Atta Ur Rahman Chohan

قومی زبان کے نفاذمیں حائل رکاوٹیں اورنفوذ کی راہیں! از عطاءالرحمن چوہان

قومی زبان کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں اورنفوذ کی راہیں!

عطاءالرحمن چوہان

صدر تحریک نفاذاردو،پاکستان

(قلم کاروان کی ادبی نشست میں پیش کیاگیامضمون)

وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم:

ہم جو بھی رسول بھیجتے رہے اسی کی قوم کی زبان میں بھیجتے رہے تاکہ ساری باتیں ان پر واضح کردیا کرے ۔ القرآن (سورہ ابراہیم۔۴)یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنا پیغام اور پیغمبر جس قوم کی طرف بھیجتے ہیں، وہ ان کی زبان میں بھیجتے ہیں تاکہ ساری باتیں ان پر واضح ہوجائیں۔ یہی دراصل زبانوں کا معاملہ ہے کہ جس قوم سے معاملہ کیا جائے اس کی زبان میں کیا جائے ورنہ وہ ان معاملات کی درست طور پر سمجھکر اجتماعی امور میں شریک ہوسکیں۔

فرمان قا ئداعظم :

اردو کو قومی زبان قرار دیتے وقت مشرقی پاکستان سے اس کی مخالفت میں آوازیں اٹھنے لگیں تو قائداعظم نے اپنی شدید علالت کے باوجود فوری طور پر ڈھاکہہ جانے کا پروگرام بنایا، تب ڈھاکہ جانے کے لیے جہاز کوبھارت سے ایندھن لینا پڑتا تھا، آپ نے جہاز میں اضافہ ایندھن سٹور کرنے کی ہدایت کی اور ڈاکٹروں کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے ڈھاکہ روانہ ہوگئے۔ آپ نے چٹاگانگ یونیورسٹی میں سالانہ تقسیم انعامات کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:میں آپ کو واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی اور صرف اردو۔۔اور اردو کے سوا اور کوئی نہیں۔ جو آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتاہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہوسکتی اور نہ کام کرسکتی ہے۔ اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہوکر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو اس کی سرکاری زبان ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ اردو ہے۔ اردووہ زبان وہ ہے جسے برعظیم کے کروڑوں مسلمانوں نے پرورش کیا ہے، اسے پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ زبان ہے جودوسری صوبائی اور علاقائی زبانوں سے کہین زیادہ اسلامی ثقافت اور اسلامی روایات کے بہترین سرمائے پر مشتمل ہے اور دوسرے اسلامی ملکوں کی زبانوں سےزیادہ قریب تر ہے۔ پاکستان کی سرکاری زبان جو مملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام تفہیم کا ذریعہ ہو، صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ اردو ہے ، اردو

کے سوا اور کوئی نہیں۔ قائد اعظم کا ڈھاکہ یونیورسٹی میں جلسہءعام سے خطاب(۲۴مارچ ۱۹۴۸)

آئین پاکستان ۱۹۷۳ءمیں اردو کے نفاذ کا دستوری عہد:

 دفعہ ۲۵۱ (I)پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی اور یومِ آغاز سے 15 سال کے اندر اندر اس کے بطور سرکاری زبان اور دیگر اغراض سے استعمال کئے جانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ دفعہ ۲۵۱ (I) کے تابع انگریزی کو سرکاری اغراض سے استعمال کیا جائے گا۔ جب تک اسے اردو سے تبدیل کئے جانے کے انتظام نہیں کرلئے جاتے۔دفعہ ۲۵۱ (۳) قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کیلئے اقدامات کر سکے گی۔

قومی زبان کا نفاذ تاریخ کے آئینہ میں:

 اگر تاریخی پس منظر کو سامنے رکھیں تو ہمیں مغلیہ حکومت میں فارسی کے ساتھ ساتھ اُردو کو سرکارزبان کے طو رپر متعارف کرانے کی کوششوں کا سراغ ملتا ہے۔ شاہ جہاں کے دور میں اُردو فرامین بھی قلم بند ہوئے۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے بھی کچھ سرکاری امور اُردو میں انجام دیئے۔سلطنت دکن میں اُردو زبان نے سرکاری حیثیت اختیار کی۔ اکبر سے ۲۰سال پہلے ابراہیم عادل شاہ جودکن میں حاکم تھے انہوں نے مال (ریونیو) اور مالیاتی اُمور اُردو میں ہی نمٹائے۔۱۸۳۳ء میں جے پور کشن گڑھ ریاست کے حاکم راجہ رام سنگھ نے اُردو کو سرکاری درجہ دیا جبکہریاست رام پور میں فارسی کی بجائے اُردو کا رواج ہوا۔ ۱۸۶۵ء میں ریاست ٹونک کے نواب محمد علی نے اُردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا۔جب انگریزوں نے پنجاب میں قدم رکھا تو پنجاب کے Board of Administration کے سیکرٹری جی جے کرسچن نے یہ تجویز پیش کی کہ اُردو پنجاب میں دفتری و عدالتی زبان ہونی چاہیے۔ چنانچہ یہ اُن کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ ۱۸۵۱ء میں ڈیرہ غازی خان میں فارسی کی بجائے اُردو سرکاری زبان نافذ ہوئی۔ضلع ہزارہ میں بھی اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ ۱۸۵۴ء میں لیہ ڈویژن (Division) تھا وہاں بھی اسی سال اُردو بطور دفتری و عدالتی زبان نافذ ہوئی۔ ۱۸۵۴ء میں پشاور اور کوہاٹ میں بھی اُردو کوسرکاری زبان کا درجہ ملا۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا: قیام پاکستان کے بعد ’’اُردو ہی پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان ہوگی۔‘‘ قائد اعظم کے اس فرمان سے اُردو کی بطور قومی، سرکاری اور رابطے کی زبان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔پاکستان بننے کے بعد حکومت پنجاب کی ان کاوشوں کا ذکر کیا جائے گا جو اُردو کے نفاذ کے سلسلے میں کی گئیں۔ ۲ دسمبر ۱۹۴۹ء کو مجلس زبان دفتری پنجاب (لاہور) کا قیام عمل میں آیا۔ چنانچہ ایک کمیٹی بنی جس کے چیئرمین جسٹس ایس اے رحمن تھے۔اس کمیٹی کا مقصد یہ تھا کہ حکومت کو یہ تجاویز بھجوائی جائیں کہ اُردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کیاجائے۔ جولائی ۱۹۵۰ء میں مجلس مترجمین (Board of Translators) کا قیام عمل میں آیا۔ اس کےمیرِ مجلس پروفیسر محمود احمد خان تھے جو عثمانیہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ رجسٹرار تھے۔ستمبر ۱۹۵۰ء میں علیحدہ مجلس استناد قائم کی گئی۔ ڈاکٹر سید محمد عبداللہ، صوفی غلام مصطفی تبسم،سید وقار عظیم، نذیر نیازی وغیرہ اس کے رُکن تھے۔ ۱۰ اگست ۱۹۵۰ء کو حکومت پنجاب نے ایک گشتی مراسلہ شائع کیا کہ ضلعی سطح کے دفاتر میں انگریزی کی بجائے اُردو نافذ کی جائے۔حکومت پنجاب نے فروری ۱۹۵۱ء میں یہ احکام جاری کیے کہ آئندہ تمام سرکاری اُردو مطبوعات حتی الامکان نسخ ٹائپ میں طبع کی جائیں۔ ۲۳ نومبر ۱۹۶۵ء کو حکومت نے احکام جاری کیے کہ تربیتی اداروں میں زیر تربیت افسروں کی دفتری اُردو سے آگاہی کے لیے اُردو دفتری اصطلاحات و محاورات شاملِ نصاب کی جائیں۔ مملکت کے پہلے۱۹۵۶ءکے آئین میں نفاذ قومی زبان کے لئے پندرہ سال کی مدت مقرر کی گئی اور اس کے لئے مرکزی اردو بورڈ قائم کیا گیا۔ملک کے دوسرے آئین ۱۹۶۲ءمیں بھی نفاذ قومی زبان کے لئے پندرہ برس کی مدت مقرر کی گئی۔۱۹۷۰ءکی تعلیمی پالیسی میں اردو کو ذریعہ ءتعلیم قرار دیا گیا۔۱۹۷۳ءمیں ملک کا تیسرا متفقہ آئین منظور ہوا تو اس میں بھی دستور ساز اسمبلی نے شق ۱۵۲(۱) کے ذریعے اردو کو سرکاری زبان قرار دیتے ہوئے ۱۵ برس کے اندراس کوبطور سرکاری زبان نافذ کرنے کا عہد کیا۔

 مئی ۱۹۷۴ءکو بلوچستان کے گورنر غوث برنجو نے اردو کو صوبہ بلوچستان کی دفتری زبان بنانے کا اعلان کیا۔

 چند روز بعد ارباب سکندر خان خلیل نے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد نے پنجاب کی دفتری زبان اردو کو قرار دے دیا۔

 جنرل ضیاء الحق کے دور میں ۱۹۷۹ءمیں مقتدرہ قومی زبان کا قیام عمل میں لایا گیا۔

 مقتدرہ قومی زبان نے۱۹۸۱ءمیں دفاتر، عدالتوں اور تعلیمی شعبہ میں نفاذ اردو کی سفارشات پیش کیں۔

 ۱۹۸۳ء میں اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاءالحق کی ہدایت پر ایک سرکلر جاری ہوا جس میں سرکاری دفتروں میں ملکی معاملات میں اردو کو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔

 کابینہ ڈویزن نے ۱۹۸۴ءمیں تمام سرکاری اداروں کو سرکاری خط کتابت اور روز مرہ دفتری امور کی اردو زبان میں انجام دینے کی ہدایات جاری کردیں۔

 وفاقی وزراءاور ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین عطاءالرحمن سمیت سات افراد پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی لیکن ان کمیٹیوں کی سفارشات اور رپورٹس کے باوجود اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہ مل سکا۔

 سیدیوسف رضاگیلانی نے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تین تین ارکان پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی یہاں بھی بات کاغذی کارروائی تک محدود رہی۔آخر کار ۸ستمبر ۲۰۱۵ ء کو عدالت عظمیٰ پاکستان نے نفاذ قومی زبان کا تاریخی فیصلہ صادر کردیا۔ اس فیصلہ کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی اور یوں یہ فیصلہ حتمی قرار پاگیا۔

نفاذ قومی زبان سے متعلق عدالت عظمیٰ پاکستان کے احکامات:

 آرٹیکل ۵اور آرٹیکل ۲۵۱میں بیان کئے گئے احکامات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اور ان کے نفاذ میں یکے بعد دیگرے کئی حکومتوں کی بے عملی اور ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے ، ہمارے سامنے سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم مندرجہ ذیل ہدایات اور حکم جاری کریں:

 وفاقی اور صوبائی حکومتیں آرٹیکل 251کے احکامات کو بلا تاخیر اور پوری طاقت سے فوری نافذ کریں۔

 اس آرٹیکل کے نفاذ کے اقدامات کے لیے جو معیاد مذکورہ بالا مراسلہ (مورخہ۶جولائی۲۰۱۵) میں، خود حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی ہے ، اس کی ہر صورت پابندی کی جائے۔

 قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیداکرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

 تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کر لیا جائے۔

 بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی ربط قائم کرنے والے ادارے آرٹیکل ۲۵۱کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس آرٹیکل کا نفاذ یقینی بنائیں ۔

 وفاقی سطح پر مقابلہ کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی مندرجہ بالا سفارشات پر بلا تاخیر عمل کیاجائے۔

 ان عدالتی فیصلوں کا ، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں یا جو آرٹیکل ۱۸۹کے تحت اصول قانون کی وضاحت کرتے ہوں ، لازماً اردو میں ترجمہ کروایا جائے۔

 عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتٰی الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ وہ موثر طریقے سےاپنےقانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔

 اس فیصلے کے اجراءکے بعد ، اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل ۲۵۱کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گاتو جس شہری کوبھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا ، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو گا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں اس امر کی وضاحت کی گئی کہ:

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں

شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا، جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا

کسی کی زبان نہیں تھی۔ یہاں برِ صغیر پاک و ہند میں آریائی عہد میں حکمران طبقے نے

قانون کو سنسکرت کے حصار میں حصار میں محدود کر دیا تاکہ برہمنوں ،شاستریوں اور

پنڈتوں کے سوا کسی کے پلے کچھ نہ پڑے۔بعد میں درباری اور عدالی زبان تھی لیکن عوام

کی زبان نہ تھی ۔انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ

کےزیرِ سایہ ہماری مقامی اور قومی زبانوں کی تحقیر کا ایک نیا باب شروع ہوا جو

بدقسمتی سے آج تک جاری ہے اور جس کے نتیجہ میں ایک طبقاتی تفریق نے جنم لیا ہے

جس نے ایک قلیل لیکن قومی اور غالب اقلیت (جو انگریزی جانتی ہے اور عنانِ حکومت

سنبھالے ہوئے ہے) اور عوام الناس (جو انگریزی نہیں جانتے )کے درمیان ایسی خلیج پیدا

کر دی ہے جو کسی بھی طور قومی یک جہتی کے لیے ساز گار نہیں۔ آئینِ پاکستان البتہ

ہمارے عوام کے سیاسی اور تہذیبی شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، جنہوں نے آرٹیکل

251اور آرٹیکل 28میں محکومانہ سوچ کو خیر باد کہ دیا ہے اور حکمرانوں کو بھی

تحکمانہ رسم ورواج ترک کرنے اور سنتِ خادمانہ اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ آئین کے تشریح

سے متعلق فیصلے اردو میں سنانا یا کم ازکم ان کے تراجم اردو میں کرانا اسی سلسلے کی

ایک چھوٹی سی کری ہے۔ ۔ یہاں اس امر کا اعادہ نہایت ضروری ہے کہ یہ ہماری پسند نا

پسند کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ہماری تن آسانی کا بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اردو کو بطور

سرکاری زبان اور برائے دیگر امور یقینی بنایا جائے اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی

جائے

(9) یہاں ہم آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دینا چاہیں گے جس کے تحتآئین کی پابندی ہر شہری کا لازمی

و بلا استثناء فریضہ ہے۔اس بات کو بھی یاددلانے کی ضرورت ہے کہ ریاست کے تمام اعلیٰ عمال آئین

کی بقا اور تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں لہٰذا وہ اپنی اس آئینی ذمہ داری سے صرفِ نظر کرنے کا حق نہیں

رکھتے ۔ ہم کئی مواقع پر اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ آئین کی حکمرانی تبھی قائم ہو سکتی

ہے جب اس کی ابتدا صاحب اقتدار طبقے سے ہو۔ اگر حکومت خود آئینی احکامات کی پابندی نہیں کرتی تو

وہ قانونی طور پر عوام کو بھی آئین کی پابندی پر مجبور کرنے کی مجاز نہیں سمجھی جا سکتی۔

رکاوٹیں۔۔۔۔غلامانہ ذہنیت

خطے میں دوسو سالہ فرنگی تسلط نے مسلمانان برصغیر کو اس درجے کا غلام بنا رکھا ہے کہ وہ

انگریزی میں ہی اپنی ترقی، بقاء اور کامیابی تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ برطانیہ، امریکہ، اسٹریلیا اور

کینیڈا کے علاوہ دنیا کے کسی ملک میں انگریزی سرکاری زبان کے طور پر نافذ نہیں۔ پاکستان دنیا کی

واحد ریاست ہے جو اپنی قومی زبان کے بجائے ایک ایسے دشمن کی زبان کو ترقی کا ذریعہ سمجھتی

ہے، جس کو ہمارے بزرگوں نے طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد نجات حاصل کی تھی۔

حکمرانوں کی غیرسنجیدگی

تاریخی، دستور اور عدالتی مراحل سے گزر کر ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں کہ حکمران،

نوکرشاہی ، سیاستدان اور اشرافیہ قومی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر اختیار کرنے پر

آمادہ نہیں۔ حالانکہ دستور شکنی اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر عمل درآمد سے انکار پر توہین عدالت

کی سزائیں بھی موجود ہیں۔

صوبائی ،قومی اسمبلی اور سینٹ میں سینٹر سراج الحق اور سینیٹر مشتاق احمد خان کے علاوہ

توجہ دلانے والا بھی کوئی نہیں۔

عدالت عظمیٰ سمیت کسی ذیلی عدلیہ نے ۸ستمبر ۲۰۱۵ کے فیصلے پر عمل شروع نہیں کیا،

حالانکہ کئی ایک مقدمات نفاذ کے لیے زیر سماعت بھی ہیں اور خود میں نے کئی بار چیف جسٹس عدالت

عظمیٰ، جسٹس صاحبان اور عدالت ہائے عالیہ جے چیف جسٹس صاحبان کو خطوط بھی لکھے ہیں۔

عدالتی رویہ:

قومی زبان کے نفاذ بارے عدلیہ کا کردار جانچنے کے لیے یہی کافی ہے کہ ۲۰۰۲ میں دائر

درخواست کا فیصلہ ۲۰۱۵ میں ہوا، وہ بھی خوش قسمتی سے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں

پینج تشکیل پا گیا تھا۔ اس وقت عدالت عظمیٰ پاکستان کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ، بلوچستان ہائی

کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کروانے کی اپیلین دائر ہیں لیکن تمام

عدالتیں مقدمات کی سماعت کے بجائے تاریخیں دے کر مقدمات کو موخرکررہی ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی بے حسی:

ذرائع ابلاغ، نشریاتی و طباعتی ادارے، کالم نگار، صحافی جو قومی زبان کا کھاتے ہیں، قومی زبان ہی ان

کی پہچان ہے لیکن نفاذ قومی زبان پر ایک لفظ لکھنے اور بولنے کے متحمل نہیں۔ اس کی اصل وجہ

ذرائع ابلاغ پر بیرونی سرمایہ کاری ہے۔ نجی ٹی وی چینل انگریزی اور ہندی کی امیزیش سےاردو کا

حلیہ بگاڑنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔

اہل ادب کی بے اعتنائی:

شعراء ادیب اور اساتذہ باالخصوص اردو کے اساتذہ کی سرد مہری اور نفاذ کی سرگرمیوں سے لاتعلقی

قابل توجہ ہے۔

انگریزی میڈیم تعلیمی و طباعتی اداروں کے مفادات:

انگریزی میڈیم تعلیمی اور اشاعتی ادارے پاکستان سے سالانہ کھربوں ڈالر سمیٹ رہے ہیں، قومی زبان کے

نفاذ سے انہیں اپنے مالی مفادات پر زد پڑنے کا خطرہ ہے۔ وہ پوری قوت سے نفاذ اردو کی راہ میں حائل

ہیں۔ حال ہی میں یکساں نصاب تعلیم کے خلاف بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے ذرائع ابلاغ میں اشتہارات

اور مضامین کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ خطرہ ہے کہ وہ عدالت سے بھی رجوع کریں گے اور

حکمرانوں اور نوکرشاہی کو خریدنے کی بھی کوشش کریں گے۔

سیاسی جماعتوں کی خاموشی:

قومی سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں تو قومی زبان کے نفاذ کا اعلان کرتی ہیں لیکن ایوان اقتدار میں

حزب اقتدار اور حزب اختلاف سب ہی قومی زبان کے بارے میں خاموشی اختیار رکھتے ہیں۔ حالانکہ

قومی امور پر عوام کو متحرک کرنا سیاسی جماعتوں کا ہی فرض ہے۔ وہ اسے کوئی قومی مسئلہ ہی نہیں

سمجھتیں اور "نان ایشو" سمجھ کر خاموش رہتی ہیں۔جس کی وجہ سے عوام میں بھی نفاذ قومی زبان کوبھی کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔

قومی اور کثیر الملکی تجارتی کمپنیوں کی سرمایہ کاری:

پاکستان میں کام کرنے والی تمام قومی اور کثیرالملکی تجاری کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے

انگریزی زبان کا سہارا لیتی ہیں۔ وہ زبان کے ساتھ ساتھ بے حیائی اور بے راہ روی کو بھی فروغ دیتی

ہیں۔

قومی زبان کو متنازعہ بنانے کی سازشیں:

ہر دور میں قومی زبان کو متنازعہ بنانے کی سازشیں جاری رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک ہندو رکن

اسمبلی نے ملک کی چھ زبانوں کو قومی زبان قراردینے کی دستور ترمیم پیش کی تھی ، جو قومی اسمبلی

کی مجلس قائمہ نے کثرت رائے سے مسترد کردی ہے۔ گزشتہ دور میں مسلم لیگ نواز کی ماروی میمن

نے سینٹ میں چھ زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے کی قرار داد پیش کی تھی، وہ بھی مجلس قائمہ نے

مسترد کردی تھی۔ پاکستان دشمن لابی ہر موقعہ پر اس طرح کی سازشیں کرتی رہی ہیں۔ ۱۹۴۸ میں

مشرقی پاکستان میں ارد و کو قومی زبان قرار دینے پر احتجاج ہوا تو قائداعظم شدید علالت کے باوجود

ڈھاکہ گئے اور آپ نے پوری جرات سے اردو کا مقدمہ پیش کیا۔ آج جو قول قائد ہر جگہ پیش کیا جارہا

ہے وہ چٹاگنگ یوینورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائدنے فرمایا تھا۔ آج کے حکمرانوں کے

طرز عمل کودیکھ کر حیرت ہوتی ہے ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود وہ قومی زبان کے نفاذ پر

توجہ نہیں دے رہے۔

قومی زبان کے نفاذ سے انکار ممکن نہیں:

دستوری تقاضے، عدالت عظمیٰ کے دوٹوک فیصلے اور قائداعظمؒ کے فرامین کی موجودگی میں

قومی زبان اردو کے نفاذ کو حیلوں بہانوں سے موخر تو کیا جاسکتا ہے، اس سے انکار ممکن نہیں۔ آج

نہیں تو کل حکمران قومی زبان کے نفاذ پرمجبور ہونگے۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ کیونکہ دستور

سے نفاذ اردو کو خارج کرنے غلطی کوئی نہیں کرسکتا۔

عالمی سطح پر اردو کی پذیرائی:

امریکہ سمیت دنیا کے کئی ایک ممالک نے اپنی سرکاری ویب سائٹ کو دیگر عالمی زبانوں کے

ساتھ ساتھ اردو میں بھی تیار کررکھا ہے۔ یہ اردو کی عالمی سطح پر پذیرائی ہے۔اسی طرح دنیا کے

اکثر ذرائع ابلاغ کی اردو نشریاتی ہوتی ہیں، جن میں بی بی سی ، وائس آف امریکہ، چائنہ نیوز ، وائس آف

جرمنی، ایران، سعودی عرب ، کینیڈا، سمیت دنیا کی تمام بڑے نشریاتی اداروں کی اردو سروس موجود

ہے۔

گوگل، مائیکروسافٹ اور ان سے ملحقہ تمام فیس بک، ٹیوٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ سب میں اردو

کی سہولت موجود ہے۔ اردو کی عالمی سطح پر پذیرائی اس کی دنیا میں بولنے اور سمجھنے والوں کی

تعداد کی وجہ سے ہے۔ آج کی کارپوریٹ دنیا اپنے کاروباری مقاصد کے لیے عالمی سروئے کے مطابق

فیصلے کرتے ہیں۔ عجیب بدقسمتی ہے کہ جس زبان کو پوری دنیا میں پذیرائی حاصل ہے وہ اپنے ملک

میں ایک مظلوم زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔

نفوذ کی راہیں:

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر قومی زبان کو فروغ دیا جائے:

آج سارے اعداد وشمار انٹر نیٹ پر ہی مرتب ہوتے ہیں۔ گوگل، فیس بک اور دیگر انٹرنیٹ ذرائع پر

جس قدر اردو میں سرچنگ ہوگی اتنا ہی اردو کو فروغ ملے گا۔ اس سرچنگ/تلاش سے عالمی ادارے

کسی زبان کی ضرورت اور استعمال کے اعدادوشمار جمع کرتے ہیں۔

اپنے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون میں اردو نصب کریں:

اردو کے آن لائن فروغ کے لیے سب سے پہلا قدم اپنے ذاتی کمپیوٹر یا اسمارٹ فون میں اردو کی بورڈ

کی انسٹالیشن ہے تاکہ آپ کسی بھی جگہ اردو ٹائپ کرنے کے قابل ہو سکیں۔اگر آپ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم

استعمال کر رہے ہیں تو ونڈوز ۸ اور ۱۰ میں اردو کی سپورٹ پہلے سے موجود ہوتی ہے، آپ نے صرف

لینگوئج آپشنز میں جا کر اسے فعال کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ آپ کو مشکل محسوس ہو تو گھبرائیے نہیں،

بلکہ انٹرنیٹ سے "پاک اردو انسٹالر" اتار کر نصب کر لیں۔

انٹرنیٹ سرچ اردو میں:

اپنے موبائل/کمپیوٹر پر اردو کی بورڈ نصب کرنے کے بعد اس کا سب سے مؤثر استعمال یہ ہوگا کہ آپ

گوگل، یاہو یا بنگ، کوئی بھی سرچ انجن استعمال کریں تو سرچ باکس میں رومن کے بجائے اردو زبان

استعمال کریں۔ اگر آپ نے پہلے انٹرنیٹ کی تلاش میں اردو استعمال نہیں کی تو سرچ رزلٹس سے ظاہر

ہونے والے مواد کی تعداد سے حیرت ضرور ہو گی۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سرچ رزلٹس اردو میں

ہونے کی وجہ سے آپ آسانی سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور دوسرا فائدہ براہ راست اردو کو ہوگا

کیونکہ اردو میں جتنی زیادہ سرچ بڑھے گی اتنے ہی زیادہ ادارے اردو میں معلومات مہیا کرنے کی

کوشش کریں گے۔

پیغامات اور سوشل میڈیا پوسٹیں اردو میں:

آجکل اردو داں طبقہ سوشل میڈیا اور ذاتی پیغامات میں رومن اردو کا استعمال کرتا ہے، جس کے لیے

کوئی باضابطہ قواعد نہ ہونے کی وجہ سے اردو زبان کا معیار مسلسل زوال پزیر ہے۔ اپنے

موبائل/کمپیوٹر پر اردو میں انٹرنیٹ سرچ شروع کرنے کے بعد جیسے ہی آپ اردو ٹائپنگ میں روانی

حاصل کریں، اپنی فیس بک اور ٹوئٹر پوسٹس کے ساتھ دوستوں سے پیغامات کے تبادلے میں اردو کا

استعمال کریں۔

وکی پیڈیا پراردو لکھیں:

فرض کیا کہ آپ نے ہماری پہلی دو گزارشات مان لیں ہیں اور آپ نے انٹرنیٹ پر تلاش اردو میں شروع کر

دی ہے، تو پھر نتائج میں آپ کا واسطہ سب سے زیادہ اردو وکی پیڈیا سے پڑے گا۔ اس وقت اگرچہ اردو

وکی پیڈیا پر ایک لاکھ سے زیادہ مضامین موجود ہیں، لیکن ان میں سے اکثریت کا معیار وکی پیڈیا پر

دوسری عالمی زبانوں میں موجود مضامین کے مقابلے میں بہت کمتر ہے۔اس لیے آپ اپنے فارغ وقت میں

یہاں پر موجود مضامین کی نوک پلک کے ساتھ ان میں موجود مواد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے

وقت کا بہترین مصرف ہوگا اور ساتھ ہی مختلف موضوعات پر آپ کی اپنی معلومات میں بھی بے پناہ

اضافے کا باعث بنے گا۔

گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد کریں:

وکی پیڈیا پر مضامین کے بعد اردو کی ترویج کی سب سے اہم جگہ گوگل ٹرانسلیٹ ہے۔ گوگل ٹرانسلیٹ

مشینی ترجمہ کرنے کی ایک ہمہ گیر ویب سائٹ ہے جہاں آپ دنیا کی تمام بڑی زبانوں کا ایک سے

دوسری میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس مشینی ترجمے کے لیے گوگل کو پہلے سے ایک زبان سے

دوسری زبان میں ترجمہ کی گئی فائلیں درکار ہوتی ہیں۔یہ ترجمہ شدہ فائلیں جتنی زیادہ ہوں گی اور

ترجمے کا معیار جتنا اچھا ہوگا، ان دو زبانوں کے لیے گوگل ٹرانسلیٹ اتنا ہی بہتر ترجمہ کر سکے گا۔

اس لیے اگر آپ اردو کے ساتھ کسی اور زبان مثلاً انگریزی، فارسی، عربی یا ہندی پر عبور رکھتے ہیں

تو گلوگل ٹرانسلیٹ پر جائیے اور گوگل ٹرانسلیٹ کمیونٹی کا حصہ بن کر چھوٹے چھوٹے جملے ترجمہ کر

کے حسبِ توفیق اردو کی ترویج میں اپنا حصہ ڈالیے۔

اپنا اردو بلاگ لکھیں:

بلاگ ایک آن لائن ذاتی ڈائری کی طرح ہے جس میں آپ اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق کسی بھی

موضوع پر لکھ سکتے ہیں۔بلاگ لکھنے کے لیے آپ کو بہت سی مفت ویب سائٹس مل جائیں گی جن میں

سب سے مشہور بلاگر ڈاٹ کام اور ورڈ پریس ڈاٹ کام ہیں، جن میں اردو کی مکمل سپورٹ موجود ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ چاہیں تو حالات حاضرہ یا پاکستانی معاشرے کے بارے میں آن لائن اردو نیوز ویب

سائٹس پر بھی بلاگ لکھ سکتے ہیں۔

عوامی سطح پربیداری کی مہم:

پرنٹ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا اور براہ راست رابطے کے ذریعے عوام کو قومی زبان کے

نفاذ کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ آج عام پاکستان اس غلامانہ سوچ کا شکار ہے کہ ترقی کا راستہ

انگریزی زبان کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ جب تک عوام کو قومی زبان کی اہمیت سے آگاہ نہیں کیا

جاتا اور قومی زبان کے نفاذ کے لیے منظم جدوجہد کا حصہ نہیں بنیں گے۔

عدالتی چارہ جوئی:

دستور کی بالادستی ، عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد اور دیگر امور میں قومی زبان کے استعمال

کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ہر سطح پر مقدمات کے اندراج سے حکومت قومی زبان کے نفاذ پر

مجبور ہو سکتی ہے۔ کیونکہ عدالت اس کے خلاف تو فیصلہ دے نہیں سکتیں۔

معاشرے کے موثر طبقات کو منظم کرنا:

طلبہ، اساتذہ، محنت کش، تاجر تنظیموں اور ٹریڈ یونیوں کو نفاذ اردو کے لیے متحرک کرنے کی

ضرورت ہے۔

ادبی تنظیموں کی فعالیت:

ادبی تنظیموں، شعراء، ادیبوں اور کالم نگاروں کو نفاذ اردو کے لیے متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ

طبقہ پہلے سے قومی زبان کا حامی ہے، صرف نفاذ اردو کے لیے انہیں متحرک کرکے حکومت پر دباو

بڑھایا جاسکتا ہے۔

دستخطی مہم:

عوامی حمایت کو دستاویزی صورت دینے کے لیے نفاذ اردو کی قرارداد پر عوام النا س کے دستخط

کرکے عدالت عالیہ اور حکومت کو نفاذ کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: