Today's Columns

لیڈر کیسا ہو؟ از سید کاشف علی شاہ

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا لیڈر ملے جو عمدہ اور دل پذیر گفتگو نہ کرسکتا ہو۔ اچھی گفتگو ہر لیڈر کی ضرورت ہے۔ یہ ایک طاقت ہے۔ دنیا میں جتنے بھی اللہ کے رسول اور پیغمبر آئے سب کے سب بہترین گفتگو کی صلاحیت سے مالا مال تھے، ماتحتوں سے کام لینا بھی ایک فن ہے۔ کامیاب لیڈر وہ ہوتا ہے جو ماتحتوں سے کام لینا جانتا ہو،دوسروں سے کام لیناآپ نے مشہور امریکی صدر ولسن کا نام تو سنا ہی ہوگا۔ وہ پہلی جنگ عظیم سے قبل امریکا کے صدر رہے۔ ان کی محنت کا یہ عالم ہوتا کہ ساری ساری رات گزار کر دستاویزات پڑھتے۔ انہیں اپنے دور میں امریکا کا سب سے محنتی شخص بھی کہا جاتا تھا۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بڑا دلچسپ ہے۔ ولسن یہ بھی تو کرسکتا تھا کہ اپنے ساتھ بااعتماد اسٹاف رکھتا۔ ہر ہر دستاویز خود پڑھنے کے بجائے اپنے اسٹاف کی ڈیوٹی لگاتا۔ جو وقت وہ معاہدات پڑھنے میں صرف کرتا، وہ وقت ملک و قوم کی خاطر نت نئے منصوبے بناتے اور سوچ بچار کرتے گزارتا۔ ماتحتوں سے کام لینا بھی ایک فن ہے۔ کامیاب لیڈر وہ ہوتا ہے جو ماتحتوں سے کام لینا جانتا ہو۔ ڈیوڈ لائیڈ جارج برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ انہیں ایک مثالی لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ چوبیس گھنٹے کام کرتے تھے۔ یہ بھی نہیں کہ حکومتی کاموں کی وجہ سے وہ بیوی بچوں اور دوستوں سے دور ہوگئے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت ماتحتوں سے کام نکلوانا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دفتر میں چھ گھنٹے گزار کر اتنا کام کرجاتے تھے جتنا عام آدمی ایک ماہ میں کرپاتا تھا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ان کی صلاحیت تھی۔ وہ اپنے ماتحتوں سے کام نکلوانا جانتے تھے۔ آپ کسی دفتر میں ہوں، کسی عہدے پر ہوں یا گھر میں ہر جگہ آپ کو دوسروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ جب تک دوسروں سے کام لینا نہیں جانتے، تب تک آپ کارکردگی نہیں دکھا پاتے۔ دل پذیر گفتگودنیا میں شاید ہی کوئی ایسا لیڈر ملے جو عمدہ اور دل پذیر گفتگو نہ کرسکتا ہو۔ اچھی گفتگو ہر لیڈر کی ضرورت ہے۔ یہ ایک طاقت ہے۔ دنیا میں جتنے بھی اللہ کے رسول اور پیغمبر آئے سب کے سب بہترین گفتگو کی صلاحیت سے مالا مال تھے۔ دنیا میں تبدیلی لانے والے سب ملکوں کے سربراہ بھی اسی صلاحیت کے بل پر آگے بڑھے۔ابراہیم لنکن کو امریکا کا نجات دہندہ کہا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ لنکن نے ہی ریاست ہائے متحدہ امریکا کو عالمی سپر پاور امریکا بنایا۔ وہ ایک کرشماتی لیڈر تھا۔ کہنے کو تو اس نے ایک خانہ جنگی شروع کی مگر اس خانہ جنگی نے امریکا سے غلامی کا خاتمہ کردیا۔ ایک لمحہ ایسا آیا جب لنکن کا سب کچھ لٹ چکا تھا۔ خانہ جنگی کے دوران فوج نے کشتوں کے پشتے لگادیے۔ لنکن کے ساتھی دل شکستہ، افسردہ اور پژمردہ ہوچکے تھے۔ انہیں نظر آرہا تھا کہ اب امریکا سے غلامی کا دور ختم کرنا ناممکن ہے۔ مگر لنکن نے ایک حیرت انگیز اقدام کیا۔ جس جگہ پر سب سے زیادہ باغی مارے گئے تھے، وہاں لنکن نے سب کو جمع کیا۔ سب جمع ہوگئے تو لنکن اسٹیج پر آیا۔ اس نے صرف دو منٹ تقریر کی۔ مگر اس دومنٹ نے امریکا بلکہ دنیا کا مستقبل تبدیل کردیا۔ 1863 میں ہونے والی اس تقریر کو آج بھی دنیا کی بہترین تقریر کہا جاتا ہے۔ دو منٹ نے تاریخ بدل دی۔ باغی ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کا ایک ہی نعرہ تھا کہ سب انسان برابر ہیں۔ غلامی ختم کرکے دم لیں گے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ لنکن کامیاب ہوگیا۔ اچھا لیڈر ہمیشہ گفتگو کی اچھی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ گفتگو ہی لوگوں کے دل جیتتی ہے۔ سالہا سال سے مینجمنٹ کا تجربہ رکھنے والے ایک سی ای او سے پوچھا گیا کہ آپ کیسا منیجر رکھنا پسند کریں؟ ایک ایسا شخص جو زبردست مہارت رکھتا ہے یا ایسا شخص جو گفتگو کا ماہر ہو؟ اس نے کہا: میں اچھی گفتگو کرنے والے شخص کو ہی اپنا منیجر رکھوں گا۔ اس لیے کہ اگرچہ وہ زیادہ ماہر نہیں، مگر وہ دوسروں سے کام اچھی طرح لے سکتا ہے۔ وہ اپنے ماتحتوں کو قائل کرسکتا ہے۔ وہ دفتر کا ماحول بہتر بنا سکتا ہے۔ وہ سب کو ایک مقصد پر جمع کرسکتا ہے۔ وہ اچھی ٹیم بنا سکتا ہے۔ اس لیے گفتگو سب سے اہم ہے۔

بشکریہ سی سی پی۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: