Maulana Muhammad Ilyas Ghuman Today's Columns

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اسلامی عقائد و نظریات از مولانا محمد الیاس گھمن

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اسلامی عقائد و نظریات

قرآن و سنت کی روشنی میں خاندانی تعارف، فضائل ومناقب، معجزات

اللہ تعالیٰ نے جن انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا ان میں ایک مبارک نام حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا بھی ہے۔ اہل اسلام کے ہاں آپ علیہ السلام قابل احترام نبی و رسول ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال 25 دسمبر کو عیسائی لوگ آپ کی پیدائش سے منسوب کرتے ہیں اور Merry Christmas کے نام سے عید مناتے ہیں۔ اس موقع پر اہل اسلام بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں بنیادی حقائق و نظریات جاننا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے مدلل اور جامع مضمون پیش خدمت ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خاندان:
آپ علیہ السلام کے نانا کا نام عمران ہے اسی سے سورۃ اٰلِ عمران ہے۔ سابقہ انبیاء علیہم السلام کی شریعت میں لوگ اپنی اولاد میں سیکسی ایک بیٹے کو دین کیلیے وقف کردیا کرتے تھے۔ان کی شریعت میں یہ جائز تھا باقی بیٹے دنیا کے کام کاج کرتے جبکہ ایک بیٹے کوخالص دین کیلیے وقف کر دیتے۔ حضرت عمران کی بیوی نیبھی اللہ تعالیٰ سے ایسی ہی سے منت مانی۔
مفہوم آیت: وہ واقعہ بھی یاد کریں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانی یعنی عمران کی بیوی نے کہا: اے اللہ! جومیرے پیٹ میں حمل ہے اگر یہ بیٹا پیدا ہوا تومیں منت مانتی ہوں کہ تیری راہ میں وقف کر دوں گی۔ میری نذر کو قبول فرمائیے! آپ ہی دعا کو سننے بول کرنے والے ہیں اور ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے والے ہیں۔(سورۃ اٰل عمران، رقم الآیۃ: 35)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانی امید سے تھیں کہ حضرت عمران فوت ہو گئیاس کے بعد حضرت مریم کی پیدائش ہوئی۔
حضرت مریم علیہا السلام کی پرورش:
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ان کو دودھ پلانے کے لیے دائی کا انتظام کیا گیا یا ان کو دودھ پلانے کی نوبت ہی نہیں آئی یہ بغیر دودھ پیے بچپن میں بڑھتی چلی گئیں۔ اس لیے قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بڑے اچھے طریقے سے پرورش کی یعنی بہت جلدجسم میں طاقت عطا فرمائی کہ اگر عام بچی کی ایک مہینے میں ایسی پرورش ہوتی ہے تو وہ ایک دن میں ایسی تھیں۔
حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت:
حضرت مریم کی والدہ اپنی بیٹی کو لیے بیت المقدس تشریف لے گئیں۔ وہاں علماء بنی اسرائیل موجود تھے اور حضرت زکریا علیہ السلام بھی موجود تھے۔ اگر مریم کے والد زندہ ہوتے،بیت المقدس کیامام تھے وہ خود اپنی بیٹی کی تربیت کرتے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی خواہش یہ تھی کہ حضرت مریم کی کفالت میں کروں کیونکہ آپ کی بیوی حضرت مریم کی خالہ تھیں جبکہ باقی علماء کی بھی یہی خواہش تھی کہ مریم کی کفالت کی سعادت انہیں مل جائے۔
حق کفالت میں جھگڑا:
مفہوم آیت: اور آپ ان لوگوں کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب وہ مریم کی حق کفالت کے لیے اپنی قلموں کو دریا میںڈال رہے تھے یعنی جس وقت وہ لوگ اس معاملے میں جھگڑ رہے تھے آپ وہاں موجود نہیں تھے۔(سورۃ اٰل عمران، رقم الآیۃ: 44)
حضرت زکریا علیہ السلام کے نام قرعہ:
’’جب حضرت مریم نذر میں قبول کرلی گئیں تو مسجد کے مجاورین میں جھگڑا ہوا کہ انہیں کس کی پرورش میں رکھا جائے، آخر قرعہ اندازی کی نوبت آئی سب نے اپنے اپنے قلم جن سے تورات لکھتے تھے چلتے پانی میں چھوڑ دیئے کہ جس کا قلم پانی کے بہاؤ پر نہ بہے بلکہ الٹا پھرجائے اسی کو حقدار سمجھیں۔ اس میں بھی قرعہ حضرت زکریا علیہ السلام کے نام نکلا اور حق حقدار کو پہنچ گیا۔‘‘(تفسیر عثمانی)
مریم علیہا السلام سے فرشتوں کی گفتگو:
مفہوم آیت: وہ وقت بھی قابلِ تذکرہ ہے کہ جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبولیت بخشی ہے، پاکیزگی عطا کی ہے اوراس زمانے کی دنیا بھر کی خواتین میں منتخب فرما کر فضیلت بخشی ہے۔اس لیے اے مریم!آپ اپنے رب کی اطاعت کرتی رہیں،اپنے رب کے حضور سجدہ کرتی رہیں اور رکوع کرتی رہیں ان لوگوں کے ساتھ جو رکوع کرنے والے ہیں۔ (سورۃ اٰل عمران، رقم الآیات:43،42)فائدہ: فرشتے کا کسی سے کلام کر لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ضرور نبی ہو گا۔
حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت:
حضرت مریم اپنے خالو حضرت زکریا علیہ السلام کی زیرِ تربیت آگئیں۔ حضرت مریم بہت چھوٹی عمر میں بلوغ تک پہنچی ہیں۔ ایک کمرہ تھا وہاں حضرت مریم کی رہائش رکھی گئی آپ دعوت وتبلیغ کے لیے تشریف لے جاتے واپس آ کر کھانا وغیرہ دیتے لیکن ایک بار حضرت مریم جس کمرے میں تھیں ا س کمرے کا جب دروازہ کھولا تو سامنے تازہ پھل نظر آئے، جن پھلوں کا وہ موسم نہیں تھا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے تعجب سے پوچھا: اے مریم تالا بندہے دروازے پہ تالا لگا ہے یہ پھل کہاں سے آئے؟ حضرت مریم نے جواب میں فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے آتے ہیں۔
مریم علیہا السلام کے سامنے فرشتے کا انسانی شکل میں ظہور:
مفہوم آیت: اور اس کتاب میں مریم کے اس واقعے کا تذکرہ بھی کریں جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک مشرقی جانب کے مکان میں تشریف لے گئیں اوریکسوئی سے عبادت کے لییاپنے اور لوگوں کے درمیان پردہ حائل کر دیا۔ اس موقع پر ہم نے مریم کے پاس ایک فرشتہ جبرئیل علیہ السلام بھیجا۔ جو اُن کے سامنے کے ایک مکمل انسان کی شکل و صورت میں ظاہر ہوا۔(سورۃ مریم، رقم الآیات:17،16)
حضرت مریم علیہا السلام کی پاکدامنی:
مفہوم آیت: مریم نے کہا میں تجھ سے خدائے رحمٰن کی پناہ چاہتی ہوں اگر تجھ میں کچھ بھی خدا خوفی ہیتو مجھ سے دور ہو جا۔(سورۃ مریم، رقم الآیۃ:18)فرشتوں کی عادت یہی ہے کہ وہ جب بھی انسانی صورت میں رونما ہوتے ہیں تو نہایت حسین و جمیل اور خوب صورت شکل میں آتے ہیں جیسا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے واقعے میں بھی یہ بات موجود ہے۔ اور یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مریم کی عفت و پاکدامنی کا امتحان مقصود ہو کہ وہ نہایت خوبصورت جوان کو دیکھ کر اپنی عفت و پاکدامنی کو کیسے بچاتی ہیں؟قرآن کریم نے حضرت مریم کی پاکدامنی اور عفت کی منظر کشی جن خوبصورت الفاظ سے کی ہے وہ ہر عفت مآب خاتون کے لیے عملی زندگی کا ایک سنہرا سبق ہے۔
حضرت مریم علیہا السلام کو بچے کی خوشخبری اور اظہارِ تعجب:
مفہوم آیت: فرشتے نے جواب دیا: میں تو آپ کے رب کا بھیجا ہوا ایک فرشتہ ہوں اور اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ کونسب، عادات و اخلاق کے اعتبار سے پاکیزہ لڑکا دوں۔ مریم نے ازراہِ تعجب کہا کہ مجھے لڑکا کیسے پیدا ہوگا حالانکہ میں نے اس کے جائز اسباب اختیار نہیں کیے یعنی مجھے جائز طریقے سیاس مقصد کے پیش نظر کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اور میں نے اس کے ناجائز اسباب بھی اختیار نہیں کیے یعنی میں بدکار عورت نہیں ہوں۔(سورۃ مریم، رقم الآیات:20،19)
اظہارِ قدرت کی تیسری صورت:
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسانوں کی پیدائش کے لیے جو عام ضابطہ بنایا ہے وہ یہ ہے کہ مرد و عورت کے باہمی جنسی ملاپ سے اولاد پیدا ہوتی ہے۔ اس ضابطے کو دینی اور معاشرتی رنگ دینے کے لیے ادیانِ عالم میں اپنے اپنے مذہبی احکامات کی روشنی میں نکاح کا حکم اور طریقہ موجود ہے۔ اس فطری ضابطے کی پابندی مخلوق کے لیے لازمی ہے،خالق کے لیے نہیں بلکہ وہ قادرِ مطلق ذات ہے اگر چاہے تو اسی نظام سے پیدا فرمائے اور چاہے تو والدین کے بغیر ہی پیدا فرما دے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ذات نے آدم علیہ السلام کومردا ور عورت دونوں کے بغیر تخلیق فرمایا۔ حضرت حوا کو بغیر عورت کے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔
حضرت مریم علیہا السلام امید سے ہو گئیں:
مفہوم آیت: حضرت مریم کو حمل ٹھہر گیا اور جب بچے کی ولادت کا وقت قریب آیا تووہ اس کو لیے ہوئے لوگوں سے دور الگ مقام پر چلی گئیں۔ پھرزچگی کے دردکی وجہ سے کھجور کے درخت کی طرف آئیں اور کہا: اے کاش!میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور مجھے ایسا بھلا دیا جاتا کہ کسی کو کچھ یاد ہی نہ رہتا۔(سورۃ مریم، رقم الآیات:23،22)
حضرت مریم علیہا السلام کو تسلی:
مفہوم آیت: حضرت جبرئیل نے نیچے ایک جگہ سے آواز دے کر کہا: غم نہ کرو آپ کے رب نے آپ کے نیچے کی جانب ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ اس سے تم پر پکی ہوئی تازہ کھجوریں جھڑیں گی۔اب اس درخت سے کھاؤاورپانی پیو اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔(سورۃ مریم، رقم الآیات:25،24)
حضرت مریم علیہا السلام کی منت:
مفہوم آیت: اور ہاں اگر کسی کواعتراض کرنے کے لیے اپنی طر ف آتا ہوا دیکھو تواشارے سے کہہ دینا کہ میں نے اللہ کے لیے چپ کے روزے کی منت مانی ہے اس لیے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔(سورۃ مریم، رقم الآیۃ: 26)فائدہ:چپ کا روزہ رکھنا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں منسوخ قرار دیا گیا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت:
مفہوم آیت: پھر مریم اپنے بیٹے عیسیٰ کو گود میں لیے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں قوم کے لوگوں نے کہا اے مریم!تم نے بہت بڑی غلط حرکت کی۔ اے ہارون کی بہن نہ تیرے والد برے آدمی تھے اور نہ ہی تیری والدہ کوئی بدکار عورت تھی۔ مریم نے چپکے سے بچے کی طرف اشارہ کیاکہ مجھ سے نہیں بلکہ اس نومولود بچے سے پوچھوجس پروہ لوگ کہنے لگے: بھلا ہم ایسے بچے سے کیسے پوچھ تاچھ کر سکتے ہیں جو ابھی گود میں ہے۔(سورۃ مریم، رقم الآیات:27تا 29)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابتدائی گفتگو:
مفہوم آیات: وہ بچہ خود ہی بول اٹھا کہ میں اللہ کا خاص بندہ ہوں اس نے مجھ کو کتاب انجیل دی ہے اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔ اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے بابرکت انسان بنادیا ہے یعنی مخلوق خدا کو مجھ سے دین کا نفع پہنچے گااور جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہوں اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہیاور مجھ کو میری والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا جس دن مجھے موت آئے گی اور جس روز میں قیامت کے دن زندہ ہونے کی حالت میںدوبارہ اٹھایا جاؤں گا۔ یہی ہیں عیسیٰ بن مریم جس میں لوگ جھگڑا کر رہے ہیں میں اس سے متعلق بالکل سچی بات کہہ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی شان کیقطعاً یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے بلکہ وہ اس سے بالکل ہر طرح سے پاک ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو بس حکم دیتا ہے کہ ہو جا!تو وہ کام اسی وقت ہو جاتا ہے۔ یقیناً میرا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہے اس لیے اسی ہی کی عبادت کرو یہی دین پر چل کر جنت جانے کاسیدھا راستہ ہے۔(سورۃ مریم، رقم الآیات:30 تا 36)
پہلا معجزہ …بغیر باپ کے پیدا ہونا:
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام جیسا قرار دیا گیا ہے جس طرح حضرت آدم علیہ السلام بغیر باپ اور ماں کے پیدا ہوئے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بغیر باپ کے حضرت مریم علیہاالسلام سے پیدا ہوئے۔
دوسرا معجزہ… نومولودگی کی حالت میں کلام کرنا:
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابتدائی گفتگو اس حالت میں ہوئی کہ آپ نومولود تھے یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ کچھ بولنے پر قادر نہیں ہوتا آپ نے اسی عمر میں فصیح و بلیغ کلام فرمایا ہے۔
تیسرا معجزہ…مٹی سے پرندہ بنا کر اللہ کے حکم سے زندہ کرنا:
قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں ایک بات بھی ذکر فرمائی ہے کہ آپ مٹی سے ایک پرندے کی شکل بناتے پھر اس میں پھونک مارتے اور وہ پرندہ اللہ کے حکم سے جیتا جاگتا پرندہ بن جاتا۔
چوتھا معجزہ…پیدائشی اندھے کی بینائی لوٹانا:
قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں ایک بات بھی ذکر فرمائی ہے کہ آپ مادرزادپیدائشی لاعلاج اندھے پر ہاتھ پھیرتے تو اللہ کے حکم سے اس کی بینائی آجاتی۔
پانچواں معجزہ…برص والے مریض کو صحت یاب کرنا:
قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں ایک بات بھی ذکر فرمائی ہے کہ آپ برص والے لاعلاج مریض پر ہاتھ پھیرتے تو وہ اللہ کے حکم سے تندرست ہوجاتا۔
چھٹا معجزہ…مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا:
قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں ایک بات یہ بھی ذکر فرمائی ہے کہ آپ مردوں کو مخاطب کر کے فرماتے کہ اللہ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ تو وہ زندہ ہوجاتے تھے۔
ساتواں معجزہ…بغیر دیکھے کھائی اور ذخیرہ کی ہوئی چیزوں کی خبر دینا:
قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں ایک بات بھی ذکر فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کو یہ بتلا دیتے تھے کہ تم کون سی چیز کھا کر آئے ہو اور کون سی چیز گھر میں ذخیرہ کر کے آئے ہو۔
آٹھواں معجزہ… پکے پکائے کھانوں کا دسترخوان اترنا:
قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں ایک بات بھی ذکر فرمائی ہے کہ آپ نے دعا فرمائی کہ آسمانوں سے پکے پکائے کھانوں کا دسترخوان نازل فرما۔ حدیث مبارک میں ہے کہ وہ دسترخوان نازل بھی ہوا۔
آمدِ مصطفی کی عیسوی بشارت:
مفہوم آیت: اوروہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہیکہ جب حضرت عیسیٰ بن مریم نے اپنی قوم سے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں، کہ مجھ سے پہلے جوآسمانی کتاب تورات آ چکی ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں،اور میں ایک عظیم المرتبت رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعدتشریف لائیں گے، جن کا نام احمد ہوگا۔پھر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو کھلم کھلا جادو ہے۔(سورۃ الصف، رقم الآیۃ: 6)اس آیت مبارکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس رسول کی آمد کی خوشخبری دی ہے اس سے مراد حضور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
انجیل یوحنا کی گواہی:
’’احمد‘‘ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسی نام سے آپ کی بشارت دی تھی۔ اس قسم کی ایک بشارت آج بھی انجیل یوحنا میں تحریف شدہ حالت میں موجود ہے۔ انجیل یوحنا کی عبارت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں سے فرمایا: ’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔(یوحنا: 16) یہاں جس لفظ کا ترجمہ مددگار کیا گیا ہے وہ اصل یونانی میں ’’فار قلیط‘‘ (Periclytos) تھا جس کے معنی ہیں ’’قابل تعریف شخص‘‘ اور یہ ’’احمد‘‘ کا لفظی ترجمہ ہے لیکن اس لفظ کو ’’Paracletus‘‘ سے بدل دیا گیا ہے، جس کا ترجمہ ’’مددگار‘‘ اور بعض تراجم میں ’’وکیل‘‘ یا ’’شفیع‘‘ کیا گیا ہے۔ اگر ’’فارقلیط‘‘ کا لفظ مد نظر رکھا جائے تو صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ ’’وہ تمہارے پاس اس قابل تعریف شخص (احمد) کو بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا‘‘ اس میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی خاص علاقے یا کسی خاص زمانے کے لیے نہیں ہوں گے، بلکہ آپ کی نبوت قیامت تک آنے والے ہر زمانے کے لیے ہوگی۔ نیز برنا باس کی انجیل میں کئی مقامات پر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارتیں موجود ہیں۔ اگرچہ عیسائی مذہب والے اس انجیل کو معتبر نہیں مانتے، لیکن ہمارے نزدیک وہ ان چاروں انجیلوں سے زیادہ مستند ہے جنہیں عیسائی مذہب میں معتبر مانا گیا ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی، سورۃ الصف، رقم الآیۃ:6)
نواں معجزہ…آپ کا زندہ حالت میں آسمان پر اٹھایا جانا:
قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں ایک بات بھی ذکر فرمائی ہے کہ آپ کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنے دین حق کی تبلیغ شروع فرمائی تو یہودی لوگوں نے اسے اچھا نہ سمجھا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے پہلے لوگوں کا رجحان یہودیوں کی طرف تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے اس رجحان میں کمی آئی تو وہ لوگ حسد کا شکار ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن بن گئے۔ قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں کی طرف اٹھا لیا۔
مفہوم آیات: اور یہودیوں نے کفر اختیار کیا اور حضرت مریم پرالعیاذ باللہ۔ ناجائز جنسی تعلقات کا بہت بڑا بہتان لگایا۔اور یہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ غلط کہتے ہیںحالانکہ نہ تو انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا تھا اور نہ ہی سولی دے پائے تھے بلکہ انہیں اشتباہ ہو گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس میں شک کا شکار ہوئے ہیں۔ انہیں محض گمان کی اتباع کے حقائق پر مبنی باتوں کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔ یقیناًوہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر پائے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ اپنے پاس آسمانوں کی طرف اٹھالیا اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب اقتدار اور حکمت والا ہے۔(سورۃ النساء، رقم الآیات: 158،157)
اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانے کا مطلب:
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت فرقہ مُشَبِّہ کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس آیت مبارکہ میں رفع سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں اللہ کے علاوہ کسی اور کاظاہری طور پر بھی حکم نہیں چلتا۔(تفسیر الرازی،تحت قولہ تعالیٰ بل رفعہ اللہ الیہ)
دسواں معجزہ…قرب قیامت دوبارہ نازل ہونا:
قرب قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان سے نازل ہوں گے۔ دجال کا خروج ہو چکا ہوگا اور امام مہدی دمشق کی جامع مسجد میں نمازِ فجر کے لیے تیاری میں ہوں گے۔ اسی دوران حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے جامع مسجد کے مشرقی مینار پر دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے اورنماز سے فراغت کے بعد امام مہدی کی معیت میں دجال پر چڑھائی کریں گے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سانس میں یہ تاثیر ہو گی کہ کافر اس کی تاب نہ لا سکے گا،جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نظر جائے گی وہاں تک آپ کا سانس پہنچے گا اس سانس کے پہنچتے ہی کافر مر تے جائیں گے۔ دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی ایسا پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا تعاقب کریں گے اور ’’باب لُد‘‘پر جا کر اس کواپنے نیز ہ سے قتل کریں گے اور اس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔ اس کے بعد لشکر اسلام دجال کے لشکر کا مقابلہ کرے گا۔ اس لشکر میں جو یہودی ہوں گے مسلمانوں کا لشکر ان کو خوب قتل کرے گا۔ اس طرح زمین دجال اور یہود کے ناپاک وجود سے پاک ہوجائے گی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں مجھ ابوالقاسم کی جان ہے۔قرب قیامت حضرت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اس وقت آپ کی حیثیت یہ ہوگی کہ آپ اہل ایمان کے امام ہوں گے ان کے درمیان انصاف کرنے والے ہوں گے آپ ہی ان کے فیصلے فرمائیں گے اور عدل کو قائم کرنے والے ہوں گے۔ صلیب(عیسائیوں کادینی شعار) کو توڑ دیں گے(عیسائیت کو ختم کریں گے)خنزیر کو قتل کر دیں گے(یہودیت کو ختم کر یں گے)اہل ایمان کی آپس کی دشمنیاں ختم کرائیں گے اور حسد / بغض کو ختم کرائیں گے۔ آپ کو مال کی پیش کش کی جائے گی لیکن آپ اسے قبول نہیں فرمائیں گے پھر وہ)مدینہ طیبہ میں (میری قبر پر تشریف لائیں گے اور آکر مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں گے اے محمد!تو میں ان کو جواب دوں گا۔(مسند ابی یعلیٰ،رقم الحدیث: 6577)
روضہ اقدس میں عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی جگہ موجود ہے:
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تورات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس میں آپ کے قریب ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دفن کیا جائے گا۔ ابو مودود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روضہ مبارکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دفن ہونے کی جگہ اب بھی موجود ہے۔(جامع الترمذی، رقم الحدیث:3617)
مدینہ طیبہ …روضہ مطہرہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام قرب قیامت آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، نکاح کریں گے ان کی اولاد ہوگی دنیا میں ان کی مدت قیام پنتالیس 45 سال ہوگی پھرقرب قیامت کے اسی زمانے میں آپ کی وفات ہوگی میرے روضہ میں میرے ساتھ دفن کیے جائیں گے اور قیامت والے دن میں اور عیسیٰ بن مریم دونوں ایک ہی مقبرے سے ابو بکراور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ باہر آئیں گے۔(مشکوٰۃ المصابیح،رقم الحدیث:5508 )
قیامت والے دن عیسیٰ علیہ السلام کی بارگاہِ خداوندی میں گفتگو:
مفہوم آیات: اور جب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے عیسیٰ بن مریم!کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے علاوہ مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ؟ وہ عرض کریں گے کہ میں تو آپ کی ذات والا صفات کو شرک سے پاک سمجھتا ہوں۔ بھلا میری کیا مجال کہ میں ایسی بات کہوں؟جس کے کہنے کا مجھے کسی طرح حق نہیں۔ اگر واقعی میں نے ایسی بات کی ہوتی تو یقیناً آپ کے علم میں ضرور ہوتی کیونکہ آپ تو وہ باتیں بھی جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہوتی ہیں جبکہ میں آپ کی مخفی باتوں کو نہیں جانتا۔ یقینا آپ کو تمام چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے۔میں نے ان لوگوں سے اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہی جس بات کہنے کا آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا اور وہ بات یہ تھی کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ ہاں جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا میں ان کے حالات سے واقف رہا اور جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ خود ان کے نگران تھے اور آپ کی ذات تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ اگر آپ ان کو سزا دیں تو آپ کو حق ہے کیونکہ وہ آپ بندے ہیں اور اگر آپ انہیں معاف فرما دیں تو آپ کا اقتدار بھی کامل درجے کا ہے، حکمت بھی کامل درجے کی ہے۔(سورۃ المائدۃ)اللہ تعالیٰ ہمیں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے باہمی فرق مراتب کو ملحوظ رکھ کر ان پر بلاتفریق ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کی مشترکہ دعوت کو صحیح معنوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

٭…٭…٭

About the author

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

Leave a Comment

%d bloggers like this: