Today's Columns Umer Farooq

کرتار پورہ فلم کاسیٹ نہیں؟ از عمر فاروق ( آگہی )

Umer Farooq
Written by Umer Farooq

عمران خان کی ریاست مدینہ کے کئی رخ ہیں ایک رخ یہ ہے کہ سکھ مذہبی عبادت گاہ " گوردوارہ کرتارپور"میں ایک لڑکی کی تصاویرسوشل میڈیاپرشیئرہوئیں،جس پرسکھ کمیونٹی نے احتجاج کیا اورکہاکہ ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور " عبادت گاہ" کا تقدس پامال ہوا ہے ،پاکستان سکھ گوردوارہ بندھک کمیٹی نے گوردوارہ دربار کرتارپور میں ماڈلنگ کرنے والی خاتون اور برانڈ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کافیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے کمیٹی کے پردھان سردار امیر سنگھ نے کہا ہے کہ گوردوارہ دربار صاحب سکھوں کا مقدس مقام ہے، جہاں ننگے سر داخل نہیں ہوسکتے، لیکن وہاں ایک خاتون ماڈل کی طرف سے احاطے میں کھڑے ہوکر ماڈلنگ کرنے سے دنیا بھر کے سکھوں کی دل آزاری ہوئی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس کمپنی نے اپنی پراڈکٹ کی تشہیر کے لئے ماڈلنگ کروائی، اس کے سربراہ نے ویڈیو پیغام کے ذریعے معافی مانگی ہے ، لیکن اس کے باوجود ہم ان کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے،موجودہ ریاست مدینہ کے ترجمان فوادچوہدری نے اس واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ "ڈیزائنر اور ماڈل کو سکھ کمیونٹی سے معافی مانگنی چاہیے ۔ کرتار پور ایک مذہبی مقام ہے، کوئی فلم کا سیٹ نہیں "
پی ٹی آئی حکومت کادوسرا رخ یہ ہے کہ دودن قبل چارسدہ میں ایک شخص کی طرف سے مبینہ طورپرقرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف عوام نے احتجاج کیایہ احتجاج بعدمیں اشتعال میں تبدیل ہوااور مشتعل مظاہرین نے مقامی پولیس سٹیشن پر دھاوا بول کر تھانے کو شدید نقصان پہنچایا اور عینی شاہدین کے مطابق تھانے کو نذر آتش کر دیا۔پولیس نے فسادات اوراملاک کونقصان پہنچانے پرایف آئی آردرج کرتے ہوئے 77سے زیادہ افراد کو حراست میںلے لیا مزیدگرفتاریاں جاری ہیں،مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن پاک کی توہین پرکسی وفاقی وزیرکی طرف سے بروقت مذمت کابیان میری نظرسے نہیں گزرا۔اورنہ ہی کسی وزیرنے کہاکہ اس واقعہ سے مسلمانوں کی دل آازاری ہوئی ہے قرآن پاک مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے ؟اگروفاقی وصوبائی حکومت فوری طورپرمجرم کے خلاف سامنے آتی تونہ یہ فسادات ہوتے اورنہ ہی عوام مشتعل ہوتے ؟
اب ہم ان دونوں واقعات کاموازنہ کریں توموجودہ حکومت کی منافقت کھل کرسامنے آتی ہے موجودہ حکومت کایہ رویہ اس دوغلے پن کی عکاسی کرتاہے کہ جواس نے پالیسی کے طورپراپنایاہے۔ جب اسلام،مسجد،مدرسہ یاکوئی دینی ایشو ہو، مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے،اسلام اورشعائراسلام پرحرف آئے تو انہیں ماڈرن ازم یاد آ جاتا ہے ۔ اس پر بات کرنیوالوں کو فورامذہب کوسیاست کے لیے استعمال کرنے کاطعنہ دیاجاتاہے ،انہیں دقیانوس اور بنیاد پرست کہاجاتاہے ۔ لیکن اگر معاملہ کسی دوسرے ر مذہب کا ہو تو فورا انہیں مذہب اورعبادت گاہوں کاتقدس یادآجاتاہے۔اس لیے فواد چوہدری کاکرتاپورہ کے واقعہ پرتڑپ اٹھنا اوراپنی بے چینی کااظہارکرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔
کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ ہمارے لیے قابل احترام ہے ،اسلام قلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سب سے زیادہ زوردیتاہے دین اسلام ہی ہے جس نے مظلوم لوگوں کی داد رسی کی اور ان کے تحفظ کے لیے قوانین وضع کیئے۔اس لیے کوئی بھی مسلمان اورمذہبی جماعت ایسی نہیں کہ جواقلیتوں کے حقوق اوران کی عبادت گاہوں کی پامالی کی حامی ہو ۔ریاست پاکستان اقلیتوں کے حقوق کی تحفظ کی مکمل ضامن ہے مگرپی ٹی آئی کی حکومت اقلیتوں کے نام پرعالمی ایجنڈے کوپروان چڑھارہی ہے ایک مخصوص مائنڈسیٹ کوتقویت دی جارہی ہے ریاست مدینہ کے مقدس نعرے کی آڑمیں ساری وارادت کی جارہی ہے ۔
یہ وہی فوادچوہدری ہیں کہ جن کی نگرانی میںامسال فر وری میں لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں اداکار شان شاہد اور گلوکار علی ظفر کی ڈھول کی تھاپ پر دھمال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اس پرکیاکاروائی ہوئی ؟فوادچوہدری کااس حوالے سے کوئی بیان نہیں گزراکہ مسجدکاتقدس پامال ہواہے اورنہ ہی انہوں نے اس اقدام پرمعافی مانگی ؟الٹاجن لوگوں نے اس واقعہ پراحتجاج کیا ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ،گزشتہ سال اسی مسجدمیں بلال سعید اور صبا قمرنے مسجدکاتقدس پامال کرتے ہوئے ایک فلمی گانے کے مناظرشوٹ کیے جس پرپاکستانی عوام نے شدیداحتجاج کیااورحکومت مقدمہ درج کرنے پرمجبورہوئی ،چنددن قبل ڈی ایچ اے کراچی کی مسجدسکینہ میں بے ہودہ مناظرسوشل میڈیاپروائرل ہوئے مگرکسی وفاقی یاصوبائی وزیرکی طرف سے مسجدکی بے حرمتی کی مذمت کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔
ملک کی تاریخی مساجدمیں اکثرلڑکیاں اورلڑکے بے ہودہ مناظرفلماتے ہیں ان کی ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہوتی ہیں،،ٹک ٹاکرزنامی مخلوق اکثر فیصل مسجد اسلام آباد، بادشاہی مسجد اوردیگرمساجدکاتقدس پامال کرتی نظرآتی ہے مگرحکومتی وزاراء کی روح بے چین نہیں ہوتی ،غیرملکی وفود کے دوروں پران تاریخی مساجدکے تقدس کاخیال نہیں رکھاجاتاابھی چنددن قبل ہی فیصل مسجدمیں ایک غیرملکی وفدکے دورے کی وجہ سے نمازعصرمیں تاخیرکردی گئی جس پروہاں موجود نمازیوں نے شدیداحتجاج کیا انہی حرکات کی وجہ سے لال مسجدکے مولاناعبدالعزیزنے چنددن قبل یہ بیان دیاکہ حکومت فیصل مسجدکے تقدس کی پامالی روکے ورنہ وہ فیصل مسجدکاانتظام سنبھالنے پرمجبورہوں گے ۔
حکومت اقلیتوں کے حوالے سے اتنی حساس ہے کہ 2019میں فیاض الحسن چوہان کی جانب سے ہندوں کے بارے میں بیان دینے پرانہیں پنچاب کی وزارت اطلاعات سے ہاتھ دھوناپڑاتھا مگردوسری طرف ان کے وزاراء کی طرف سے اسلام ،مسلمانوں ،مساجدومدارس کے خلاف بے شماربیانات آئے روزمیڈیامیں آتے ہیںمگر ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی حکومت کایہ رویہ مسلمانوں اورریاست پاکستان کے لیے تشویش ناک ہے اسلام اوردوقومی نظریے پرحاصل کیے گئے ملک میں اسلام اورشعائراسلام کی سرعام مذاق اڑائی جائے گی توپھراللہ کاعذاب ہی آئے گا ۔
حکومت ریاست مدینہ کانعرہ تولگاتی ہے مگرپالیسیاں ایسی بناتی ہے کہ ان کاتعلق کسی طورپربھی ریاست مدینہ سے نہیں ،اس وقت ہمارامعاشرہ دینی طورپرانحطاط کاشکارہے بے حیائی کوفروغ دیاجارہاہے حکمرانوں کی پالیسیوں کانتیجہ ہے کہ چنددن قبل سینٹ کے اجلاس میں وزارت داخلہ نے جنس کی تبدیلی کیلئے درخواستیں دینے والوں کے اعداد و شمار پیش کر کے سب کو حیران کر دیا ۔گذشتہ تین برسوں میں 28 ہزار 723 سے زائد شہریوں نے نادرا کو کوائف میں تبدیلی کرکے ریکارڈ میں اپنی جنس تبدیل کرنے کی درخواستیں دی ہے۔ بتایا گیا کہ 16 ہزار 530 مردوں نے اپنی جنس تبدیل کرکے خود کو عورت کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی ہے۔سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے تحریری جواب میں سینیٹ کو بتایا کہ جولائی 2018 سے رواں سال جون کے دوران 12 ہزار 154عورتوں نے اپنی جنس مرد کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست کی ہے۔ تین برسوں میں 9 شہریوں نے اپنی جنس مرد سے خواجہ سرا میں تبدیل کرنے کی درخواست دی ہے جبکہ 21 افراد نے اپنی جنس خواجہ سرا سے مرد کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کی درخواست کی ہے۔
یہ توجنس کی تبدیلی کامعاملہ ہے اگرعقائدونظریاتی کی بات کی جائے تومعاملہ اس سے بھی خطرناک ہے دودن قبل تبلیغی جماعت کے ساتھ آئے ہوئے لاہورسے ایک مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی توانہوں نے دوران گفتگو بتایاکہ لاہورکی ایک یونیورسٹی میں ختم نبوت کے حوالے سے پروگرام منعقدکیاپروگرام کے اختتام پرمہمان خصوصی واپس جارہے تھے کہ ان کی اسی یونیورسٹی کے ایک پروفیسرسے ملاقات ہوئی توپروفیسرصاحب نے پوچھا کہ مفتی صاحب کس موضوع پربیان کیاہے تومفتی صاحب نے کہاکہ ختم نبوت اورشان رسالت موضوع تھا توپروفیسرصاحب نے مفتی صاحب کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پہلے ہم سے خداتومنوائوپھررسالت کی بات ہوگی (نعوذبااللہ )حکمرانوں کابداعمالیاں کانتیجہ ہے کہ ملک کی نظریاتی سرحدوںپرحملے ہورہے ہیں اورہم محوتماشاہیں ۔

٭…٭…٭

About the author

Umer Farooq

Umer Farooq

Leave a Comment

%d bloggers like this: