Today's Columns

توجہ طلب مسائل نظر انداز کیوں؟ از ملک نیاز احمد ( تلخ حقائق )

سیاست خدمت کا نام ہے اور خدمت ترقی سے مشروط ہے پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے ماڈل صوبہ بننے کی طرف قدم بہ قدم گامزن ہے۔ شہروں میں آبادی اور ٹریفک کے بے پناہ دبائو کو مد نظر رکھتے ہئوے نئے ترقیاتی منصوبے ناگزیر ہیں اور عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پسماندہ اضلاع کی ڈویلپمنٹ پر بھی خصوصٰ توجہ دے رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ کاروز اول سے یہی موقف ہے کہ میں پنجاب کے ہر علاقے کی یکساں ترقی کے ویژن پر یقین رکھتا ہوں اور ہمارے دور حکومت میں کوئی شہر یا قصہ ڈویلپمنٹ سے محروم نہیں رہے گا۔ ترقی عوام کی دہلیز پر دستک دے گی ، سڑکوں کی تعمیر و مرمت سمیت درجنوں منصوبے پ اکستان تحریک انصاف کی حکومت میں پایا تکمیل کو پہنچ رہے ہیں کیونکہ ترقی ہر شہر اور دیہات کا حق ہے ، ہر شہری اور دیہاتی کا بھی ۔صوبہ کے تمام علاقوں میں اربوں روپے کی ترقیاتی سکیمیں تیزی سے جاری ہیں اس کے باوجود بھی اہم شاہراہوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ میں حکومت کی توجہ ساہیوال، اوکاڑہ اور پاکپتن تین اضلاع کو ملانے والی تقریباً 100کلو میٹر پر مشتمل سڑک کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں ۔ ساہیوال براستہ ملگدا چوک اور بونگہ حیات سے حویلی لکھا سے لے کر ہیڈ سلیمانکی تک جاتی ہے جو پچھلے 15سال سے خستہ حالی کا شکار ہے جس میں بڑے بڑے گھڑے پڑنے کی وجہ سے حادثات اور چوری ڈکیتی آئے روز کا معمول بن گئے ہیں۔ مذکورہ سڑک پر روزانہ کے حساب سے ہزاروں لوگوں کی آمد و رفت جاری ہے منٹوں کا سفر گھٹنوں میں طے ہوتا ہے۔ یہ سڑک تین اضلاع کو ملانے میں مین رابطہ سڑک کاکردار ادا کرتی ہے ۔ سابق وفاقی وزیر میں غلام محمد احمد خاں مانیکا کی کاوشوں سے سنگل روڈ کے طور پر تعمیر کی گئی تھی بعد میں سابق صوبائی وزیر میاں عطاء محمد مانیکا نے اسے ڈبل روڈ بنوانے میں اپنا کردار ادا کیا جس پر روزانہ ہزاروں افراد کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا ۔ مذکورہ سڑک کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے اور بڑے بڑے گڑھے پڑنے کی وجہ سے لوگوں کی آمدورفت میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ چند ماہ قبل وزیراعظم عمران خان کی ساہیوال آمد پر علاقہ فائیوایل کی عوام نے احتجاجاً وزیراعظم کی توجہ اس سڑک کی طرف مبذول کرائی جس کی از سرِ نو تعمیر کا وعدہ کیاگیا مگر پایا تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ 100کلو میٹر کے فاصلہ پر مشتمل یہ سڑک سابق وفاقی وزیر چوہدری نوریز شکور، موجودہ (ن) لیگ کے ایم این اے صاحبزادہ سید عمران احمد ولی، پی ٹی آئی کے اوکاڑہ سے ٹکٹ ہولڈر رائو حسن سکندر اور پاکپتن سے (ن) لیگ کے ایم این اے احمد رضان خاں مانیکا اور پی ٹی آئی کے موجودہ ایم پی اے میاں فرخ ممتاز مانیکا کے حلقہ جات سے ہوتی ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے حلقہ حویلی لکھا اور ہیڈ سلیمانکی تک جاتی ہے۔ اتنے بڑے بڑے نامور سیاستدان اور وزراء کے ہوتے ہوئے ایک اہم شاہراہ جو خستہ حالی کا شکار ہے بڑے بڑے گڑھے پڑنے کی وجہ سے عوام ذلیل و خوار ہورہی ہے جس کی طرف توجہ نہ دینا ایک سوالیہ نشان ہے ۔ اس کے علاوہ حلقہ پی پی 188وکاڑہ میں موجودہ دور حکومت میں ایک ٹکے کا بھی تعمیری کام نہیں ہوا ۔ ایک اینٹ تک نہیں لگائی گئی ، علاقہ شاھبور سے اوکاڑہ براستہ طبروق جانے والی سڑک شاہ بھور سے 25ہیڈ پل تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور حادثات کا باعث بن رہی ہے۔ اوکاڑہ کینٹ سے گیمبر جانے والی سڑک میں بھی بڑے بڑے گڑھے پرے ہوئے ہیں۔ ملگدا چوک سے پاکتن جانے والی سڑک نوتھیں بودلہ سے لے کر خشک بیاس پل تک کھنڈرات بن چکی ہے اور پل خشک بیاس کی حالد دیکھی جائے تو وہ خستہ حالت کی وجہ سے کسی بھی وقت کسی بڑے حادثہ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ توسڑکوں کی حالت زار دیگر مسائل تو بعد کی بات ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح مذکورہ مسائل اور ٹوٹی سڑکوں کی طرف فوری توجہ دے کر ان کی تعمیر نو کروائے تاکہ ہزاروں لوگوں کی آمدورفت میں مشکلات پیش نہ ہوں۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: