Kashif Nayer Today's Columns

جہد ِ مسلسل، پاکستان رائٹرز کونسل از کاشف نئیر ( من بھاوت )

Kashif Nayer
Written by Todays Column

انسان جبلتی طور پر ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں سر گرم عمل رہتا ہے اور پھر بہترین ملتے ہی اس سے بھی زیادہ بہتر کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔یہ عمل نہ لالچ کی مدد میں ہوتا ہے نہ ہی اپنی ظاہری امنگوں کی تکمیل، بلکہ اس عمل کا مقصد دراصل اس کے اندرونی سکونInner Satisfaction سے منسلک ہوتا ہے۔ایسی ہی طبیعت اور مزاج رکھنے والے افراد جہاں اور جس میدان میں موجود ہوتے ہیں وہ بہتر سے بہترین کے حصول کے لیے ہمہ وقت تیاراور کوشاں رہتے ہیں۔بالکل ایسے ہی ماحول میں پلے کچھ لوگ اللہ تعالی نے پاکستان کرکٹ کونسل کو اسکی ٹیم اور قیادت کی صورت میں عطا کئے کہ جن کا مقصد ذاتی نمود و نمائش سے ہٹ کر علم و ادب کے میدان میں اپنے قلم کا لوہا منوانے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور بہترین پلیٹ فارم کے ذریعے ان کو اوران کی خدمات کوخراج تحسین پہنچانے کے لیے ملک کے کونے کونے تک پروگرام دینا ہے۔ یہ مئی 2018 کی بات ہے کہ جب لیکسزگرینڈ ہوٹل لاہور میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں سب پڑھے لکھے نوآموز ز کرم کاروں کی اس تنظیم کا سنگ بنیاد رکھاگیا اور اس کا نام پاکستان رائٹرز کونسل تجویز کیا گیا۔ خوبصورت شخصیت اور میٹھی زبان والے مرزا یاسین بیگ کو اس کونسل کا متفقہ اور بلا مقابلہ چیئرمین، صدارت کی ذمہ داری الطاف احمد،جنرل سیکرٹری کے لیے راقم الحروف(کاشف نیئر) وائس چیئرمین پروفیسر غلام محی الدین،شعبہ مالیات (فنانس)کے لیے مہر شوکت علی اور ان کا معاون اکبر علی کو جبکہ شعبہ اطلاعات میں اعجاز الحق چٹھہ کو منتخب کیا گیا۔
اس ٹیم کا ہر ممبر اپنا ذمہ داری کے مقابلے میں ذمہ دار کم اور عام کارکن زیادہ نظر آتا ہے جس کا واضح ثبوت اس کے چیئرمین کی شکل میں موجود ہے۔ کیونکہ وہ جب کام کر رہے ہوتے ہیں تو تنظیم کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ساری ذمہ داری ان ہی کے سر ہوتی ہے اور وہ ہر طرح کی ذمہ داری اور مشکلات کو جس خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں یہ انہی کا خاصہ ہے۔ مصروف ترین زندگی اور وقتی پریشانیوں کے باوجود وہ بڑے سے بڑے پروگرام اس خوبصورت انداز میں برپا کرتے ہیں کہ گویا دیکھنے والایہی سمجھتا ہے کہ یہ تو اتنا بڑا کوئی کام نہیں ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں، لیکن جب اس طرح کے پروگرام کو تو دور کی بات ان کا عشر عشیر بھی ان کے ذمہ لگ جائے تو زبان حلق سے باہر آتی دکھائی دیتی ہے اور پھر وہ اس بات کا ببانگ دہل اقرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اس نوعیت کی محفل سجانا تو واقعی اسی تنظیم یعنی پاکستان رائٹرز کونسل کا ہی کام ہے۔ پاکستان کے چوٹی کے شعراء ہو یا کالم نویس، کئی کتب کے مصنف ہوں یا بڑے اخبارات کے ایڈیٹر وچیف ایڈیٹر، یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے لے کر کالج اور سکول کے پرنسپل، پروفیسر تک ہر بڑے سے بڑے لکھاری اور لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کا مرحلہ ہو تو ادارے قلمکار مصنف اور شاعر انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ان کے فن پارے کو پاکستان رائٹرز کونسل کے پلیٹ فارم سے پذیرائی حاصل ہو۔ مختلف اوقات میں اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنی نوعیت کے ملکی سطح کے کئی پروگرامات ہوئے جن میں لکھنے والے خواتین و حضرات کی حوصلہ افزائی اور ان کی تحریروں کو سینکڑوں،ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچانے کا بہترین اہتمام کیا گیا جہاں ان کی تخلیقات کو سراہا گیا اور ان کے اعزاز میں تالیوں کی گونج نے اس بات کو واضح کیا کہ وہ لوگ واقعی قابل ستائش وشاباش ہیں جنہوں نے اس اعزاز کو پاکستان رائٹرز کونسل کی مرہون منت سمجھا اور اسی پلیٹ فارم کے ممنون ہوئے۔
اس تنظیم نے شروع دن سے ہی اپنا ایک معیار بنایااورتا حال اس کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ راقم نے اپنے قلم کو جنبش دینا اسی پلیٹ فارم سے سیکھنے کے بعد آج اس قابل ہوا کہ قلم سے الفاظ تک کے سفر کو بہترین انداز میں طے کر سکے۔اس تنظیم نے اپنا پہلا پروگرام لاہور میں کیا۔اس پہلے پروگرام کا انعقاد گویا اس تنظیم کے لیے ایک ایسا سنگ میل تھا کہ جس کے بعد اس کی شہرت اور ترقی کی منازل آسان سے آسان تر ہوتی چلی گئیں۔ایک کے بعد ایک پروگرام اور وہ بھی کامیابی کی منازل طے کرتا ہوا پروگرام۔پاکستان رائٹرز کونسل نے کبھی یہ محفل لاہور میں سجائی تو کبھی اہلیان ملتان کو شاندار تقریب سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ کبھی قصور میں اپنے جداگانہ رنگ بکھیرے تو کبھی فیصل آباد کی دھرتی پر اس بات کا ثبوت دیا کہ اپنے معیار کی محفل سجانا گویا اسی تنظیم کا ہی خاصہ ہے۔ مختلف شہروں میں اپنی نوعیت کی بہترین پروگرام کرواتی یہ تنظیم آج پاکستان کی صف اول کی ادبی تنظیمات میں اپنا نام پیدا کر چکی ہے۔اس تنظیم کے روح رواں مرزا یسین بیگ کو عصر حاضر کے مزاح نگار اور استادوں کے استاد عطا الحق قاسمی نے ادبی حلقوں میں بہترین محافل سجانے والا ”گروہ“ قرار دیا۔ یہ اللہ رب العزت کی خاص عنایت ہے کہ اس نے اس تنظیم کو اتنی ساری کامیابیوں سے نوازاہے۔”گرو“ہونے کایہ اعزاز صرف چیئرمین پاکستان رائٹرز کونسل کے لیے نہیں بلکہ پاکستان رائٹرز کونسل کے ہر ممبر کے لئے ہے کہ گویا وہ ایسی محافل سجانے کے ”گرو“ہیں۔ کم و بیش تین سالوں پر محیط یہ جہد مسلسل آج اپنے ثمرات سمیٹتی ہوئی ملک پاکستان کی بڑی ادبی تنظمیوں میں سے ایک ہے۔ ایک چھوٹی اور کمزور سی کونپل صرف اور صرف اللہ رب العزت کی رحمت اور مہربانی سے آج ایک سایہ دار درخت کی مثل اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ لکھاری کسی بھی درجے کا ہو اب تو جیسے اس کی یہ خواہش بن گئی ہے کہ اسے اگر پذیرائی پاکستا ن رائٹرز کونسل کے پلیٹ فارم سے ملے تو یہ اس کے لیے اعزاز اور فخر کی بات ہوگی۔
انہیں محافل کے تسلسل کی نزدیکی ترین کڑی سر زمین ننکانہ ہے جس میں ایک کامیاب”شام مزاح“ کا انعقادڈسٹرکٹ بار کونسل میں کیا گیا۔ جس میں عوام الناس کے ساتھ ساتھ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس پروگرام کی صدارت مزاح کے بے تاج بادشاہ عطاالحق قاسمی نے کی۔ وکلاء سمیت شرکائے محفل نے قاسمی صاحب کا استقبال پھول کی پتیوں اور تالیوں کی گونج سے کیا۔محفل کے مہمانان اعزاز میں چوہدری انور زاہداور صدر ڈسٹرکٹ بار ننکانہ صاحب رائے قاسم مشتاق تھے۔ مہمان مزاح نگاروں میں گل نوخیز اختر، اشفاق احمد ورک، شاہد ظہیر سید، علی رضا احمد، ڈاکٹر محمد کلیم، اکرم سعید، ڈاکٹر محمد اکرم سراء، سید قمر بخاری اور احمد سعید تھے جہنوں نے بہترین انداز میں اپنے اپنے مقالات پیش کیے اور داد سمیٹی۔ شرکائے محفل نے بہترین مزاح نگاروں کے فن پاروں سے خوب لطف اٹھایا اور تالیوں اور قہقہوں کی گونج سے داد دی۔ مزاح نگاروں نے اپنے مزاح سے مزین پھولوں سے محفل میں رنگ بھر دیئے۔ان کے فن کی مہک سے پورا ہال تالیوں کی گونج کی صورت معطر تھا۔ آخر میں صدر بار کونسل نے اہل ننکانہ کی طرف سے آنے والے مہمانوں کا اور اس طرح کی محافل کے انعقاد پر پاکستان رائٹرز کونسل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس گھٹن زدہ ماحول میں پاکستان رائٹرز کونسل نے گویا ایک نئی روح پھونک دی ہے جس سے پریشان اورافسردہ چہروں پر خوشیاں اور مسکراہٹیں بکھیر کر صدقہ جاریہ کا کام کیا ہے۔آخر پر چیئر مین پاکستان رائٹرز کونسل مرزا محمد یٰسین بیگ نے تمام مہمانوں اور شرکاء محفل کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد بہترین عشائیے کے ساتھ پروگرام اختتام کیا گیا۔ ہمیشہ اس طرح کے کامیاب پروگرام سچی لگن اور نیک نیتی کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کی رحمت پر پختہ یقین کا نتیجہ ہوا کرتے ہیں کیونکہ میرا اس بات پر یقین ہے کہ اگر سوچ مثبت اور مقصد واضح ہو تو کامیابی ہاتھ باندھے اور آنکھیں بچھائے آپ کے راستے میں کھڑی ہوتی ہے۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: