Prof Shamshad Akhtar Today's Columns

عورت کا ملک و قوم کی ترقی میں مجموعی کردار از پروفیسر شمشاد اختر ( پیغام فکر )

Prof Shamshad Akhtar

دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں خواتین پر تشدد کے خاتمے کاعالمی دن مناتی ہیں ۔ شو مئی قسمت سے ہر وہ ملک جہاں الوہی تعلیمات ،پیغمبرانہ ہدایات اور علم کے فقدان سے انحراف کا ماحول موجود ہے وہاں خواتین پر ظلم و ستم ۔ انہیں ہوس کا نشانہ بنانا ،زندہ جلانا ، زبردستی نکاح کرنا، ان کو جائیداد سے محروم کرنا،زنا بالبجر ،جبری مشقت،حق مہر جیسے غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقدامات وغیرہ ان قبیح روایات کی وجہ سے عالمی سطح پر اسلام اور عالم اسلام کی بدنامی ہو رہی ہے ۔ یہ سب کچھ ہمارے شرعی قوانین ، دین اسلام کی امن و سلامتی ،سہولت و آسانی ، رواداری ، اخوت و بھائی چارہ پر مبنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے ۔ پاکستان میں یہ سب کچھ تعلیم کی کمی اور جہالت کی وجہ سے ہے ۔ دین اسلا م میں عورت کو انتہائی اعلی و ارفع مقام دیا گیا ہے ۔ اگر وہ بیٹی کے روپ میں ہے تو وہ اپنے والدین کے لئے رحمت ہے ۔ اگر وہ ماں کے روپ میں ہے تو اس کے قدموں میں جنت ہے ۔ اگر وہ بہن ہے تو سب کے لئے محترم ہے اور اگر بیوی ہے تو اپنے شوہر کی عزت ہے۔
عورت کا تعلیمی کردار : ایک مسلم عورت کی حیثیت سے معاشرے میں ایک بھر پور کردار اور فعال کردار ادا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عورت تعلیم حاصل کرے تعلیم حیثیت آیات قرآنی اور احادیث شریف سے ثابت ہے ۔ عورت کا تعلیم حاصل کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ اس کی گود پوری نسل انسانی کا گہوارہ ہوتی ہے ۔لہذا ایک ان پڑھ اور غیر تربیت یافتہ عورت کی گود میں پلنے والے افراد سے یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ معاشرے کی فوز و فلاح کے سلسلے میں کوئی بھر پور کردار ادا کر سکتے ہیں یہ تبھی ممکن ہے جب ماں تعلیم یافتہ ہو لیکن ایک بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ محض ادارتی ڈگریاں ہی علم کہلانے کی حقدار نہیں ہیں بلکہ بسا اوقات یہ ڈگریاں جاہلیت کو مزید پھیلانے کا سبب بنتی ہیں اصل تعلیم یہ ہے کہ جدید دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ خواتین کو ضروری دینی زیور تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے انہیں قرآن و سنت کی تعلیم دی جائے ۔ ازواج مطہرات ؓ ، بنات طیبات ؓ ، اور دیگر صحابیات ؓ کی مقدس اور روشن زندگی کے مختلف پہلوئوں سے آگاہ کیا جائے ۔اور جدید تعلیم کے لئے ان کے الگ ادارے ہوں ورنہ دینی تعلیم کے بغیر جدید دنیوی تعلیم انہیں مزید گمراہ کر سکتی ہے ۔
عورت کا معاشی کردار : قرآنی تعلیمات اور حدیث کی روشنی میں کہ مردجو کچھ کمائیں ان کا حق ہے اور عورتیں جو کچھ کمائیں ان کا حق ہے عورت کسب معا ش کر سکتی ہے ۔ جیسے سیدہ خدیجہ ؓ عرب کی متمول تاجر خاتون تھیں ام المومنینؓ حضرت سودہ کھالیں ،چمڑا صاف کرتیں ام المومنین حضرت زینب ؓ سوت کاتا کرتیں اسی طرح دیگر صحابیات ؓ بھی ضرورت پڑنے پر کام کرتیں لیکن وہ تمام کام پردے کی حدود میں گھر بیٹھ کر کرتیں ۔اس لحاظ سے عورت اگر ’’ وقرن فی بیوتکن ‘‘کی مصداق ہوں تو کسب معاش میں کوئی حرج نہیں بلکہ اسلام نے اسے یہاں تک آزادی دی کہ مرد کی کمائی میں عورت کا حق رکھا گیا لیکن عورت کی کمائی پر کسی کا کوئی حق نہیں یہ اس لئے بھی ہے کہ اس صورت میں عورت کا کمانااس کے فرائض میں شامل ہو جاتا کیونکہ دین اسلام میں ایک کا حق دوسرے کا فرض ہے ۔۔ لیکن موجودہ حالات میں عورت کا گھر بیٹھ کر کمانا بہت مشکل ہے اس کے لئے ایک یہی بہتر صورت ہے کہ ان کے تعلیم ادارے اور حصول معاش کے ذرائع الگ ہوں تب جا کر موجودہ صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔
مرد اپنے تمام بیرونی معاشرتی اموراسی صورت میں صحیح طریقے سے انجام دے سکتے ہیں جب انہیں مکمل گھریلو سکون حاصل ہو ۔ یہ گھریلو سکون اسے ایک عورت ہی فراہم کر سکتی ہے اس طرح کے وہ گھر کی تمام ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرے مرد جو کچھ کما کر لائے اسے جائز طریقے سے جائزجگہ پر خرچ کرے ۔ اولاد کی ذمہ داریوں انکے وجود کواپنی آزادی کے لئے بوجھ تصور نہ کرے ، اولاد کی صحیح تربیت کرے گھر کے تمام نظام کو احسن طریقے سے چلائے ، اپنی صحت و تندرستی اور شوہر کے لئے زیب و زینت کا خاص خیال رکھے ۔شوہرجب معاشرتی ذمہ داریوں کو پورا کر کے گھر میں داخل ہو تو بیوی کو دیکھ کر اس کا دل خوش ہو جائے اور اگلی صبح وہ پھر نئے جذبے اور ارادے سے ملک و قو م اور اور معاشرے کی خاطرمحنت اور جدو جہد کرنے نکل کھڑا ہو ۔گھر کے اندر عورت اس بات کو ہر وقت پیش نظر رکھے کہ وہ ایک بیوی ہے ماں ہے اسے ہر حال میں اپنی حکمت و دانائی ، سلیقہ شعاری ، محبت و خلوص ، وفا شعاری اور تعلیم و تربیت کے سنہرے اور سدا بہار پھولوں سے اس معاشرے کو رشک جنت بنانا ہے تاکہ خدا او ر اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل ہویہی دراصل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عورت کا مجموعی کردار ہے ۔
عمومی طور پر ساری دنیا میں خواتین اپنے بنیادی حقوق سے نظر انداز ہوتی ہیں اور انہیں کٹھ پتلی سمجھ کر علاقائی رسم و رواج کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں خواتین سے تعلق جاہلانہ رسوم و رواج اور رویے زیادہ تسلی بخش نہیں ہیں ۔ اس ملک میں غیر اسلامی اور غیر شرعی رسوم و رواج کی بیخ کنی اور ہمیشہ کے لئے قلع قمع کرنا حکومت پاکستان کا فرض اولین ہے ۔تمام مظلوم طبقات کی پاسداری کرے۔ بالخصوص خواتین پر ظلم و تشدد کا کاتمہ کرے ، ان کے حقوق کی ادائیگی کو ممکن بنائے اور دین اسلا م نے خواتین کے مقام و مرتبہ کو جس طرح بلند کیا ہے اسکے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔
٭…٭…٭

About the author

Prof Shamshad Akhtar

Prof Shamshad Akhtar

Leave a Comment

%d bloggers like this: