Today's Columns Umer Farooq

ملا علی کردستانی کا معاملہ اور روحانی علاج از عمر فاروق ( آگہی )

Umer Farooq
Written by Umer Farooq

تین چارسال پہلے کی بات ہے میں گھرکے کسی کام میں مصروف تھا کہ مجھے دفترسے فون آیاکہ امام کعبہ تشریف لارہے ہیں آپ فورادفترپہنچیں ان کاانٹرویوکرناہے پہلے تومیں حیران ہواکہ امام کعبہ اسلام آبادآئے ہیں اورکسی کوکانوں کان خبرنہیں ہوئی۔ خیرمیں اپناکام ادھوراچھوڑکردفترپہنچاتووہاں امام کعبہ کے استقبال کی تیاریاں ہورہی تھیں مجھے ایڈیٹرکی طرف سے حکم ملاکہ انٹرویوکے لیے بہترین سوالات تیارکرکے مجھے دکھائو۔
میں نے ایڈیٹرسے امام کعبہ کے متعلق تفصیل پوچھناچاہی توانہوں نے کہاکہ تم اس کوچھوڑوبس اپناکام کرو۔میں نے شہراورملک کے چند بڑے علماء کرام کوفون کرکے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی کہ حرم شریف سے کون سے امام صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں مگرسب نے لاعلمی کااظہارکیاتلاش بسیارکے بعدمجھے ایک مفتی صاحب کاپتہ چلاکہ ان کے پاس اس حوالے سے معلومات ہیں میں نے انہیں فون کیاتوانہوں نے امام صاحب کے متعلق کچھ معلومات دیں اورساتھ یہ بھی کہاکہ ایک گھنٹے بعد ہم آپ کے پاس ہوں گے ۔مگرمیرے اندرکارپورٹریہ سب کچھ ماننے کوتیارنہیں تھا۔
میں نے چیف رپورٹرکی مشاورت سے اردواورعربی میںانٹرویوکے لیے چندسوالات تیارکیے اورامام صاحب کاانتظارکرنے لگے تھوڑی دیربعدمفتی صاحب کافون آیاکہ ہم آپ کے دفترپہنچنے والے ہیں ایڈیٹرسمیت دیگرمتعلقہ افرادامام صاحب کے استقبال کے لیے دفترسے باہرآکھڑے ہوئے،معلومات دینے والے مفتی صاحب بھی امام صاحب سے پہلے تشریف لے آئے اتنے میں ایک کالے شیشوں والی گاڑی ہمارے دفترکے سامنے آکررکی اس میں سے دوافرادبرآمدہوئے ان میں سے ایک شخص جودراصل مترجم تھا نے دوسری بھاری بھرکم شخصیت کے متعلق تعارف کروایاکہ یہ امام صاحب ہیں اوران کافلاں نام ہے ۔
ابتدائی تبادلہ خیال کے بعد انٹرویوکاموقع آیاتومترجم نے فورایہ کہہ کرروک دیاکہ امام صاحب انٹرویودیں گے اورنہ ہی ان کی تصویراخبارمیںشائع کی جائے گی ، یوں جان بچی سولاکھوں پائے کے مصداق ہم ایک بڑے امتحان سے بچ گئے اس مرحلے سے فارغ ہوکرمیں نے امام صاحب کے متعلق معلومات حاصل کرناشروع کیں تواسلام آبادمیں قائم سعودی سفارتخانے کسی امام صاحب کی آمدسے متعلق انکارکردیا مزیدکھوج لگائی تومکہ میں ایک دوست سے معلومات شیئرکیںاوران سے اس بابت دریافت کیا تومیرے دوست نے ہنستے ہوئے کہاکہ میں تمھیں اس شرط پرمکمل معلومات دوں گاکہ تم اس کی خبرنہیں بنائوگئے کیوں کہ سعودی عرب میں ان دونوں کے لیے مشکلات ہوجائیں گی اورانہیں سخت سزاملے گی ۔
میری یقین دہانی پرانہوں نے حیرت انگیزمعلومات دیتے ہوئے بتایاکہ یہ امام صاحب اورمترجم دونوں کاتعلق برما(میانمار)سے ہے مترجم صاحب مکہ میں سکول وین چلاتے ہیں جبکہ امام صاحب ٹیوشن پڑھاتے ہیں میں نے جب یہ معلومات اپنے چیف رپورٹرکودیں توانہوں نے کہاکہ اب چوں کہ کام کافی آگے بڑھ چکاہے اس لیے خاموشی میں ہی عافیت ہے بعدمیں پتہ چلاکہ مذکورہ امام صاحب کے اعزازمیں ضیافت کااہتمام کیاگیا جس میںایک سابق وزیراعظم سمیت کئی قابل قدرسیاسی ومذہبی شخصیات نے شرکت کی اورچنددن بعد امام صاحب واپس روانہ ہوگئے ۔
یہ واقعہ اس لیے یادآیادکہ چنددنوں سے ملاعلی کردستانی نامی ایک روحانی معالج اسلام آبادآئے ہوئے ہیں پورے ملک سے لوگ اپنے مریضوں کولے کراسلام آبادکی سڑکوں پرمارے مارے پھررہے ہیں فائیوسٹارہوٹل میں ان کاقیام ہے مریضوں کوچیک اپ کرنے کے حوالے سے ان کاکوئی ٹائم ٹیبل اورجگہ مقررنہیں ہے اورنہ ہی ان کے ساتھ رابطے کے لیے کوئی مستندنمبرموجود ہے جس کی وجہ سے ملک کے دوردرازسے آئے ہوئے لوگ گاڑیاں بک کرواکراسلام آبادکی ٹھنڈی سڑکوں پربیٹھے ہوئے ہیں،ایک فیملی نے اپنے مریض کے علاج کے لیے فائیوسٹارہوٹل میں اسی فلورپرکمرہ لایاجہاں ملاعلی ٹھرے ہوئے تھے انہوں نے اپنے مریض کاعلاج کرویامگرمریض کوافاقہ نہیں ہوا
ملاعلی کردستانی کے متعلق یہ بھی معلوم نہیں ہوسکاکہ وہ روحانی معالج ہیں ،ڈاکٹرہیں یاحکیم ہیں آیاوہ تصوف کے کسی سلسلے کے ساتھ بھی وابستہ ہیں یانہیں ؟کسی کوعلم نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضعیف الااعتقادی اوراوہام پرستی کاشکاروہ مریض بھی ان کے پاس آرہے ہیں جنھیں روحانی مسئلہ نہیں بلکہ میڈیکل علاج معالجے کی ضرورت ہے جہاں تک ملاعلی کردستانی کے علاج کاتعلق ہے توان کے سوشل میڈیاپرسعودی عرب اورترکی میںمریضوں کے شفاء یاب ہونے کی ویڈیوزوائرل ہیں اسلام آبادمیں اب تک ایساکوئی مریض سامنے نہیں آیاہے کہ جس کوان کے علاج معالجے سے شفاء ملی ہو۔
ہماری قوم کایہ المیہ ہے کہ اندھی عقیدت کاشکارہے یہاں کوئی بھی مقدس نام پرچونالگاسکتاہے کبھی کعبے کا کلیدبردار،کبھی گنبدخضری کارنگ سازکبھی امام حرم کاکوئی خادم بن کریہاں آتاہے اوراپناکام نکال کرچلاجاتاہے موجودہ حکمران توویسے بھی ضعیف الاعتقادی کے حوالے سے مشہورہیں زائچوں پرچلنے والی اس حکومت نے بھی ملاعلی کردستانی کی خوب آئوبھگت کی ہے اگرملاعلی اتناہی بڑامعالج ہے توحکومت سرکاری سطح پران سے علاج معالجے کااہتمام کرے تاکہ یہ قوم شفایاب ہوسکے ۔
اندھی اور بے جا عقیدت ایک خوفناک نفسیاتی بیماری ہے جس میں ہر منظر دھندلا، راستہ ٹیڑھا اور چہرہ بگڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اپنا نظریہ، اپنی رائے، اپنا مسلک اور پارٹی لیڈر ہی سچا اور درست نظر آتا ہے باقی سب جھوٹ، دھوکا اور باطل مانے جاتے ہیں۔ عقیدت میں مبتلا شخص اپنی سوچوں کی دنیا کو اپنے ایک ماحول میں بند کر لیتا ہے اور اسی کو کل کائنات سمجھ کر پوری دنیا سے اعلی و ارفع خیال کرتا ہے اور اِس خول سے باہر کی دنیا اسے ادنی اور فضول نظر آتی ہے۔ اس خول کے محدود ماحول کی وجہ سے ایک تو اس کے اندر کا ماحول آلودہ ہو جاتا ہے دوسرا باہر کی دنیا اور اس کی حقیقتیں عیاں نہیں ہوتیں۔ آخر کار عقیدت کی یہ تیز چھری عقل و شعور کی شہ رگ کاٹ کر عقیدت مندوں میں خود غرضی، عدم برداشت، تنگ نظری اور نفرت کے جذبات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے جو ہمیں رشتوں سے محبت نہیں کرنے دیتی۔ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔ گروپ یا پارٹی لیڈر، صوفیا کرام، علما کرام اور برگزیدہ بندوں کو انسان نہیں سمجھنے دیتی۔ انھیں غلطیوں، گناہوں سے مبرااور مافوق الفطرت قسم کی مخلوق بنا دیتی ہے۔
روحانی علاج دم درود سے ہوسکتا ہے مگر اصل روحانی علاج تو اپنے نفس کی اصلاح ہے لہذا اپنی زندگی کو بے مقصد گزارنے سے بہتر ہے کہ اپنی زندگی کا ایک لائحہ عمل بنائیں ۔۔اچانک آنے والی کسی بات سے نہ تو بے حد متاثر ہوں اور نہ ہی بلاوجہ تنقید کی راہوں پر چلیں۔۔اور یہ جب ہوگا کہ جب کسی اللہ والے کے ہاتھ میں ہاتھ ہوگا تو پھر اسکی رہنمائی میں چلتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا آسان ہوجائے گا کہ اس موقع پر کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔
روحانی علاج سے انکارنہیں ہمارے ملک میں بڑے بڑے روحانی معالج موجود ہیں "مگرسب سے پہلے نفس کی اصلاح ضروری ہے:بعض بیماریاں انسان کے دل میں صرف دنیا کی محبت کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔۔۔جیساکہ کینہ،بغض،عداوت،حسد،بدنظری،تکبر،حب جاہ و حب مال کی طلب وغیرہ۔۔۔تو ان سب روحانی بیماریوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دل کالا ہوجاتا ہے۔۔دل ہر وقت پریشان رہتاہے۔۔جس سے انسان کی صحت انتہائی خراب ہوجاتی ہے ۔جسکے باعث وہ دوگنا پریشان ہوجاتا ہے۔۔۔تو اسکا حل یہ ہے کہ آپ کسی شیخ کامل کا دامن تھام لیں۔ پھر شیخ کی رہنمائی میں اپنے دل کی اصلاح کروائیں ۔۔نیکیوں کی طرف اپنا رجحان بڑھائیں اور رب تعالی کی یاد میں اپنے دل کو لگائیں ۔

٭…٭…٭

About the author

Umer Farooq

Umer Farooq

Leave a Comment

%d bloggers like this: