مختاریا گل ودھ گئی اے، پنجاب پولیس چنگی ہوگئی اے

سوشل میڈیا پر اس وقت پنجاب پولیس کی کارکردگی کے زبردست چرچے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کہیں تو پولیس آفیسرز اور اہلکار لوگوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات کرتے نظر آ رہے ہیں توکہیں منت سماجت کیذریعے انہیں سمجھاتے نظر آ رہے ہیں۔ 
راولپنڈی میں تو اسوقت کمال ہی ہو گیا جب راولپنڈی پولیس کے اہلکار اور ٹریفک وارڈنز لوگوں کو کرونا سے لڑنے کے لیے ماسک دیتے نظر آرہے ہیں تو کہیں وہ رکشہ ڈرائیورز کو راشن دیتے نظر آ رہیہیں جس کے بعد یہ بھی دیکھنے میں آتا رہا کہ رکشہ ڈرائیورز پہلی بار نہ صرف پولیس سے خوش دکھائی دیئے بلکہ دوسرے ڈرائیورزکو یہ بھی کہتے دکھائی دیئے کہ اب پولیس چالان نہیں راشن دیتی ہے۔
ابھی شہری یہ دیکھ دیکھ کر ہی حیران ہو رہے تھے کہ راولپنڈی پولیس کی جانب سے لیڈی پولیس آفیسرز کے ذریعے خواجہ سراوں کے گھروں تک جا کر ان کے مسائل سننے اور انہیں راشن فراہم کرنے کی ویڈیوز نے ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا۔
 
 

بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ راولپنڈی پولیس نے کروناڈیوٹی کی سرانجام دہی کے دوران تھیلیسیما کے مریضوں کے لیے خون کے عطیات بھی دینا شروع کردیئے جس سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود پولیس کی منفی تصویر ایک دم مثبت ہو گئی۔

اسی دوران وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے تو پہلی بار مجھے آبدیدہ ہی کر دیا جس میں غالباً اٹک پولیس کے عہدیداروں نے اپنے ایک شہید جوان کی بیٹی کی رخصتی کے موقع پر شاندار انتظامات کرکے لوگوں کو بے اختیار پولیس کو سیلیوٹ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اسی دوران راولپنڈی میں سی پی او احسن یونس کرونا وائرس کے شکار افراد کے دروازوں پر جا کر انکی خیریت معلوم کرتے اور مکمل سیل علاقے کے مکینوں سے بہ نفس نفیس ملاقات کرکے انکی حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیئے۔
 یہاں تک تو ایک انوکھی بات تھی ہی لیکن میں اس وقت بالکل ہی بیہوش ہوتے ہوتے بچا جب میں نے دیکھا کہ غالبا لاہور پولیس نے کسی علاقے میں اسلحے کے بل بوتے پر ڈان بننے کی کوشش کرنے والے شخص کو 24 گھنٹے کے اندر گرفتارکر کے اس کے سر سے ڈان بننے کا بھوت اتار دیا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ پنجاب پولیس جو اپنی بدنامی میں ضرب المثل تھی اسکو راتوں رات ایسا کیا ہوا کہ وہ ایک دم اتنی فعال ہو کر عوام الناس میں ہیرو کا درجہ حاصل کر گئی۔ اسی جستجو میں جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ فعال اور متاثر کن کارکردگی والے ان علاقوں میں تعینات افسران کی اکثریت سی ایس ایس کرکے پولیس سروس آف پاکستان میں شامل ہونے والے افراد پر مشتمل ہے۔
یہ افسران اپنی منفرد ذہنی صلاحیتوں اور عصر حاضر کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہونے کی بناء پر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیزی سے لوگوں کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہم پولیس کی کارکردگی کو فی الحال سوفیصد قابل اطمینان تو نہیں کہہ سکتے لیکن اسے مایوس کن بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ جس رفتار سے یہ قابل آفیسرز محکمہ جاتی اصلاحات اوردرست سمت میں پولیس اقدامات کے لیے کوشاں ہیں، اس سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کسی کو پولیس سے کوئی گلہ نہیں ہو گا۔
 سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مذکورہ ویڈیوز پر لوگوں کے کمنٹس سے دکھائی دیتا تھا کہ عام آدمی اگر پولیس کے غلط کاموں پر تنقید کرتا ہے تو پولیس کے مثبت کاموں پرتعریف کرنے میں بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں جب لوگوں سے مزید رائے لی گئی تو اکثریت کا کہنا تھا کہ ایسے تعلیم یافتہ آفیسرز کی تعیناتی کی بدولت سے اگرچہ پولیس کے نظام میں کافی بہتری آئی ہے تاہم ابھی بھی کافی بہتری کے لیے خلاء موجود ہے۔ بالخصوص نچلی سطح کے ایسے اہلکار جو اکثر و بیشتر کم تعلیم یافتہ ہیں اور زیادہ وسیع النظر نہیں ہوتے، وہ تمام تر محکمانہ کاوشوں کے باوجود اپنی مخصوص روش کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اکثر و بیشتر عوام دوست پولیس آفیسرز کی موجودگی میں بھی اپنے نمبر بنانے کے لییکوئی نہ کوئی ایسی حرکت کرگذرتے ہیں جو بعد میں پولیس کی بدنامی کا موجب بنتے ہیں۔
 ایک جانب تو سینئر پولیس عہدیداران عوامی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب اکثر دیکھنے میں آیا کہ جب نچلی سطح کا کوئی روایتی پولیس اہلکار کسی کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہوا اور موقع پر موجود کسی فرد نے اس زیادتی کی جانب توجہ دلانے کی جسارت کی ہو تواس جسارت کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر ایسے فرد کے ساتھ نہ صرف انتہائی نازیبا رویہ اختیار کیا جاتا ہے بلکی اکثر اوقات سر عام مار پیٹ بھی کی جاتی ہے یا متعلقہ فرد کر کار سرکار میں مداخلت کا الزام لگا کر اس پر پرچہ دینے اور جیل میں بھجوانے جیسا آسان طریقہ اپنا کر اپنی خودسری کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ تمام سینئر آفیسرز کار سرکار میں مداخلت کے مقدموں کا سوموٹو ایکشن کی طرز پرخود نوٹس لیں اور نامزد افراد کی خود ذاتی طور پر شنوائی کریں تا کہ وہ پولیس کی روایتی رپورٹنگ کی بجائے شخصی طور پر حقیقت سے واقف ہو سکیں۔ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پولیس کے موثر اقدامات سوشل میڈیاپر خبروں کی زینت بنائے جاتے ہیں تو وہیں پر ساتھ ساتھ عوام کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کرنے والے اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کو بھی سوشل میڈیا پر نشر کیا جائے تاکہ لوگوں کو یہ اعتماد مل سکے کہ پولیس نہ صرف عوامی خدمت کے لیے فعال ہے بلکہ وہ خود احتسابی کے عمل کو بھی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا ہرفرد پولیس پر اپنے مکمل اعتماد کو ببانگ دہل اظہار کرتا ہوا نظر آئے گا۔ اللہ سے دعاگو ہوں کہ وہ پولیس سروس کے ہمارے ایماندار اہلکاروں کی حفاظت فرمائے اور ان کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے۔ پاکستان زندہ باد۔