Khalid Khan Today's Columns

امن اور اتحاد کی آشا۔۔۔! از خالد خان ( لب دریا )

Khalid Khan
Written by Khalid Khan

باباگورونانک کے 552ویں جنم دن کے سلسلے میں سابق کرکٹر اورگانگریس کمیٹی پنجاب کے صدر نوجوت سنگھ سدھو راہداری سے دربار کرتارپور پہنچے توانھوں نے کہا کہ" عمران خان بڑے بھائی کی طرح ہیں۔انھوں نے بہت پیار دیا ہے۔عمران خان انقلابی اور دانشمند وزیراعظم ہیں۔انکی قوت فیصلہ نے کرتار پورراہداری کو ممکن بنایا۔مودی دوسرے ہاتھ سے تالی بجاتے رہے لیکن لانگا کھولنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ جولانگے کیلئے کرے گا لاکھ دا، جس نے مخالفت کی وہ ککھ دا۔انھوں نے کہا کہ باباگورونانک دیو جی کے پاس امن اور اتحاد کی آشا لیکرآیا ہوں۔من کی مراد ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور محبت بڑھے۔گورونانک کے کروڑوں نام لیوا راہداری کھولنے پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کے شکرگزار ہیں۔انقلابی وزیراعظم عمران خان کے ہوتے خطے کی قسمت بدل سکتی ہے۔ہمارا کلچر ،ہمارا خون ایک اور پناوے ایک ہیں۔صرف راہداری ہی نہیں دیگر راستے بھی کھلنے چاہیے۔عمران خان اور نریندرمودی سے گزارش ہے کہ تمام راستے کھول دیں۔لاہور اور گورداسپور کے درمیان تجارت کھلے تو خوشی ہوگی۔21سو کلومیٹر دور سامان بھیجنے کی بجائے 20کلومیٹر دور لاہور کیوں نہ بھیجا جائے۔یورپین ممالک نے جنگ کے بعد اپنی کرنسی ایک کردی،آج یورو دنیا کی مضبوط ترین کرنسی ہے۔" باباگورونانک ایک عظیم ہستی تھی جس نے عام لوگوں کے درد اور پیار سینے میں لیے امن اور محبت کی پرچار کرتے زیست بسر کی۔وہ ظلم وجبر اور معاشرتی ستم سے بیزار تھے۔باباگورونانک اور صوفیا ء کرام کاانسانوں سے محبت وطیرہ رہا۔عصر حاضر میں گورونانک اور صوفیا ء کرام کے پیام کو پھیلانے اور ان پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔عام لوگوں میں محبت کا عنصر نمایاں ہے لیکن دنیا میں ایک مخصوص طبقے کی وجہ سے سب لوگ پریشان ہیں اور لوگوں میں خلیج ہے۔اس طبقے کی سبب ہمیشہ جنگیںہوئیں اور لوگوںکے درمیان فاصلے پیدا ہوئے۔ نوجوت سنگھ سدھونے جس زاویے سے باتیں کیں ،وہ یقینا قابل ستائش ہیں اور ان کی باتیں مثبت ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو کے بڑے بھائی نے یقینا کرتار پورراہداری کو ممکن بنایا ،وہ خوش آئند ہے لیکن ان کے بڑے بھائی نے وطن عزیز پاکستان کے عام لوگوں کا جو حال کردیا ہے،اس سے قبل ایسا کسی نے نہیں کیا تھا۔اس صورت حال کو پیدا کرنے اور لوگوں کا برا حال کرنے میںصرف ان کے بڑے بھائی نہیں بلکہ مسلم لیگ ق، ایم کیوایم سمیت تمام اتحادی اور معاونین شامل ہیں۔وطن عزیز پاکستان کے لوگوں کے لیے روٹی اورروزگار کا حصول مشکل کردیا ہے۔اسی طرح سرحد کے دوسرے طرف نریندرمودی نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے حالانکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اس خطے کیلئے بہترین کام کرسکتے تھے ،پاک بھارت میں غربت،افلاس، امراض اور مہنگائی کو ختم کرسکتے تھے۔ پاکستان اور بھارت کو قریب لاسکتے تھے ۔ کشمیر سمیت دیگر مسائل حل کرسکتے تھے لیکن نہیں کیے۔یہ دانشمند اور انقلابی ہونگے لیکن ان کے دانشمندی اور انقلاب کا لوگوں کو کیا فائدہ ہوا؟ان کی خالی تقریر وںسے لوگوںکوکیا فائدہ پہنچا؟ لوگ تو سستی روٹی، تعلیم ،صحت، روزگار، چھت اور سکون چاہتے ہیں لیکن ان کے دور میں لوگوں سے یہ سب چیزیں بعید ہوگئی ہیں۔پاکستان اور بھارت دنیا کے خوبصورت اورقدرتی دولت سے مالامال ممالک ہیں۔ان ممالک کے موسم اورآب وہوا بھی دلفریب ،دلچسپ ،منفرد اور سودمند ہے ، اس خطے کے ہر ماہ کی اپنی خاصیت ہے۔ آپس کی جنگوں کے بعد یورپی ممالک مفادات کیلئے مشترکہ کرنسی یورو کا اجراء کرسکتے ہیںتو پاکستان اور بھارت ایسا کیوں نہیں کرسکتے ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو کی بات درست ہے کہ اکیس سو کلومیٹر دور سامان بھیجنے کی بجائے 20کلومیٹر دور لاہور کیوں نہ بھیجا جائے۔پاکستان اور بھارت کو آپس میں تجارت کرنی چاہیے۔تجارت سے ترقی اور خوشحالی کے نئے باب کھل جائیں گے۔ پاکستان اور بھارت کو صرف کرتارپور راہداری نہیں بلکہ تمام راستے کھولنے چاہییں۔بھارت پاکستان کے راستے( روڈ اور ٹرین کے ذریعے )تجارتی سامان افغانستان ، روس اور وسط ایشیائی ممالک تک بھیج سکے جبکہ پاکستان اپنا تجارتی سامان بھارت کے راستے بنگلہ دیش اور دیگر ممالک تک بھیج سکے،اسی طرح روس اور افغانستان بھی پاکستان کے راستے بھارت اور دیگر ممالک کو تجارت کی اجازت ہو،متعلقہ ممالک سے معقول ٹول ٹیکس لیا جائے جوسڑکوں کی مرمت اور ملازمین کی تنخواہ کے لئے استعمال کیا جاسکے۔ڈھاکہ سے براستہ بھارت اور پاکستان ماسکو تک دورویہ سڑک بنائی جائے جس کے درمیان میں دو رویہ ریلوے ٹریک بچھایا جائے۔اس اہم منصوبے میں سارک اور وسط ایشیائی ممالک کو شامل کرنا چاہیے۔اس پراجیکٹ سے تمام ممالک کے درمیان فاصلے سمٹ جائیں گے اور تجارت کوفروغ ملے گا۔ اس کوریڈور سے نہ صرف پاک بھارت بلکہ اس خطے کی قسمت بدل جائیگی۔پاکستان اور بھارت کے لاکھوں افراد کے ایک دوسرے کے ممالک میں رشتہ دار رہتے ہیں اور دونوں ممالک میں مذہبی مقامات ہیں،ان افراد کو ایک دوسرے کے ممالک میں آنا جانا پڑتا ہے، ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزہ سسٹم آسان ترین بنایا جائے ۔اس صورت میں لوگوں کواپنے رشتہ داروں سے ملنے ، مذہبی رسومات اداکرنے اور زیارت پر جانے میں آسانی ہوگی۔دونوں ممالک کے لوگوں کی مشکلات میں کمی ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاک بھارت کدرتیں ختم کریں اوراپنے بنیادی مسائل حل کریں۔اپنی توجہ ہتھیاروں کی بجائے تجارت پر مرکوز کریں۔آپس میںجنگیں بھی توبہت کی ہیں لیکن کیاحاصل ہوا؟ان دونوں ممالک کا جانی و مالی نقصان ہوا ۔دونوں ممالک کے افراد جان بحق ہوئے، بہت سے مضروب ہوئے، خواتین بیوہ ہوئیں، بچے یتیم ہوئے،گھر اجڑ گئے ،کاروبار تباہ ہوئے،لوگ بیروزگار ہوئے اورتباہی و بربادی ہوئی۔ان سے کچھ سبق سیکھنا چاہیے اور اس پر غور وفکر کرنا چاہیے۔اب دونوں ایٹمی ممالک ہیں اوراگرایٹمی جنگ ہوئی تو دونوں ممالک کا وجود بھی قائم رہنا مشکل ہوجائے گا۔علاوہ ازیں بجٹ کا زیادہ حصہ دفاع پر خرچ ہورہا ہے۔پاک بھارت کو جنگ نہ کرنے کا معائدہ کرنا چاہیے۔اب نئی نسل کے ہاتھ میںہتھیار نہیں بلکہ قلم دیں۔اب نئی نسل کو بیماری نہیں بلکہ صحت دیں۔اب نئی نسل میں بیروزگاری نہیں بلکہ ان کو روزگار دیں۔اب نئی نسل کے دلوں میں نفرت نہیں بلکہ محبت پیدا کریں۔اب ایک دوسرے کو دکھ نہیں بلکہ سکھ دیں۔اب دودشمن کی طرح نہیں بلکہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنا چاہیے جوایک دوسرے کی مدد کرسکیں۔ قارئین کرام !باباگورنانک دیو جی نے امن و آشتی، بھائی چارے،اخوت اور محبت کا پیغام دیا۔نوجوت سنگھ سدھونے بابا گورونانک کے 552 ویںجنم دن کے موقع پر کیا خوب پیغام دیا کہ باباگورونانک دیو جی کے پاس امن اور اتحاد کی آشا لیکرآیا ہوں۔ نوجوت سنگھ سدھو! اس دیپ کو جلاکررکھیں، اس سے اندھیرا دور ہوجائے گا۔ہرجانب روشنی پھیل جائیگی، امن و آشتی، محبت اور اتحاد کے دور کی شروعات ہوجائیگی،نفرت نہیں بلکہ الفت کا آغاز ہوگا،مخالفت نہیں بلکہ حمایت ہوگی ،گولیوں کا نہیں بلکہ پھولوں کا تبادلہ ہوگا۔ دیواریں نہیں بلکہ پل بنیں گے ۔مخالفت نہیں بلکہ حمایت ہوگی ، دشمنی نہیں بلکہ دوستی ہوگی ،عداوت نہیں بلکہ تجارت ہوگی، پسماندگی نہیں بلکہ خوشحالی ہوگی۔امید ہے کہ سب کی یہی آواز بنے گی امن اور اتحاد کی آشا۔۔۔۔

٭…٭…٭

About the author

Khalid Khan

Khalid Khan

Leave a Comment

%d bloggers like this: