Malik Muhammad Aslam Awan Today's Columns

تاریخ کے اوراق از ملک محمد اسلم اعوان ( قلم کاریاں )

Malik Muhammad Aslam Awan

تاریخ کا کوئی صفحہ کبھی کسی دن خالی نہیں رہتا اسی طرح انسانی زندگی کا کوئی دن خالی نہیں رہتا کہ لوح محفوظ پر اس کے اچھے یا برے اعمال ریکارڈ پر نہ آئیں۔ سانس لینا ایک قدرتی عمل ہے مگر انسان بے بس ہے۔ اسقدر بے بس کہ اندر جانے والا سانس خدا کے حکم کے بغیر باہر نہیں آ سکتا۔
مگر کچھ معاملات زندگی انسان کے بس میں دے دیئے گئے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ منفی پہلو سے کرے گا تو لوح محفوظ پر گناہ میں شمار ہو گا۔ مثبت انداز میں کرے گا تو ثواب میں شمار ہو گا جس کی سزا ، جزا اسے ہر حالت میں ملے گی۔ انسان پر لازم ہے کہ سانس اندر ہونے اور باہر نکلنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اپنی رحمت کبریائی سے اسے زندہ رکھا ہوا ہے مگر رحمت کبریائی کا شکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کرنا اور اعمال بد سے بچنا۔
تاریخ عالم میں دو قسم کے کردار روز اول سے موجود ہیں ایک نیک اور دوسرے شیطانی اعمال کرنے والے ، میر جعفر اور میر صادق برائی کے دو ایسے ہرکارے ہیں جو اپنی منفی چالیں چلتے ہوئے مکاری ، عیاری کی انتہاء کو پہنچے اور تاریخ عالم میں بدنمائی کے دھبے اور رذیل حوالے کے طور پر جانے جائیں گے۔ طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم، موسیٰ بن نصیر۔ صلاح الدین ایوبی نیک نامی اور خدائی احکامات کی تعمیل کا ایسا مرقع تھے کہ اگر ان تمام ہیروز کے جذبہ جہاد اور خدمت انسانی کو ایک گلدستہ میں رکھا جائے تو قوس و قزح کے رنگوں کا خوشنما امتزاج بن کر پورے عالم کو اپنی ضوفشانی سے منور کر دیں گے۔
قارئین خوب جانتے ہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے طفیل وجود میں آیا۔ الحمد اللہ اب پاکستان نیو کلیئر پاور ہے اور اپنے وجود کی کماحقہ حفاظت کر سکتا ہے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی انتھک محنت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اور انکی ٹیم کو سرخرو کیا اور پاکستان نیو کلیئر پاور بن گیا۔ دشمن ممالک جو کہ پاکستان کو ترنوالہ سمجھتے تھے کے مذموم خوابوں کے محل زمین بوس ہو گئے۔ اب ان دشمنوں کو پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا مہنگا پڑ سکتا ہے اور ان کا وجود چشم زون میں حرف غلط کی طرح مٹ جائیگا۔ ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ ہم نے ایسا سلوک کیا جیسے وہ اسلامک بم کے خالق نہیں پاکستان کے سب سے بڑے مجرم ہوں۔ ان کا اپنا شعر ہماری معاشرتی بے حسی اور جبر پر صادق آتا ہے۔
عمر تو تیری خیر گذر ہی گئی ہے قدیر
ستم ظریف ، مگر کوفیوں میں گزری ہے
جہاں وطن کے سپوت دن رات اسکی حفاظت میں سر گرم عمل ہیں۔ وہاں بد باطن گروہ پاک وطن کی سلامتی کے خلاف ہر وقت مصروف عمل ہیں۔ پاکستان کو ببانگ دہل نقصان پہنچانا تو ان کے لئے نا ممکن ہے۔ انہوں نے اپنی خباثت کے نئے خفیہ راستے اپنا لئے ہیں۔ مثلاً اسکی نظریاتی اساس کے خلاف مکروہ پراپیگنڈہ کرنا اسکی نظریاتی اساس کو کمزور کرنے کیلئے اسکے وسائل لوٹنا ، ملکی دولت لوٹ کر منی لانڈرنگ کر کے دولت کا غیر ممالک ارتکاز کر کے ان ممالک کی معیشت کو طاقتور کرنا اور پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنا ان کا اولین مشن ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ تاریخ کا سفر جاری ہے۔ تاریخ کے اوراق روزانہ لکھے جا رہے ہیں۔ تاریخ کی صورت میں بھی اور نامہ اعمال کی صورت میں بھی۔ تاریخ کے بڑے گواہ اور شارح صحافی حضرات ہیں۔
صحافیوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ تاریخ کو غیر جانبداری سے قلمبند کریں مکروہ اور غلیظ کرداروں کو کبھی بھی ایماندار ہیرو کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ مجرم کو مجرم اور وفادار کو وفادار کے طور پر پیش کریں۔ جانبدارانہ صحافت دراصل پیشہ ورانہ بددیانتی ہے۔ لازم ہے کہ ہم تاریخ میں نامہ اعمال کو غیر ضروری طور پر کلر پینٹ نہ کریں ۔ ہیرو کو ہیرو اور زیرو کو زیرو ہی رہنے دیں۔ لوح محفوظ پر ہر نیک اور بد اعمال محفوظ ہو رہے ہیں۔ جن کی جزا اور سزا روز محشر ضرور ملے گی۔

٭…٭…٭

About the author

Malik Muhammad Aslam Awan

Malik Muhammad Aslam Awan

Leave a Comment

%d bloggers like this: