Muhammad Shahzad Bhatti Today's Columns

آزادی مارچ ملک دشمنی کے مترادف از محمد شہزاد بھٹی

Muhammad Shahzad Bhatti
Written by Todays Column
عمران خان کا لانگ مارچ کا اعلان اور ان کہنا ہے کہ میں بروز جمعہ 28 اکتوبر 2022 کو حقیقی آزادی مارچ میں شرکت کے لیے لبرٹی چوک لاہور سے اسلام آباد روانہ ہونگا۔ ایک عام پاکستانی شہری عمران خان سے چند سوالات کرتا ہے کہ میں آزادی مارچ کے لیے نکلوں تو آخر کیوں نکلوں؟ اگر عوام کو ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر مل گئے ہیں تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب کے دور میں غریب عوام کو مہنگائی کی چکّی میں نہیں پسی اور ڈالر 105روپے سے 189روپے تک نہیں پہنچایا تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر پاکستان میں کرپشن انڈیکس 117 سے 140 پر ان کے دور حکومت میں نہیں پہنچا تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کیا ہے اور پولیس اصلاحات کی ہیں تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے اپنے فالورز کو کبھی کوئی نیک کام کرنے کی بھی ترغیب اور تربیت دی ہے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے گالم گلوچ، عدم برداشت، ناچ گانا اور بدتمیزی سکھا کر نئی نوجوان نسل کی اخلاقیات کا بیڑہ غرق نہیں کیا ہے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے فحاشی، بےحیائی اور عریانی کو فروغ نہیں دیا تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کے حوالے نہیں کیا اور نریندر مودی اور ٹرمپ کی کامیابی کے لیے دعائیں نہیں مانگی ہیں تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ کر ملکی معیشت کا بیڑہ غرق نہیں کیا تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب کے اپنے بچے باہر نکلیں تو میں بھی باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوشش کی ہے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے قوم کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت کی ہے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب کو کسی کا نام بگاڑے بغیر اخلاق اور تمیز کے ساتھ تقریر کبھی کی ہے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ ہاں، اگر وزیراعظم ہاؤس اور تمام گورنر ہاؤس میں یونیورسٹیاں بن گئیں ہیں تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر پورے پاکستان کو خان صاحب نے گرین اینڈ کلین بنا دیا ہے اپنے دور میں تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکال دیا تھا تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر ڈاکٹر، نرسیں، اساتذہ، کلرک اور سرکاری ملازمین اپنے مطالبات اور حقوق کے لیے سڑکوں پر ذلیل و خوار نہیں ہوئے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر گزشتہ چار سال میں چوروں، ڈاکوؤں اور کرپٹ لوگوں کو سزائیں ملی ہیں تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر خان صاحب نے آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ اگر ریاست مدینہ میں سود کا خاتمہ ہو گیا ہے تو میں باہر نکلنے کو تیار ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اتنا کافی ہے اگر تو عمران خان صاحب گزشتہ تمام لانگ مارچ جو انہوں نے اب تک کیے ہیں ان میں کیے گئے وعدوں کو پورا کر چکے ہیں تو ہر پاکستانی کو نکلنا چاہیے بصورت دیگر یاد رکھیں ہمارا ملک پاکستان پہلے ہی معاشی مسائل کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے ایسے حالات میں آزادی مارچ کرنا یا اس میں شرکت ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ اس لئے ملکی اور قومی مفاد میں عمران کا ساتھ دینے سے اور ان کے نام نہاد آزادی مارچ میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے یہی سچے محب وطن پاکستانی ہونے کا ثبوت ہے، اللہ کریم ملک پاکستان کی خیر کرے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: