Gul Gulshan Today's Columns

ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل از گل گلشن

Gul Gulshan
Written by Todays Column

اسلام کے نام پہ اپنی مرضیاں کرنے والوں کا اپنا انجام کیا ہونا ہے اس سے بے خبر وہ اپنی بے جا خواہشات کو پورا کرنے میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ ان کو ہر کوئی غلط ہی نظر آرہا ہے سواے اپنی ذات کے۔کیا سری لنکا کے شہری پریادیا ودھنہ کے ساتھ کیا جانے والا سلوک ہمیں ہمارے مذہب نے سکھایا ہے؟۔ کیا یہ ہمیں حدیث سے سبق ملا؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو سوچیں کہ کہاں سے سیکھا یہ عمل کہ کوئی غیر ملکی اپنے دیس سے دور اپنی روزی کمانے کے لئے پردیس آیا ہو اور دیس والے اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جو کہ انتہائی افسوس ناک ہونے کے ساتھ۔ ساتھ انتہائی شرمناک بھی ہو۔
پریادیاودھنہ سری لنکا سے سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں 2012سے کام کر رہا تھا۔2021میں ہی اس نے رسالت کی توہین کرنی تھی۔ چلیں مان لیا کہ اس نے بہت غلط کیا۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہماری نام نہاد مسلمان قوم کو طش آگیا۔ انہوں نے مل کے اس کا ایسے ختم کرنا حل سمجھاجو ناقابلِ بیاں ہے۔ کیا ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ آخر یہ سب کرنے کا حق ان سب کو کس نے دیا۔
میں ایک رپورٹ میں پڑھ رہی تھی کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے کیونکہ شرح تعلیم کم ہے جو ناخواندگی میں اضافے کا باعث ہے۔ مجھے یہ سطریں پڑھ کہ اتنی حیرت ہوی کہ بتا نہیں سکتی۔حیرت کیوں ہوئی وہ اس لئے کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنے سارے ہجوم میں کوئی بھی پڑھا لکھا انسان موجود نہیں تھا۔ کیا سب کے سب ہی سکول کالج یا یونیورسٹیوں سے دور رہے ہیں ساری عمر؟ کیا کسی نے بھی قرآن کو نہیں پڑھا تھا یا کوئی بھی کبھی مسجد نہیں گیا تھا۔ کیا کسی نے بھی یہ نہیں پڑھا یا سنا تھا کہ
ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
افسوس ہے کہ تمام میں سے آدھے لوگ یونیورسٹیوں تک نہیں تو کالج یا سکولز تک تو لازمی گے ہوں گے۔ مگر انہوں نے وہاں تعیلم حاصل کرنے کی بجاے تنظیمیں بناء۔ اور بے مقصد زندگیاں تباہ کر لیں اپنے والدین کا پیسہ برباد کیا اور خود کو ایسے ناسور کے طور پہ معاشرے کا حصہ بنا ڈالا کہ اس کا انجام آج ہم سب کے سامنے سیالکوٹ جیسے واقعے کی صورت میں یا لاہور میں ہونے والے شرم ناک واقعے کی صورت میں یا پھر زینب جیسے حادثات کی صورت میں۔ ہمارے سامنے موجود ہیں۔ آئے روز ایسے بے شمار واقعات دیکھنے کو اور سننے کو ملتے ہیں۔
ہم نجانے کس خوش فہمی کا شکار ہو چکے ہیں کہ جو ختم ہونے کانام ہی نہیں لئے رہی۔
ہماری عادت بن چکی ہے کہ دوسروں میں سے خامیاں تلاش کرتے ہیں اور خود کو پارسا بنا کہ آرام سے بیٹھے ہیں۔
ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی کمی بے تحاشہ کمی ہے۔ ضرورت اس وقت یہ نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے یا کیا کہہ رہا ہے۔بلکہ ہماری نوجوان نسل کو ضرورت اس وقت بیدار ہونے کی ہے جو غفلت کی چادر اوڑھے صدیوں سے سو رہی ہے۔ اگر اس نازک وقت بھی ہم نہ جاگے تو محشر کے روز خداِ پاک کے سامنے کیا جواب دیں گے۔ تو ابھی سے عہد کریں کہ ہم اپنی سوچ کو بہتر زوایے پہ لائیں گے تاکہ اس پہ عمل کر کہ نتائج بہتر سے بہترین کر سکیں۔اور ہماری آنے والی نسلوں کو سیالکوٹ جیسے واقعات سے واسطہ نہ پڑے
٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: