Ghulam Murtaz Bajwa Today's Columns

پی ڈی ایم کے مہنگائی مارچ سے کیا فرق پڑے گا؟ از غلام مرتضیٰ باجوہ ( ایوان اقتدار سے )

Ghulam Murtaza Bajwa

پی ڈی ایم نے اسلام آباد کی طرف مہنگائی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر سے لوگ آکر 23 مارچ کو اسلام آباد میں احتجاج میں شرکت کریں گے۔ اعلان کے بعد وہی معلومات سامنے آرہی ہیں جو اس سے پہلے درجنوں بار دیکھنے اور سننے میں آچکی ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں احتجاجی دھرنوں، مظاہروں اور مارچوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان مارچوں اور دھرنوں میں سیاستدان اور مذہبی رہنما حکومت وقت کے خلاف متحد ہوئے۔ ان میں سے بعض کو کامیابی ملی جبکہ بعض اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔پی ڈی ایم کے سربراہ فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر غور آیا ہے۔ اسمبلیوں سے استعفوں کا کارڈ کب اور کیسے استعمال کرنا ہے اپنے وقت پر فیصلہ کرینگے۔ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں نواز شریف، شہبازشریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، آفتاب احمد خان شیرپاؤ، سینیٹر ساجد میر، عبدالغفور حیدری، اکرم خان درانی، شاہ اویس نورانی، حافظ حمداللہ، احسن اقبال، میر کبیر، جہاں زیب جمال دینی، اسحاق ڈار، عابد شیر علی اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام پارٹی سربراہوں اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی اور ملک کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
فضل الرحمن کاکہناہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2018 میں الیکشن کے نتیجے میں عوامی مینڈیٹ سے محروم اور جعلی ووٹ کی بنیاد پر دھاندلی کی پیداوار حکومت معرض وجود میں آئی، یہی وجہ تھی کہ وہ نااہل اور عوامی سپورٹ سے محروم تھی لہذا آج وہ ناکامی کا منہ دیکھ رہی ہے۔ لیکن اس کی سزا بھی پوری قوم مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور غربت کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ 23مارچ کو اسلام آباد میں مہنگائی مارچ ہو گا۔ پورے ملک کے کونے کونے سے قوم اسلام آباد کی طرف آئیں گے اور یہاں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے حوالے سے بہت بڑا مظاہرہ ہو گا جس میں پوری قوم شریک ہو گی۔ اس مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں صوبے کی سطح پر پی ڈی ایم کے اجلاس طلب کیے جائیں گے جس میں حکمت عملی طے کی جائے گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں پہلا بڑا مظاہرہ چار اور پانچ جولائی 1980ء کو ہوا تھا، جب مذہبی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے سابق صدر ضیاء الحق کے زکٰوۃ اور عشر آرڈیننس کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔ مجبوراً حکومت نے شیعہ مکتبہ فکر کو اس آرڈیننس سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔بے نظیر بھٹو نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف 1990ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے 16 نومبر 1992 کو ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا۔انہی دنوں فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے اور جنرل وحید کاکڑ کو نیا آرمی چیف بنا دیا گیا تھا۔چھبیس مئی 1993 کو نواز شریف کی حکومت کو سپریم کورٹ کے احکامات پر بحال کیا گیا اور اسی سال 16 جولائی 1993 کو بے نظیر بھٹو نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کیا۔ تاہم، اس مرتبہ اُنہیں اسلام آباد خاردار تاروں سے بند ملا۔اس صورت حال میں فوجی سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے صدر اسحاق اور وزیرِ اعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا۔جماعت اسلامی نے پہلا مارچ، ستمبر 1996 میں قاضی حسین احمد کی قیادت میں ملین مارچ کی صورت میں کیا۔ جس کا مقصد اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ تھا۔اس دھرنے کے ایک ماہ بعد اسی دھرنے کو عوامی ردعمل سمجھتے ہوئے اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا۔
نو مارچ 2007 کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹائے جانے پر وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک چلائی۔تحریک کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا اور پھر جسٹس افتخار چوہدری، وکلاء رہنماؤں اعتزاز حسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد کی قیادت میں جون 2008 میں پہلا لانگ مارچ کیا گیا۔ جو باآسانی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکا۔نواز شریف نے اعتزاز احسن سے اس احتجاج کو دھرنے میں تبدیل نہ کرنے کی درخواست کی اور لانگ مارچ کے تمام شرکا منتشر ہوگئے۔ تاہم یہ تحریک ختم نہ ہوئی اور مارچ 2009 کو ایک بار پھر لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن یہ مارچ ابھی گجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تمام ججز کو بحال کرنے کا اعلان کردیا۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے 2013 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔سترہ جنوری کو اسلام آباد کی سخت سردی میں چار روز تک جاری رہنے والے دھرنے کا اختتام حکومت اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات پر ختم ہوا۔سیکڑوں مرد وخواتین کو”فتح“ کی نوید سنائی گئی۔ اگست 2014 میں طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اسلام آباد کی طرف ایک مرتبہ پھر مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی اور قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہ کرائے جانے کے خلاف 14 اگست 2014 کو اسلام آباد کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا۔لاہور سے شروع ہونے والا یہ مارچ دو روز میں اسلام آباد پہنچا۔ جہاں اُنہیں پہلے زیرو پوائنٹ اور پھر آبپارہ چوک رُکنے کی اجازت دی گئی۔ہزاروں کی تعداد میں پولیس، ایف سی اور کنٹینرز کی دیواریں، لیکن سب رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے عمران خان اور طاہر القادری 20 اگست کو ریڈ زون میں داخل ہوگئے۔ اس دوران حکومت نے تمام فورس کو پیچھے ہٹا لیا۔آنسو گیس کی برسات ہوئی، ہزاروں شیل فائر کیے گئے، سپریم کورٹ کے گیٹ پر کپڑے لٹکائے گئے۔ ڈی چوک میں جلیبی کی دکانیں بھی کھلیں۔ ڈی جے بٹ کے ترانے بھی چلے۔ لیکن بالاخر 70 دن کے بعد طاہر القادری اور 126 دن بعد عمران خان بھی دھرنا ختم کر کے روانہ ہوگئے۔
نومبر 2017 میں مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور نواز شریف وزارت عظمیٰ کا منصب عدالت کی طرف سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد چھوڑ چکے تھے۔ ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی ملک کے وزیر اعظم تھے۔پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے سال 2018 کے انتخابات میں دھاندلی، ملک میں مہنگائی سمیت کئی اہم ایشوز کو لے کر ایک بار پھر ”مارچ“ کا آغاز کیا ہے۔ جس کی قیادت جمعیت علماء اسلام کر رہی ہے اور حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ مولانا کو وزیر ِ اعظم عمران خان کا استعفیٰ ملے گا یا پھر ناکام واپس جانا پڑے گا۔ اس بات کا فیصلہ آئندہ چند روز میں ہوگا۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کو ایک پھر مہنگائی مارچ سیپر اربوں روپے خسارے کا سامنا ضرورہوگا۔ بے شمار بیمار لاچارلوگ ٹریفک جام ہونے سے زندگی کی بازی ہارجائیں گے۔ نتائج حسب روایت ہی ہونگے۔

٭…٭…٭

About the author

Ghulam Murtaza Bajwa

Ghulam Murtaza Bajwa

Leave a Comment

%d bloggers like this: