Today's Columns

نکاح اور بلوغ کی عمر، قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں از مولانا قاضی محمود الحسن اشرف

TodaysColumns
Written by Todays Column
نکاح فطرت انسانی اور تمام انبیاء کرام علیھم السلام کی تعلیمات میں اہم حیثیت کا حامل ہے جس کے ذریعے سے نسل انسانی تشکیل پاتی ہے اور بہترین تعلیم و تربیت کے مواقع ہونے کی صورت میں انسانیت کے لیے عظیم نعمت بن جاتی ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے نکاح جلدی کرنے کا حکم دیا تاکہ معاشرے کو فحاشی،عریانی،بدکاری وغیرہ سے روکا جا سکے اور حلال طریقے سے نسل انسانی کی ترقی کی جا سکے۔حدیث مبارکہ ہے ” النکاح من سنتی۔۔۔۔۔۔قال فمن رغب عن سنتی فلیس منی” (نکاح میری سنت ہے۔۔۔۔۔۔۔اور جس نے میری سنت سے انحراف کیا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے)۔اس حدیث سے اسلام میں نکاح کی اہمیت اور ضرورت بھی واضح ہوتی ہے۔
2۔ قرآن کریم کی سورۃ النساء، سورۃ النور،سورۃ الاحزاب، سورۃ التحریم اور سورۃ الطلاق میں نکاح اور اس سے متعلقات تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ تفصیل کیلئے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی صاحب نوراللہ مرقدہ کی شہرہ آفاق تفسیر معارف القرآن،حدیث و فقہ کی تمام کتب میں کتاب النکاح اور کتاب الطلاق ملاحظہ فرمائیں۔ مختصراً درج ذیل نکات ملاخطہ فرمائیں۔
3۔ نکاح کس وقت کیا جا سکتا ہے؟ نکاح کسی بھی وقت منعقد ہو جاتا ہے انعقاد نکاح کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔بلوغ سے پہلے والد اور جبکہ بلوغ کے بعد لڑکی اور لڑکا باہمی رضامندی سے گواہان کی موجودگی میں نکاح کر سکتے ہیں تاہم نکاح کی برکات اور محاسن کیلئے اولاد کے بالغ ہونے کے بعد والدین کے مشورہ، انتخاب اور اعتماد کی وجہ سے بعد کے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے۔اس طرح نکاح کی شریعت میں کم از کم کوئی عمر قرآن و سنت اور فقہ میں متعین نہیں ہے تاہم نکاح کے بعد رخصتی بلوغ کے بعد کرنا مناسب ہے۔حضور اکرم ﷺ کا نکاح سیدہ خدیجہ الکبرٰی سے ہوا اس وقت سدہ خدیجہ الکبری کی عمر 40سال اور حضور ﷺ کی عمر مبارک 25سال تھی۔حضرت سیدہ خدیجہ الکبری ؓ کے انتقال کے بعد حضور ﷺ کا نکاح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ہوا تو اس وقت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی عمر 7سال جبکہ رخصتی کے وقت ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ کی عمر مبارک 9سال تھی اور عرب کے ماحول میں عام طور پر 9سال کی عمر کی بچی بالغ ہو جایا کرتی تھی۔ سیدہ فاطمہ الزہرا ؓ کا نکاح 15سال کی عمر میں ہوا اور اسی وقت رخصتی بھی کر دی گئی تھی۔
4۔ بلوغ کب ہوتا ہے؟ لڑکی یا لڑکا جب انہیں احتلام ہو تو وہ بالغ ہو جاتے ہیں نیز لڑکی کے مخصوس ایام بھی بلوغ کی نشانی ہے جبکہ ڈاکٹر کی رپورٹ پر بھی بلوغ کا حکم دیا جاتا ہے۔اس ضمن میں معروف فتویٰ کی کتب میں تفصیلات موجود ہیں نجم الفتاویٰ جلد خامس صفحہ نمبر 105میں فتوی نمبر 471میں تحریر ہے لڑکے اور لڑکی کی مدت بلوغ کیا ہے؟ جواب میں شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نجم الحسن امروہی نے تحریر کیا ہے کہ لڑکے کے بالغ ہونے کی علامت یہ ہے کہ جب اس کا احتلام یا انزال ہونے لگے شرعاً ایسی حالت کے بعد اس کو بالغ تصور کیا جائے گا اور لڑکی کے بالغ ہونے کی علامت یہ ہے کہ جب اس کو احتلام ہونا / حیض آنا شروع ہو جائیں تو ایسی صورت میں لڑکی کو شرعاً بالغہ تصور کیا جائے گاا لبتہ اگر لڑکے کو احتلام یا انزال نہ ہوتا ہو اور لڑکی کو حیض آنا شروع نہ ہو تو ایسی صورت میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی جب دونوں پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو اس وقت دونوں کو بالغ شمار کیا جائے گا۔ فتاوی ہندیہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہے جسے مغلیہ دور حکومت میں جید علماء اور مفتیان کی تحقیق کے بعداجتماعی طور پر مرتب کیا گیا تھا کہ صفحہ نمبر 61جلد 5میں یوں درج ہے: الفصل الثانی فی معرفۃ حد البلوغ البلوغ ا لغلام بالا حتلام اوالاحبال او الانزال۔۔والجاریۃ بالاحتلام او الاحیض کذافی المختار وا لسن الذی یحکم ببلوغ الاغلام و الجاریۃ اذا انتھیا الیہ خمس عشرۃ سنۃ عندہ ابی یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالیٰ وھو روایت عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ والیہ الفتویٰ
5۔ فقہ حنفی کی مشہور کتا ب درالمختار جلد نمبر 6صفحہ نمبر 153میں ہے: (بلوغ الغلام بالاحتلام و الاحبال والانزال)والاصل ھو والانزال (والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل) ولم یذکرہ الانزال صریحاً بحوالہ نجم الفتاویٰ جلد نمبر ۵ صفحہ نمبر 105
6۔ مذکورہ بالا حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں نکاح کیلئے عمر کا تعین کرنا قرآن وسنت کے متصادم اور شریعت اسلامیہ کے مغائر ہے۔اس لیے آزاد ریاست جموں و کشمیر کے دستور میں یا آئین و قانون میں نکاح کی کم از کم عمر 18سال کرنا شرعاً ناجائز اور شریعت کے متصاد م ہے۔ واضح رہے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور آزاد ریاست جموں و کشمیر کے آئین و قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ کوئی قانون قرآن وسنت کے متصادم بنانا دستور کے مقاصد کی نفی کے زمرے میں شامل ہو گا۔
7۔ بالغ کی عمر 18سال قرار دینے سے درج ذیل مفاسد بھی پیدا ہونگے۔
۱۔
18سال سے کم عمر کے کسی شخص مرد یا خاتون نے اگر کسی کو قتل کر دیا / یا کوئی دیگر سنگین جرم کیا تو بوجہ نابالغ ہونے کے اسے سزا نہیں دی جا سکے گی۔
۲۔
18 سال کی عمر نکاح کیلئے مقرر کرنے کی صورت میں حرام کاریوں میں اضافہ ہوگا۔قبل از وقت بالغ ہونے والے مرد اور عورت ناجائز ذرائع سے اپنی خواہشات پوری کر ینگے اور بغیر نکاح پیدا ہونے والے بچے معاشرے پر بوجھ بنیں گے اور ان کی کفالت کیلئے بھی ریاست کے لیے مسائل پیدا ہونگے اس لیے نکاح کی عمر 18سال کرنے کیلئے قانون سازی کرنے کے بجائے ریاست کے تمام بچوں کو مساویانہ طور پر اچھے انداز میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے تعلیمی اور تربیتی سہولتیں مہیا کی جائیں اور انہیں معاشرے میں موثر کردار ادا کرنے کے ریاست کی طرف سے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس طرح ہر طالبعلم اور طالبہ کو جب تعلیم و تربیت کی الگ الگ سہولتیں میسر ہو نگی تو اس وقت ان کی عمر پختہ ہو چکی ہو گی۔
۳۔
حد بلوغ / بلوغ کی عمر 18سال قانون میں درج کرنے کے نتیجے میں مستقبل میں جناب نبی اکرم ﷺاور انکی بنات طیبات اور ازواج مطہرات پر بھی توہین اور تنقیص کے مواقع پیدا ہونگے اور حضور ﷺ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے نکاح پر اعتراضات کیے جائیں گے۔ اور قانون میں د رج عمرکی بنیاد پر طعن کے دروازے کھلیں گے جو کسی طرح بھی حکومت کے مفاد میں نہیں ہے۔
8۔ ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کے غاصبانہ قبضہ میں ہے اور بھارت کی دس لاکھ فوج کشمیریوں کے قتل عام میں مصرو ف ہے ان حالات میں آزاد ریاست جموں وکشمیر میں آباد ی کی کمی نہیں بلکہ تکثیر مطلوب ہے تا کہ بھارت کہ ظالم،جابر اور دہشت گرد حکومت اور فوج کا مقابلہ کیا جاسکے اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے قرآن و سنت،فقہ اسلامی کے منافی قانون سازی کی تائید کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔
واللہ اعلم باالصوب
(اسلامی نظریاتی کونسل آزاد کشمیر کی طرف سے آمدہ مسودہ کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔)

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: