکہ سیاسی پارٹیاں شخصیات یا خاندانوں کے گرد طواف کرتی ہیں۔وطن عزیز پاکستان ایسا جمہوری ملک ہے جہاں ڈکیٹٹرز کے ا دوار میں بلدیاتی الیکشن ہوتے ہیں جبکہ جمہوری حکومتوں میں بلدیاتی الیکشن سے گریز کیا جاتا ہے ۔ بلدیاتی حکومتیں جمہوریت کی نرسریاں ہوتی ہیں لیکن وطن عزیز پاکستان میں جمہوری حکومتیں آتے ہی بلدیاتی اداروں کو ختم کردیتی ہیں۔ وطن عزیز پاکستان14 اگست 1947ء کو معرض وجود میں آیا لیکن 74 سالوں میں ملک کو عملی طور پرنہ اسلامی ملک بنا سکے اور نہ ہی ملک کو ایک بلدیاتی نظام دے سکے۔تقریباًبائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے حضرت عمر رضی اللہ سے پوچھا جا سکتا تھا کہ آپ کی قمیض پر کپڑا زیادہ کیوں لگا ہے لیکن796096 مربع کلومیٹر کے ملک وطن عزیز پاکستان میں صاحبِ اقتدار سے ایسا سوال کرنے کی کوئی جسارت ہی نہیںکرسکتا۔وطن عزیز پاکستان میںامیر کے لئے الگ طریقہ کار جبکہ غریب سے علیحدہ رویہ روا رکھا جاتا ہے۔کروڑوں اور اربوں کے ڈاکوئوں کیلئے وی آئی پی پروٹوکول جبکہ چندسو روپے چوری کرنے والے چور کا لتر سے استقبال کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں جس کی سرکار ،اسی کا نظام چلتا ہے جو پارٹی حکومت بناتی ہے،وہ پہلے سے رائج بلدیاتی نظام کوتبدیل کرتی ہے اور اپنی مرضی کا نظام مسلط کرتی ہے۔ ہر کوئی اپنا ہی بلدیاتی نظام لاتاہے، تاکہ اس نظام کو سمجھتے سمجھتے دورانیہ گزر جائے اور پھر نیا حکمران پہلے تین چار سال بلدیاتی الیکشن کراتا نہیں جب سپریم کورٹ حکم صادر کرتی ہے تو پھر نیا بلدیاتی نظام لایا جاتا ہے ۔یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا جارہا ہے کہ روٹ لیول پر لوگوں کو جمہوریت کی سمجھ نہ ہو ، نہ حقیقی لیڈر پیدا ہوں اور نہ ہی عوام کے مسائل حل ہوں۔اگر ایسی بات نہ ہوتی تو پھر ایک مرتبہ پورے ملک کیلئے ایک مناسب بلدیاتی نظام بناتے اور باقاعدگی سے بلدیاتی الیکشن ہوتے اور لوگوں کے مسائل حل ہوتے۔کیا دنیا کے دیگر ممالک میں ہر حکومت نیا بلدیاتی نظام بناتی ہے؟ ہمارے حکمران امریکہ اور مغربی ممالک کی مثالیں دیتے رہتے ہیں ۔کیا ان ممالک میں ہمارے ملک کی طرح بار بار بلدیاتی نظام بدلتے رہتے ہیں؟کیا ان ممالک میں سپریم کورٹ کے حکم پربلدیاتی انتخابات کرائے جاتے ہیں؟ المیہ یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں ہر عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل تقریباً 150 کے قریب مخصوص سیاستدانوں کی پروازیں شروع ہوجاتی ہیں۔ جس جانب وہ اڑان بھرتے ہیں ، عموماًلوگوں کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی۔اس سے ہمارے ملک میں انتخابات کی شفافیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔پھر یہی افراد سرکاری اخراجات پر ٹی وی چینلزپر عوام کو کرپشن ، انصاف ،ترقی اور نظام بدلنے کا درس دیتے ہیں۔کیا امریکہ اور مغربی ممالک میں ایسا ہوتا ہے ؟ضرورت اس امرکی ہے کہ ان فصلی بٹیروں پر قدغن لگائی جائے تو ملک کیلئے بہترین بلدیاتی نظام بن سکتا ہے۔ان لوگوں کی وجہ سے اداروں کی بدنامی ہورہی ہے اور ملک ترقی نہیں کررہا ہے۔بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت جمہوریت نہیں رہتی ہے اور حکومت مقامی حکومت کے نظام کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ہے۔برصغیر پاک وہند میںبرطانوی حکومت نے 1985ء میںمیونسپل کارپوریشن کا نظام شروع کیا جس میں کل27 ممبران تھے جن میں26 ممبران میونسپل کمیشنر اور 27واں میئر تھا۔ اس نظام کی مدت دس سال مقرر کی گئی ۔قیام پاکستان کے بعد ڈکیٹٹرصدر ایوب خان نے 1962 ء میں بنیادی جمہوریت (Basic Democratic)کے نام سے بلدیاتی حکومتیں قائم کیں،مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے تقریباً ستر ہزار ممبران کا چنائو کیا۔ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ1969ء میںبلدیاتی حکومتیں ختم ہوگئی۔اس کے بعد دوسری بار جنرل ضیاء الحق نے1980ء میں بلدیاتی الیکشن کرائے اور1988ء میں جنرل ضیاء الحق کی وفات کے ساتھ ہی بلدیاتی ادارے بھی ختم ہوگئے۔وطن عزیز پاکستان میں تیسری بار بلدیاتی انتخابات 2002ء میں جنرل پرویز مشرف نے کرائے۔ جنرل مشرف نے دو مرتبہ لوکل انتخابات کرائے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ کے دبائومیں بلدیاتی الیکشن کرائے گئے۔ دیکھا جائے تووطن عزیز پاکستان میں بلدیاتی انتخابات زیادہ تر آمروں کے دور میں ہوئے۔ذوالفقار علی بھٹو دور میںبلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔بے نظیر بھٹو نے اپنے دونوں ادوار میںمقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں کرائے۔وطن عزیز پاکستان میں مقامی حکومتوں پر طائرانہ نظر دوڑانے سے عیاں ہوجاتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا اولین بلدیاتی نظام سب سے بہتر تھا جس میں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کی سعی کی گئی تھی ،مجموعی طور پر بلدیاتی ادارے بظاہر خود مختار بھی نظر آئے اوراس میں عام لوگوں کے کام بھی ہوئے۔افسر شاہی کو عوامی نمائندوں کے ماتحت کردیا تھا حالانکہ اس سے قبل عوامی نمائندے افسر شاہی کے ماتحت ہوتے تھے۔عمران خان اور تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بڑے بلند وبانگ دعوے کرتی رہی لیکن انھوں نے بھی اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے اور نہ اولین تین سالوں میں بلدیاتی الیکشن کرائے۔پی ٹی آئی کے دور میں بلدیاتی الیکشن تو دور کی بات ہے جو ملک میں پہلے سے موجود مقامی حکومتیں چل رہی تھیں، صوبہ پنجاب میں ان کو بھی ختم کردیا گیااور سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود ان کو حقیقی معنوں میں بحال نہیں کیا اور نہ ہی ان کو اختیارات دیے۔ اب تو ان کی مدت بھی ختم ہوگئی۔وطن عزیز پاکستان میں جمہوری حکومتیں بھی جمہوریت کیلئے کتنی کوشاں ہیں، یہ سب آپ کے سامنے ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اب تمام جمہوری پارٹیوں کو اپنی روش تبدیل کرنی چاہیے۔جمہوریت کا تقاضا ہے کہ سیاسی پارٹیاں مخصوص شخصیات یا چندخاندانوں کے گرد گھومنے کی بجائے اہلیت پر کسی بھی ورکر کو نمایاں عہدہ ملے۔جمہوری پارٹیوں میں تواتر سے فری اینڈ فیر الیکشن ہوں اور الیکشن کمیشن اس کی نگرانی کرے۔بلدیاتی ادارے ہر دور اور ہر صورت میں موجود ہوں۔ بلدیاتی اداروں کیلئے مناسب اور مکمل نظام ہونا لازمی ہے کہ باربار بلدیاتی نظام تبدیل نہ ہوں۔فرض کریں کہ بلدیاتی اداروں کا دورانیہ چار سال ہو تو ہر لیپ سال کے اختتام پر یا مقررہ وقت پربلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ضلع ، تحصیل اور یونین کونسل سطح پر بلدیاتی ادارے ہوں۔یونین کونسل سطح پرغیر جماعتی جبکہ تحصیل اور ضلع سطح پر جماعتی بنیادوں پرانتخابات ہوں۔الیکشن کمیشن کا بھی فرض بنتا ہے کہ جو حکومت بلدیاتی الیکشن بروقت نہ کروائے تو حکومتی ممبران پر کچھ قدغن لگائے۔ جو حکومت پارٹی بلدیاتی الیکشن نہ کرائے توعوامی سطح پر بھی ایسی حکومت کی مذمت کرنی چاہیے۔حکومتوں کیلئے بلدیاتی حکومتیں ناگزیر قرار دی جائے۔اختیارات ہرصورت میں نچلی سطح پر منتقل ہوں کہ عوام اقتدار میں شامل ہو اورلوگوںکی محرومیوں کا ازالہ ہو ۔عوام کے مسائل حل ہوں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
٭…٭…٭

About the author

Khalid Khan

Khalid Khan

Leave a Comment

%d bloggers like this: