Muhammad Akram Amir Today's Columns

کپتان جی ! کسان بھی آپ کی توجہ کے منتظر از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

دنیا میں جس طرح انسان کے زندہ رہنے کیلئے جسم میں سانس کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح ملکی ترقی، خوشحالی، بقاء کیلئے ملک کی معیشت کا مستحکم ہونا بھی لازم ہے، پہلے زراعت پھر صنعت و تجارت، ذرائع ابلاغ اور دیگر شعبہ جات کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے سے ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، ہمارے ملک کی معیشت کا زیادہ تر دار و مدار زراعت پر ہے، سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ زراعت کے شعبہ سے منسلک ہے، اس واضح حقیقت کے باوجود ماضی اور حال کی حکومتوں نے زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے کسی بھی طرح کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، زرعی ترقی میں حائل رکاوٹوں پر نظر دوڑائی جائے تو جو نمایاں وجوہات سامنے آتی ہیں، ان میں سرفہرست ڈیزل، پٹرول، زرعی آلات، کھاد، بیج، زرعی ادویات اور زراعت میں استعمال ہونے والے دیگر لوازمات کا مہنگا ہونا ہے، جبکہ ملک بھر بالخصوص پنجاب کے محکمہ ریونیو کے کمپیوٹر سنٹرز میں کمپیوٹر کی غلطیاں کسانوں کیلئے وبال جان اور محکمہ مال کے اہلکاروں کیلئے چاندی کمانے کا باعث بنی ہوئی ہیں؟ اکثر کمپیوٹر سنٹرز پر کسانوں کا کوئی کام بغیر سفارش یا چمک کے نہیں ہوتا، حالات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی اس بابت سنجیدہ پالیسی نہ ہونے کے باعث کمپیوٹر سنٹرز کے افسران اور عملہ کی اصلاح کرنا کسی کی بس کی بات نہیں نظر آ رہی؟ رہی سہی کسر کسانوں پر لگائے گئے ٹیکسوں کی بھرمار نے نکال دی ہے، اگر حالات یہی رہے تو زراعت جسے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے ترقی کرتی نظر نہیں آتی، کیونکہ ملک بالخصوص پنجاب، سندھ میں کھاد کی پیدا شدہ قلت ہے، اور کھاد بلیک میں فروخت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے گندم کی بیجائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ سال گندم کی پیداوار میں اس حد تک کمی واقع ہو گی کہ ملک کوبیرونی ممالک سے مہنگے داموں گندم خریدناپڑے گی، رہی سی کسر غیر معیاری زرعی ادویات نے نکال دی ہے، جس کے استعمال کے باوجود فصلوں میں جڑی بوٹیوں کی بھرمار کی وجہ سے بھی پیداوار کم ہونے کا امکان ہے۔
دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں چھوٹے کسان کو خوشحال رکھنے کیلئے باقاعدہ ادارے قائم ہیں جو کسانوں کو کھاد، بیج، زرعی ادویات، زرعی آلات کی فراہمی میں دی جانے والی سبسڈی کی نگرانی کرتے ہیں اور اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی حقیقی طور پر کسانوں تک پہنچے اور ان ممالک میں سبسڈی میں خورد برد کرنے والوں کیلئے کڑی سے کڑی سزائیں مقرر ہیں، مگر معذرت کے ساتھ ہمارے ملک میں کسانوں کو دی جانے والی سبسڈی کا 50 فیصد فائدہ بیورو کریسی اور سیاستدان جبکہ باقی بچ جانے والی 50 فیصد میں سے 90 فیصد کا جاگیر دار اور وڈیرے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ریلیف چھوٹے کسانوں کو ملتا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹا کسان دن بدن معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ جاگیر داروں کے اثاثے روز بروز بڑھ رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے کپتان نے اقتدار میں آنے سے قبل زراعت کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کیلئے اتنے دعوے کیے تھے جو لکھنے لگیں تو صفحات کم پڑ جائیں مگر دعوے ختم نہ ہوں، مگر پی ٹی آئی کے کپتان برسر اقتدار آئے تو سارے وعدے بھول گئے، اب کپتان کی حکومت کا 38 ماہ کا دورانیہ گزر چکا ہے اور 22 ماہ کے لگ بھگ پی ٹی آئی کی حکومت باقی رہ گئی ہے، بشرطیکہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، مگر پی ٹی آئی کی حکومت زراعت کے شعبہ اور کسان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے کچھ نہیں کر سکتی، اس حکومت کا کردار بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ہے، جنہوں نے کسان اور زراعت جو کہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کی بڑھوتری کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ اور زراعت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے۔
کپتان جی چاہئے تو یہ تھا کہ آپ جب حکومت میں آئے تھے تو فوری طور پر کھاد بیج زرعی آلات، زرعی ادویات اور زراعت میں استعمال ہونے والی دیگر اشیاء پر عائد ٹیکس ختم کر دیتے تو زراعت کا پہیہ ترقی کی طرف رواں دواں ہو جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا کپتان جی اب بھی وقت ہے کہ زراعت میں استعمال ہونے والی اشیاء پر سبسڈی دی جائے اور کسانوں پر عائد بے جا ٹیکس ختم کیے جائیں، جب تک شعبہ زراعت میں استعمال ہونے والی اشیاء پر ٹیکسز ختم نہیں ہوتے ملکی معیشت میں استحکام پیدا نہیں ہو سکتا؟ کپتان جی شعبہ زراعت میں استعمال ہونے والی اشیاء پر دنیا کے اکثر ممالک کی طرح جنرل سیلز ٹیکس کو ختم کیا جانا ضروری ہے ؟ کسانوں کو فصلیں سیراب کرنے کیلئے نہری پانی کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیوب ویلوں کیلئے سستی بجلی کی فراہمی بھی زراعت کی بڑھوتری کیلئے آکسیجن کا کام کرے گی۔ اور محکمہ زراعت، ریونیو کے کمپیوٹر سنٹرز اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹس سمیت زراعت سے وابستہ دیگر اداروں کی ترجیح بنیادوں پر اصلاح کی بھی ضرورت ہے، دوسرے ملکوں کی طرح زرعی یونیورسٹیوں میں زیادہ سے زیادہ پیداوار دینے والے پودے اور بیج تیار کر کے کسانوں کو سستے داموں دیئے جانے چاہئیں، کپتان جی آپ کو یاد دلا دوں، آپ کے اقتدار کے صرف 22 ماہ باقی رہ گئے ہیں، اور ملک میں کھاد کی صورتحال یہ ہے کہ کسان پیسے ہاتھوں میں تھامے کھاد مقررہ نرخوں پر خریدنے کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں، مگر انہیں کھاد دستیاب نہیں۔ جس کی وجہ سے گندم کی بیجائی کی فصل بری طرح متاثر ہو رہی ہے، کپتان جی کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کو کڑی سزائیں دینے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی، ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے میں اہم کردار ادا کرنے والے شعبہ زراعت کے مسائل کے حل کیلئے اگر کچھ نہ کیا گیا تو پھر ملکی معیشت کو ڈوبنے سے کوئی نہیں روک سکتا؟ یاد رکھنا اگر معیشت ڈوب گئی تو حکومت بھی ڈوب جائے گی۔ تو کپتان جی اب بھی وقت ہے کہ زراعت کے شعبہ کو سہارا دینے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھائیں، تا کہ ملک اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکے؟ ورنہ کپتان جی آپ کی حکومت کو بھی ملک کی سیاسی تاریخ لکھنے والے ماضی کی حکومتوں سے ہی تشبیہ دیں گے اور لکھیں گے کہ کپتان نے اقتدار میں آنے سے پہلے بلند و بانگ دعوے کیے تھے جو اقتدار میں آ کر بھول گئے۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: