خواجہ آصف کا بیانیہ

چوہدری نثار علی خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے بیان کے بعد دشمن کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ جب ایک ملک کا وزیر خارجہ خود ہی دشمن کے بیان کی تصدیق کر رہا ہو تو دشمن کا کچھ کام باقی نہیں رہ جاتا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ’’اکابرین ملت‘‘ جو خود کو ہر معاملے میں عقل کل سمجھتے ہیں اور محض برسر اقتدار خاندان کے کارخاص ہونے کے ناطے جو دل چاہے بیان دیتے ہیں۔ جب دل چاہے بیان دیتے ہیں۔ کوئی انہیں روکنے، ٹوکنے والا نہیں جبکہ پراپیگنڈہ یہ کیا جاتا ہے کہ خارجہ پالیسی تو فوج چلاتی ہے۔ سیدھی بات ہے کہ اپنے دورہ چین کے دوران خواجہ آصف کو پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنی چاہیے تھی کہ پاکستان سے حکومتی سطح پر کسی دہشت گرد گروہ کی سرپرستی ہو رہی ہے، نہ ان کی محفوظ پناہ گاہیں یہاں قائم ہیں۔ پاکستان نے اپنی سرزمین سے ان کے تمام ٹھکانوں کا صفایا کر دیا ہے۔ اب وہ سب افغانستان میں جمع ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع تقریباً ڈھائی ہزار کلو میٹر طویل سرحد کو محفوظ بنانے اور باڑھ لگانے کی پاکستانی تجویز کی افغانستان نے ہمیشہ مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گرد دونوں ملکوں میں وقتاً فوقتاً آتے جاتے رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ سرحد کے دونوں طرف آباد قبائل مشترکہ نسل، تہذیب اور زبان کے حامل ہیں اور ان کے آپس میں رشتے بھی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ چیک پوسٹیں قائم کر کے قانونی طور پر آمدورفت کو قائم و برقرار رکھا جائے۔ باقی رہے اکا دکا دہشت گرد تو ان کی کارروائیوں کو امریکا، برطانیہ، فرانس یا کسی دوسرے ترقی یافتہ مغربی ملک میں روکنا بھی ممکن نہیں، جبکہ ان کے پاس حساس ترین آلات، جدید ٹیکنالوجی اور ماہر و تجربہ کار دہشت گرد موجود ہیں تو اس حوالے سے پاکستان پر الزام لگانا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ ایک اور پہلو جس کی جانب پاکستان اور چین کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں سولہ سال کے قیام کے بعد بھی امریکا وہاں امن قائم نہیں کر سکا تو وہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا کر اپنی عالمی ذمہ داری سے کیونکر بچ سکتا ہے۔
یہ امر بھی طے شدہ ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے عملی تعاون اور طالبان کی شرکت کے بغیر قیام امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان افغانستان کا برادر پڑوسی اور مسلم ملک ہے اور یہ پاکستان کے اپنے بھی مفاد میں ہے کہ افغانستان پر امن اور مستحکم رہے۔ صرف اسی صورت میں دونوں ملکوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ امریکا، بھارت یا اسرائیل کا افغانستان سے کیا لینا دینا، سوائے اس کے یہ ممالک افغانستان کے قدرتی و معدنی وسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور پاکستان سے دشمنی کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا کے توسیعی عزائم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ افغانستان سے چین اور وسط ایشیا کے مسلم ممالک پر نظر رکھی جائے۔ امریکا کی دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کو چین جیسی تیزی سے ابھرتی ہوئی سیاسی و معاشی اور عسکری قوت کی گہری دوستی اور ہر شعبے میں معاونت حاصل ہے۔ پاکستان اور چین خطے میں مکمل امن و سکون اور استحکام کے لیے کوشاں ہیں، جو افغان مسئلے کے پائیدار حل کے بغیر ممکن نہیں۔ افسوس کہ امریکا اور بھارت کے دخل در معقولات کی وجہ سے اس کام میں زبردست رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔
برکس کانفرنس کا اعلامیہ یا تو ہماری سمجھ سے باہر تھا یا پھر ہم اپنی جہالت اور کم علمی کو ہی اپنی علمیت کا معیار بنا لیتے ہیں اورجو جی میں آئے رائے قائم کر کے اس پر مفروضے بھی بنا لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال چونکہ ہماری عادت ثانیہ بن چکا ہے اس لیے ہم مسلسل گمراہی پھیلا کر سوائے اپنا مزید بیڑا غرق کرنے کے اور کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ ہر پڑھنے لکھنے والا پاکستانی جانتا ہے کہ صرف چین ہے جو بھارت کے پاکستان مخالف عزائم کی راہ میں رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے نہ تو بھارت ایٹمی کلب کا ممبر بن سکا جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر کا کیس چین لڑ رہا ہے بصورت دیگر ہم عالمی سطح پر دہشت گرد ملک قرار پائیں اس کے باوجود ایک غیر واضح اعلامیہ کو لے کر ہمارے ایک مخصوص ٹولے نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب چین بھی پاکستان کو بلیک میل کر رہا ہے لیکن خواجہ آصف کے ایک ہی دورے نے ہمارے چودہ طبق بھی روشن کر دیے اور بھارتی میڈیا اور اس کے مقامی ٹائوٹوں کی لعنتی میں بھی اضافہ کر دیا جب چین کے وزیر خارجہ نے ان تمام خدشات کی نفی کرتے ہوئے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان دوستی لازوال اور مضبوط ہے بیجنگ میں پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف سے ملاقات کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ لی نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پاکستان کو وہ کریڈٹ نہیں دیا، جس کا وہ مستحق ہے۔ چین پورے عزم کے ساتھ اپنے دیرینہ دوست ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کچھ بھی ہو جائے، ہم اس کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے خلاف چین اور پاکستان کے اتحاد کا مظہر ہے۔ دونوں ممالک نے طالبان کو مذاکرات میں شریک کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ چین نے پاکستان اور افغانستان میں تلخیاں دور کرنے کے لیے رواں سال کے آخر میں پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے، جو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہو گا۔ چین نے برکس اعلامیے کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال میں پاکستان اور چین ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں، بلکہ ہماری پختہ رائے ہے کہ اس کا حل مذاکرات ہی سے نکلے گا۔ امریکا کی جانب سے افغانستان میں بھارتی سکیورٹی کے مفادات کو جائز قراردینے اور بھارت کی کھلی پشت پناہی کے بعد پاکستان نے دوست اور اتحادی ممالک سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ خواجہ آصف کا دورہ چین اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ چینی قیادت نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کو قریب لانے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ چین نے اس سال کے آخر تک تین ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں طالبان کے وفد کو شریک کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے، جو ایک مثبت اور تعمیری پیش کش ہے، کیونکہ طالبان کے بغیر افغان مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوا میں تیر چلانے کے مترادف ہو گا۔ طالبان افغانستان کی سب سے بڑی حقیقت ہیں، جبکہ دیگر ملکوں اور خود کٹھ پتلی افغان حکومت کی حیثیت ثانوی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان پر حملے اور طالبان کی حکومت ختم کرنے کے بعد سولہ سال سے انسانوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ کیا جھک مار رہے ہیں۔ وہ کبھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ وہاں مستقل قبضے اور قیام کے خواب دیکھتے ہیں تو کبھی بھارت اور اسرائیل کو بحالی کے نام پر قدم جمانے کا موقع دے کر اپنے مفادات پورے کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی میں پاکستان کو حقانی نیٹ ورک جیسی تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیا ہے۔اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ؟ اگر ہم ایک رویتی فقرہ بول کر کہ پاکستان اسلامی ایٹمی قوت ہے اس لیے ہم تو تنقید کا نشانہ ہی بنیں گے، خود کو محفوظ نہیں کر سکتے۔ ڈپلومیسی خصوصاً موجودہ دور میں سفارت کاری کاردارد ہے۔ ہمیں بہرحال اپنی کوتاہیوں سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔