Today's Columns Umer Farooq

سعودی عرب میں تبدیلی کی لہر از عمر فاروق ( آگہی )

Umer Farooq
Written by Umer Farooq

امریکہ اورعالمی طاقتوں نے مسلم ممالک میں تبدیلی کاجوسفرشروع کیاتھا اس کانقطہ عروج سعودی عرب میں دیکھاجاسکتاہے،عالمی طاقتوں نے صدام حسین ،کرنل قذافی جیسے قدامت پسنداورغیرت مندحکمرانوں کوہٹاکرمحمدبن سلمان،محمدبن زید اورعمران خان جیسے مہرے اس لیے مسلط کیے کہ مسلم معاشروں کوختم کیاجاسکے ۔روشن خیالی،معتدل اسلام اورماڈرن اسلام کے نام پرمسلم ممالک کے بخیے ادھیڑے جارہے ہیں اسلامی تہذیب وثقافت کوختم کرکے مغربی تہذیب مسلط کی جارہی ہے ،مسلم نوجوانوں کے ذہنوں سے اسلامی تعلیمات کوکھرچاجارہاہے۔
سعودی عرب میں برِسراقتدار آل سعود کے پاس بیسویں صدی میں سیاسی طاقت کے دو اہم ستون تھے، ایک تیل کی بے پناہ دولت اور دوسرا قدامت پسند مذہبی معاشرہ ،اب جدیددورمیں یہ دونوں ستون ختم ہورہے ہیں ایک ستون(تیل ) قدرت کی طرف سے ختم ہورہاہے جبکہ دوسرے کوسعودی حکمران اپنے ہاتھوں سے گرارہے ہیں ۔جہاں تک محمدبن سلمان کے وژن 2030کاتعلق ہے تووہ تیل سے انحصارختم کرناچاہتے ہیں اورملک کی معیشت کی بہتری کے نام پریہ سب اقدامات کررہے ہیں ،آغاشورکاشمیری نے شایدایسے ہی موقع کے لیے کہاتھاکہ سرمایہ داری رزق چھینتی ہے، سوشلزم رازق چھینتا ہے۔اخلاق جتنا پست ہوتا چلا جاتا ہے، مہنگائی اتنی بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔
ایم بی ایس کایہ خصوصی مشن ہے کہ ترقی کے نام پر سعوی عرب کے دوسرے ستون مذہبی اورقدامت پسندمعاشرے کوبھی ختم کیاجائے حالانکہ یہ اس مذہبی معاشرے کاہی نتیجہ تھا کہ یہاں جرائم نہ ہونے کے برابرتھے کسی حدتک شرعی سزائوں پرسختی سے عمل درآمدتھا شہزادہ محمد بن سلمان جب سے ولی عہدکے طورپرسامنے آئے توانہوں نے خود کو ایک جدید اصلاح کار کے طور پر پیش کیا ہے ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان نے جہاں پچھلے حکمرانوں کی نسبت سب سے زیادہ سیاسی قوت حاصل کی ، وہیں انھوں نے سعودی ریاست میںمذہبی تشخص ختم کرنے کابیڑھ بھی اٹھایا۔
ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے انتہائی قدامت پسند تاثر کو ختم کرنے کے لیے ملک میں سنیما گھروں، موسیقی کے مخلوط کنسرٹس اور کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کے نام پرفحاشی وعریانی کوفروغ دے رہے ہیں سعودی معاشرے کوتبدیل کرتے ہوئے مغربی تہذیب کومسلط کررہے ہیں ،محمدبن سلمان نے تبدیلی کاجوسفرشروع کیاتھا وہ تیزی سے آگے بڑھ رہاہے مغربی میڈیاکی رپورٹس کے مطابق اب سعودی عرب کی گلیوں میں،، مطوع،، نامی مذہبی پولیس نظر نہیں آتی جن کا مشن ‘برائی کو روکنا اور نیکی کو فروغ دینا’ تھا ان کے خاتمے کا سہرا ولی عہد کے سر باندھا جا رہا ہے۔ریاض کے امیر شہری کہتے ہیں کہ شہر میں ایسے ریستوران کھل گئے ہیں جہاں زنانہ مردانہ شعبوں کا زیادہ سختی سے خیال نہیں رکھا جاتا اور وہاں تیز موسیقی بجتی رہتی ہے۔
محمدبن سلمان دراصل سعودی عرب اور سرزمین حجاز پرمغربی تہذیب و تمدن کو فروغ دینے کے لئے عملی اقدام کررہے ہیںانہوں نے حالیہ سالوں میں کئی ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جوسعودی عرب کے معاشرے اوراسلامی تعلیمات کے ساتھ میل نہیں کھاتے ،سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ملکی معیشت بچانے کے لئے مغربی ثقافت کو ملک میں فروغ دے رہے ہیں اور اس طرح انہوں نے اعلانیہ طور پر اسلامی اور شرعی قوانین کے خلاف بھی جنگ کا آغاز کردیا ہے۔انہی اقدامات کے نتیجے میں اب غیر ملکی غیر شادی شدہ جوڑے ایک ہی کمرے میں ایک ساتھ سو سکتے ہیں ۔سینماکھولے جارہے ہیں جہاں آئے روزنت نئی فلم کی نمائش کی جاتی ہے ،نمازوں کے اوقات میں کاروباربندکرنے کی پابندی بھی ختم کردی گئی ہے ۔
ہمارے خان صاحب نے جس طرح نئے پاکستان کانعرہ لگایاتھا اسی طرح سعودی ولی عہدکونئے شہربسانے کی بہت فکرہے وہ مختلف علاقوں میں ایسے شہربسارہے ہیں جہاں ہرقسم کی آزادی ہو۔ غیر ملکی خواتین کو عبایا پہننے سے بھی آزادی دے دی گئی ،ریستورانوں میں خواتین اور مردوں کے داخلے کے لیے الگ الگ داخلی راستے کی پابندی ختم کردی گئی ہے ،خاتون ڈرائیورز پر ڈرائیونگ کے حوالے سے لگی پابندیوں کو ہٹانے کے علاوہ خواتین کو بغیر کفیل کے بیرونِ ملک سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔کروناکے دوران حج وعمرے پرپابندی عائدکی گئی جواب تک مکمل طورپربحال نہیں ہوسکی مگر اس دوران تفریح کے نام پرہزاروں کے اجتماع منعقدکیے گئے ایک سازش کے تحت حج وعمرے کی عبادت کومشکل بنایاجارہاہے لوگوں کوحرمین سے دورکرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔
سعودی عرب میں تبدیلی سونامی کی طرح بڑھ رہاہے یہ محمدبن سلمان کی پالیسیوں کانتیجہ ہے کہ سعودی عالم اور سابق امامِ کعبہ عادل القلبانی نے مساجد میں جنسی تفریق کو ‘بیماری’ سے تشبیہہ دی ہے۔عادل القلبانی جیسے لوگ ایک طرف جوے اورتاش سنٹرزکے افتتاح کررہے تودوسری طرف فلموں میں جلوہ گرہورہے ہیں ،ملک میں سینما گھروں پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد سعودی عرب نے حال ہی میں اپنے پہلے فلم فیسٹیول کی میزبانی کی ہے۔سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ریاض سیزن2021 کا انعقاد کیا ہے جس کے افتتاحی کنسرٹ میں امریکی ریپر پٹبل نے پرفارم کیا۔ آرٹس اینڈ کلچر فیسٹیول آئندہ تین ماہ تک جاری رہے گا۔ اس کا اہتمام جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے کروایا ہے اور اس کے تحت ریاض بھر میں 7,500 تقریبات کا انعقاد کروایا جائیگا، جس میں موسیقی، کھیل، ڈانس ،فنون لطیفہ سے لے کر مختلف پروگرامات شامل ہیں۔
گزشتہ جمعہ کو ریاض میں بالی وڈ سٹار سلمان خان اور بین الاقوامی معروف گلوکار جسٹن بیبیر کے کنسرٹ ہواسلمان خان کے اس ٹور کو ‘دبنگ ٹور’ کا نام دیا گیا ہے۔سلمان خان کے علاوہ ان کے ساتھ بالی وڈ فلمسٹار شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور دیگر ساتھی فنکاربھی جلوہ گر ہوئے۔۔اس میگا ایونٹ میں80 ہزارسعودی مردو خواتین جھومتے نظرآئے ۔سلمان خان کے ریاض میں کنسرٹ سے قبل انھیں اعزاز دینے کے لیے ان کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔اس سے قبل معروف بین الاقوامی گلوکار جسٹن بیبر نے بھی چھ دسمبر کو ریاض میں ایک کنسرٹ کیا تھا جس میں تقریبا 70 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔سلمان خان نے سعودی عرب میں فلموں کی شوٹنگ کرنے کی خواہش کااظہارکیاہے ۔
ایک طرف اتنی آزادی ہے تودوسری منافقت کایہ عالم ہے کہ اظہاررائے کی آزادی نہیں دی جارہی ہے مساجدمیں سرکاری خطبہ کے علاوہ بات کرنے پرپابندی ہے ،حق بیان کرنے پر کئی علما گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیئے گئے ہیں ، گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے اپنے ملک میں تبلیغی جماعت کو ‘معاشرے کے لیے خطرناک’ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کردی ہے اوردنیاکی سب سے پرامن جماعت پردہشت گردی کاالزام لگایاہے ، سعودی حکومت کے ان اقدامات پرسیاسی مبصر حسن یاسین کہتے ہیں: ‘ہماری مثال ایسے کچھووں کی طرح ہے جن کے نیچے پہیے لگ گئے ہوں۔ ہم مقامی مطالبے اور21ویں صدی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کر رہے ہیں۔’
سعودی عرب کوچوں کہ عالم اسلام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اگراس مرکزکی بنیادیں ہلائی جائیں گی توپورے عالم اسلام کوتکلیف ہوگی ،سعودی عرب سے ہماراایمان کارشتہ ہے اوریہ رشتہ آل سعودکی وجہ سے نہیں ہے ،محمدبن سلمان اگرتبدیلی کے سفرپرچل ہی پڑے ہیں توہمت کریں جہاں انہوں نے اتناکچھ بدلاہے وہاں یہ کلمے والے جھنڈے کوبھی بدل دیںتاکہ مسلمان ان سے دھوکہ نہ کھائیں ۔
آغاشورش کاشمیری نے انہی حکمرانوں کے لیے کہاتھا کہ اب ا ن (عربوں )میں عمربن خطاب توکیاحجاج بن یوسف بھی پیدانہیں ہوتاجوپکی فصلیں کاٹنے پرقادرہو۔اذان ہوتی ہے لیکن رسم اذان ہے روح بلالی نہیں ۔۔ان کی گھٹی میں عرب ملکوں کی شہرہ آفاق گانے والیوں کی سراوردھنیں پڑی ہیں ان کے خون میں کبھی طیش تھا اب عیش سماگیاہے ۔۔
جہاذمیں سوارہونے سے پہلے میں اس سوچ میں ڈوب گیاکہ جس قوم کاآغازہاجرہ (ام اسماعیل)سے ہواتھا اس قوم کاخاتمہ ام کلثوم (مصری مغنیہ )پرہوگیا۔

٭…٭…٭

About the author

Umer Farooq

Umer Farooq

Leave a Comment

%d bloggers like this: