Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حرمت شراب از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

جب رسول مقبول ﷺ کی بعثت ہوئی اس وقت عربی لوگ شراب نوشی کے سخت عادی تھے اور صرف شراب نوشی کے عادی ہی نہیں تھے ۔بلکہ شراب ان کا محبوب ترین مشروب تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے شراب کو بتدریج حرام فرمایا کہ شراب کا چھوڑ نا اہل ایمان کے لئے آسان ہو جائے ۔خلاصۂ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کے بارہ میں چار آیتیں یکے بعد دیگر ے نازل فرمائیں ۔ چنانچہ مکہ مکرمہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا ان فی ذٰلک لایۃ لقوم یعقلون ۔اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ ان سے تم شراب بناتے ہو اور اچھا رزق بے شک اس میں نشانی ہے عقل والوں کے لئے (پارہ14رکوع 15) اس کی تفسیر میں صاحب جلالین نے فرمایا ۔(قولہ تعالیٰ تتخذون منہ سکرا۔)تم ان سے شراب بناتے ہو جو نشہ دینے والی ہے ۔یہاں سکر مصدر جو فاعل کا معنی دیتا ہے اور یہ حکم شراب کی حرمت سے پہلے کا ہے ۔کیونکہ سورۃ النحل مکی ہے اور شراب کی حرمت کا حکم سورہ مائدہ کی آیت میں کیا گیا اور یہ سورت مدنی ہے ۔ ( الجلالین جلد دوم صفحہ267)
اور مفسر علاء الدین خازن لکھتے ہیں ۔فکان المسلمون یشر بونھا فی اول الاسلام وھی لھم حلال ۔اس آیت کے اترنے سے پہلے مسلمان ابتدائے اسلام میں شراب پیتے تھے کیونکہ یہ ان کیلئے اس وقت میں حلال تھی ۔(خازن صفحہ 208جلد 1)
چونکہ اس آیت میں شراب کا مقابلہ رزق حسن سے کیا گیا اس لئے اس میں اس منشائے خدا وندی کی طرف اشارہ موجود تھا کہ آئندہ کسی بھی وقت میں شراب کو حرام قرار دے دیا جا سکتا ہے ۔لہٰذا بعض مسلمانوں نے اس سے اجتناب شروع کر دیا ۔
پھر جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے آئے تو ایک دن حضرت عمر اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جوئے اور شراب کے بارہ میں عرض کیا ان الخمر والمیسر یضیعان العفل و المال فافتنا فیھما ۔بلا شبہ شراب اور جوا عقل اور مال کو ضائع کرتے ہیں سوا ن کے بارہ میں آپ حکم ارشاد فرمائیں تو اس بارہ میں یہ آیت کریمہ ۔ یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنفاع لنا و اثمھما اکبر من نفعھما ۔ نازل ہوئی ۔(ترجمہ) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمائو کہ ان دونوں کے سبب سے بڑے بڑے گناہ سرزد ہوتے ہیں ۔اور ان میں لوگوں کے لئے کچھ دنیوی نفع بھی ہے اور ان کے سبب سے سرزد ہونے والے گناہ ان کے نفع سے بڑے ہیں۔(پارہ 2رکوع 11)
اس کی تفسیر میں جلالین میں فرمایا ۔ترجمہ: آپ فرما دیں کہ ان دونوں کے سبب سے بڑ ا گناہ سرز ہوتا ہے ۔کیونکہ ان دونوں کے سبب سے لوگوں میں باہمی دشمنی ،ایک دوسرے کو گالیاں بکنا اور فحش کلام کرنا پایا جاتا ہے اور لوگوں کے لئے شراب کی لذت اور سرور سے اور جوأ میں بلا مشقت مال مل جانے سے نفع بھی ہے ۔لیکن ان دونوں کے سبب سے جو مفاسد پیدا ہوتے ہیں وہ ان کے نفع سے بڑے ہیں۔جب یہ آیت اتری تو بعض لوگوں نے ان سے اجتناب کیا اور بعض نے نہ کیا یہاں تک کہ سورہ مائدہ کی آیت نے شراب کو حرام قرار دے دیا ۔ (صاوی جلد اول صفحہ90)
اس آیت کے اترنے کے بعد ایک دن حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بعض صحابہ کی ضیافت کی ۔مہمانوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی ۔پھر جب نماز مغرب کا وقت ہوا تو ان میں سے ایک صاحب نے امامت کرائی اور سورۃ الکافرون کی آیت لا عبد ما تعبدون میں غلطی سے اعبد ماتعبدون پڑھا۔ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔یا یھا الذین اٰمنو لا تقربوا الصلوٰۃ و انتم سکاریٰ حتیٰ تعلموا ما تقولون ۔اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جائو جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو۔(پارہ 5رکوع 4)
اس آیت کے اترنے پر شراب اوقات نماز میں حرام کر دی گئی ۔اور باقی اوقات میں حلال رہی پھر ایک دن حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بعض صحابہ کی ضیافت کی ۔ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔مہمانوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی تو نشہ میں آخر انہوں نے فخر یہ شعر پرھنے شروع کر دیئے ۔ حضرت سعد نے ایک قصیدہ پڑھا جس میں انہوں نے اپنی قوم کی تعریف کی اور انصار کی ہجو کہی ۔اس پر ایک انصاری نے ان کے سر کو زخمی کر دیا ۔تو مسئلہ رسول اللہ ﷺ پر پیش ہوا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی اللھم بین لنا فی الخمر بیانا شافیا۔ اے اللہ ہمیں شراب کا حکم پورے طریقہ سے بیان فرما دے تو اس پر یہ آیت اتری ۔ترجمہ:’’ اے ایمان والوں شراب اور جوأ اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پائو شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے شراب اور جوأسے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آجائوگے ۔(پارہ 7رکوع 2)جب یہ آیت حضرت عمر پر پڑھی گئی تو آپ نے فرمایا ۔ انتھینا یا رب ۔ اے میرے رب ہم باز آئے فکان یوم نزولھا عیدا عظیما ۔اور اس آیت کے نزول کا دن بڑی عید کا دن تھا۔(صاوی جلد اول صفحہ90)
اس آیت کریمہ کے نزول سے وہ سب آیات منسوخ ہو گئیں جن میں شراب کے حلال ہونے کا ذکر ہے اور شراب قطعی طو ر پر ہر حال میں حرام قرار دے دی گئی ۔شراب حرام ہے ۔امت محمدیہ کا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ شراب نوشی حرام ہے اور جو شراب پیئے گا اسے حد ماری جائے گی اور حرام سمجھ کر پینے کی وجہ سے فاسق ہو گا اور اگر حلال جانے گا تو کافر ہو جائے گا اور اس کو قتل کرنا واجب ہو گا۔(خازن جلد اول 209)
احادیث مبارکہ :شراب نوشی حرام ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے ارشادات عالیہ میں شراب نوشی کی قباحت و شناعت بیان فرماتے رہے تاکہ مسلمانوں کو اس کے ترک پر ترغیب ملے اور وہ کلی طور پر اس سے اجتناب کریں ۔یہاں چند احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں ۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ ہر نشہ آور چیز خمر ہے (یعنی خمر کے حکم میں ہے ) اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو شخص دنیا میں شراب پیئے گا پھر اس حالت میں مرے گا کہ وہ شراب نوشی کا عادی ہے اور اس نے توبہ نہیں کی ہے تو وہ آخرت کی شراب نہیں پئے گا۔‘‘رواہ مسلم(مشکوٰہ شریف جلد دوم صفحہ45،بہار شریعت حصہ نہم صفحہ96)
2۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے بلا شبہ اللہ کے ذمہ پر یہ عہد ہے اس شخص کیلئے جو نشہ آور چیز پئیے گا کہ وہ اسے طینۃ الخبال سے پلائے ۔صحابہ نے عرض کیا ۔یا رسول اللہ ۔طینۃ الخبال کیا چیز ہے ؟فرمایا ۔عرق اہل النار و عصارۃ اہل النار ۔طینۃ الخبال دوزخیوں کا پسینہ یا دوزخیوں کے زخموں کا نچوڑ ہے ۔‘‘رواہ مسلم ۔ (مشکوٰۃ شریف جلد دوم صفحہ45،بہار شریعت حصہ نہم صفحہ96)
3۔ حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے شراب کے بارہ میں دریافت کیا کہ میں شراب دواء کیلئے بناتا ہوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا ۔بلا شبہ شراب دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔ رواہ مسلم ۔(مشکوٰۃ شریف جلد دوم صفح45،بہار شریعت حصہ نہم صفحہ96)
4۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص شراب پیئے اللہ چالیس دنوں کی اس کی نمازیں قبول نہیں کریگا ۔پھر اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا ۔اور اگر پھر شراب پئے گا تو اللہ اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں کرے گا اور وہ توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول کرے گا اور اگر پھر شراب پئے گا تو اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں کریگا اور اگر وہ توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول کرے گا ۔ پھر اگر چوتھی مرتبہ شراب پئے گا تو اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے گا تو وہ اس کی توبہ قبو ل نہیں کرے گا۔ اور طینۃ الخبال کے دریا سے پلائے گا۔‘‘ رواہ الترمذی۔(مشکوٰۃ شریف جلد دوم صفحہ45)
5۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جنت میں یہ چار شخص داخل نہیں ہوں گے ۔والدین کا نافرمان ، جوأ باز ،احسان جتلانے والا اور شراب کی عادت رکھنے والا ۔رواہ الدارمی ۔(مشکوٰۃ شریف جلد دوم صفحہ46)
6۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا ’’اور میرے رب نے حلف اٹھایا ہے کہ میری عزت کی قسم میرے بندوں میں سے کوئی شراب کا ایک گھونٹ نہیں پئے گا مگر میں اسے اس کی مثل دوزخیوں کی پیپ سے پلائوں گا اور کوئی اسے میرے خوف کی وجہ سے نہیں چھوڑے گا مگر میں اسے اپنے پاکیزہ دربار میں پلائوں گا ۔رواہ احمد ۔(مشکوٰۃ شریف جلد دوم صفحہ46)
7۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا :’’اللہ نے تین شخصوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔شراب کے عادی پر ، والدین کے نافرمان پر اور دیوث پر جو اپنے گھر والوں میں بدکاری کو بر قرار رکھتا ہے یعنی جو اپنے اہل و عیال میں بے حیائی کی بات دیکھے اور منع نہ کرے ۔‘‘رواہ احمد والنسائی ۔ (مشکوٰۃ شریف جلد دوم صفحہ46،جامع صغیر جلد اول صفحہ139)
8۔ حضرت ابو مو سیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین شخص جنت میں داخل نہیں ہو نگے ۔ شراب کا عادی ،رشتہ داری توڑنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔‘‘ رواہ احمد (بہار شریعت حصہ نہم 98)
9۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’شراب کا عادی شخص اگر مرے تو وہ اللہ سے بت کے بچاری کی طرح ملتا ہے ۔‘‘رواہ احمد ۔(مشکوٰۃ شریف جلد دوم صفحہ46)
10۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا :’’ چار شخصوں کے بارے میں اللہ پر یہ حق لازم ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل نہ کرے اور نہ ان کو جنت کی نعمتیں چکھائے ۔شراب کے عادی کو ،سود خور کو ،ناحق یتیم کا مال کھانے والے کو اور اپنے والدین کے نا فرمان کو ۔‘‘رواہ الحاکم وبیہقی ۔(جامع صغیر جلد اول صفحہ138)
11۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اللہ تعالیٰ قیامت کے روز چار شخصوں کی طرف نہ دیکھے گا ۔ والدین کے نافرمان کی طرف ،احسان جتلانے والے کی طرف، شراب کے عادی کی طرف اور تقدیر کو جھٹلانے والے کی طرف۔‘‘(جامع صغیر جلد اول صفحہ138)
12۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔’’تین شخص دوزخ سے حجاب میں نہ ہوں گے ۔ احسان جتلانے والا۔اپنے والد کا نا فرمان اور شراب کا عادی ۔ (جامع صغیر جلد اول صفحہ141)
13۔ حضرت ابو مو سیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اور جو شخص شراب کا عادی ہونے کی حالت میں مرے اللہ تعالیٰ اسے نہر غوطہ سے پلائے گا اور یہ وہ نہر ہے جس میں زنا کار عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلنے والا وہ پانی بہے گا جس کی بد بو سے دوزخی اذیت پائیں گے ۔‘‘ (جامع صغیر)
14۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تین شخص کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔دیوث، مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتیں ،اور شراب کا عادی ۔‘‘(جامع صغیر جلد اول صفحہ141)
15۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمااسے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اللہ تعالیٰ قیامت کے روز تین شخصوں کی طرف نہیں دیکھے گا۔ اپنی بخشش کا احسان جتلانے والا ،تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والا اور شراب کا عادی ۔(جامع صغیر )
16۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’میں نے شراب پر دس و جہوں سے لعنت کی ہے ۔خود شراب پر لعنت کی ہے اور اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر اور اس کے بیچنے والے پر اور اس کے خریدنے والے پر اور اس کے نچورنے والے پر اور اس کے نچڑوانے والے پر اور اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر جس کی طرف شراب اٹھا کر لائی جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر ۔‘‘رواہ احمد ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد دوم صفحہ 94)
17۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول مقبو لﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص نشہ میں ایک نماز ترک کرے اس سے گویا دنیا ومافیھا کی چیزیں چھین لی گئی ہیں اور جو چار نمازیں ترک کرے اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے طینۃ الخبال سے پلائے۔ عرض کیا گیا ۔ طینۃ الخبال کیا ہے؟فرمایا ۔عصارۃ اہل جھنم ۔دوزخیوں کی پیپ۔(تفسیر ابن کثیر جلد دوم صفحہ96)
18۔ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعض گھر والوں کو یہ وصیت فرمائی، اللہ کا شریک کسی کو نہ ٹھہرا اگر چہ تمہیں عذاب دیا جائے یا خوف میں ڈالا جائے ۔اپنے والدین کا حکم مان اگر چہ وہ تمہیں یہ حکم کریں کہ تم اپنی ہر شئے سے نکل جائو، نماز نہ چھوڑ و کیونکہ جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے اس سے اللہ کا ذمہ بری ہو جاتا ہے اور شراب سے بچو کیونکہ یہ ہر شر کی کنجی ہے اور نا فرمانی نہ کرو ۔ کیونکہ یہ اللہ کو ناراض کرتی ہے اور میدان جنگ سے نہ بھا گو اگر چہ لوگوں کو شکست کا سامنا ہو جائے اور تم ان میں ہو ۔اپنی طاقت کے مطابق اپنے گھر والوں پر خرچ کرو اور ان سے اپنی لاٹھی دور نہ کرو اور انہیں اللہ سے ڈرائو۔‘‘(نزہۃ الناظرین صفحہ202)
19۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ شراب نہ پئے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جاتی ہو ۔‘‘رواہ الطبرانی۔(بہار شریعت حصہ نہم صفحہ98)
20۔ اور انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’شراب سے بچو کہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے ۔رواہ الحاکم ۔‘‘(بہار شریعت حصہ نہم صفحہ98)
21۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے وصیت فرمائی ہے کہ خدا کے ساتھ شریک نہ کرنا اگر چہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اگر چہ تو جلا دیا جائے اور فرض نماز کو قصداً نہ چھوڑنا کہ جو شخص اسے قصداً چھوڑ ے اس سے اللہ کا ذمہ بری ہے اور شراب نہ پینا کہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے ۔ رواہ ابن ماجہ ۔(بہار شریعت حصہ نہم صفحہ98)
22۔ ابن حبان اور بیہقی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ام الخبائث یعنی شراب سے بچو کہ گذشتہ زمانہ میں ایک شخص عابد تھا اور وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا ۔ایک عورت اس پر فریفتہ ہو گئی تو اس نے اس کے پاس اپنی خادمہ بھیجی کہ گواہی کیلئے اسے بلا کر لائو ۔وہ بلا کر لائی ۔جب مکان کے دروازوں میں داخل ہوتا گیا خادمہ دروازے بند کرتی گئی ۔جب وہ اندر کے مکان میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک خوبصورت عورت بیٹھی ہے اور اس کے پاس ایک لڑکا ہے اور ایک برتن میں شراب ہے ۔اس عورت نے کہا میں نے تجھے گواہی کیلئے نہیں بلایا ہے بلکہ اس لئے بلایا ہے کہ یا تو تو اس لڑکے کو قتل کر یا مجھ سے زنا کر یا یہ شراب کا ایک پیالہ پی لے ۔اگر تو ان باتوں سے انکار کرتا ہے تو میں شور کروں گی اور تجھے رسوا کروں گی ۔جب اس نے دیکھا کہ مجھے ناچار کچھ کرنا ہی پڑے گا تو کہا ایک پیالہ شراب کا مجھے پلا دے ۔جب ایک پیالہ پی چکا تو کہنے لگا اور دے جب خوب پی چکا تو اس نے زنا بھی کیا اور لڑکے کو قتل بھی کیا ۔لہٰذا شراب سے بچو ۔خدا کی قسم ایمان اور شراب کی مداومت بندے کے سینہ میں جمع نہیں ہوتے قریب ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے ۔(تفسیر ابن کثیر جلد اول صفحہ97)
23۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :’’شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان ٹھیک نہیں رہتا ۔‘‘رواہ الشیخان وغیر ھما عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ (فتاویٰ رضویہ جلد یاز دہم صفحہ 64)
24۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں :’’ جو زنا کرے یا شراب پئے اللہ تعالیٰ اس سے ایمان کھینچ لیتا ہے ۔جیسے آدمی اپنے سر سے کرتہ کھینچ لے ۔رواہ الحاکم عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ۔(فتاویٰ رضویہ )
25۔ رسو ل اللہ ﷺ فرماتے ہیں ۔جو شخص شراب کی ایک بوند پئے چالیس روز تک اس کی کوئی نماز قبول نہ ہو گی ۔اور جو مر جائے اور اس کے پیٹ میں شراب کا ایک ذرہ بھی ہو تو جنت اس پر حرام کر دی جائے ۔فان مات فی اربعین لیلۃ مات میتۃ جاہلیۃ ۔اور جو شراب پینے سے چالیس دن کے اندر مرے گا وہ زمانہ کفر کی موت مرے گا۔(فتاویٰ رضویہ جلد یاز دہم صفحہ 64)
26۔ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’میری امت میں کچھ لوگ شراب پئیں گے اور اس کا نام بدل کر کچھ اور رکھیں گے اور ان کے شروں پر باجے بجائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی یہ لوگ زمین میں دھنسا دئے جائیں گے اور ان میں سے کچھ لوگ بندر اور سؤر بنا دئئے جائیں گے ۔(بہار شریعت صفحہ 99جلد 9)مسلمان ان احادیث مبارکہ کو پڑھیں سمجھیں اور غور کریں کہ شراب نوشی اسلام میں کس درجہ قبیح و شنیع فعل ہے ۔اللہ تعالیٰ بچنے کی توفیق بخشے ۔آمین !
شراب نوشی کی حد:امام مالک نے ثور بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حد خمر کے متعلق صحابہ سے مشورہ کیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ اسے اسی کوڑے مارے جائیں کیونکہ جب وہ شراب پئے گا وہ نشہ میں ہو گا اور جب نشہ میں ہوگا تو بے ہودہ بکے گا اور جب بے ہودہ بکے گا تو افتاء کرے گا ۔لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شرابی کو اسی کوڑے مارنے کا حکم دیا ۔(بہار شریعت جلد نہم صفحہ100)
افیون کھانے کا شرعی حکم:اعلیٰ حضرت امام احمد رضابریلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ۔’’صحیح یہ ہے کہ مائعات مسکرہ یعنی جتنی چیزیں رقیق و سیال ہیں وہ سب شراب ہیں ۔ان کا ہر قطرہ حرام بھی اور پیشاب کی طرح نجس و ناپاک بھی اور ان سے نشے میں شراب کی طرح حد بھی ہے اور صحیح یہ ہے کہ دوا میں بھی ان کا استعمال حرام ہی ہے ۔بخلاف ان چیزوں کے جو بغیر سیال ہونے کے نشہ رکھتی ہیں ۔جیسے افیون مشک و زعفران وغیرہ کہ یہ ناپاک نہیں اور بقدر سکر مطلقا ً حرام ہیں۔ یونہی بقصد لہو و فساد بھی مطلقاً حرام اگر چہ بقدر سکرنہ ہو ۔ورنہ قلیل مقدار بغرض دوا وغیرہ بے تشبۂ فاسقین حلال ہے ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ صفحہ102جلد 11)
شراب سے علاج منع ہے :مفتی اعظم ہند مفتی مصطفیٰ رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ۔’’مادۂ خر کا دودھ جائز نہیں۔حرام میں شفا نہیں ۔ ہاں اگر طبیب حاذق مسلم غیر فاسق کہے کہ اس مرض کی اب یہی دوا ہے ۔یہی پچھلا علاج ہے تو اس وقت اس کے حق میں وہ حرام نہ ہوگا ۔یعنی بقدر ضرورت اس سے شفا کی امید بھی ہو گی۔(فتاویٰ مصطفویہ صفحہ511)
الحمد للہ یہاں تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میںحرمت شراب کی وضاحت بخوبی ہو گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچنے کی توفیق بخشے۔ آمین !

٭…٭…٭

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: