Muhammad Mazhar Rasheed Ch Today's Columns

انسانی حقوق کا عالمی دن اور معاشرے میں بڑھتا تشدد کا رجحان از محمد مظہر رشید چودھری ( سانچ )

Muhammad Mazhar Rasheed Ch

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ’’لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا یعنی اوّل اس سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پیدا کر کے روئے زمین پر پھیلا دئیے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو اور قطع رحمی سے بچو کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘( النساء4 : 1)۔ایک دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے’’
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے ‘‘( الحجرات، 49 : 13)۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا’’اے لوگو! خبردار ہوجاؤ کہ تمہارا رب ایک ہے اور بیشک تمہارا باپ (آدم علیہ السلام) ایک ہے۔ کسی عرب کو غیر عرب پر اور کسی غیر عرب کو عرب پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور نہ سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت حاصل ہے سوائے تقویٰ کے ‘‘۔ اسلام نے ہر قسم کے امتیازات اور ذات پات، نسل، رنگ، جنس، زبان، حسب و نسب اور مال و دولت پر مبنی تعصبات کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ہم پلہ قرار دیا خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، سفید ہوں یا سیاہ، مشرق میں ہوں یا مغرب میں، مرد ہو یا عورت اور چاہے وہ کسی بھی لسانی یا جغرافیائی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے ہے ،اسلام سب انسانوں کے ساتھ حسن اخلاق،رواداری اور بھائی چارے کا حکم دیتا ہے دین اسلام واحد مذہب ہے جس میں حقوق العباد کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے گزشتہ صدی میں اقوام متحدہ،ادارہ برائے انسانی حقوق اور اس طرح کی بے شمار تنظیمیں جو کہ انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں ان کو بھی یہ بات ماننا ہو گی کہ ان کا موجودہ منشوردین اسلام نے 1443سال قبل ہم تک پہنچا دیا تھا کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے ،دس دسمبر کو دُنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کومنانے کامقصد بھی انسانوں کے حقوق کو اُجاگر کرنا ہوتا ہے،10دسمبر 1948کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظوری دی ، اقوام متحدہ نے اپنے ممبران ممالک پر زور دیا کہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ، اس موقع پر دنیا بھر میں آگاہی تقریبات، واکس ، سیمینارز منعقد کی جاتی ہیں، 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کے 48ممبران ممالک نے پیرس میں عالمی منشور برائے انسانی حقوق (یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس)کی متفقہ طور پر منظوری دی، اقوامِ متحدہ نے بنیادی انسانی حقوق کا نہ صرف تعین کیا بلکہ انسانی حقوق کی جامع تعریف بیان کرتے ہوئے تمام ممبران ممالک کے لیے یکساں اصول وضع کئے، عالمی قرارداد کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکے متن کا دنیا بھر میں تقریباً چارسو زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے، لیکن افسوس آج بھی انسانی بنیادی حقوق سے انسان محروم ہیں ، دنیا کے لاکھوں انسان اپنے حقوق کی خلاف ورزی پر آواز بلند کرنے کے حق سے بھی محروم ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جس طرح بے رحمی اور وحشیانہ انداز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج کشمیریوں پر ظلم وستم کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں ،دنیا بھر کے انسانی حقوق کے علمبردار اس ظلم وستم پر خاموش ہیں ، مغربی ممالک نے منشور حقوقِ انسانی کی داغ بیل تو رکھ دی تھی،لیکن یہ ممالک حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں پیش پیش نظر آتے ہیں، حقوقِ انسانی کا جامع ترین تصور اسلام نے دیا، مغرب نے حقوقِ انسانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ انتہائی ناقص ہے،جس کی وجہ سے 73سال میں ہر ملک میں انسانی حقوق پر باتیں تو بہت ہوئیں لیکن عملاََ کچھ نہیں ہوا، وطن عزیز پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کی صورتحال بھی کافی خطرناک ہے اس کا شکار ایسے افراد اور خواتین ہورہے ہیں جو اپنے ماحول سے بیگانہ ہوکر کسی نئی دنیا کی تلاش میں نکلتے ہیں ان مرد وخواتین کو انسانی اسمگلراپنی دولت کمانے کا زریعہ بناتے ہوئے مستقبل کے سہانے خواب دیکھاتے ہیں ، سب سے افسوسناک بات تو یہ ہے کہ انسانی سمگلروں کے ہتھے معصوم بچے بھی لگ جاتے ہیں جنھیں یہ دیگر مما لک کے اسمگلروں کو مختلف مقاصد کے لیے فروخت کرتے ہیں۔ غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق پاکستانی بچیوں کو اسمگل کرکے اُنہیں زبردستی جسم فروشی کی راہ پر لگا یا جاتا ہے،یہ ہی نہیں معاشرے میںامیر و غریب کے درمیان واضح فرق ہے،جسکی وجہ سے آئے روز غریب کے بنیادی حقوق تک پامال ہونے کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں ، حضرت محمد ﷺ نے جو مربوط نظام، انسانی حقوق کا پیش کیا وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، جن میں احترام انسانیت، انسانی نفسیات ورجحانات اور انسان کے معاشرتی، تعلیمی، شہری، ملکی، ثقافتی، تمدنی اورمعاشی تقاضوں اور ضروریات کا مکمل لحاظ کیاگیا ہے ، اگر ہم محسن انسانیت نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات اور قرآن مجید میں اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں تو انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارا وطن عزیز اور معاشرہ مثالی صورتحال اختیار کر سکتا ہے

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Mazhar Rasheed Ch

Muhammad Mazhar Rasheed Ch

Leave a Comment

%d bloggers like this: