Hoor ul Ain Firdous Today's Columns

سانحہ سیالکوٹ، عشق نبیﷺ یا جہالت از حورالعین فردوس

Written by Todays Column

وطن عزیز پاکستان میں سانحہ سیالکوٹ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے
اس طرح کے ظلم و جہالت سے بھرپور واقعات آئے روز دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں
حکومتی ایوان اور سکیورٹی ادارے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں دو چار دن سوشل میڈیا پر ہلچل مچتی ہے پھر کوئی نیا تماشہ شروع پہلا ظلم مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے یہ روز کا معمول بن چکا ہے مجرم سینہ چوڑا کیے دندناتا پھرتا ہے
جس چیز نے مجھے لکھنے پر مجبور کیا وہ ہے مظلوم مقتول جہنمی اور کافر بن جاتا ہے جبکہ اس بات کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے
اور ظالم کوسپر ہیرو بناکر پیش کیا جاتا ہے
اور یہی چیز معاشرے میں موجود انسان
نما درندوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے
عشق رسولﷺ کی آڑ میں اپنی ذاتی دشمنی و عناد کی بھڑاس نکالی جاتی ہے
بغیر تحقیق اور بغیر ثبوتوں کے کسی پر بھی توہین مذہب اور توہین نبیﷺ کا گھناونا الزام دھر دیا جاتا ہے
جبکہ اللہ تعالی قران کریم میں فرماتا ہے
جب بھی تمہارے پاس کوئی خبر پہنچے تو اسکی تحقیق کر لیاکرو
مگر یہاں کے قوانین اتنے کمزور ہیں کہ ہر درندہ ظالم ہاتھ میں لیے پھرتا ہے
کسی پر بھی کفر کا فتوی جڑ دو جلا دو مار دو عشق رسولﷺ کا نام استعمال کر کے بری ہو جائے
عشق رسول ہے اگر تو آپﷺ کی تعلیمات اور زندگی کا مطالعہ کیا جائے
آپ کو جا بجا ایسے واقعات پڑھنے کو ملیں گے کہ ہر ظلم و زیادتی کا جواب آپﷺ نے صبر و تحمل سے دیا
آپﷺ رحمت اللعالمین ہیں ان سے محبت کرنے والے ظالم ہرگز نہیں ہو سکتے
آپﷺ نے سفر طائف کے دوران پیش آنیولے واقعات پر بھی صبر کا مظاہرہ کیا اور پتھر مارنے والوں کو بد دعا تک نہ دی اپنی بیٹی اور چچا کے قاتلوں کو معاف فرما دیا
مگر نام نہاد عاشق قران و سنت سے دور نماز و روزہ سے دور دن رات حرام کاری اور حرام خوری میں پیش پیش ہیں
دین اور ملک ملت کے دشمن ہیں یہ لوگ انسانوں کو مخلوق خدا کو تکلیف دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ اور رسولﷺ کو خوش کر دیا مگر حقیقت میں یہی لوگ خصارے میں ہیں
لوگو کو دھوکہ دے بھی لو مگر وہ ذات سب جانتی ہے
سورہ البقرہ آیت نمبر نو میں اللہ فرماتا ہے کہ
یہ اپنے پندار میں خدا اور مومنوں کو چکما دے رہے ہیں مگر حقیقت میں یہ اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے
معاشرے میں دنگا فساد کرنے والے کبھی مسلمان نہیں ہو سکتیاللہ و رسولﷺ سے محبت تو دور کی بات ہے
سورہ بقرہ میں ایک اور جگہ ارشاد ہے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
سانحہ سیالکوٹ میں جس شخص کو جلایا گیا اول تو وہ جانتا ہیں نہیں ہوگا عربی اگر جانتا بھی ہوا تو وہ ایسا جان بوجھ کر کیوں کرے گا وہ بھی ایک اسلامی ملک میں جہاں کے باشندے اتنے جنونی ہوں وہ ہرگز ایسی
حرکت نہیں کر سکتا اور فرض کریں وہ ایسا کرتا بھی ہے تو اسکی شکایت حکام بالا میں پیش کی جاتی خود منصف بننے کی کیا ضرورت ہے
قانون کس لیے ہے
اور پھر اتنی بے دردی اور ظلم سے قتل کیا جانا
اللہ تعالی سورہ توبہ میں فرماتا ہے کہ
اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تواس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ پہنچا دو اس لیے کہ یہ لوگ بے خبر ہیں
مگر افسوس کہ دنیا کا بہترین دین دنیا کے بدترین لوگوں کے ہاتھ میں آچکا ہے جنہوں نے اس دین حق کا اصل چہرہ مسخ کردیا ہے
اور دنیامیں اسے خوف و دہشت کی علامت بنا دیا ہے اسلام کے معنی سلامتی کے ہیں مگر جاہل پیروکاروں کی وجہ سے دہشت بنا دیا گیا
یاد رہے مومن دکھائی دینے سے مومن بن جانا بہتر ہے عمل سے جنت بھی ہے جہنم بھی ظالم کبھی مومن نہیں ہوتا
الزام لگائو مار بھی دو
دامن سے مٹی جھاڑ بھی دو
مسلماں بھی کہلائو اور پھر
مائوں کی گود اجاڑ بھی دو
تم سے نہ کوئی سوال کرے
نہ ظلم کو جرم خیال کرے
لیکن تم اتنا یاد رکھو
وہ وقت بھی آخر آنا ہے
ہے جس کے نام پر ظلم کیا
اس ذات کے آگے جانا ہے

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: