Dr Jamshaid Nazar Today's Columns

تارکین وطن کا عالمی دن اور انکے بنیادی حقوق از ڈاکٹر جمشید نظر ( نظر کے سامنے )

Dr Jamshaid Nazar
Written by Dr Jamshaid Nazar

وزیر اعظم عمران خان نے اسی سال اگست میں ”روشن اپنا گھر پروگرام“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوے لاکھ پاکستانی تارکین وطن ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی تارکین وطن کے پاس پاکستان کی جی ڈی پی کے برابر پیسہ موجود ہے جسے ملکی سرمایہ کاری میں شامل کرکے ترقی کی شرح میں پائیداری لائی جاسکتی ہے۔یہ بات حقیقت ہے کہ تارکین وطن کسی بھی ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اس کے باوجوددنیا بھر میں تارکین وطن استحصالی طرز عمل کا شکار رہتے ہیں،اکثرانھیں تعصب کی بھینٹ چڑھادیا جاتا ہے۔

تارکین وطن معاشی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں پہلے درجے کے شہریوں کی حقارت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔اکثر تارکین وطن کے لئے ایک عمومی اصطلاح ”مہاجر“ استعمال کی جاتی ہے جوکہ غلط ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق تارکین وطن اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کام کی تلاش اورتعلیم کے حصول کے لئے کسی دوسرے ملک میں جابستے ہیں جبکہ مہاجرین مسلح تصادم یا ظلم وستم سے متاثر ہونے والے افراد ہوتے ہیں، ان کے حالات اکثر بہت خطرناک اور ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں جس کی بناء پر وہ کسی دوسرے ملک میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔مہاجرین کو بین الاقوامی سرحد عبور کر کے اپنے ہمسایہ یا قریبی ممالک میں اپنے تحفظ کی غرض سے جا نا پڑتا ہے۔ اس طرح وہ مختلف ممالک، یو این ایچ سی آر اور دیگر تنظیموں کی امداد تک رسائی کے ساتھ بین الاقوامی طور پر مہاجر ین تسلیم کئے جاتے ہیں۔اس لئے تارکین وطن اور مہاجر ین میں فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے اسی بنیادی فرق کی وجہ سے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تارکین وطن اور مہاجرین کے حوالے سے الگ الگ عالمی دن منایا جاتا ہے۔

مہاجرین اور تارکین وطن کا ایک اور بنیادی فرق اس بات سے بھی واضح ہوسکتا ہے کہ تارکین وطن اپنی مرضی سے واپس اپنے ملک آسکتے ہیں جبکہ مہاجرین کویہ اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

دنیا میں تارکین وطن کی بڑھتی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے4 دسمبر 2000 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 دسمبر کو بین الاقوامی تارکین وطن کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔اس سے قبل 1990 میں، اسمبلی نے تمام تارکین وطن کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کو اپنایا۔ 14 اور 15 ستمبر 2006 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین الاقوامی ہجرت اور ترقی کے بارے میں عالمی سطح کے ایک ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جس میں 132 ممالک نے حصہ لیا۔اس موقع پرتمام ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی نقل مکانی ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے اور یہ اصل ممالک اور منزل مقصود کے ممالک کی ترقی میں مثبت شراکت دے سکتا ہے لیکن اس کے لئے ٹھوس اور پائیدار پالیسیوں پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی ہجرت کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کے لئے تمام تارکین وطن کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام ضروری ہے۔اس موقع پر دو طرفہ علاقائی اور عالمی سطح پر بین الاقوامی ہجرت پر بین الاقوامی تعاون کو مستحکم کرنے کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا۔

اسی بناء پر ہرسال تارکین وطن کا عالمی دن 18 دسمبر کو منایا جانے لگا تاکہ تارکین وطن کی خدمات اور حقوق سے متعلق شعورکو اجاگر اور عالمی سطح پر تارک وطن کو درپیش مسائل کا ازالہ کیا جاسکے۔موجودہ سال اس عالمی دن کا تھیم ہے ”انسانی نقل و حرکت کی صلاحیت کو بروئے کار لانا۔“

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے افراد اپنی پسند سے اور بہت سے لوگ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی خاطر ہجرت کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2019 میں، عالمی سطح پر تارکین وطن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 272 ملین تھی جو 2010 کے مقابلے میں 51 ملین زیادہ تھی۔حالیہ رپورٹ کے مطابق سن2020 ء میں تقریباً 281 ملین افراد بین الاقوامی تارکین وطن تھے جو کہ عالمی آبادی کا 3.6 فیصد ہیں۔

پاکستان سے 1960ء کی دہائی میں اپنا ذریعہ معاش بہتر بنانے کے خیال سے بڑی تعداد میں لوگ ترک وطن کر کے یورپ و دیگر ترقی یافتہ علاقوں میں آباد ہونا شروع ہوئے۔حالیہ جائزے کے مطابق تاحال سمندر پار پاکستانیوں کی مجموعی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے جو سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں زیادہ ہے۔ اس کے بعد برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، یونان، اٹلی، اسپین، روس، فرانس، جرمنی، ناروے، ڈنمارک، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائشیا اور جنوبی افریقہ میں پاکستانی ورکرز اور تارکین وطن پھیلے ہوئے ہیں۔

پاکستانی ورکرز کو دیار غیر میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رہتا ہے۔ وہ پاکستانی جو اپنا وطن اور سب کچھ پیچھے چھوڑ کر ملازمت کی تلاش یا اچھی زندگی کی تلاش میں دیار غیر میں پناہ لیتے ہیں ان میں زیادہ تر کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تارکین وطن جس ملک میں جاکر بستے ہیں،نہ صرف اس ملک کے لئے بلکہ اپنے آبائی ملک کی ترقی کے لئے بھی اہم کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔دنیا کے بہت سے ممالک نے تارکین وطن کے ہنر،تعلیم،محنت مزدوری سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی ہے اور ابھی بھی کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے تارکین وطن کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی پرممبر ممالک پر زور دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک نے تارکین وطن کو شہریت دینے کے قوانین میں ترمیم کی ہے۔

اسی حوالے سے متحدہ عرب امارات اپنے ہاں مروج شہریت کے قوانین میں ترامیم کی ہیں جس کے تحت مختلف شرائط پر پورا اترنے والے غیرملکی تارکین وطن کو اب یو اے ای کی شہریت دی جاسکے گی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ترمیمی ضوابط کے مطابق اب سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، پیشہ ور حضرات اور خصوصی ٹیلنٹ کے حامل افراد کو یو اے ای کی شہریت دی جاسکے گی۔

تارکین وطن جواپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی دوسرے ملک کی ترقی کے لئے کام کرتے ہیں ایسے افرادکو استحصال کا نشانہ بنانے کی بجائے انھیں نمایاں مقام اور بنیادی حقوق فراہم کرنے کے لئے عالمی قوانین میں ترمیم ہونی چاہیے۔

٭…٭…٭

About the author

Dr Jamshaid Nazar

Dr Jamshaid Nazar

Leave a Comment

%d bloggers like this: